چیتا جیتھا بھائے شنّو ۔۔۔ خوف ہی خوف ہے راباندرے ٹیگور جی

Print Friendly, PDF & Email

پیارے گرو رابندرناتھ ٹیگور ٹھاکر جی،
نمسکار!
میں ابھی ابھی خواب سے بیدار ہوا ہوں۔میں کون ہوں؟ یہ جاننا آپ جیسے گرو کے لئے کچھ زیادہ ضروری نہیں ہے۔لیکن میرے خواب کا براہ راست آپ سے تعلق ہے۔لیکن ذرا مجھے اردو بھاشا والوں کے لئے ایک نظم کا بکواس سا ترجمہ پیش کرنے دیں تاکہ ان کو بات سمجھ آئے جب یہ خط ان کے ہاتھ تک پہنچے تو

جہاں پہ دماغوں پہ طاری خوف نہ ہو اور سر میں کچھ بڑا کرنے کا سودا ہو سمایا
جہاں علم ہو آزاد
جہاں پہ دنیا ٹوٹ کر بکھری نہ پڑی ہو
تنگ مقامی دیواروں کے بیچ
جہاں سے شبد سچ کی گہرائی سے برآمد ہوتے ہوں
جہاں بنا تھکے بازو کامل ہونے کی طرف پھیلائے جائیں
جہاں عقل کی صاف شفاف جھیل نہ کھو دے اپنا راستہ
ایک مردہ عادت کے خشک لق و دق صحرا میں
جہاں پہ دماغ عمل کی رہنمائی میں آگے بڑھیں
اور فکر وعمل کی راہیں کشادہ ہوتی چلی جائیں
اور آزادی کی جنت مل جائے
میرے لوگوں
ایسے میرے ملک کی بیداری ہو
اے میرے پتا

آپ مجھ سے واقف نہیں ہوں گے اور ہو بھی کیسے سکتے ہیں۔کیونکہ میں آپ کے اردگرد کی دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا اور نہ ہی شانتی نکتین میں پڑھا کوئی تمہارا چیلا میرے بزرگوں میں سے تھا۔لیکن میں نے تمہاری تصویر ایک ایسے آدمی کی آنکھ کی پتلیوں میں دیکھی تھی جسے ہمارے کوئٹہ کے مارکس واد ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ‘موہن جو داڑو کا جوگی’ قرار دیا تھا۔سوبھوگیان چندانی کامریڈ آپ کو یاد ہوں گے بلکہ اب تو پھر وہ سورگ میں شانتی نکتین میں آپ کے پاس ہی ہوں گے اور آپ سے گیان،دھیان سر سنگیت کے وہ پاٹھ پڑھ رہے ہوں گے جو پڑھنے سے رہ گئے تھے۔

میں نے پہلی بار آپ کو ‘کابلی والا’ میں دریافت کیا تھا اور اس کے بعد آپ کی نظموں کی کتاب ‘گیتانجلی’ کے انگریزی ترجمے کے ذریعے۔کیا اتفاق ہے کہ یہاں خانیوال نام کا ایک چھوٹا سا ٹاؤن موجودہ بندوبست پنجاب کے اندر ہے جو پنجاب کے جنگلات میں سے ایک گنجی بار میں انگریز کے نہریں بچھانے اور نئے قصبات و منڈی شہر بنانے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔مجھے نہیں پتا کہ آپ جب شانتی نکتین میں ہندوستانی ہونے کا مفہوم اپنے چیلوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے تو اس قصبے سے بھی کوئی لڑکا یا لڑکی آپ کا چیلا بننے وہاں پہنچا تھا کہ نہیں یا آپ کو اس قصبے کے بارے میں پتہ تھا کہ نہیں لیکن آپ کو یہاں جاننے والا ایک شخص ایسا ہے جو آپ کو بہرحال اپنا گرو مانتا ہے۔یہ حسین شہید سہروردی کے شاگرد قیوم بھٹی صاحب ہیں۔یہ آپ کے شانتی نکتین کی یاترا بھی کرچکے ہیں۔اب چراغ آخر شب ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ سورگ میں یہ بھی آپ کے ہی منڈل میں آئیں گے۔ویسے کیا حسین شہید سہرودی وہاں شانتی نکتین میں ہیں یا جناح صاحب کے پاکستان میں یا پھر وہ سبھاش چندر بوس کے ساتھ ملکر سورگ میں اکھنڈ بنگال بنانے میں مصروف ہیں؟اگر آپ کے شانتی نکتین میں حسین شہید سہروردی نہیں ہیں تو قیوم بھٹی صاحب کہاں جائیں گے میں اس بارے کوئی حتمی رائے دینے سے قاصر ہوں۔

میں یہ خط آپ کو سال کے آخری ہفتے میں اس وقت لکھ رہا ہوں جب اس سال کو ‘رفت و گزشت’ ہوجانے میں بس تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے اور نیا سال آنے والا ہے اور یہاں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی مثالیت پسندی اور یوٹوپیائی ہندوستانی نیشنلزم کو شکست ہوئے ویسے تو 70 سال کا عرصہ گزرگیا ہے لیکن جو اپنے تئیں حقیقت پسند سیکولر نیشنل ازم اور مسلم نیشنل ازم کے جھنڈے اٹھاکر آئے تھے ان کے نیشنلزم کی جو گت بنی ہے اسے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔گاندھی جی 1948ء میں آپ کے پاس آگئے تھے اور کیسے آئے تھے، آپ کو پتا تو چل گیا ہوگا۔اس کے بعد اندراگاندھی ، راجیو گاندھی یہ سب پہنچے ہوں گے اور آپ کو پتا چل گیا ہوگا کہ کیسے رفتہ رفتہ سیکولر نیشنل ازم کی کھوکھلی بنیادیں گرتی جاتی ہیں۔ویسے مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جیسے یہاں ہندوستان میں آپ کا شانتی نکتین، گآندھی جی کا آشرم،سبھاش چندر بوس کا آزاد ہند فوجی ہیڈکوارٹر،جناح کا پاکستان میں صدر دفتر ہے یقینی بات ہے کہ سورگ میں بھی ایسے بڑے بڑے محلات ہوں گے آپ سب کے لیکن یہ جو 47ء کی تقسیم کے وقت بڑے پیمانے پہ ہندؤ،سکھ،مسلمان مارے گئے، پھر دلّی سمیت پورے ہندوستان میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کا قتل عام ہوا،بابری مسجد گرائے جانے اور ممبئی بم دھماکوں اور گجرات کے فسادات کے دوران جو مارے گئے یہ سب کہاں رہتے ہیں؟ کیا ان مذہبی اور نسلی فسادات میں مارے جانے والوں نے وہاں سورگ میں کوئی یادگاریں بنائی ہیں؟ جیسے یہاں ڈھاکہ یونیورسٹی میں شہید مینار ہے۔ اور اسی شہر میں لبریشن وار میوزیم بھی ہے۔امرتسر میں شہید بھگت سنگھ مینار ہے۔کیا وہاں سورگ میں ایسے یادرگاری منارے بنائے گئے ہیں۔ویسے یہاں مجھے یہ سوال بھی تنگ کررہا ہے کہ کیا یہ سب واقعی سورگباشی ہیں یا نرگباشی ہیں؟ کیونکہ سورگ،بہشت،جنت،پیراڈائز بارے میں نے سنا ہے کہ وہاں درجات ہوں گے۔یعنی کیٹیگریز ہوں گی اور ایک سطح پہ طبقات وہاں بھی باقی ہوں گے تو کیا ایسے میں جنت کشاکش اور تضاد سے بچی رہ پائے گی؟ کیا وہآں قضیہ ،ضد قضیہ جیسی کش مکش پیدا نہیں ہوگی اور اس سے تالیف یا انقلاب کی صورت کیا ہوگی اور پھر ابدیت و سرمدیت کہاں جائے گی؟

یہ بھی پڑھئے:   مونا لیزا کو میرا شناختی کارڈ دے دیجئے - مستنصر حسین تارڑ

میں آپ سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہاں سورگ میں باچا خان،جی ایم سید،تاج لنگاہ،نواب خیر بخش مری وغیرہ بھی ہیں۔یہ سب کے سب وہاں سورگ میں کیا اپنی اپنی مدرلینڈ قائم کرچکے؟ ویسے باچا خان گاندھی جی کے آشرم میں ہندوستانی سوراج کو دوبارہ سے کہیں اپنا تو نہیں چکے اور پشتونستان کے آدرش کو چھوڑ چکے ہوں؟ کیونکہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انھوں نے کبھی کانگریس کے ہندوستانی سیکولر نیشنلزم کو یا ہندوستانی قومیت کے خیال کے مقابلے میں پشتون قوم کا خیال پیش کیا ہو؟ ویسے سورگ کا وہ حصّہ جو برصفیر کے لئے مختص کیا گیا ہے کیا وہاں اب بھی دریاؤں کے درمیان کے آکاش کو مختلف تہذیبوں سے تعبیر کرکے ان پہ نیشنلزم کو استوار کیا جارہا ہے؟ جیسے گنگ وجمن کی تہذیب اور انڈس سولائزیشن؟ اور ہاں مجھے یہ پوچھنا ہے کا اپنے امبیدکر جی کہاں ہیں؟ اور ان کے دلت کس طرف ہیں؟

ویسے مجھے نجانے کیوں لگتا ہے کہ آپ کو پڑوس میں نرگ کے اندر سعادت حسن منٹو سے رابطہ کرنے کو کہوں۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ سعادت حسن منٹو کی کیمرے جیسی آنکھ نے سورگ اور نرگ کو الگ کرنے والی دیوار میں کوئی رخنہ پیدا کرلیا ہوگا اور وہ سورگ میں بسے برصغیر پاک و ہند کے ان جہانوں کے بارے میں ایک اور ٹوبہ ٹیک سنگھ لکھنے میں مصروف ہوگا۔ منٹو کو کبھی بھی اوپر سے مسلط کی گئی وحدت کو ‘سچ’ بناکر دکھانے کا شوق نہیں رہا تھا۔چولی پھٹی ہوئی ہے اور اس سے جوبن باہر پھٹا پڑتا ہے تو وہ اسے سی کر چھپاتا نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ سورگ کتنی تقسیم ہے اور کس قدر متضاد ہے تضاد سے پاک ہونے کے دعوؤں کے باوجود وہ اسے دکھانے میں مصروف ہوگا۔ویسے جو گستاخ نرگ میں بھی’نومین لینڈ’ پہ کھڑے ہوکر چیزوں کو دیکھنے لگ جائے اسے پھر کہاں پھینکا جائے گا؟ کیا نرگ سے ہٹ کر بھی کوئی جگہ ہے جو منٹو جیسوں کی آنکھ کو کیمرے کی آنکھ بننے سے روک دے؟

آپ کو جب یہ پتر ملے گا تو آپ لازمی سوچیں گے کہ میں نے یہ سب آپ سے ہی کیوں پوچھنا چاہا ہے۔اس لئے کہ کل رات جب میں انتہائی ایروٹک رومان بھری ایک فلم دیکھ کر سونے کے لئے بستر پہ ایستادگی کی حالت میں لیٹا تو جلد ہی میں سوگیا۔اب ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ میری ایستادگی کے کارن خواب میں،میں انزال تک پہنچادینے والے کسی وصال کے منظر سے گزرتا مگر میں تو ایک ایسے اسکول میں پہنچ گیا جو کلکتہ میں کہیں تھا اور میں وہاں بنگالی لڑکوں اور لڑکی کی صفوں میں کھڑا تھا اور سامنے ایک ڈائس تھا جس پہ مائیک لگا ہوا تھا اور ایک سانولی سلونی لڑکی جو شاید انٹرمیڈیٹ کی طالبہ تھی کیونکہ اس کی سرخ دھاریوں والی سفید قمیص میں اس کی چھاتیاں پورے جوبن پہ تھیں۔اس نے سیدھی مانگ نکالی اور بالوں کی دو چوٹیاں بنائی ہوئی تھیں جو اس کے کندھوں سے ہوتی ہوئیں اس کے دائیں اور بائیں سینے پہ شانت پڑی ہوئی تھیں۔بڑی بڑی گول کالی آنکھوں میں کاجل کی گہری سیاہ لکیریں تھیں اور اس کا سانولا چہرہ بہت پرکشش لگ رہا تھا۔میں ایک ہی وقت میں اس کے بالوں کی چوٹیوں ، سیاہ آنکھوں، کاجل کی لکیروں،اور دو بڑے سیبوں کی مانند اس کی ابھری چھاتیاں جن کو میرا تخیل تنا ہوا دکھارہا تھا گھورے جارہا تھا۔میری نیکر میں ٹانگوں کے درمیان کپڑا غیر مناسب انداز میں ابھرا ہوا تھا اور اسی لمحے میں نے اردگرد قطاروں میں کھڑے کئی ایک لڑکوں کی نیکروں کے درمیان کو ایسے ہی ابھرے دیکھا۔بندے ماترم پڑھنے سے پہلے اس نے ایک نظم پڑھنا شروع کی:

চিত্ত যেথা ভয়শূন্য

চিত্ত যেথা ভয়শূন্য, উচ্চ যেথা শির,
জ্ঞান যেথা মুক্ত, যেথা গৃহের প্রাচীর
আপন প্রাঙ্গণতলে দিবসশর্বরী
বসুধারে রাখে নাই খন্ড ক্ষুদ্র করি,
যেথা বাক্য হৃদয়ের উৎসমুখ হতে
উচ্ছ্বসিয়া উঠে, যেথা নির্বারিত স্রোতে
দেশে দেশে দিশে দিশে কর্মধারা ধায়
অজস্র সহস্রবিধ চরিতার্থতায়150
যেথা তুচ্ছ আচারের মরুবালুরাশি
বিচারের স্রোতঃপথ ফেলে নাই গ্রাসি,
পৌরুষেরে করে নি শতধা; নিত্য যেথা
তুমি সর্ব কর্ম চিন্তা আনন্দের নেতা150
নিজ হস্তে নির্দয় আঘাত করি, পিতঃ,
ভারতেরে সেই স্বর্গে করো জাগরিত।

150 রবীন্দ্রনাথ ঠাকুর (নৈবেদ্য হতে সংগ্রহীত)

چیتو جیتھا بھائےشنّو
جہاں دماغ میں خوف نہ ہو
ٹھاکر جی! ہندوستانی (جو اب تین بڑی شناختوں کے ساتھ جی رہے ہیں،ہندوستانی،پاکستانی اور بنگلہ دیشی اور ان میں اور کئی اضافے چاہتے ہیں) بیدار تو ہوگئے لیکن یہ بیداری ایسی ہے جن کو آپ نے کہا تھا کہ یہ تھا کہ
بھوشودھارے راکھے نائے کھونڈو کھونڈو کوری

یہ بھی پڑھئے:   اپنے حصے کی گواہی

یہ تنگ مقامی دیواروں کے بیچ بکھری ہوئی دنیا نہ ہو لیکن یہاں تو بھوشو دھارے راکھےنائی کھونڈو کھونڈو کوری ہی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ وہاں سورگ میں بھی کھونڈو کھونڈو کوری والا معاملہ ہی ہے۔سورگ سارا شانتی نکتین نہیں ہے۔تو کیا سورگ کے اپنے اندر کہیں نرک کا جنم تو نہیں ہوگیا؟ یا ایسا ہونے کا امکان نظر آتا ہو؟ سپائنوزا کو ڈیسکارٹ کے کار ٹی سین اسٹرکچر میں باڈی اور مائنڈ کے خدا /گاڈ/ایشور سے رشتے میں یہ جو علت و معلول کی رشتے داری تھی بہت پریشان کن لگتی تھی تو اس نے ایک اور طرح کا اسٹرکچر پیدا کیا جس میں ویدانتی ٹچ تھا۔لیکن یہ سب دماغ میں ہی تھا لیکن زمین پہ ایسا کچھ نہیں تھا۔یہاں سب بکھرا ہوا اور تضاد سے بھرا ہوا تھا اور آج بھی ہے۔ ہندوستان دھارمک ہے بھی نہیں بھی۔پاکستان مملکت خداوندان جہادگان و تکفیر ہے بھی اور نہیں بھی۔یہاں ویسا کچھ بھی نہیں ہوا جس کی دعا تمہاری نظم میں بنگالی اسکولوں میں پڑھ کر کی جاتی رہی ہے۔چیتو جیتھا بھائے شنّو جیتھا بھائے شیر کی گردان خوف سے بھرے دماغ والوں کی زبان پہ جاری و ساری ہے۔

اب مجھے یہ خط ختم کرنا ہے۔مگر یہاں ایک مسئلہ ہے۔خط کے آغاز میں سوچا تھا تھا کہ جب اسے ختم کروں گا تو نیجے لکھوں گا۔’تمہارا بھگت/چیلا’۔لیکن میں نے اندر جھانک کر دیکھا تو پتا چلا کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے۔مجھے گاندھی جی بھی کئی اعتبار سے بھاتے ہیں،امبیدکر سے بھی میں کہیں کہیں جڑا ہوا ہوں جہاں گاندھی نہیں جاپاتے،جہاں امیبدکر کی حدیں ختم ہوجاتی ہیں وہیں مجھے سبھاش چندر بوس کی حریت ہانٹ کرنے لگتی ہے اور اپنے بھگت سنگھ جی بھی میرے اندر کہیں بیٹھے ہیں۔اور یہ چاروموجمدار مجھے اپنے قبائلی اور آدی واسی اور غریب کسانوں کے سماج میں سب سے سچے لگنے لگتے ہیں اور یہاں جہاں میں سانس لیتا ہوں اور میرے سانس پہ تکفیر کی کاربن ڈائی آکسائڈ کے بم بناکر پھینکنے والوں کی چیخ پکار میں مجھے علی و حسن وحسین ان کا پورا قبیلہ پورے سچ کے ساتھ کھڑا لگتا ہے اور جب میرا سامنا گلوبل سامراجی سرمایہ داری کی بڑی مشین سے ہوتا ہے تو کارل مارکس ،اینگلس،لینن پوری سچائی کے ساتھ کھڑے ملتے ہیں اور ایسے ہی جب میرا سامنا ہیجمنی /تسلط کی ثقافت سے ہوتا ہے تو گرامچی کی نوٹ بک مجھے اپنی رہنما لگنے لگتی ہے۔ان سارے مہا بیانیوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے ان گنت بیانیے،میرا رومان، میرے اندر جنس کی کشش کا میلان اور ایستادگی کے ساتھ وصال بھرے خواب دیکھنے کی خواہش اور حسین و جمیل جسموں کو قدرتی لباس میں دیکھنے کا جذبہ یہ سب ایسی سچائیاں ہیں جن کا میں چاہوں بھی تو انکار نہیں کرسکتا۔ایسے میں بھلا میں کیسے اس خط کے نیچے خود کو آپ کا بھگت لکھ ڈالوں؟ کیا یہ پورا سچ ہوگا؟ لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر خط کا آخری جملہ اسی ضابطے کی پابندی کرتا ہو جیسے دوسرے خط کرتے ہیں؟میرک خیال ہے نہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ جو میں نے آپ کو لکھا ہے یہ خط بھی ہے کہ نہیں؟ یہ کہانی بھی تو ہوسکتی ہے۔افسانہ بھی تو کہا جاسکتا ہے اور اسے انشائیہ بھی تو کہا جاسکتا ہے۔بیانیہ کی ساخت بارے یہ ایک اور درد سر ہے جسے میں آج تک سمجھ نہیں پاتا جب بھی میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو میں کیا لکھنے جارہا ہوں۔کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا تھا کہ آپ نظم لکھتے لکھتے افسانہ لکھ بیٹھے ہوں اور خط لکھتے ہوئے آپ نے کوئی نظم تخلیق کرلی ہو۔ویسے آپ کے تخلیق کار ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہے لیکن میں جو لکھتا ہوں کیا وہ واقعی تخلیق ہوتی ہے؟ اس کا میں کوئی جواب دینے سے قاصر ہوں۔ایسا کرتا ہوں کہ بس اسے یہیں ایسے ہی چھوڑ دیتا ہوں۔کیونکہ مجھے آپ کو جو کہنا اور بتانا تھا،وہ تو میں نے کہہ دیا اور لکھ دیا۔

Views All Time
Views All Time
244
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: