Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عادی لکھاری

by جنوری 29, 2018 تراجم
عادی لکھاری
Print Friendly, PDF & Email

"میں تیس سال سے لکھ رہا ہوں” کچھ عرصے سے میں اس فقرے کی گردان کررہا ہوں۔ میں نے اتنی بار اس فقرے کو بولا کہ یہ اب سچائی میں بدل گیا ہے۔ جب کہ اب میں لکھنے کے اکتسیویں سال میں داخل ہورہا ہوں۔ لیکن اب بھی میں یہی کہنا پسند کرتا ہوں کہ میں تیس سال سے ناول لکھ رہا ہوں۔ اگرچہ یہ کہنا تھوڑا مبالغہ آرائی سے کام لینا ہے۔

وقفے وقفے سے میں کچھ اور چیزیں لکھنے کا کام بھی کرتا ہوں۔ مضامین، تنقید، استنبول کی عکاسی یا سیاست اور تقریریں۔ لیکن میرا اصلی پیشہ وہ چیز جو مجھے زندگی سے باندھے رکھتی ہے ناول لکھنا ہی ہے۔ بہت سارے مصنف ایسے ہیں جن کو لکھتے ہوئے مجھے سے کہیں زیادہ عرصہ ہوگیا ہے یا جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ اس سوال کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے لکھا ہے۔ پھر کئی ایک بہت ہی مہان لکھاری ہیں جن کی طرف میں بار بار پلٹت ہوں۔ ٹالسٹائی، دستوفسکی اور تھامس مان جن کی ادبی زندگی کا دورانیہ پچاس سال سے بھی زیادہ ہے۔ تو میں اپنے لکھنے کی 30 ویں سالگرہ کو اس قدر اہمیت کیوں دیتا ہوں؟ میں ایسا اس لیے کرتا ہوں کیونکہ مجھے لکھنے کے بارے میں بولنے کی خواہش ہے۔ خاص طور پہ بطور عادت ناول لکھنے کے بارے میں۔

خوش رہنے کے لیے مجھے روزانہ ادب کی خوراک درکار ہوتی ہے۔اس معاملے میں، میں اس مریض سے مختلف نہیں ہوں جسے ہر روز ایک چمچ دوا کھانا ہوتی ہے۔ جب میں چھوٹا تھا اور مجھے معلوم پڑا کہ ذیابیطس کے مریض کو ہر روز ایک انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے تو مجھے یہ اتنا ہی برا لگا تھا جتنا دوسروں کو لگا ہوگا۔ میں نے تو ان کو آدھا مرا ہوا خیال کر لیا تھا۔ تو ایسے ادب پہ میرا انحصار مجھے بھی اسی طریقے سے آدھا مرا بناتا ہے۔ خاص طور پہ جب میں نوجوان لکھاری تھا تو مجھے لگتا تھا کہ دوسرے مجھے حقیقی دنیا سے کٹا ہوا خیال کرتے ہیں تو اس سے میں آدھا مرا ہوا ہی تھا۔ یا شاید اس کے لیے مناسب اصطلاح "نصف بھوت” ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کچھ لکھنے کے عمل بارے

میں بعض اوقات اس خیال سے لطف اٹھاتا تھا کہ میں مکمل طور پہ مردہ تھا اور ادب کے ساتھ میرے تن مردہ میں جان پڑجاتی ہے۔ میرے لیے ادب دوا کی طرح ہے۔ اس دوا کی طرح جسے دوسرے چمچ یا انجیکشن کے ذریعے لیتے ہیں۔ میری روزانہ کے ادب کی مقدار کے لیے یا میری روزانہ کی متعین مقدار کے لیے آپ کو کچھ معیار مقرر کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے اس دوا کو لازم ہے کہ اچھی ہو۔ اس کی اچھائی یہ ہے کہ یہ مجھے بتائے کہ کس قدر یہ سچ اور پوٹینشل رکھتی ہے۔ کسی ناول کے گھنے اور گہرے پیراگراف کو پڑھنا، اس کی دنیا میں داخل ہوکر ایسا سمجھنا کہ وہ سچ ہے سے زیادہ کوئی شئے مجھے خوش نہیں کرتی اور نہ ہی اس سے زیادہ زندگی سے باندھ کر رکھتی ہے۔

میں ادیب کے مرے ہونے کو ترجیح دیتا ہوں تاکہ میرے کام کی تعریف کے اندھیر ہونے کا امکان نہ رہے اور میں جلن کا شکار نہ ہوں۔
جتنا زیادہ میں پرانا ہوتا جاتا ہوں اتنا میں قائل ہوتا جاتا ہوں کہ بہترین کتابیں مرے ہوئے ادیبوں نے لکھی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ مرے ہوئے نہ بھی ہوں تب بھی میں ان کو بھوت ہی سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم عظیم ادیبوں کو گلیوں میں چلتا دیکھتے ہیں تو ان سے بھوتوں سا برتاؤ کرتے ہیں۔ ہم بالکل اپنی آنکھوں کا یقین نہیں کرتے کیوں کہ ہم ان کو فاصلے سے ہی شاندار سمجھتے ہیں۔ چند نڈر روحیں ہی ان کے پاس آٹوبائیوگراف لینے پہنچتی ہیں۔ بعض اوقات میں اپنے آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ یہ ادیب جلد ہی مرجائیں گے۔ اور ایک بار جب وہ مرجائیں گے تو ان کی کتابیں ہمارے دلوں میں اور اچھے سے اپنا مقام بنالیں گی۔ اگرچہ ہر مرتبہ یہ معاملہ نہیں ہوا کرتا۔

اگر میری روز کے ادب کی خوراک جو میں لکھ رہا ہوں۔ وہ ہو تو یہ سب بہت مختلف ہوگا۔کیونکہ جو میری جیسی بیماریوں کا شکار ہیں تو ان کے لیے سب سے بہترین علاج اور عظیم ترین خوشی کا سرچشمہ روز آدھا صفحہ لکھنا ہے۔ تیس سالوں سے میں روزانہ دس گھنٹے اپنے کمرے میں تنہا اپنی میز کے گرد بیٹھ کر گزارتا ہوں۔ اگر آپ میرے قابل اشاعت کام کا شمار کریں تو میرے لکھنے کی روز کی اوسط آدھا صفحہ بنے گی۔ میں جو لکھتا ہوں اس کا زیادہ حصّہ میرے کوالٹی کنٹرول معیار پہ پورا نہیں اترتا ہے۔ اور یہ میری مشکل کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ لیکن براہ کرم مجھے غلط نہ سمجھیں۔ ایک لکھاری جو ادب کا محتاج ہو جیسے کہ میں ہوں وہ اس قدر کھوکھلا نہیں ہوسکتا کہ ان کتابوں کے جمال کے اندر ہی مسرت تلاش کرتا پھرے جن کو وہ پہلے ہی لکھ چکا ہو۔ نہ ہی وہ ان کی تعداد پہ ہی اپنے آپ کو شاباشی دیتا پھرے۔ یا ان سے جو حاصل ہوا اس پہ خوش ہوتا پھرے۔ ادب ایسے لکھاری کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود کو دنیا کو بچانے والا بنا کر پیش کرتا پھرے۔ بلکہ یہ تو اسے ایک دن بچا کر رکھنے کی صلاح دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مجبور و محصور لبنانی وزیراعظم کا ٹی وی انٹرویو اور سعودی عرب کے عزائم

ویسے تو تمام دن ہی مشکل ہوتے ہیں مگر وہ دن تو خاصے مشکل ہوتے ہیں جب آپ کچھ نہیں لکھتے یا جب آپ کچھ لکھ نہیں پاتے۔ایسا دن جلدی سے گزر جائے غنمیت ہوتا ہے۔

اور اگر کتاب یا کوئی صفحہ آپ پڑھ رہے ہوں تو اس میں لطف پانا اچھا ہوتا ہے اور ایسے ہی اس سے خوشی کا مل جانا بھی اچھا شگن ہوتا ہے چاہے یہ ایک دن کے لیے کیوں نہ ہو۔

نوٹ: یہ مضمون نوبل انعام یافتہ اورحان پامک کے مضامین و کہانیوں کے مجموعے( Öteki Renkler ( Other Colors سے لیا گیا ہے۔ جسے محمد عامر حسینی نے ترجمہ کیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
179
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: