Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دل کو چھونے والی عرب شاعری – عامر حسینی

by دسمبر 10, 2016 ادب, تراجم
دل کو چھونے والی عرب شاعری – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

aamir hussaini newکافی دن ہوگئے تھے اور مجھے کوئی ایسی شاعری پڑھنے کو نہیں ملی تھی جو مجھے اندر سے کچھ بے چین کرتی اور تھوڑا سا عجیب طرز پہ بنے بنائے راستے سے ہٹ کر چلتی نظر آتی ہو۔ایسے میں مجھے قاہرہ مصر کی شاعرہ قندیل فاطمہ جو کہ قاہرہ سے نکلنے والے رسالے "فصول ” کی معاون مدیر بھی ہیں اور خلیل جبران پہ پی ایچ ڈی ہیں جبکہ 70ء کی معاصر عرب شاعری پہ ان کا ماسٹرز ہے۔ان کی ایک نظم "مفاتیح ” ہے –کنجیاں مگر یہ کیسی کنجیاں ہیں۔یہ نظم آخر میں کہیں جاکے اپنے آپ کو کھولتی ہے۔اور مجھے یہ فیمنسٹ معانی میں بھی ایک بڑی نظم نظر آتی ہے۔کم از کم ایسا طنز کہ "وہ کنجیاں جو مری جیب میں پڑی مرتی ہیں مجھے یاد دلاتی ہیں کہ یہ وہ وقت ہے کہ میں عقلمند عورت ہوجاؤں (اور عقل مند عورت کیسے ہوؤں ) یعنی گھر میں ٹک کر سکون سے بیٹھوں ایسا گھر جس میں نہ تو کنجیاں ہوں ، نہ ہی ابواب۔۔۔۔۔
المفاتيح التي لا تفتح الأبواب
هي المفاتيح التي تغلق الأبواب
والمفاتيح المشنوقة في السلاسل
لا تملك إلا دراما الرنين
لكن المفتاح الذي يموت في جيبي
يذكرني بأنه قد آن الوقت لكي أكون إمرأة عاقلة ، تسكن بيتا
بلا مفاتيح . . . . بلا أبواب
وہ کنجیاں جو دروازے کھولنے والی نہیں ہیں
وہ کنجیاں جو جو دروازے بند کرنے والی ہیں
وہ کنجیاں جو زنجیروں سے لٹکی رہنے والی ہیں
اور ان کی ملکیت سوائے صاف جھن جھن کی آواز کے ڈرامے کے کچھ نہیں ہے
لیکن وہ کنجیاں جو مری جیب میں پڑی مررہی ہیں
مجھے یاد دلاتی ہیں کہ یہ وہ وقت ہے جب میں عاقلہ عورت ہوجاؤں اور گھر پڑی رہوں
بغیر کنجیوں کے ۔۔۔۔۔۔۔ بغیر دروازوں کے
ایسے ہی مجھے شامی شاعر نزار قبانی (میں ان کے ساتھ شامی اس لئے لگایا کہ بہت سے نوجوان اس شاعر سے ناواقف ہوں گے۔ورنہ 80ء تک تو فلسطین کے محمود درویش ،ترکی کے ناظم حکمت ، شام کے نزار قبانی ، چلی کے پابلو نرودا سے نوجوانوں کی اکثریت واقف تھی) ایک مجھے پرانی نظم یاد آگئی ۔
میں تمہیں سکھا تو نہیں سکتا کہ محبت کیسے کرتے ہیں
کبھی مچھلی کو بھی کسی معلم کی ضرورت پڑی ہے بھلا
جو اسے تیراکی سکھائے
پرندے بھی کسی معلم کے محتاج نہیں ہوتے
کہ وہ ان کو اڑنا سکھائے
اپنے آپ تیراکی سیکھ لے
خود ہی اڑنا سیکھ
محبت کے لئے درسی کتب نہیں ہوا کرتیں
اور تاریخ میں بڑے عاشق وہ گزرے جن کو پڑھنا نہیں آتا تھا

25 سالہ آیات محمد حسن القرمزی بحرین کی شہری اور ایک باغی شاعرہ ہیں جن کو بحرین کے خلیفہ سلیمان آل خلیفہ کے خلاف ایک نظم لکھنے پہ پابند سلاسل کیا گیا-اور ہم اسے بحرین کی قرۃ العین طاہرہ کہہ سکتے ہیں۔ان کی نظم کا عنوان ہے "رھینۃ ” مطلب "محاصرہ ” ہے۔آپ کو احمد فراز کی نظم "محاصرہ "بھی یاد ہوگی۔یہ نوجوان شاعرہ بحرین کے اندر ہی نہیں بلکہ بحرین کے باہر بھی خوب مقبول ہے۔اور بحرین میں اس کے اشعار پہ مشتمل چاکنگ ہم دیواروں پہ دیکھتے ہیں۔اس شاعرہ سے بحرین کی بادشاہت بہت خوفزدہ ہے۔
مری قوم کے مصائب پہ مبنی کھانے کی میز پہ شیطان و حماد(خلیفہ ) بیٹھے ہیں
اور ان کے مابین یہ گفتگو ہوتی ہے
شیطان :اے حماد ! تمہیں خدا کا خوف کرنا چاہیے جب تم ان سے معاملہ کرتے ہو
مرا دل بھی ڈر رہا ہے جو تم ان کے ساتھ کررہے ہو
میں شیطان ہوں اور تم نے ان کے ساتھ جو کیا تو مرا دل بھی ان کی طرف ہوگیا ہے
اس لئے فوری باز آؤ ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ میں ان کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آگے گرپڑوں گا
اور اپنے خدا کی طرف چلا جاؤں گا اور ان سے کہوں کہ میں ان کی جدوجہد سے سخت وحشت زدہ ہوگیا ہوں
حماد: مرے شریک کار! تم نے تو مجھے ان کو بے اعتبار کرنا سکھایا تھا
تذلیل ، عذاب اور بے عزتی ان پہ جو میں نے مسلط کی تم نے ہی تو سکھائی تھیں
اے شیطان اب تم ہی ان کے وکیل بنکر سامنے آگئے ہو
لگتا ہے ان کی بیداری اور عدم اطاعت کی قابلیت نے تمہاری شناخت کو بھی لرزا دیا ہے
شیطان:ہاں حماد!تمہاری قوم نے مجھے ہلادیا ہے
اور تم اب بھی ان کی مانگوں پہ توجہ نہیں کررہے
حماد دست بردار ہوجاؤ
کیا تمہیں نظر نہیں آرہا کہ کیسے لوگ اکٹھے ہوتے جاتے ہیں
مجھے حیرانگی نہیں ہوگی اگر مسیحا ان کے درمیان پایا جائے
جو ان کے نالے سنتا ہے اور ان کی جدوجہد کو سراہتا ہے
ان کے ہر قدم ،ہر چاپ کو وہ دیکھتا ہے
حماد !خبردار ہوجاؤ ،میں تمہیں تنبیہ کرتا ہوں
اپنی ساری دولت بھی رشوت میں دو تو اپنی قوم کو خرید نہیں سکو گے
حماد : زرا رکو، ابھی تو مرا پیٹ ان کے خون سے بھرا نہیں ہے
ابھی تو میں اپنے خاندان ، دوست اور ان کی عورتوں کو نیوٹرلائز نہیں کیا
اور ابھی تو میں نے اپنے سارے ٹھگ دوستوں کو ہدایات نہیں دیں
وہ سب بچے پیدا کرنے کی مشینیں بن جائیں (تاکہ وہ اکثریت کے خلاف اقلیت کی تعداد لڑنے والوں کی بڑھائیں)
جبکہ مرے دوسرے ٹھگ ان سے ٹکراتے ہیں
ابھی تو میں نے یہاں اس مادر وطن کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں خوابوں کی شمعوں کو گل کرنے پہ مجبور نہیں کیا
ہر ایک ٹریفک سگنل پہ وہ کھڑا ہوتا ہے
ہر پاس گزرنے والے کے سامنے گڑگڑاتا ہے
براہ مہربانی مجھ سے یہ پانی کی بوتلیں خرید لو
لیکن کوئی بھی تو اس کی پکار پہ کان نہیں دھرتا
ابھی تو میں نے اس سرزمین پہ ہر صاحب دستار، ہر ایک نوجوان اور ہر ایک بچے کو اذیت دینے کا مشن مکمل نہیں کیا ہے
نہ ہی اپنے قید خانوں میں ،میں نے نوجوان پھولوں کی پشتیں نہیں داغی ہیں
اور اے شیطان !
ابھی اتنے نوجوانوں نے شہادتوں کو اپنے سینے پہ نہیں سجایا جتنی میں چاہتا ہوں
ان کے لئے کوئی نوکری ،کوئی پیشہ نہیں ہے
ان کو بھول جاؤ، یہ اسی کے مستحق ہیں
اور ابھی تو میں جنوب ایشیائی باشندوں کو اس قیمتی زمین پہ قہر ڈھانے کے بدلے پوری ادائيگی نہیں کی ہے
وہ جو ہمارا جھنڈا اٹھائے ،حکومت نواز ریلیوں میں
ٹوٹی پھوٹی عربی میں
ابو سلیمان آل خلیفہ زندہ باد کے نعرے مارتے ہیں
اور ابھی تو میں نے ہر فلیٹ کے رہائشی کا خون بلوں کی مد میں چوسا نہیں ہے
جبکہ اس دوران ٹھگوں کے پاس زمین ہے اور گھر ہیں
لیکن پریشان مت ہونا ان کی تعداد 120 سے زیادہ نہیں ہے
اور مجھے شک ہے کہ کوئی ان کی چیخیں سن پائے گا
شیطان : تم کس سے مذاق کررہے ہو
کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ یہ بس 120 ہیں
اور کوئی ان کی چیخیں نہیں سنتا
او مرے حد سے بڑھ جانے والے اعتماد کے مالک حماد ابو سلمان! زرا یہاں دیکھو
اے تم وہ ہو جس کا مکر و فریب اس کے استاد سے بھی آگے بڑھ گیا ہے
تمہاری متحد قوم مجھے خوفزدہ کئے دیتی ہے
سنّی اور شیعہ بھائی ہیں اور اللہ نے ان کے لئے کوئی مناقشہ نہیں رہنے دیا
سنّی اور شیعہ بھائی ہیں اور ہم اس قوم کو کبھی فروخت نہیں کرسکیں گے
انہوں نے 7 شہید اپنے اندر سے دئے ہیں
اس دھرتی کے لئے سات
اور ابھی بھی اس خون بھرے اٹھ کھڑے ہونے پہ تمہارا دل نرم نہیں پڑا
کیا تمہارے پارٹنر کے طور پہ میں کوئی مشورہ تمہیں دے سکتا ہوں
اس بے کار رجیم کی کا تام جھام اٹھاؤ اور نکل لو
کیونکہ مرے پیارے ، مرے عزیز ! تمہاری قوم تمہاری انجمن سے کب کی نکل چکی ہے

Views All Time
Views All Time
1025
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اداسیوں کی چھاؤنی اور افضل صفی - رضی الدین رضی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: