شام کا المیہ : سعودی عرب کو جواب دہ بنانا ہوگا

Print Friendly, PDF & Email

رابرٹ پیری
ترجمہ: ع –ح

اگر امریکی سرکار میں آپ کچھ بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ جھوٹ ایسے ہیں جن کو ناقابل تردید سچ بناکر پیش کرنا پڑے گا۔یہ بالکل کیسی خفیہ کلب میں داخلے کے لئے فلیشنگ سائن کی طرح ہے۔مثال کے طور پہ آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا فنانسر ہے جبکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔

جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو دہشت گردی کا کہیں زیادہ بڑا سپانسر ہے۔اور اس کا اس معاملے میں کسی حد تک مقابلہ قطر کرتا ہے۔لیکن یہ دو انتہائی امیر ریاستیں امریکہ کی اتحادی ہیں اور ان کی ایران سے نفرت اتنی ہی شدید ہے جتنی اسرائیل کی ہے جوکہ امریکہ میں ایک بڑی موثر لابی رکھتا ہے۔تو ایران کو دہشت گردی کا چیف سپانسر قرار دینے کے جھوٹ سے انحراف کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اس کلب کے نہ تو ممبر ہیں اور نہ ہی کبھی ہوں گے

ہوسکتا ہے کہ امریکی سرکار کو اس جھوٹ سے فائدہ ہوتا ہو لیکن اس کی قیمت امریکی عوام اور ان سے زیادہ مڈل ایسٹ کی عوام چکاتے ہکں کیونکہ اس جھوٹ کی وجہ سے سے امریکہ کی گمراہ کن مداخلتیں ہوتی رہی ہیں جنھوں نے خود بڑے پیمانے پہ دہشت پھیلائی ہے۔

امریکی حکومت نے 1980ء میں آج کی سلفی-دیوبندی اسلامی دہشت گرد تحریک کی تعمیر سعودی عرب کے ساتھ مل کر کی تھی جب ریگن انتظامیہ نے ففٹی ففٹی شئیر کی بنیاد پہ پیسہ اور ہتھیار افغان مجاہدین کو دئے تھے۔ یہ اربوں ڈالر کا پروجیکٹ تھا اور اس کا مقصد روسی فوجوں سے لڑنا تھا جو کابل میں بائیں بازو کی سیکولر حکومت کا تحفظ کررہے تھے

اس جنگ نے نہ صرف افغانستان کے دروازے اسامہ بن لادن جیسے سعودی وہابی اور طالبان جیسے دیوبندی مجاہدین کے لئے کھول دئے بلکہ اس نے سعودی عرب کے لئے وہابی پراکسی جنگوں کو ایسے علاقوں میں جہاں شیعہ ، صوفی سنّی اور سیکولر لوگ مل جل کر رہتے تھے کے خلاف پھیلانے کے لئے درکار طریقہ کار اور زرایع کو بھی جنم دیا

اگرچہ امریکی پروپیگنڈا چھایا ہوا تھا کہ افغانستان میں لڑنے والے دیوبندی اور سلفی معزز حریت پسند ہیں لیکن یہ خبریں بھی سامنے آتی تھیں کہ کیسے یہ نام نہاد مجاہدین روسی فوجیوں کو اغواء کرتے، ان پہ ٹارچر کرتے ، ان سے بدفعلی کا ارتکاب ہوتا اور پھر ان کو مار کر پھینک دیا جاتا۔جبکہ عورتوں کو واپس غلامی کے دور میں پھینک دیا جاتا جہاں یہ مجاہدین قبضہ کرتے۔جب 1996ء میں طالبان قابض ہوئے تو انہوں نے افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کو مثلہ کیا۔ ان کا آلہ تناسل کاٹ کر ان کے منہ میں ڈال دیا گیا۔اور پھر مسخ شدہ لاش ایک کھمبے کے ساتھ لٹکادی گئی۔اگلے آنے والے سالوں میں بالکل سعودی عرب کی حکومت کے طرز پہ طالبانی دیوبندی کوڈ سے انحراف کرنے والوں کے سر قلم کردئے گئے

کامیاب افغان تجربے نے سعودی انٹیلی جنس کو پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرح دیوبندی۔سلفی بنیاد پرست جنونیوں کو مڈل ایسٹ میں سیکولر اور شیعہ اور صوفی سنّی ، علویوں اور حوثیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اہمیت جان لی تھی۔

سعودیوں نے واشنگٹن اسٹبلشمنٹ کی اہمیت کو بھی جان لیا اور اس نے اس اسٹلبشمنٹ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے لابی بنانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے۔لیکن سعودی عرب کو اس دوران اسرائیل کی طاقتور لابی کا بھی اچھی طرح اندازہ ہوگیا اور سعودی عرب نے اسرائیلی لابی کو کرائے پہ لینے کو زیادہ آسان حل سمجھا اور خفیہ طور پہ اسرائیل سے تعلق بنائے اور اسرائیل کو اربوں ڈالر ادا کئے۔سعودی ڈالرز نے ایرانی پیسے کی جگہ لے لی-ایرانیوں نے امریکہ سے اسلحہ خریدنے کے لئے 1980ء میں اسرائیل کو درمیان میں ڈالا تھا اور اس کام کی اسرائیل کو بھاری رقم دی تھی-اسرائیل اور سعودی عرب کا خفیہ اتحاد ایک طرف تو پوری دنیا میں شیعہ کریسنٹ کے پھیلاؤ کا خوف پیدا کرنے کا جعلی پروپیگنڈا کررہا تھا اور پوری دنیا خاص طور پہ امریکیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ ایران –شام-حزب اللہ نہ صرف سعودی عرب و اسرائیل کے اسٹریٹجک دشمن ہیں بلکہ یہ امریکی مفادات کے بھی دشمن ہیں

سیاسی طور پہ طاقتور اسرائیل اور مالیاتی طور پہ دیو سعودی عرب دونوں نے ملکر امریکی سیاست دانوں ، میڈیا پنڈتوں اور نوکر شاہی کے لئے ایک ہی جملہ تیار کیا : ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہے

یہ بیان امریکی جرنیلوں جیمس مٹس اور مائکل فلائن (جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے امریکی سیکرٹری برائے دفاع اور مشیر برائے قومی سلامتی کے لئے چنے گئے ہین) نے بار بار دیا ہے

سئنیر امریکی حکام اس سے بخوبی واقف تھے لیکن انہوں نے کبھی پبلک میں اس کو تسلیم نہ کیا۔مثال کے طور پہ ویکی لیکس کے زریعے سے سفارتی مراسلات کے ساتھ جو امریکی دستاویزات سامنے آئیں جوکہ امریکی سٹیٹ سیکرٹری ہیلری کلنٹن اور ٹاپ ایڈوائزرز کے مراسلے تھے میں یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ دہشت گرد جہادی گروپ سعودی عرب سے فنڈ وصول کررہے ہیں اور اس سچ کو چھپایا گیا اور پھر کہیں جاکے اسے نیویارک ٹائمز نے پہلی بار بے نقاب کیا۔

سیکرٹری ہیلری کلنٹن نے 2009ء میں ایک سفارتی مراسلے میں لکھا کہ سعودی عرب سلفی-دیوبندی جہادی گروپوں کو پوری دنیا میں فنڈنگ کرنے کا سب سے اہم سورس اور زریعہ ہے۔کلنٹن نے تسلیم کیا کہ شام اور عراق کے اندر داعش کو ملنے والی فنڈنگ میں ایک بڑا حصّہ سعودی عرب کا ہے۔

2014ء میں ہلیری کلنٹن کی انتخابی کمپئن کے چئیرمین جان پوڈسٹا کو لکھی گئی ایک ای میل لیک ہوگئی جس میں کلنٹن نے پودسٹا کو لکھا،
” ہمیں اپنے سفارتی اور زیادہ روائتی انٹیلی جنس اثاثوں کو قطری حکومت اور سعودی عرب کی حکومت پہ دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاءئیے جوکہ مڈل ایسٹ میں داعش سمیت وہابی-دیوبندی دہشت گردوں کو مالیاتی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہے ہیں”

سلفی-دیوبندی انتہاپسندی کی مدد کرنے میں سعودی کردار کی بہتر سمجھ کے لئے آپ کو سعودی شہزادوں کی جانب سے اپنے کردار بارے سعودی وہابی مذہبی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے نرم رویہ رکھے جانے کی سند حاصل کرنے کے لئے انتہا پسند وہابی تعلیمات کے پھیلاؤ کے لئے بڑے پیمانے پہ پیسہ خرچ کرنے کے عمل کو سمجھنا ہوگا جوکہ وہابیت کے نزدیک کافروں اور مرتدوں کے خلاف لڑنے پہ اکساتی ہیں۔

اس حقیقت کی مزید وضاحت زکریا موسوی جوکہ 9/11 میں ملوث 20واں ہائی جیکر تھا اور وہ فلورینس کلوروڈو میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے کے بیان سے ہوتا ہے۔ جس نے بتایا کہ اسامہ بن لادن کو کیسے سعودی عرب کے ٹاپ کے سرکاری اہلکاروں سے مدد ملی جبکہ سعودی ایمبسی برائے امریکہ میں ایک سفارت کار کے زریعے سے سفارتی کور میں سٹنگر مزائل امریکہ لیکر آنے کا منصوبہ بھی بناتاکہ ائر فورس ون کو گرایا جاسکے۔موسوی کے پاس القاعدہ کو چندہ دینے والوں کی جو لسٹ تھی اس میں سابق شاہ عبداللہ ، اس کا سخت گیر پیش رو سلمان بن عبدالعزیز ، شہزادہ ترکی الفصیل سابق سعودی انٹیلی جنس سربراہ اور امریکہ و برطانیہ میں سعودی سفیر رہنے والا، سابق سفیر ، انٹیلی جنس چیف اور بش فیملی کا قریبی دوست بندر بن سلطان ، سٹی گروپ ، روپرٹ مرڈوک نیوز کارپوریشن ہوٹل جارج پنجم پیرس اور دی پلازہ نیویارک کا میجر انوسٹر الولید بن طلال شامل تھے۔

موسوی کہتا ہے کہ علماء اگر کہتے ہیں کہ ہمیں اقتدار پہ قبضہ نہیں کرنا تو ہم قبضہ نہیں کریں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی وہابی مذہبی اسٹبلشمنٹ ہی بادشاہ گر ہیں۔

اسرائیلی حکام نے بھی اس بات کی وضاحت کی کہ وہ کیوں القاعدہ یا داعش کو شامی سیکولر رجیم کے مقابلے میں سپورٹ کررہے ہیں/کیونکہ بشارالاسد کو ایران ، علویوں کی حمائت حاصل ہے۔

یروشلم پوسٹ کو ایک انٹرویو ستمبر 2013ء میں اسرائیل کے امریکہ میں تعنیات سفیر اور اس وقت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے انتہائی قریب مائیکل اورین نے بتایا کہ اسرائیل اسد کے مقابلے میں وہابی انتہا پسندوں کی حمائت کرتا ہے،

اورین کے الفاظ تھے،” اسرائیل کے لئے سب سے بڑا خطرہ دمشق، بیروت اور تہران کا باہمی اتحاد ہے اور ہم اسد کی حکومت کو اس اتحاد کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ہم نے ہمیشہ چاہا کہ اسد رخصت ہو اور ہم نے ہمیشہ ان برے لڑکوں کو ترجیح دی جن کو ایران کی حمائت حاصل نہیں ہے بمقابلہ ان کے جن کو ایران کی مدد حاصل ہے۔اور چاہے ان برے لڑکوں کا اتحاد و الحاق القاعدہ سے ہی کیوں نہ ہو/

اور اگر آپ کا گمان یہ ہو کہ اسرائیلی سفیر سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو اس نے اپنی اس پوزیشن اور موقف کا آسپن انسٹی ٹیوٹ کانفرنس میں ایک بار پھر جون 2014ء میں اعادہ کیا۔سابقہ سفیر کے طور پہ بات کرتے ہوئے ہوئے ، اورین ے کہا اسرائیل شام میں داعش کی فتح کو ترجیح دے گا جوکہ عراقی فوجیوں کو ذبح کررہی تھی اور مغربی باشندوں کے سر قلم کررہی تھی نہ کہ اس کی ترجیح ایرانی حمائت یافتہ اسد حکومت ہوگی

اورین جوکہ اب بنجمن نتین یاہو کی حکومت میں نائب وزیر ڈپلومیسی ہیں نے کہا تھا،
” اسرائیل کے تناظر سے اگر کسی ایک برائی کا غالب آنا ناگزیر ہو تو وہ برائی داعش و القاعدہ جیسی برائی ہونی چاہئیے "

اسرائیل کی ترجیح سلفی وہابی ہیں اور اس کے خفیہ تعلقات سعودی عرب کے ساتھ ہیں تو اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اسرائیلی لابی امریکہ میں کیوں بھاری طریقے سے ایران اور شیعہ خلاف سرگرم ہے

ایران کا جرم

لیکن ایران کے بارے میں سچ ہے کیا ؟ جبکہ سعودی عرب ، قطر داعش و القاعدہ اور طالبان کو فنانس کرتے ہیں تو اس بات کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی کہ امریکی حکام ایران کو دہشت گردوں کا چیف سپانسر قرار دیتے ہیں

بالکل اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ایران حزب اللہ کی حمائت کرتا ہے جوکہ جنوبی لبنان میں ایک شیعی تحریک ہے جو کہ 1980ء مں اسرائیلی قبضے کے خلاف بطور مزاحمت کار تحریک کے ابھری تھی ۔کئی سالوں تک حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف پہ ادلے کے بدلے میں حملے کئے کیونکہ اسرائیل بھی حزب اللہ کے ٹھکانوں پہ بمباری اور اس کے لیڈروں پہ قاتلانہ حملے کررہا تھا۔لیکن نہ ہی ایران اور نہ ہی حزب اللہ کو امریکیوں پہ ہونے والے کسی حملے کا گزشتہ دو عشروں میں ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

عام طور پہ جن حملوں کو ایرانی دہشت گردی کہا گیا وہ بھی دہشت گردی نہ تھی۔جیسے یو ایس میرین کی بیرکس کے نزدیک 1983ء میں بیروت ائرپورٹ پہ ہونے والے دھماکے۔یہ کلاسیکل اعتبار سے دہشت گردی کی تعریف پہ پورا نہیں اترتے جس میں کسی سیاسی مقصد کی خاطر جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ایران شام اور عراق کی حکومتوں کی دعوت پہ ان دونوں ملکوں میں القاعدہ و داعش کے خلاف کاروائیوں میں حصّہ لے رہا ہے اور یہ کوئی دہشت گردی کی سپورٹ نہیں ہے جبکہ یمن میں ایران کی حوثی قبائل کو امداد دینے کی کوئی اتنی بڑی مثال سامنے نہیں آئی ہے اور زیادہ تر یہ سعودی عرب کا پروپیگںڈا ہے جو کہ یمن پہ جارحیت کا حقیقی مجرم ہےاور ہزاروں شہری سعودی حملوں میں مارے گئے ہیں۔اور اسے اوبامہ ایڈمنسٹریشن کی حمائت حاصل رہی ہے

تو جب امریکی حکام بار بار یہ کہتے ہیں کہ ایران دہشت گردوں کا سب سے بڑا سپانسر ہے تو مجھے بے اخیتار وہ وڈیوز یاد آتی ہیں جن میں کسی یرغمالی کو بندوق کے زور پہ اغواء کار زبردستی ایک لکھا ہوا بیان دوھرانے پہ مجبور کرتے ہیں اور وہ اذیت یا موت کے خوف سے ایسا کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔
اگر امریکہ میں کوئی سرکاری اہلکار پبلک میں سچ بول بھی دے تو اس کو سعودی-اسرائیلی لابی عبرت کا نشان بنانے میں دیر نہیں لگاتی-اب یہ کہنا زرا مشکل ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیکرٹری دفاع و نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے لئے جن سابق جرنیلوں کو جنا ہے آیا وہ اپنے عہدے بچانے کے لئے ایران کو سب سے بڑا دہشت گردوں کا مددگار قرار دے رہے ہیں یا حقیقت میں ایسا سمجھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر مڈل ایسٹ میں واقعی کوئی بامقصد اور بامعنی کام کرنے کے خواہاں ہیں تو انھیں مڈل ایسٹ کے بارے میں امریکی ریاست جو جانتی ہے وہ ٹھیک ٹھیک بتادینا چاہئیے اور پھر اس حقیقت پہ کام کرنا چاہیے کہ سعودی عرب کی جانب سے القاعدہ ، داعش اور طالبان کو پالے جانے کا سلسلہ اب جاری نہیں رہنا چاہئیے۔

Views All Time
Views All Time
668
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   داعش کی قلندر سے نفرت کا سبب ہماری محبت ہے - فاطمہ بھٹو (ترجمہ: رضا مہدی باقری)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: