Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سمیر و سمیعہ : ہمیں کس مصیبت کا سامنا ہے – عامر حسینی

by مارچ 1, 2017 بلاگ
سمیر و سمیعہ : ہمیں کس مصیبت کا سامنا ہے – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

80 سالہ سندھی دانشور اور استاد محمد راھموں 955 دن سیکورٹی اداروں کی تحویل میں گزارنے کے بعد گزشتہ روز لوٹ آئے ہیں اور یہ 95 دن یونہی خاموشی سے نہیں گزرے تھے بلکہ اسّی سالہ بوڑھے دانشور کی نوجوان بیٹی جو ایف ایس سی کی طالبہ ہے سندھو راھموں اس نے بدین سٹی میں ایک احتجاجی کیمپ لگایا۔حیدرآباد میں سندھ ہائیکورٹ بنچ میں درخواست دائر کی اور اس دوران اس نے انسانی حقوق کی تنظیموں تک اپنا پیغام بھی پہنچایا۔اور مسلسل یہ سوال اٹھایا کہ آخرکار ریاستی اداروں کو ایک اسّی سالہ بوڑھے سے کونسے خطرات لاحق تھے جو رات کے تین بجے ان کے گھر داخل ہوکر ان کو اٹھایا گیا اور پھر کبھی یہ بات تسلیم نہیں کی گئی کہ وہ اس کام میں ملوث ہیں۔اور شاید ہم ایک بار پھر اس بات سے لاعلم ہی رہیں گے کہ ان کو اٹھانے والوں کا ان کو جبری گمشدہ بنانے کا مقصد کیا تھا؟ اس سے پہلے جتنے لوگ واپس آئے وہ خاموش ہیں اور "بادشاہ ننگا ہے” کہنے کی ہمت کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے۔کیونکہ اس ملک کی عدالتوں نے لوگوں کو سخت مایوس کیا ہے جو نیب،ایف آئی اے سمیت ہر سول ادارے کے بڑے سے بڑے سربراہ کو بلاکر اس سے ہر طرح کا سوال تو کرلیتے ہیں لیکن جبری گمشدگیوں کا ڈھیر لگانے والوں کو قانون پہ چلانے کا حوصلہ ان میں بھی نہیں ہے۔

بہت سی کہانیاں ہیں جو ان کہی ہیں۔یا لوگوں کی یاد سے محو کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ہیرالڈ میگزین نے ایسی کئی کہانیاں انگریزی میں شایع کی ہیں،ان کی کور سٹوری فروری کے شمارے میں ” روڈ ٹو دی فیوچر:امید و اندیشے کہ چین گوادر آتا ہے” ایسی ہی ایک کہانی عبدالکریم رند بلوچ کے خاندان کی ہے۔کریم رند کی شادی 1970ء میں ہوئی تو اس نے اپنا آبائی شہر بلیدہ جو جنوبی بلوچستان میں ہے چھوڑ دیا تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ یہ بحرین چلاگیا اور وہاں پولیس میں ملازم ہوگیا۔اس کا بیٹا سمیر 1993ء میں بحرین میں پیدا ہوا۔کریم رند 20 سال بعد بلوچستان واپس آیا اور تربت میں بس گیا۔سمیر نے تربت میں ہی گریجویشن کی ڈگری عطا شاد ڈگری کالج سے لی۔اور ابھی وہ آگے پڑھنے کا منصوبہ ہی بنارہا تھا کہ 14 اکتوبر 2010ء کو اسے مبینہ طور پہ ایف سی نے اٹھالیا۔
اس کی بہن سمیعہ اس وقت تربت کالج کی طالبہ تھی۔اس نے اپنی پڑھائی درمیان میں چھوڑی اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے جدوجہد شروع کردی۔وہ کئی بار کوئٹہ اور اسلام آباد گئی اور وہاں جاکر اس نے بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔اس نے جبری گمشدگان کی بازیابی کے لئے بنائے گئے کمیشن کی سماعتوں میں بھی شرکت کی۔مگر یہ سب بے کار ثابت ہوا۔

اکتوبر کی 9 تاریخ تھی اور سال 2011ء تھا جب گوادر کے قریب اس کے بھائی سمیر کی لاش نیل ہٹ ایریا سے ملی۔اس کے خاندان کو اس کا پتا ٹیلی ویژن خبروں سے ہوا۔خبروں میں ایف سی حکام کی جانب سے یہ رپورٹ کیا گیا کہ سمیر بلوچ ری پبلکن آرمی کا سینئر کمانڈر تھا جوکہ براہمداغ کی بلوچ ریپبلکن پارٹی کا مسلح ونگ بتایا جاتا ہے۔

گلشن آباد تربت میں اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی سمیعہ نے ہیرالڈ کی خاتون رپورٹر کی توجہ وہاں ایک دیوار پہ لگے ایک پوسٹر کی طرف کرائی جس پہ درج تھا کہ سمیر کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اٹھایا۔اس نے اس کی رہائی کی اپیلیں کیں۔
"میرا بھائی کسی قسم کی سیاست میں سرے سے ملوث ہی نہیں تھا۔یہ تو جس دن اس کی مسخ شدہ لاش ہمیں ملی تو اس کے بعد یہ بھی سننے کو ملنے لگا کہ وہ بلوچ مزاحمت کار مسلح تنظیم کا سینئر کمانڈر تھا”۔سمیعہ نے مزید کہا: اگر وہ کمانڈر ہوتا تو وہ گھر پہ نہ رہ رہا ہوتا۔وہ پہاڑوں پہ ہوتا اور اپنے دوسرے بلوچ لوگوں کی طرح سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑ رہا ہوتا۔

سمیعہ کہتی ہے: ہماری مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔میرے بھائی سمیر کی ماورائے قانون ہلاکت کے چھے ماہ بعد مرے دو چھوٹے بھائیوں کو سیکورٹی فورسز نے اس وقت اٹھالیا جب وہ زیارت سے سیر کرکے واپس لوٹ رہے تھے۔ان کو 20دن بعد بنا کوئی الزام لگائے رہا کردیا گیا۔اس کے بعد ہم نے ان بھائیوں کو فوری طور پہ عمان منتقل کردیا تاکہ وہ سمیر جیسی قسمت کا شکار نہ ہوجائیں۔
سمیعہ اور دو اور لڑکیاں کوئٹہ سریاب روڈ پہ کرائے کے ایک چھوٹے مکان میں رہ رہی تھیں جب 4 اکتوبر 2015ء کو رات کے دو بجے ان کے گھر کے دروازے زور زور سے پیٹ ڈالے گئے۔انہوں نے جب دروازہ کھولا تو باہر کئی سادہ لباس میں مرد کھڑے تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ ظاہر کیا۔ان لڑکیوں کو ان کے سیل فونز ان کے حوالے کرنے کو کہا گیا اور وہ اس کے بعد گھر میں داخل ہوگئے۔اس کے بعد انہوں نے سمیعہ کو الگ کرلیا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔

سمیعہ کہتی ہے: وہاں کوئی خاتون افسر نہیں تھی۔مردوں میں سے ایک نے مجھے ایک گاڑی مین بٹھالیا۔میری آنکھوں پہ پٹی باندھ دی گئی۔ایک گھنٹے بعد گاڑی سے اتارا گیا اور میں نے اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے کمرے میں پایا اور وہاں پہ ایک ہی کرسی پڑی تھی۔مجھے اس پہ بٹھادیا گیا۔ساری رات اپنے آپ کو انٹیلی جنس آفیشل بتلانے والے مرد مجھ سے سوالات کرتے رہے۔کچھ مردوں کے ناموں کی لسٹ میرے سامنے رکھی گئی اور مجھ سے ان کے بارے میں پوچھا جاتا رہا۔اور پھر مجھے اگلی صبح ایک اور انٹیلی جنس افسر کے سامنے پیش کیا گیا،اس کے پاس میرا لیپ ٹاپ تھا اور وہ اسے کھولنے کی کوشش کررہا تھا۔اس نے ناکامی پہ مجھ سے پاس ورڈ پوچھا جو میں نے بتادیا۔لیپ ٹاپ میں میرے بھائی سمیر کی فوٹو دیکھ کر کہنے لگا، "تو تم اس کی بہن ہو،پھر اس نے کچھ اور مردوں کے فوٹو دکھائے اور کہا کہ کیا تم ان کو جانتی ہو؟میں نے کہا کہ میں ان کو نہیں جانتی۔اس کے بعد افسر نے بتایا کہ اس کی ساتھی لڑکیاں رہا کردی گئیں ہیں،وہ بھی کردی جائے گی کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔اس نے مجھے ایک فون دیا اور کہا کہ اگر اس کو کالعدم بلوچ تنظیموں کے بارے کوئی خبر ملے تو اس نمبر پہ اطلاع کرنا۔میں نے وہ فون کبھی استعمال نہیں کیا۔میری آنکھوں پہ پٹی باندھ کر گاڑی میں بٹھاکر مجھے اس علاقے کے پاس چھوڑ گئے جہاں ہم رہ رہے تھے۔اس کے بعد میں نے یونیورسٹی ترک کردی اور اپنی تعلیم ترک کردی اور واپس تربت اپنے خاندان کے پاس چلی آئی۔سمیعہ اب ناگزیر ضرورت کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی ،سبزی لینے جانا پڑے یا اپنے بیمار والدین کو دکھانے کے لئے کلینک جانا ہو تو نکلتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
780
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اردوئے‘معلیٰ’ کی بجائے اردوئے‘محلہ’-عبدالحنان مغل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: