Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جہنم میں مسیحائی کون کرے گا؟

by جنوری 29, 2018 کالم
جہنم میں مسیحائی کون کرے گا؟
Print Friendly, PDF & Email

جنوری 23 ،2018ء کی شام بابا جانی کی طبعیت اچانک بگڑنا شروع ہوئی اور مجھے شک ہوا کہ ان پہ فالج اٹیک شروع ہورہا ہے تو میں نے چھوٹے بھائی سے ان کے معالج ڈاکٹر زاہد محمود خان سے رابطہ کرنے کو کہا۔وہ خوش قسمتی سے اپنے کلینک پہ موجود تھے ۔ہم ان کے کلینک پہنچے تو انہوں نے والد صاحب کو دیکھتے ہی کہا کہ برین ہیمرج شروع ہورہا ہے۔انہوں نے فوری طور پہ مجھے تین انجیکشن لانے کو کہا۔وہ انجیکشن بھی شہر کے میڈیکل اسٹورز پہ نایاب تھے اور ایک سٹور پہ وہ مشکل سے مل گئے۔اور ان انجیکشن کو لگانے سے بابا کی طبعیت سنبھل گئی،اس دوران ان کے بائیں ہاتھ اور بائیں ٹانگ پہ تھوڑا سا اثر ہوچلا تھا۔ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ہمیں فوری ملتان جاکر بابا کا سی ٹی سکین کروانے کی ضرورت ہے۔

میں نے گاڑی کا انتظام کیا اور ملتان کی جانب روانہ ہوگئے۔مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ بابا کو کہاں لے کر جانا چاہئیے۔میں نے اپنے ایک دوست کو صورت حال بتائی تو انہوں نے کہا کہ بابا کو فوری نشتر ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی لے کر آئیں اور کہیں نہیں جانا۔نشتر کا سنکر میں تھوڑا پریشان ہوا۔میرا دل نہیں مان رہا تھا۔خیر ہم مغرب کے کچھ دیر بعد جب نشتر ایمرجنسی کے گیٹ کے سامنے پہنچے تو میں نے پینٹ شرٹ پہنے اور اوپر سفید اپیرن کوٹ لئے ایک آدمی کو دیکھا جس کے ساتھ پیرامیڈیکل سٹاف اٹینشن کھڑا تھا اور جیسے ہی ہماری گاڑی رکی اور گیٹ کھلا تو ایک وہیل چئیر پہ میرے والد کو بٹھایا گیا اور اس دوران اس سفید ایپرن کوٹ پہنے آدمی نے مجھ سے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور مجھ سے بابا کا نام اور ان کی ولدیت پوچھی جسے ان کے پیچھے کھڑے ایک فربہ نوجوان نے نوٹ کرلیا۔اور وہ تیزی سے ایمرجنسی کے ریسپشن کاؤنٹر کی طرف گیا۔وہاں سے اس نے ایک سلپ حاصل کی۔جبکہ میرے والد کو عملہ لیکر ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھا تو ایمرجنسی وارڈ کی گیلری مریضوں سے بھری پڑی تھی جبکہ داخلی دروازے تک میں مریضوں کے سٹریچر پڑے تھے۔اور وہیل چئیرز پہ مریض تھے جبکہ تمام بیڈز پہ کم از کم دو ،دو مریض تھے اور ایسے میں دو مرد اور دو عورتیں ڈاکٹرز اور ان کے ساتھ قریب قریب 6 میل و سسٹر نرسز تھیں اور اس بھیڑ میں وہ کافی پریشان نظر آرہے تھے۔اپیرن کوٹ والا مرد تیزی سے ان میں سے ایک فیمل ڈاکٹر کی طرف بڑھا،اسے کچھ کہا تو وہ فیمل ڈاکٹر وارڈ سے باہر گیلری میں سیدھا بابا کی طرف آئی،اس نے بابا کو وہیں چیک کیا اور ایک شیٹ پہ تیزی سے کچھ لکھنے لگی۔اس نے سی ٹی سکین، دماغ کا ایکسرے اور بلڈ ٹیسٹ کرنے کا لکھا اور وہ شیٹ فربہ نوجوان کے حوالے کی جو اسے لےکر وارڈ کے اندر گیا اور وہاں سے ایک سبز کلر کی ایک لمبی سی شیٹ لیکر باہر آگیا اور بابا کو وہیل چئیر لیکر ایک گیلری سے ہوتے ہوئے سی ٹی سکین شعبہ کی طرف گئے تو وہاں پہلے سے ایک لمبی لائن تھی۔اس مرتبہ پھر وہی آدمی آگے بڑھا اور اس نے ایک شیشے کی پارٹیشن کے اندر جاکر کسی سے بات کی اور اندر سے ایک نوجوان آیا اور وہ بابا کو سی ٹی سکین مشین کی طرف لے گیا اور تھوڑی دیر بعد بابا کی سی ٹی سکین کا رزلٹ سامنے تھا اور اسے دے کر اس آدمی نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا،’ خطرہ ٹل گیا، ایک دو جگہ سے معمولی سی شریان لیکج تھیں،جو رک گئی ہے، بزرگ کے معالج نے اچھی ٹریٹمنٹ دی ہے۔’ اور اس کے بعد انہوں نے بابا کو ایچ او ڈی میں داخل کردیا اور ساری رات کے لئے انڈر آبزرویشن رکھا۔اس دوران ایمرجنسی وارڈ کے اندر اور گیلری میں وہی منظر تھا اور سی ٹی سکین شعبہ سے باہر آتے ہوئے میں نے لوگوں کی بھیڑ ویسے ہی دیکھی۔

یہ بھی پڑھئے:   عطائیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے حکومتی دعوے - انور عباس انور

بابا کے بیڈ کے پاس ایک آدمی کو رہنے کی اجازت تھی۔رات گیارہ بجے تک ہم تین بھائی وقفے وقفے سے رہے،اس کے بعد میں نے دونوں بھائیوں کو آرام کرنے کو کہا اور بابا کے پاس میں نے اور میرے ایک دوست طارق حنیف نے رہنے کا فیصلہ کیا۔ہم صبح سات بجے تک وہاں رہے۔اس دوران سگریٹ پینے اور چائے پینے کے لئے میں باہر جاتا رہا اور یہی وہ وقت تھا جب میں نے ایک چکر نشتر کا لگایا۔اور اس کی وجہ پارکنگ میں ننگی زمین پہ سخت سردی میں گڈری اور بلینکٹ لئے اور رضائیاں لئے مریضوں کے لواحقین کو کسمپرسی میں پڑا ہوا دیکھا۔اور میں نے قریب قریب 29 وارڈز کی گیلریوں ، کوریڈورز، سیڑھیوں ، عارضی انتظار گاہوں اور سامنے بنے صحنوں پہ عورتوں،بچوں،بوڑھوں کو پڑے دیکھا۔یہ منظر ہلادینے والا تھا۔

اگلے چار دن اور چار راتیں بہت عذاب ناک تھے۔اگلی صبح ایمرجنسی سے بابا میڈیسن وارڈ نمبر 12 منتقل ہوئے اور ایک بار پھر وہی سفید اپیرن کوٹ والا آدمی فون پہ مصروف ہوا اور اس نے نجانے کیا کہا اور جیسے ہی ہم وارڈ 12 میں پہنچے تو ایک کمرے میں بابا کو بیڈ میسر آگیا جبکہ اس وارڈ میں تھوڑی سی گنجائش بھی نہیں تھی اور وہی دو،دو ،تین ،تین مریض ایک بیڈ پہ پڑے تھے اور مریضوں کی چیخوں سے وارڈ میں عجب وحشت پھیلی ہوئی تھی۔بابا جس کمرے میں تھے اس میں پہلے سے ایک السر اور فالج کا مریض تھا۔80 سال کا بوڑھا اور پہلی رات جب اس کا پیمپر بدلا جارہا تھا تو اس کی چیخوں سے کمرے کی دیواریں تک لرز رہی تھیں اور بابا اپنا دکھ بھول کر اس کے بارے میں زیادہ پریشان نظر آرہے تھے۔

سفارش، پہنچ اور طاقتور سماجی سٹیٹس کے ساتھ آپ کو یہاں کافی حد تک مسیحائی مل جاتی ہے۔اس وارڈ کی ہیڈ نرس بہت کرخت اور انسانی ہمدردی سے بالکل عاری تھی اور کئی ایک ڈاکٹروں کا رویہ بہت غیر انسانی تھا۔جبکہ چند ایک کا رویہ بہت اچھا تھا۔نشتر ہسپتال میں اپنے مطلوبہ وارڈ ،شعبے میں جانے اور اس حوالے سے رہنمائی مانگنے کا تجربہ دور دراز دیہاتوں سے آنے والے مفلوک الحال لوگوں کے لئے انتہائی بھیانک ہوتا ہے۔یہاں تک کہ نوجوان ڈاکٹرز،نرسیں اور دیگر عملے کے اکثر لوگ اجنبیوں سے کوئی تعاون کرتے نظر نہ آئے۔
میں اپنے محسن کے بارے میں سوچ رہا تھا جس نے ایمرجنسی سے میڈیسن وارڈ اور ديکر شعبوں میں بابا کے علاج میں آسانی پیدا کردی تھی اور مجھے اچانک خیال آیا کہ اگر وہ محسن نہ ہوتے تو شاید بابا ایمرجنسی وارڈ کی گیلری میں ہی رات اور اگلی صبح تک وہیل چئیر پہ رہتے یا سٹی اسکین شعبے میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہوتے۔

میرا محسن اگلی دوپہر کو بابا کی عیادت کرنے آیا تو اس نے اس ہسپتال میں اپنے آنے کا قصّہ سنایا جب اس کی گاڑی ایک ایکسڈنٹ میں تباہ ہوگئی اور وہ ،اس کی بیوی اور بچے زخمی حالت میں ایمرجنسی پہنچے تھے اور وہاں ان سے کیا سلوک ہوا تھا جس کا بیان کرتے ہوئے میرے محسن کا چہرہ دکھ اور اذیت سے بھرا ہوا تھا۔میرے اس محسن نے پہلے پہل تو یہاں کرانتی کار کا رویہ اپنایا لیکن اس سے فوری کچھ نہ بنتا دیکھ کر اس نے ایک لابنگ کے ذریعے سے اتنا کرلیا ہے کہ وہ یہاں بہت سارے غریبوں اور بے کسوں کے کام آجاتا ہے۔وہ روز نشتر آتا ہے۔اور یہاں بہت سے لوگوں کے کام آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   صحافتی مسکراہٹ اور بد عنوانی - اکرم شیخ

‘ یہاں انسانیت کا باب کب کا ختم ہوچکا ہے اور 99 فیصد اوپر سے لیکر نیچے تک عملہ درندوں کی جون میں آگیا ہے۔’
ہمارے درمیان اس بات پہ اتفاق تھا کہ اگر آپ امیر نہیں ہیں اور بس سفید پوش ہیں یا غریب ہیں اور کسی پہنچ و سفارش و رسائی سے محروم ہیں تو جیسے اچھی تعلیم کے آپ حقدار نہیں تو علاج و معالجے کے بھی آپ حقدار نہیں ہیں۔ایک سنگین بیماری اور روگ ہمارے جیسے سفید پوشوں کی قلعی کھول کر رکھ دیتے ہیں اور ہمیں غربت کے کچھ اور درجوں نیچے گرنا پڑجاتا ہے۔

ان ‏عذاب راتوں میں سے ایک رات کراچی سے ایک دوست کا مجھے فون آیا اور میں نے اسے جب یہاں کے حالات بتائے تو اس نے حیرانی سے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان کے نام نہاد آزاد میڈیا کے کیمروں کی آنکھ یہ مناظر ناظرین کو کیوں نہیں دکھاتی؟ کیمرے کی یہ آنکھیں تھر کے ویرانوں میں پہنچ جاتی ہیں مگر یہ ملتان میں نشتر کی چار دیواری کے اندر کے مناظر ہمیں کیوں نہیں دکھاپاتیں؟

ایسے مناظر ملتان،لاہور، کراچی ،پشاور، کوئٹہ،فیصل آباد سمیت پاکستان کے اربن اور کاسموپولٹن شہروں کے ہسپتالوں میں عام دیکھنے کو مل جائيں گے جبکہ ڈسٹرکٹ، تحصیل اور سب تحصیل تک آتے آتے اور خوفناک ہوجاتے ہیں۔لوگ کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہوکر ان ہسپتالوں میں جانے سے پہلے موت کی دعا مانگتے ہیں کیوں ہیں؟ اس کی مجھے کافی حد تک سمجھ آگئی ہے۔
اور پاکستان کی اربن چیٹرنگ کلاس، لبرل ایلیٹ اور سول سوسائٹی کے اشراف ریاست کے نیولبرل سرمایہ داری ترقی اور ڈویلپمنٹ ماڈل کے گیت گاتے نہیں تھکتی اور وہ نواز شریف، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی ، عمران خان، مراد علی شاہ،جہانگیر ترین اور ان جیسے دیگر سرمایہ داری کے چھوٹے بڑے لیڈروں کے گن گاتے نہیں تھکتی۔پاکستان کی سیاسی، فوجی، عدالتی،صحافتی اور انسانی حقوق کی اشرافیہ کو اپنے مریضوں کے لئے ان ہسپتالوں کی خاک چھاننا ہی نہیں پڑتی بلکہ اکثر تو اس ملک کے ہیلتھ سسٹم کے پرائیوٹ شعبے سے بھی رجوع نہیں کرتے اور دبئی ،واشنگٹن، لندن کا رخ کرتے ہیں۔ہمیں ایک طرف تو (بورژوا جمہوریت) کی فیوض و برکات کے بھاشن سننے کو ملتے ہیں تو دوسری طرف حب الوطنی ، سیکورٹی اور دفاع وطن کے وعظ سنائی دیتے ہیں۔جبکہ عام آدمی کی ان دونوں کیمپوں میں سرے سے کوئی اہمیت ہے ہی نہیں۔

Views All Time
Views All Time
650
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: