Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سرد جہنم

by دسمبر 27, 2017 افسانہ
سرد جہنم
Print Friendly, PDF & Email

وہ دسمبر کا عام سا دن تھا۔گاڑھی دھند چھائی ہوئی تھی۔ہاتھ بھر فاصلے پہ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔عام لائٹس کام کرنا چھوڑ گئیں تھیں۔فوگ لائٹس کا اس چھوٹے سے ٹاؤن میں رواج نہیں پڑا تھا۔موٹرسائیکل سوار، گاڑیاں چلانے والے بس اندازے سے آگ بڑھ رہے تھے جبکہ پیدل چلنے والے چند ایک لوگ سڑک کنارے کچے میں عین مکانات کی قطار کے ساتھ دیوار سے قریب لگ کر اپنی منزل کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔پھر بھی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کوئی موٹر بائیک یا کار ان سے ٹکرا نہ جائے۔

اس کا معمول تھاکہ رات آٹھ بجے کھانا کھانے کے بعد گھر سے نکلتا تھا۔آج کھانا کھاتے ہوئے اس نے سامنے گھڑیال میں دیکھا جس کے ایک کارنر پہ کمرے کا درجہ حرارت 14 نظر آرہا تھا۔اس سے اسے اندازہ ہوگیا کہ باہر کم ازکم درجہ حرارت سات سے پانچ درجے سینٹی گریڈ ہوگا۔کھانے کھانے کے بعد اس نے جاگرز پہنے۔کرتے کے اوپر جرسی پہن لی اور اس کے اوپر جیکٹ اور سر پہ اونی ٹوپ ۔موبائل سے ہینڈ فری کی پن اٹیچ کی اور اس کو کانوں سے لگالیا۔اور موبائل پہ ساؤنڈ کلاؤڈ کی ایپ آن کی اور اس پر پولینڈ آروگن کا اینڈی فوک دسمبرسٹ بینڈ کے سانگ سننا شروع کردئیے تھے۔

رات کے وقت گھر سے نکلنے کے لئے اسے میوزک سٹی میولیٹ کی ضرورت پڑتی تھی۔اس کے بغیر اس کو ایک قدم اٹھانا مشکل ہوجاتا تھا اور تھوڑا سا فاصلہ طے کرنا قیامت تھا۔فوگ ، سرد رات اور سناٹا اس کے دماغ کے لئے سٹی میولیٹ کا کام کرتے تھے مگر میوزک اسے چلاتا تھا اور وہ اپنے آس پاس سے بیگانہ ہوجاتا اور اپنے دماغ کے پردے پہ ایک الگ دنیا بسا لیتا تھا۔
آج جب وہ دسمبرسٹ بینڈ کے گیت اور کمپوز کی گئی موسیقی کو سنتا ہوا جب دہلیز کو پار کرتے ہوئے خارجی دروازے سے باہر نکلا تو حسب معمول اس کی نگاہ سامنے گئی۔مگر گھپ اندھیرے اور فوگ میں اسے نہ تو سڑک دکھائی دی نہ سڑک کے پار ازکار رفتہ ہوگئے ٹیلی گراف آفس کا زنگ آلود گیٹ جو عرصہ دراز سے بند پڑا تھا۔اس گیٹ سے پرے باغ کی سمت تھوڑا سا دور ٹیلی گراف کا بڑا سا ٹاور بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن سرخ رنگ کی روشنی پھینکتی ننھی ننھی بتیاں اسے صاف روشن نظر آرہی تھی جو کسی طیارے یا ہیلی کاپٹر کو دوران پرواز اس سے ٹکرانے سے بچانے کے لئے ہمیشہ سرشام ہی روشن کردی جاتی تھیں یا جب دن دیہاڑے ہی فوگ قبضہ کرلیتی تو بھی یہ بتیاں روشن ہوجاتی تھیں۔نجانے کیوں اسے یہ سرخ بتیاں بہت بری لگیں۔اسے لگا کہ آس پاس کے غیاب کو ان روشنیوں نے حضوری کا رنگ بخش دیا تھا اور یہ اسے اپنے خلاف سازش لگی تھی۔احساس میں پیدا کڑواہٹ اسے اپنی زبان پہ محسوس ہوئی اور اس نے بے اختیار گولڈ لیف کا پیکٹ جیکٹ کی سائیڈ پیکٹ سے نکالا اور لائٹر سے شعلہ جلایا اور پیکٹ سے نکالی سگریٹ سلگالی۔تمباکو کی کڑواہٹ کو اس نے احساس کی کڑواہٹ سے ملادیا تھا اور وہ مشرق کی طرف چل پڑا۔گھپ اندھیری سڑک کے کنارے چلتے ہوئے وہ راستے کی پہلی پلی پہ پہنچ گیا۔اور اس نے ایک بار پھر اسے سوچنا شروع کردیا جس کو اس نے آج تک دیکھا نہیں تھا۔اس کی کوئی تصویر اس کے پاس نہیں تھی اور اس کی آواز بھی اس نے آج تک نہیں سنی تھی۔اس کے تخیل کی پرواز بہت تھی۔امیجری /تمثال گھڑنے کا ہنر اسے خوب آتا تھا۔وہ اپنے دماغ کے پردے پہ طرح طرح کے امیجز بنانا خوب جانتا تھا۔ایسا وہ آوازوں کے سہارے کرتا تھا۔اگرچہ وہ کبھی آواز کے سہارے اپنے دماغ کے پردے پہ ابھرنے والے خاکوں کو کاغذ پہ اتارنے کے قابل نہیں ہوا تھا مگر وہ ان خاکوں کی مدد سے الفاظ سے تمثال بنانے کا ہنر جانتا تھا اور اسے اپنے افسانوں،کہانیوں اور نثری نظموں میں خوب استعمال کرتا تھا۔مگر جس کی اس نے آواز ہی نہ سنی ہو،اس کی تمثال گھڑنا بہت مشکل تھا۔لیکن کیا اس کی محبت میں مبتلا ہوجانا، اس کے لئے بے چین ہوجانا اور اس کے لئے دل فرش کردینا بھی مشکل تھا؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب اثبات میں دیتا وہ کبھی تھکا نہیں تھا اور اس کی نفی کرتے لوگ بھی کبھی نہیں تھکے تھے۔

سڑک کی پہلی پلی کو عبور کرتے ہوئے اس نے اپنا راستا تھوڑا سا بدلا ۔سڑک کے کنارے سے وہ نیچے اترا اور کچی زمین پہ آگیا،یہاں بہت ساری مٹی پڑی ہوتی تھی جو آج اوس پڑنے کی وجہ سے نرم اور ذرا جم سی گئی تھی اور اس لئے اس کے قدم پڑنے سے گرد نہیں اڑی تھی اور وہ ایسا ہی کرتا تھا کہ سیدھا چلتا چلتا ذرا خم دار راستہ اختیار کرلیتا جیسے ہی سڑک کی پہلی پلی وہ کراس کرنے لگتا۔کولن مولی جوکہ دسمبرسٹ بینڈ کا لیڈر گٹارسٹ ہے اور اس کی آواز میں ایک جادو ہے اور اسے اس کی آواز میں ایک اداس رومان بھرا لگتا ہے۔اس نے ایک نیا گیت چھیڑا تھا۔یہ گیت اسے واپس نوے کی دہائی میں لے گیا تھا جب انڈی فوک میوزک نے جگہ بنانا شروع کی تھی اور اس وقت اسے میوزک کی دنیا میں اپنی جگہ بنانے میں مشکل پیش آرہی تھی اور وہ بروک لین نیویارک میں ایک گندے سے اپارٹمنٹ میں بھگوڑے کی زندگی گزار رہا تھا جسے لوگ سیاسی جلاوطنی کہتے تھے تو اسی میوزک کو بار بار سنتا تھا۔اسے لیرکس ذرا سمجھ نہ آتے۔مگر گٹار،ڈرم ، پیانو اور کی بورڈ سے ابھرنے والا میوزک اپنے حصار مں لے لیتا تھا اور اس کا تخیل اس میوزک سے اپنے ہی لیرکس بنالیتا تھا۔آج بھی اسے لیرکس کی ذرا سمجھ آرہی تھی اور اس کے دماغ کے پردے پہ کچھ ایسے لیرکس بن رہے تھے:

The memory lost
Finger Print were traced
But not the lost person
Mother and Wife
Were allowed to meet
Their
Spy son
An Indian
Terrorist husband
But
Here
Family of
Nasir Ghaffar Langov Baloch
And of 4000 other
Under undeclared custody of security forces
Are not allowed
To Know whereabouts of their
Enforced missing relatives

یہ لیرکس اس کے ذہن کے پردے پہ جیسے ہی ابھرے اس نے گھبراکر گردن کو پیچھے موڑ کر دیکھا۔کہیں کوئی سفید رنگ کا ويگو ڈالہ تو اس کے عقب میں آکر نہیں رکا کہ جس سے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایسے لوگ نکلیں جن کے بالوں کی تراش خراش اور مخصوص جثوں سے پتا چلتا ہو کہ ان کا تعلق کس ایجنسی سے ہے اور اس کو پکڑيں اور آنکھوں پہ پٹی باندھ کر ڈالے میں بٹھاکر لینے تو نہیں آگئے۔ ساتھ ہی اس کے ذہن میں ابھرا ایک مرکب لفظ : Modus Operandi
ڈکشنری کہتی ہے
This is a Latin phrase means standard mode of operating of any person or institution
اس کے کانوں میں کوئی سرگوشی کرتا ہے :
Modus Operandi of learning lesson those people who politically or socially dissenting way conflicting directly or indirectly ruling classes.
وہ سر کو جھٹکتا ہے تاکہ ایسے خیالات سے جان چھڑا کر میوزک پہ دھیان دے۔کراؤڈ لیڈنگ گٹارسٹ کولی مولن کی آواز سے آواز ملا کر
رپ را رپ را رپ را لا لا لا لا لاے رے
شیلا از ڈیف
یو گائز با با با با با با با با با با
وہ پھر سوچنے لگتا ہے :
ہمیں معنی خیز گیتوں کی بجائے شاید صرف ایسے ہی ردھم کی ضرورت ہے جس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ایسے میوزک سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔آپ ڈاکٹر عبدالسلام کو ہیرو بنالیں،گاندھی کی تعریف کریں، جناح کی لبرل تصویر بنائیں مگر خبردار ملٹری کے سرمایہ پہ سوال مت اٹھائیں اور پھر اس کے بلوچستان وینچرز پہ منفی تبصرہ مت کریں۔ایسا کریں گے تو آپ پہ بلاسفیمی کا الزام لگے گا۔اور آپ غائب ہوسکتے ہیں۔
وہ سوچتا ہے کہ اسے کیا ضرورت ہے اس سب کے بارے میں سوچنے کی اور وہ میوزک، آرٹ اور فکشن کا اتنا اچھا ذوق رکھتا ہے اس میں کیوں دل نہیں لگاتا۔وہ ایک بار پھر اپنے اس عشق کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جس کا مرکز و محور وہ عورت ہے جسے اس نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ آواز سنی ہے اور اسی لئے آج تک وہ اس کا کوئی خاکہ تراش نہیں سکا تھا اور اس کے خدوخال بنا نہ پانے کی تکلیف نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
وہ چلتا جارہا ہے۔کبھی کبھی وہ اپنے خیالات کو اسٹاپ لگادیتا تھا۔اور یہ اسٹاپ وہ لگاتا تھا اس وقت جب وہ گھر سے نکل کر سڑک پہ چلتا چلتا ایک بیکری تک پہنچ جاتا تھا۔آج بیکری اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی کیونکہ لوڈشیڈنگ تھی اور اندر بیکری میں ایک موم بتی جل رہی تھی۔کاؤنٹر پہ ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا۔اس کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے پیچھے شیلف سے گولڈ لیف کی ڈبی نکال کر کاؤنٹر کے شیشے پہ رکھ دی۔اس نے ایک سو پینتیس روپے نکال کر اس کے حوالے کئے۔نوجوان اس کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔اس نے ہینڈ فری کانوں سے ہٹائی اور اس سے پوچھا،’ کچھ کہنا ہے’
‘سر! اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں، آپ سگریٹ پینا کم نہیں کردیتے۔آپ کا سانس اکھڑا اکھڑا سا ہوتا ہے ،جب بھی آپ بیکری میں داخل ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ پریشانی ہوتی ہے جسے نکوٹین سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’
وہ اس نوجوان کی یہ بات سن کر تھوڑا مسکرایا اور یہ کہہ کر باہر نکل آیا،’ کوشش کروں گا۔’
‘آپ کی نثر سے آپ کے اکھڑے سانسوں کا سراغ کیوں نہیں ملتا۔وہاں کیوں روانی ہوتی ہے؟ کیا منٹو کے افسانوں کے متن سے پتا چلتا ہے کہ اس کا جگر شراب نے خراب کرڈالا ہے۔یا دستوفسکی کی کہانیاں اور ناول کے متن اس پہ پڑنے والے مرگی کے دوروں کا سراغ دیتے تھے؟’
وہ یہ سوچتا ہوا جالندھر ٹی اسٹال پہ پہنچ گیا۔بیٹری سے چائنا کی بنی گھٹیا سی ملجگی سفید لائٹ جل رہی تھی جس کی جانب دیکھنا محال تھا۔سامنے بنے پختہ چبوترے پہ آلتی پالتی مارے ہومیوپیتھک ڈاکٹری کا کورس کرنے کے بعد ڈاکٹر کہلانے والا طارق دودھ دہی بیچ رہا تھا اور ساتھ ساتھ چائے کی کیتلی میں چائے کو ابالا دے رہا تھا۔اسے دیکھ کر مسکرایا اور اس نے خیرمقدمی ہاتھ اس سے ملانے کے لئے بڑھایا۔اس کے بیٹے نے سامنے پڑی میز کو کپڑے سے صاف کیا اور ایش ٹرے خالی کرکے اس پہ رکھ دی اور ساتھ ہی پانی کی ایک بوتل اور گلاس بھی دھر دیا۔اس نے کرسی سنبھالی اور بیٹھ گیا۔آج جالندھر ٹی اسٹال پہ اس کے سوا کوئی اور چائے کا شوقین نہیں تھا اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی لالچ میں بیٹھے لوگ نظر آرہے تھے۔ٹی اسٹال کے اندر خاموشی تھی اور وہ اندر سے اس پہ خوش ہوا تھا۔
بیٹھنے کے تھوڑی دیر ہی جب اس نے ایسے ہی سامنے نظریں جمائی ہوئی تھیں اس کے ذہن کے پردے پہ فلسطینی شاعر محمود درویش کی شبیہ نمودار ہوئی مگر یہ کیا کہ اس کے چہرے کی شبیہ میں اس کا اپنا چہرہ بھی جھلک رہا تھا۔محمود درویش کے لب ہل رہے تھے۔ایسے جیسے وہ سرگوشی میں کچھ کہہ رہا ہو۔اس نے دھیان سے اسے سننے کی کوشش کی :
لِيَ مِقْعدٌ في المسرح المهجور في
بيروتَ. قد أَنسى, وقد أَتذكَّرُ
الفصلَ الأخيرَ بلا حنينٍ… لا لشيءٍ
بل لأنَّ المسرحيَّةَ لم تكن مكتوبةً
بمهارة
پہلی لائن اس نے ایسے بدل ڈالی
لی مقعد فی المسرح جالندھر تی ستال المھجور

یہ بھی پڑھئے:   بے گھری

اور وہ بے اختیار ہنسنے لگا۔ڈاکٹر طارق نے اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو اس کی جانب عجیب سی نظروں سے دیکھا۔اسے اس کی ذہنی حالت پہ شبہ ہونے لگا تھا۔
یہ جالندھر ٹی اسٹال ایک تھیٹر ہی تھا جو اس وقت خالی تھا اور اس میں ایک کرسی اس کے لئے تھی بالکل ایسے جیسے بیروت کے تھیٹر میں محمود درویش کے لئے مختص کی گئی تھی اور یہاں اس کے جو پارٹ ہیں ان کو وہ بھی بغیر کسی ارادے کے کچھ یاد رکھ لیتا اور کچھ کو بھول جاتا اور یہ ناٹک جو یہاں رچایا جاتا ہے اسے بھی کسی مہارت کے بغیر ہی لکھا گیا ہے۔محمود درویش بھی اس کھیل کے شروع کے پارٹ مس کرچکا ہے اور وہ بھی اور وہ خود بھی اس کھیل کے لکھنے والے کو ویسے ہی کچھ مشورے دینا چاہتا ہے جیسے محمود درویش دینا چاہتا ہے اور وہ اس کھیل میں اپنے لوگوں کی قسمت بدلنا چاہتا ہے اور ان کے کردار کو ایسے بدلنے کا خواہاں ہے جس میں اس کے سورما آخر میں مرنہ جائيں۔مگر کیا وہ کرپائے گا؟ ویسے اسے کبھی کبھی لگتا تھا کہ جالندھر ٹی اسٹال پورے سماج کو گھیرے ہوئےہے ۔پنجابی حکمران طبقات نے سب کو جالندھر میں بدل ڈالا ہے اور ان کو ملتان سے اچ شریف تک اور آگے سندھ کو اور اس سے آگے بلوچستان کو جالندھر ٹی اسٹال میں بدلنا ہے۔اس لئے وہ خواجہ فرید ، سچل سرمست کی کافیوں کو بدلنا چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ مست توکلی اور شاہ لطیف بھٹائی کی کایا کلپ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔یہ جالندھر ٹی اسٹال بھی عجیب ہے اس کے اندر لدھیانہ بھی بسا ہوا ہے مگر فرید،بلھے،نانک کا نہیں بلکہ محمد احمد کا لدھیانہ ، خیر محمد کا جالندھر اور اورنگ زیب فاروقی کا ہزارہ۔میاں محمد کی کھڑی شریف کہیں گم ہوگئی ہے۔اسی لئے ایف سی کے پل پہ ایک ڈاکٹر حیدر اور علی اور اس کا بیٹا مرتضی نام ہونے کی وجہ سے مار دئے جاتے ہیں۔

یہ سوچتے ہوئے وہ پھر اپنے سر کو جھٹکتا ہے۔اور خود اپنے آپ سے کہتا ہے کہ اسی وجہ سے تمہارا فکشن فکشن نہیں رہتا،پروپیگنڈا بن جاتا ہے۔تمہاری نظم ایسی ہے جس میں زندگی گھسی ہوئی ہے اور تم ادیب کم اور کرانتی کاری زیادہ لگتے ہو۔حسن عسکری اور سلیم احمد تم پہ ایسی فکاہیہ تحریر لکھتے کہ پمفلٹ بازی کو افسانہ و کہانی کہنے سے باز آجاتے۔ایک بار پھر وہ ہذیانی سے ہنسی ہنسنے لگتا ہے۔اپنے عشق کے بارے میں سوچو۔اس کے اندر سے آواز آتی ہے۔
اس کا عشق ؟

یہ بھی پڑھئے:   خواب سے تعبیر اور خیال سے حقیقت کی کہانی - سید زیدی

یہ عشق بھی بس عام سے طریقے سے شروع ہوا تھا۔جیسے آج کل دوسرے لوگ کررہے ہیں۔اس کا آغاز کسی یونیورسٹی کے کسی ڈیپارٹمنٹ میں، کسی محکمے کے کسی دفتر میں ، کسی بازار ميں ، کسی کیفے میں یا کسی سفر کے دوران کسی نازنین سے آنکھ مٹکا ہونے سے شروع نہیں ہوا تھا۔بلکہ ایک ٹوئٹ او ری ٹوئٹ کرنے سے اس کا آغاز ہوا تھا۔اس نے اس کے ری ٹوئٹ کرنے کو لائک کیا کیا کہ بس شروعات ہوگئی۔وہ فیس بک پہ وارد ہوئی اور وہاں سے میسنجر پہ اور وہاں سے موبائل فون ایس ایم ایس اور وٹس ایپ پہ۔پہلے پہل اس جانب تکلفات قائم رہے اور اس نے بھی بس شناسائی تک خود کو محدود رکھا لیکن پہلے ری ٹوئٹ کے لائک سے اس کے اندر کی دنیا بدل گئی تھی۔اس نے اس کے ٹوئٹس کی کرانکل اسٹڈی مکمل کرلی تھی اور پھر اس کی فیس بک پوسٹس کا تاریخ وار مطالعہ کیا تھا۔اور آہستہ آہستہ اس کی گھریلو مصروفیات ، یونیورسٹی کے اندر گزرنے والے روز و شب کی روداد۔اور ان سب کو ملاکر اس نے اپنے عشق کا مصالحہ تیار کرلیا تھا۔اس دوران اس عورت نے کبھی اس سے فون پہ ، اسکائپ پہ،وٹس ایپ ويڈیو کال نہیں کی تھی۔سب کچھ بس تحریری تھا اور جذبات کا اظہار بھی ایموجی ،اسٹکرز کے ساتھ ہی تھا۔وہ مائیکلو اینجلو نہیں تھا کہ لفظوں کے اندر آواز اور خاموشی کے درمیان فرق کو جان پاتا اور کوئی خاکہ تراش لیتا ان الفاظ سے جو آواز رکھتے تھے۔وہ تو کسی شبیہ یا کسی خود سے بنائی ہوئی تصویر سے بھی عشق کرنے کے قابل نہیں تھا، بس اس کے لکھے لفظوں کے سہارے اپنے عشق کی عمارت تعمیر کئے جارہا تھا اور یہ ایک ایسی عمارت تھی جو اپنے کل کے ساتھ کسی امیج میں بدل ہی نہیں پارہی تھی اور وہ اس کے ساتھ تخیل میں بھی گلے نہیں لگ سکتا تھا۔نہ اس کا خیال میں بوسہ لے سکتا تھا۔بلکہ کسی دوشیزہ سے ہم بستری کرتے ہوئے چذبات کے عروج میں اسے اس عشق کا خیال آتا تو کوئی تصویر نہ ابھرنے پہ اچانک تمام جوش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا اور کوئی ویاگرا بھی کام نہیں کرتی تھی۔اب تو اس کی دوست بھی اس سے دور ہونے لگی تھیں جن کی بھوک وہ مٹانے سے قاصر تھا۔اس کا جسم بہت ٹھنڈا رہنے لگا تھا اور انگلیاں کسی کے بدن کو مشتعل کرنے سے قاصر رہتی تھیں۔یہ سردی اس کی تحریروں کے اندر سرایت کرنے لگی تھی۔ اس کے ہاں غصّہ، طیش، رنج،دکھ ، تکلیف اور مصائب سب کے سب سردی اور برف سے بنے تخلیق ہوتے تھے اور جہنم میں بھی آگ نہیں سردی ہی سردی تھی اور جب مطلع بالکل صاف ہوتا تب بھی اس کے اندر دھند چھائی رہتی تھی۔وہ کیا سے کیا ہوگیا تھا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔اسی عشق کے دوران اس نے جب کبھی شراب کے ذریعے اندر کی سردی پہ قابو پانے کی کوشش کی تو اسے مسلسل ہینگ آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا اور اندر کا سرد جہنم گرم نہ ہوا تو اس نے اسے بھی طلاق دے دی۔یوں مئے ناب سے تیس سالہ رفاقت اپنے انجام کو پہنچ گئی اور عشق سرد تھا اور سرد ہی رہا۔وہ اس عشق میں سرشار تھا۔لیکن یہ سرشاری سرد تھی۔اسی سردی میں اس کی یہ واردات ہچکولے کھارہی تھی۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ وہ بے نقش و نگار عورت آن لائن ہوگئی اور آتے ہی اس نے اسے میسج کیا ،

کیا ہورہا ہے ؟
کچھ بھی نہیں ۔
کہاں بیٹھے ہو؟
ٹی اسٹال پہ
کیا کررہے ہو؟
بس تمہیں سوچ رہا ہوں
ہاہاہا ہاہا۔اس سے کیا ہوگا
بہت کچھ ہوتا ہے
کچھ لکھا
نہیں ،کچھ نہیں لکھا جاتا ،تمہارے عشق کی سردی نے سب سرد کرڈالا ہے
عشق کی سردی نے یا گرمی نے
سردی
سردی کیوں؟

جب تمہاری آواز اور تمہارا نقش نہیں ہے تو گرمی کہاں سے آئے گی ،سردی رہے گی
چیٹ اس دوران طویل ہوتی چلی گئی اور نجانے کیوں آج اس کو لگ رہا تھا کہ اس کا صبر جواب دیتا جارہا ہے۔اور دسمبر کا آخری ہفتہ اسے فیصلہ کن لگ رہا تھا۔اسے اپنی بے صبری سے خوف آنے لگا تھا۔وہ اپنے اندر بڑھتی ہوئی عشق کی سردی سے نجات پانے کا خواہش مند تھا لیکن یہ نجات اس سلسلے کو توڑکر نہیں کرنا چاہتا تھا۔اسے خوب پتہ تھا کہ وہ جتنا مرضی بھاگ لے اس عشق سے جان چھڑا نہیں پائے گا۔پھر بھی اس نے اپنے آپ کو کافی سنبھال کر رکھا ہوا تھا کہ اچانک اس چیٹ کے دوران اس خدوخال کو غائب رکھنے والی عورت نے کہہ ڈالا:
تمہارا عشق ہے کیا، ایک سوچ ، ایک خیال ، ایک احساس بس اور میں ہوں کیا ، فقط ایک سٹی میولیٹ جس کے سہارے تم اپنی تحریروں میں رنگ بھرتے ہو
اس کا مطلب تھا کہ وہ عورت سمجھتی تھی کہ وہ ٹول کے طور پہ استعمال ہورہی ہے۔اس مطلب کے نکلتے ہی اس کے اندر چھناک سے کوئی چیز ٹوٹ گئی ۔لیکن اس نے اپنے اندر آئے بھونچال کو دبائے رکھا اور اس کو کہا کہ وہ بس اپنی آواز کو وجود بخشے اور اپنے آپ کو مشہود کرے جس پہ جواب آیا
No
یہ سنتے ہی اسے لگا کہ جیسے اس کا سرد عشق اس نفی کی آگ میں جل گیا ہے۔اور اس کی راکھ سے اٹھتے دھوئیں کا احساس گرم سانسوں جیسا ہے۔اور وہ وہاں سے اٹھ گیا۔اس کے پورے وجود سے شرارے نکل رہے تھے۔اور اپنا سب کچھ جلتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔وہ تیز تیز چل رہا تھا اور ویران سڑک پہ زور زور سے پیر مار رہا تھا۔وہ اپنا یہ روپ دیکھ کر خود بہت حیران تھا۔اور کیا اتفاق تھا کہ ادھر ساؤنڈ کلاؤڈ پہ گیت چل رہا تھا :
Forgive Not Forgotten

Views All Time
Views All Time
234
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: