Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جہانگیر بدر … ریسٹ ان پیس – عامر حسینی

by نومبر 14, 2016 کالم
جہانگیر بدر … ریسٹ ان پیس – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

aamir-hussaini-new-1پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھی جہانگیر بدر 72 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے جانبر نہ ہونے کے سبب انتقال کرگئے۔اور یہ خبر مجھے اس وقت ملی جب میں خون اور گوشت کے لوتھڑوں سے بھرے ایک فرش کو تک رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سی پیک ویپک کیا بلا ہے اور کوئی سیاسی کارکن لاہور میں ایسا نہیں ہے جو پنجابیوں کو یہ بتائے ” جاگ مرے پنجاب بلوچستان چلا” اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ پنجابی جاگ تو گئے ہیں لیکن وہ آزاد بلوچوں سے پاک بلوچ سرزمین چاہتے ہیں جہاں بلوچ ہوں بھی تو بس سرجھکائے اور بریف کیس لیکر آنے والے باہر کے لوگوں کی خدمت پہ مامور ہوں۔ایسے میں جہانگیر بدر کے مرنے کی خبر آگئی اور مرا سر جو پہلے سے ہی جھکا ہوا تھا اور جھک گیا
جہانگیر بدر پنجاب کی سیاست میں ٹھیک معنوں میں اس وقت زیادہ غالب ہوکر سامنے آئے تھے جب بے نظیر بھٹو اپنے کان کے علاج کے لئے برطانیہ گئی تھیں اور وہاں تھیچر۔ریگن تھیوری کے زیر اثر انھوں نے پیپلزپارٹی کے اندر ایسے لوگوں کو تلاش کیا جو پیپلزپارٹی کے اندر ان کے نزدیک ایک قدامت پرست لیفٹ کے علمبردار لوگوں کی جگہ لے سکیں۔اس قدامت پرست لیفٹ کی سب سے طاقتور اور بااثر آواز شیخ رشید تھے۔بابائے سوشلزم ۔اور پنجاب میں ان کی کارکنوں میں جڑیں خاصی مضبوط تھیں اور لاہور میں ڈائی ہارڈ ورکرز ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ایسے میں بے نظیر بھٹو کی نظروں میں جہانگیر بدر آگئے تھے اور پھر وہ بتدریج شیخ رشید کے گروپ کا سائز کم کرتے چلے گئے اور جہانگیر بدر ان نوجوان کارکنوں میں شمار ہوتے تھے جن کی پیپلزپارٹی سے کمٹمنٹ تو کسی شک سے بالاتر تھی مگر وہ بے نظیر بھٹو کی ” عملیت پسند ” پالیسی کے سب سے برے حامی بنکر ابھرے تھے۔اور پنجاب کی صدارت بھی ان کو مل گئی تھی۔اور پھر پاکستان پیپلزپارٹی کے تنطیمی ڈھانچے میں اوپر سے نیچے تک ایک اوور ہالنگ کا عمل شروع ہوا تھا۔یہ سلسلہ پھر عملیت پسندی کے حامی کارکنوں کو اہم پوزیشن لینے پہ نہیں رکا تھا بلکہ قاسم ضیاء سے ہوتا ہوا منظور وٹو تک آگیا تھا۔اور اس دوران میں نے پی پی پی کے بارے میں بہت سے کلیشوں کو ہوا ہوتے دیکھا۔اور جب لاہور میں 30 نومبر کو پی پی پی کے یوم تاسیس پہ میں نے جہانگیر بدر گروپ کے لوگوں کو "منظور وٹو ” کے خلاف نعرے مارتے اور "حقیقی اپوزیشن کرو ” کے نعروں کے جواب میں آصف زرداری کو مسکراتے دیکھا تو بے اختیار مجھے ایسے لگا کہ جیسے جہانگیر بدر سمیت پارٹی کے اب ” بہت پرانے ہوگئے ” کارکنوں کو کہا جارہا ہو کہ آپ کی اننگز ختم ہوگئی ہے ،اب نیا دور ہے، نئے تقاضے ہیں ، پرانی روش نہیں چلے گی۔اور یہی پیغام بے نظیر بھٹو نے بیگم ناہید خان اور جہانگیر بدر وغیرہ کے زریعے سے شیخ رشید ، شیخ رفیق ، فضل حسین راہی اور کئی دیگر لوگوں کو دیا تھا جب وہ پی پی پی کے سی ای سی کے ممبر ہوکر بھی سی ای سی کے اجلاس میں مدعو نہیں کئے جاتے تھے۔ آصف علی زرداری نے بھی سی ای سی کے سخت گیر لوگوں سے دور رہنے کے لئے پی پی پی کور کمیٹی کی اختراع نکال لی تھی۔جہانگیر بدر لیکن کم از کم شیح رشید سے کہیں سیانے تھے اور وہ آغا امیر حسین کی طرح ہر حال میں "اپنا سچ ” لیکر اکیلے پھرنے کو تیار نہ تھے اور ان کو کم از کم یہ بھی پسند نہیں تھا کہ وہ ناظم حسین شاہ کی طرح شہباز شریف کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلیں۔ بس یہ کیا کہ جو آصف علی زرداری کو پسند نہ ہو ، اس پہ اصرار کرنا چھوڑ دیں۔اور اپنی عزت سادات بچالیں۔ان کا گروپ پنجاب کے اکثر شہروں میں پی پی پی کے ڈائی ہارڈ کارکنوں پہ مشتمل تھا ان سب کو اپنا اپنا سیاسی راستہ خود چننے کا سبق بھی انھوں نے دے دیا اور کم از کم گراس روٹ لیول پہ وہ اب کسی گروپ کے نمائندے نہیں رہے تھے

ان کے ایک دیرینہ ساتھی شیر عالم شیرازی کچھ دنوں پہلے ہی فوت ہوئے تھے ۔ اور کچھ سال پہلے عطاء محمد عاصی بھی رخصت ہوگئے تھے۔ان کے کئی ساتھی مسلم لیگ ق ، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز میں قسمت آزمائی کررہے ہیں اور ایسے میں بہت زیادہ تنہائی ان کا مقدر تھی۔اور سب سے بڑی بات ان جیسے کارکنوں کو جس قوت نے لڑنے بھڑنے اور خون گرم رکھنے کا بہانہ میسر کررکھا تھا وہ خود بھی لیاقت باغ کی ایک سڑک پہ ماری گئی تھی۔لاہور شہر جس کی سیاست کے وہ کبھی اہم ترین آدمی تھے عملی طور پہ غیر اہم ہوگئے تھے۔ پیپلزپارٹی لاہور شہر میں بہت اجنبی ہوکر رہ گئی تھی اور اب اس کے امیدواروں کو اندرون شہر لاہور سے چند ہزار ووٹ لینے کے لئے بڑے پاپڑ پیلنے پڑتے ہیں۔جہانگیر بدر بھی اب تھری پیس سوٹ پہن کر آواری ، پی سی اور ڈیفنس و بحریہ ٹاؤن میں ہی چند روحوں کو اپنی بات کہہ اور سناسکتے تھے۔اس دوران انھوں دو ایک کتابوں کے ترجمے بھی کئے اور کتابوں میں پناہ لینے کی کوشش بھی کی ،یہ بھی فرار کی ایک اور کوشش تھی
میں سوچ رہا تھا کہ جہانگیر بدر کے سیاسی ورثے پہ کیا لکھوں ، اتنی تلخیاں جڑی ہیں کہ کچھ لکھنے کو دل ہی نہیں کررہا اور یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اکر سب سچ سچ لکھوں گا تو مٹی خراب ہوگی ، خود جیالے ناراض ہوجائیں گے، وہ بھی جو جہانگیر سے ناراض ہی رہتے تھے۔جہانگیر بدر پی پی پی کی دوسری نسل تھے اور اعظم بھائی تیسری نسل اور ہم چوتھی نسل ۔۔۔۔۔ ہم سے آگے دو اور نسلیں اس پارٹی کے اندر کھڑی ہیں ، ہم ہی بیگانگی کے عذاب سے گزر رہے ہیں ، یہ دوسری نسل اور تیسری نسل کس عذاب سے گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ لگانا محال ہے۔پنجاب اتنا رجعت پرست، اتنا مرکزیت پسند اور اتنا بوٹ پسند ہوگیا ہے جو آدرش ہمیں ورثے میں ملے تھے ان کو دیوار سے کیا لگانا دیوار کے پرے پھینک دیا گیا ہے۔پہلے اچھرہ اور کچھ دیر بعد منصورہ ہم سے سنبھلتا نہیں تھا ، اب لاہور کے عین قلب میں قادسیہ کے اندر حافظ صاحب ہمارے سینے پہ مونگ دلتے ہیں اور پھر اب تو گلی ، گلی محلے محلے کئی حافظ ، کئی لدھیانوی ، کئی فاروقی ہیں کس کس کا مقابلہ کیا جائے۔سلمان تاثیر کے نماز جنازے سے لیکر قل خوانی اور قل خوانی سے لیکر چہلم تک ویرانی ہی ویرانی تھی ، کوئی احمد بشیر بھی زندہ نہیں رہا جو ان کو آئینہ دکھائے، حیدرجاوید سید ، اکرم شیخ جیسے غنمیت ہیں مگر کب تک۔۔۔۔۔ لیکن سچی بات کہوں ،،،،، ہم اس حالت کو اسی "عملیت پسندی ” کی پالیسی کی وجہ سے پہنچے جو ضیاء الحق کی باقیات سے مقابلہ کرنے کے جنون میں ہم نے اپنالی تھی۔ہم اتنا پیسہ ، اتنا بڑا سٹیٹس حاصل کرنے کی سیاست کرنے لگ پڑے تھے جس کے بل بوتے پہ نواز شریف اینڈ کمپنی سیاست کررہی تھی، ہم کم از کم ایک فیزیبلٹی تیار کرنے کے قابل ہونا چاہتے تھے ، مگر دوسری طرف چمک اتنی تھی کہ ہمیں کہنا پڑا کہ چمک کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے۔جرنیلوں سے ڈیل ، امریکیوں کے سہارے ۔۔۔۔۔ کچھ بھی ہمیں نہ بچا سکے ۔ اس دوران پرمٹ ، کوٹہ، نوکریوں کی فروخت ، ایل پی جی کوٹے ، اور اب تو اس سے آگے کی گیم جس میں کچھ لوگ ہی ماہر ہیں ، باقی سب خالی ہاتھ کھڑے ہیں۔پہلی نسل کو ہم نے خود بھگایا ، دوسری نسل جس نے بھگایا تھا رفتہ رفتہ فارغ ہوئی اور تیسری نسل کے پاس بچا ہی کچھ نہیں جو آگے تیار نسل کو کچھ دے پاتی۔اصول اور اخلاقیات کی بات کس منہ سے کریں ، کچھ ہم نے چھوڑا ہو تو تب نا۔۔۔۔۔۔ عملیت پسندی جسے موقعہ پرستی نہیں کہتا اس لئے کہ مرے جیالے دوست ناراض نہ ہوجائیں کی چھاؤں میں کتنے لوگوں کو اس جگہ پہ بٹھایا گیا جس کا وہ خواب دیکھ سکتے تھے لیکن جب ان سے کچھ تھوڑا سا واپس مانگا گیا تو انہوں نے جو ردعمل دیا وہ ضیاء الحق کے ساتھیوں سے بھی زیادہ بھیانک تھا اور کیا میں شاہ محمود قریشی ، ڈوالفقار مرزا ، فیصل رضا عابدی سمیت درجنوں نام گنوا دوں ۔تلخی بڑھانا مقصود نہیں ہے
آپ کہہ سکتے ہیں کہ چار آمروں سے جہانگیر بدر لڑے تھے، جیل بھگتی ،کوڑے بھی کھائے تھے ، بلا بلا، لیکن ان کا اور ان جیسے دیگر لوگ جب رخصت ہوئے تو ان کا سیاسی ورثہ ہے کیا ؟ نئی نسل میں کتنے لوگ ہیں جو ان کو آئیڈیل کے طور پہ دیکھتے ہیں ؟ لاہور شہر ہی میں ان کی فالوئنگ کتنی ہے ؟ بھاٹی گیٹ جو کبھی ان کی سیاست کا گڑھ ہوا کرتا تھا کتنے نوجوان 18 سے 25 سال کے ہیں جو ان میں کوئی امید دیکھتے ہوں ؟بالکل ٹھیک ہے مجھے اس مرگ تازہ پہ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں ۔۔۔۔ ان کی ایک لمبی سیاسی اننگز پہ بات کرتے ہوئے روشن پہلوؤں پہ نظر ڈالنی چاہئیے ، لیکن کیا کروں جس آدمی نے 72 سال کی عمر میں آنکھ بند کی اس نے 84ء میں جو فیصلہ کیا تھا اس نے لاہور شہر سے ترقی پسند سیاست کا رام رام ستے کرڈالا ،اور ہم جیسے اس سیاست کا نوحہ لکھنے کے لئے رہ گئے۔یہ ٹھیک ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایک اچھا مستقبل دے گئے، ڈیفنس میں ان کو منتقل کرگئے لیکن کیا یہ سب کا مقدر بنا ؟ مشکل سے لاکھ میں سے ایک آدمی بھی نہیں ایسا ملتا۔۔۔۔ نہ ہی سوشلزم منزل رہا ، نہ طاقت کا سرچشمہ عوام رہے ، طاقت کا سرچشمہ وہی جی ایچ کیو، وہی دائیں بازو کی سعودی عرب کی غلام سیاسی اشرافیہ ۔۔۔۔۔ عوام ہیں کہ مختلف شناختوں کے تحت خاموشی سے اٹھائے جارہے ہیں ، غائب کئے جاتے ہیں ، مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، مذہبی شناخت پہ مارے جاتے ہیں ، نہ جلوس محفوظ ، نہ ہی چاردیواری میں تقریب محفوظ ، یہ کھٹا ہے گزشتہ 30 سالوں کی عملیت پسندی کی سیاست سے اور اس عملیت پسندی نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ” مفاہمت ” کا نام اپنالیا اور اس مفاہمت سے کیا کھٹا ہے؟شہباز بھٹی ، سلمان تاثیر کا غم بھی آزادانہ منایا جاسکتا ہے اور اس کے بھائی اکرم پال کو لدھیانوی کو بلانا پڑتا ہے انٹر فیتھ ہارمنی کی ورکشاپ کرانے کے لئے، اشرفی و شیرانی کو اسلامی کونسل سونپنا پڑتی ہے، اپنے وفاقی وزیر کو جیل بھیج کر اعظم ہوتی کو نوازنا پڑتا ہے اور سومرو کو نوازنا پڑتا ہے، گراوٹ ہے کہ رکنے میں نہیں آرہی ۔۔۔۔۔ جہانگیر بدر ! سرخ سلام ۔۔۔۔ ریسٹ ان پیس

Views All Time
Views All Time
884
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سرائیکی زبان سے پیپلز پارٹی کا سوتیلا سلوک | ظہور دھریجہ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: