موت سے ہراساں نہ ہوں

Print Friendly, PDF & Email

اگر بقائے انسانیت انسان کا مقصد واحد نہیں ہے
نہ ہی وہ عوام کے درد سے واقف و آشنا ہے
تو ایسا شخص دانشور نہیں ہوسکتا
وہ تو ایسا چور ہے جو لالٹین لئے ہوئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہمارا سماجی تجربہ ہی ہماری نظم کے موضوع میں بدلتا ہے اور ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کرتا ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کن کے لئے ایک مرگ سسکیوں کا ساز بنتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بعض لوگ مجھے سماجی نقاد کہتے ہیں۔تو جو نقاد منہ ہی نہ کھول سکے،لب سی لے وہ جقیقی نقاد نہیں ہوتا۔بلکہ وہ کیسا نقاد ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے قلب در بدر
مت بھول کہ تو اور میں
مبتلائے عشق رہے ہیں
مت بھول کہ تو اور میں
عشق انسانیت فرماتے رہے ہیں
چاہے یہ شاہکار خدا تھا کہ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاملو کا نام شاعری اور اس کی شاعری کا نام شاملو ہے ۔تم اس کی زندگی اور اس کی شاعری میں تمیز نہیں کرسکتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشک زیست ہے
لب خنداں زیست ہے
عشق زیست ہے
اس رات کے آنسو میری محبوب کے لب خنداں تھے
میں کوئی قصّہ نہیں جسے تم کسی سے کہہ ڈالو
نہ میں کوئی نغمہ کہ تم گانے لگو
نہ میں صدا کہ تم سن لو
نہ ہی کوئی شے دیدہ کہ تم دیکھ لو
یا کوئی شے مدرک کہ تم جان لو
میں تو درد مشترک ہوں
جو میری فریاد بن کر باہر آتا ہے
درخت جنگل سے بولتے ہیں
گھاس سبزہ زار کو کہتی ہے
ستارے کہکشاں سے محو گفتگو ہوتے ہیں
اور میں تم سے ہم کلام ہوتا ہوں
اپنا نام بتاؤ اب
میرا ہاتھ تھام لو یہاں
مجھ سے بات کرو
اپنا دل میرے حوالے کردو
مجھے تمہاری جڑوں کا علم ہے
تمہارے لبوں کے واسطے سے
میں سب لبوں کے لئے بولتا ہوں
اور تمہارے ہاتھ میرے ہاتھوں سے خوب آشنا ہیں
برائے خاطران زندگی
خلوت روشن میں،میں تمہارے ساتھ رویا ہوں
اور تاریک ترین گلستان میں تمہارے ساتھ مل کر نغمہ سرا ہوا ہوں
اور خوبصورت ترین گیت گائے
کیونکہ اس سال اس کی مرگ ہوئی
جو زندگی کا سب سے بڑا عاشق تھا

کچھ شاعر ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی شکستہ روح کو اور شکستہ کرتے ہیں اور عجب بات ہے کہ آپ ایک سرور اور نشے کے ساتھ اس شکستگی کو قبول کرلیتے ہیں اور بار بار اسے پڑھتے ہیں،سنتے ہیں اور گنگناتے ہیں۔یہ شاعر رومی کی طرح نہیں ہوتے کہ آپ کی روح کو لطیف کرتے ہوں اور آپ کو مجاز کی مادیت و کثافت سے بار بار آگے لے جانے کی کوشش کرتے ہوں۔یہ تو آپ کی روح کو بار بار کھینچ کر مجاز سے مثال کی جانب جانے کی کوشش کو لاحاصل بناتے ہیں اور آپ سے کہتے ہیں کہ بدن میں روح کو قید رکھو اور تلخ و بدتر حقیقتوں کا سامنا کرتے رہو۔

یہ بھی پڑھئے:   عورت اور مرد کے کردار کی چھان بین کا ایک پیمانہ ایک رکھنا ہو گا - عمار کاظمی

سماج جب بند گلی کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے اور آخری کنارہ موت کا کنارہ ہوتا ہے تو یہ اسی بند گلی کے اندر کسی مکان کی دوسری یا تیسری منزل پہ اپنے تاریک گھر کے تاریک کمرے کی کیلیں ٹھونک کر بند کی گئی کھڑکی میں جھری ڈال دیتے ہیں اور اس جھری سے ‘ہوائے تازہ’ کا امکان پیدا کرلیتے ہیں۔اور ان کی ہوائے تازہ شکستہ روح کی اور شکستگی ہوتا ہے اور یہ مرض کی اس قدر شدت کو اپنے اوپر طاری ہوتے دیکھتے ہیں کہ مرض خود ان کی دوا بن جاتا ہے۔

ایسا ہی ایرانی شاعر احمد شاملو ہے۔یہ فوجی گھرانے میں پیدا ہوا اور پھر اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑا ہوگیا۔مارکس وادی دانشور اور شاعر تھا۔آپ نے اگر احمد شاملو کو نہیں پڑھا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی زندگی کا اہم ترین کام بھول گئے ہیں۔

احمد شاملو نے بھی ایرانی سماج کی بند گلی میں اپنے تنگ و تاریک مکان کی دوسری منزل پہ اپنے بند کمرے کی کھڑکی کے اندر ایک جھری پیدا کی اگرچہ وہ بہت دور مغرب میں رہ رہا تھا اور اس جھری سے جو ہوائے تازہ آئی اس نے قریب قریب ہر دوسرے تیسرے ایرانی نوجوان کو احمد شاملو کا گرویدہ کردیا۔

ایک راز میرے پاس تھا
میں نے پہاڑ کو بتادیا
ایک راز میرے پاس تھا
میں نے کنوئیں کو بتادیا
طویل راستے پہ
تنہا بس تنہا تھا میں
میں نے مشکی گھوڑے کو بتادیا
میں نے پتھروں کو بتادیا
اپنے قدیم راز کے ساتھ
آخر میں پہنچ ہی گیا
میں بھی بس خاموش رہا
تم بھی یونہی خاموش رہی
میں آنسو بہا رہا تھا
تب میں نے لبوں پہ مہر لگادی
تم نے میری آنکھوں میں پڑھ لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہرگز میں موت سے ہراساں نہیں ہوا
اگرچہ اس کے ہاتھوں بےقدری نے مجھے توڑ کے رکھ دیا
مجھے ایسی سرزمین پہ مرنے پہ ڈر کا ڈر ہے اور میرا دل اس سے بوجھل
کہ جہاں گورکن کی مزدوری
انسانی آزادی کی قیمت سے
زیادہ ہوگئی ہے
(اس ترجمے میں علی نقی سابقی برادرمن کی مدد بھی شامل حال رہی۔)
هرگز از مرگ نهراسیده‌ام
اگرچه دستانش از ابتذال شکننده‌تر بود.
هراسِ من ــ باری ــ همه از مُردن در سرزمینی‌ست
که مزدِ گورکن
از بهای آزادیِ آدمی
افزون باشد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت کا کنارہ

یہ بھی پڑھئے:   تخلیق کار کو پابند نہیں کرنا

وہ تمہارا منہ سونگھتے ہیں
سراغ پاجائیں کہیں تم نے مجھے کہہ نہ دیا ہو
میں تم سے پیار کرتا ہوں!
وہ تمہارا دل جلادیتے ہیں کہیں اس کے نہاں خانے میں کوئی شعلہ نہ ہو
کیا عجب وقت ہے میرے محبوب؛
وہ محبت کو سزا دیتے ہیں
گلیوں کے موڑ پہ
کوڑے مارتے ہیں

ہمیں اپنی محبت کو تاریک کونوں میں چھپانا ہوگا
ہڈیوں میں سرایت کرجانے والی سردی میں موت کی طرح تنگ موڑ پہ
وہ اپنی آگ جلائے رکھتے ہیں

اپنے گیتوں اور نظموں کو سلگاتے ہوئے
اپنے خیالات کو ظاہر کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں مت ڈالو
کیا عجب وقت ہے میرے محبوب

آدھی رات کو وہ جو تمہارے دروازے پہ دستک دیتا ہے
اس کا مشن ہے تمہارا چراغ توڑ ڈالے
ہمیں اپنی روشنیوں کو بھی تاريک کونوں میں چھپانا پڑے گا

دیکھو! قصائی گلیوں کے نکڑ پہ کھڑے پہرہ دیتے ہیں
خون کے دھبوں سے لتھڑے خنجروں اور تختہ ہائے ذبح کے ساتھ
کیا عجب وقت ہے میرے محبوب
وہ لبوں سے مسکراہٹ کاٹ لیتے ہیں
اور گلوں سے نغمے
ہمیں اپنے جذبات کو تاریک کونوں میں چھپانا ہوگا
وہ چڑیوں کو سیخوں پہ بھونتے ہیں
اس کے لئے آگ یاسمین اور للی کے پھولوں سے لگاتے ہیں
کیا عجب وقت ہے میرے محبوب

فتح کے نشے میں چور
شیطان ہمارے دسترخوان عزا پہ دعوت اڑا رہا ہے
ہمیں اپنے خدا کو بھی تاریک کونوں میں چھپانا ہوگا

شاعر : احمد شاملو

Views All Time
Views All Time
372
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: