Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان بارے آئی ایم ٹی کا مارکسی نکتہ نظر۔ پہلا حصّہ

by دسمبر 20, 2017 کالم
پاکستان بارے آئی ایم ٹی کا مارکسی نکتہ نظر۔ پہلا حصّہ
Print Friendly, PDF & Email

سی پیک پاکستان کے لئے معاشی قیامت ہے۔ پاکستان کی فوج میں جہادی اثاثوں اور کاروباری ایمپائرز نےتقسیم پیدا کررکھی ہے۔
حکمران طبقات امریکی، چینی اور سعودی سامراجوں کی گماشتگی کا کردار ادا کرنے کے ساتھ خود بھی سامراجی عزائم رکھتے ہیں۔
جہادی نیٹ ورک سامراجی طاقتوں اور پاکستانی ریاست کی اشیرباد سے بنا مگر اب خود کفیل ہوچکا ہے۔
International Marxist Tendency-IMT
آئی ایم ٹی ٹراٹسکائٹ مارکسسٹ رجحانات کی حامل فورتھ انٹرنیشنل کے بہت سارے دھڑوں میں سے ایک ہے، جس کی پاکستان میں بھی ایک شاخ کام کر رہی ہے۔ اس شاخ نے 1989ء میں طبقاتی جدوجہد کے نام سے پاکستان میں تنویر گوندل،فاروق طارق،شعیب بھٹی،خالد بھٹی،رنگ اللہی، مقصود مجاہد اور دیگر سرکردہ لوگوں کی قیادت میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ تنویر گوندل عرف لال خان آج کل آئی ایم ٹی سے فارغ ہیں اور انہوں نے اپنا ایک گروپ بنالیا ہے۔ آئی ایم ٹی کی قیادت آج کل نوجوان خون ڈاکٹر آفتاب اشرف،آدم پال، پارس، ڈاکٹر یاسر ارشاد، انعم جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تنظیم اپنا ایک ماہانہ ترجمان رسالہ”لال سلام” کے نام سے نکال رہی ہے۔
آئی ایم ٹی کی سالانہ کانگریس جنوری میں ہونے جارہی ہے۔ اس حوالے سے اس نے اپنی گانگریس کے لئے پاکستان بارے اپنا تناظر شایع کیا ہے جس کا عنوان ہے:
"Pakistan Perspective 2018”

ایک سو اڑتالیس صفحات کی یہ دستاویز ہے۔اور پاکستان میں اس طرح سے مارکس واد نظریات کی روشنی میں تسلسل کے ساتھ ایشوز پہ اپنا نکتہ نظر یکجا کر کے پیش کرنا بہرحال اپنی جگہ پہ قابل ستائش بات ہے۔
اس تنظیم کے پاکستان شاخ کی آفیشل ویب سائیٹ پہ ہی اس دستاویز کا دوسرا حصّہ آن لائن ہے۔ جہاں پہ دوسری اور کانگریسوں پہ شایع ہونے والی دستاویزات بھی موجود ہیں:

http://www.marxist.pk/imt-pakistan-perspective-2016-17/

●پہلا باب مارکسی تناظر کی اہمیت ہے۔
"جو نام نہاد مارکسسٹ پاکستان کی مخصوص صورت حال کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس پہ مبالغہ آمیز حد تک زور دیتے ہوئے عالمی صورت حال کو نظر انداز کرتے ہیں یا قصدا اسے غیر اہم قرار دیتے ہیں وہ جلد یا بدیر لبرل خواتین و حضرات کے ساتھ ان کے کیمپ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔کیونکہ تیسری دنیا کے لبرل ازم یا نام نہاد سیکولر ازم کی فکری اساس بھی حالات کی مخصوصیت کے تحت جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد پہ قائم ہوتی ہے۔ یہ لبرل اسی مخصوص حالات کی آڑ لے کر سامراجیوں کی دلالی کو عین فطری، ضروری اور حالات سے ہم آہنگ قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ یوں فکری اساس اور اس سے بھی بڑھ کر طرز فکر کی یکسانیت کے باعث یہ نام نہاد مارکسی ان لبرل اور دائیں بازو کے قوم پرستوں کے فطری اتحادی بن جاتے ہیں۔”

●پاکستان تناظر 2018،ص 14
دوسرا باب جمود کی حرکیات ہے۔ اس باب میں سویت یونین کے انہدام، پاکستان میں لیفٹ کے بہت سے لوگوں کا تیزی سے لبرل ازم اور امریکی سامراجیت کے ساتھ کھڑے ہونا اور کئی ایک کا دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتوں کا حصّہ بن جانا اور کچھ کا مارکسسٹ یا لیفٹ کہلوانے کے باوجود جمود کا بہانہ بناکر عمل سے راہ فرار اختیار کرنا اور پھر طبقاتی جدوجہد کے نام سے آئی ایم ٹی کی شاخ کا بننا اور اس کے اندر بھی زوال اور جمود کو ‘انقلابی کیفیت سے تعبیر’ کرنے والوں کا زور ہونا اور ایسے لوگوں کا پھر مایوس ہوجانا، اس سارے عمل کا جائزہ لے کر یہ کہا گیا ہے کہ آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں پاکستان کے اندر محنت کش طبقہ/لیبر فورس چھے کروڑ اسی لاکھ چوالیس ہزار (ورلڈ بینک کی رپورٹ) ہے۔ آئی ایم ٹی کی اس کانگریس دستاویز کو مرتب کرنے والوں کا خیال ہے کہ: "ڈاکٹر، انجنئیر، اساتذہ، وکلاء اور صحافی یعنی تمام پروفیشنل جو اپنے آپ کو سفید پوش /مڈل کلاس سمجھتے تھے مذکورہ بالا معاشی تبدیلیوں کے بعد بہت تیزی سے ‘پرولتاریائے(محنت کش طبقے میں شامل ہورہے ہیں) جارہے ہیں۔ اگرچہ وکلاء اور صحافیوں میں تو ابھی وہ شدت نہیں آئی اور ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں مگر اساتذہ تو شدید معاشی دباؤ کی وجہ سے زندگی کے تلخ تجربات سے گورتے ہوئے محنت کش طبقے کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔”
"صرف پروفیشنل پرت محنت کش طبقے میں تیزی سے نہیں گررہی بلکہ کسان طبقہ بھی تیزی سے اجرتی محنت کش میں بدل رہا ہے۔”
"بے روزگاری یا جزوی بے روزگار وغیرہ کے باوجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ محنت کش طبقے کی تعداد میں بڑے پیمانے پہ اضافہ ہوا ہے۔مستقبل میں یہ محنت کش نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی کردار ادا کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ غرض کہ محنت کش طبقہ اور غریب عوام کی نئی نسل طبقاتی معرکے کے لئے تیار ہورہی ہے۔”
●تیسرا باب "ناکام ریاست” کے عنوان سے ہے۔اس باب میں کئی اہم پوزیشن اور موقف پاکستانی ریاست اور پاکستانی ریاست بارے امریکی سامراج کے موقف بارے بیان کی گئی ہیں۔ پہلے پیراگراف ہی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایک سیکشن امریکہ کے پاکستان سے نرم اور خوشگوار تعلقات کا حامی ہے لیکن ٹرمپ سمیت دیگر حکام پاکستان کی چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی معاشقے پہ برہم بھی ہيں۔ اس باب میں افغان وار اور اس حوالے سے پاکستان کے کردار پہ بحث کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ افغان جنگ کے دوران جو جہاد ازم کا نیٹ ورک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے اور پاکستان کی ریاستی اشیر باد سے بنا تھا اس نے اس قدر جڑیں پکڑلی ہیں کہ وہ ریاستی مدد کے محتاج نہیں رہے اور اس کے بغیر بھی اپنا کاروبار چلا سکتے ہیں۔ پاکستان کی ریاست کا مجموعی کردار کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ دستاویز یوں دیتی ہے” اس ریاست نے اپنے جنم سے لیکر اب تک صرف امریکہ کی گماشتگی ہی نہیں کی بلکہ رجعتی سعودی سامراج کے دم چھلے کا کردار بھی ادا کیا ہے۔اگرچہ گزشتہ عرصے میں ایران کی مداخلت بھی بڑے پیمانے پہ بڑھی ہے مگر آج بھی ریاست کے غالب رجعتی دھڑے کے سعودی آقاؤں سے گہرے مراسم ہیں۔ سعودی عرب خود امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اہم لنک ہے۔جس کے زریعے امریکہ نہ صرف پاکستان کے ریاستی غالب دھڑے کو براہ راست اپنی اطاعت پہ مجبور کرسکتا ہے بلکہ اس ریاستی دھڑے کی پروردہ مذہبی قوتوں کے ذریعے ریاست پہ دباؤ بھی بڑھا سکتا ہے۔ جب کہ ریاست کا نام نہاد لبرل اور سیکولر دھڑا اور اس کے پالتو سیاستدان و دانشور تو پہلے ہی اس کے وظیفہ خوار اور نمک خوار ہیں۔”
آخر میں یہ نتیجہ اس باب میں نکالا جاتا ہے:
"پاکستان ایک ایسی گماشتہ ریاست ہے جو خود بھی سامراجی عزائم رکھتی ہے۔ اور یہ گماشتہ ریاست امریکی اور چینی سامراجوں کے مفادات کے ٹکراؤ میں خود اندر سے شدید ترین توڑ پھوڑ کا شکار ہے اور انتہائی حساس توازن پہ کھڑی ہے جو کسی بھی داخلی یا خارجی مہم جوئی کی صورت میں دھڑام سے گرسکتی ہے۔”
ص 33 اسی باب میں ریاست کے ادارے فوج اور پارلیمنٹ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ آئی ایم ٹی کے خیال میں فوج کے ادارے کے اندر خاص طور پہ خود کورکمانڈرز ، آئی ایس آئی، ایم آئی کی اعلی قیادت میں دھڑے بندی ہے۔ آئی ایم ٹی کے تجزیہ میں اس دھڑے بندی کا ایک سبب ان بنیاد پرست نیٹ ورک کے ختم کرنے یا باقی رکھنے کے سوال پہ ہے جن کو ختم کرنے کا اصرار امریکہ کی جانب سے انتہائی شدید ہے۔ ان میں حقانی نیٹ ورک اور جماعت دعوہ کا نیٹ ورک سب سے اوپر ہیں۔ آئی ایم ٹی کے مطابق پاکستانی فوج کے اندر اس ایشو پہ تقسیم ہے۔ "اس کا سب سے رجعتی دھڑا حافظ سعید کی پارٹی کو میدان میں اتار کر امریکہ اور بھارت کو واضح پیغام دے چکا ہے کہ وہ امریکہ و بھارت کے آگے سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ "پاکستانی فوج کے اندر دوسرا دھڑا وہ ہے جو پاکستانی فوج کے پچاس سے زائد کاروباری و کمرشل اداروں کے مفادات کے تناظر میں بات کرتا ہے جن کی مالیت ایک اندازے کے مطابق بیس ارب ڈالر ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر میں کل سرمایہ کاری کا بڑا حصّہ خود فوج کا ہے۔ اور اس دھڑے کے خیال میں فوج کو بیک سٹیپ پہ جانے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ٹی کے مطابق پاکستان فوج کے مبینہ متحارب دھڑے طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کے لئے ریاست کے دیگر اداروں کو ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کررہے ہیں۔ رینجرز، ایف سی اور دیگر پیراملٹری ادارے ان دھڑوں کی باہمی کشاکش میں استعمال ہورہے ہیں۔ فوج کے اندر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے عدلیہ اور پارلیمنٹ کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ جب کہ مین سٹریم میڈیا بھی حکمران طبقات کی لڑائیاں ہی دکھا رہا ہے۔ آئی ایم ٹی کا خیال ہے کہ فوج کی نچلی پرتوں کے اندر بھی حکمران طبقات کے خلاف نفرت اور بغاوت موجود ہے جب کہ پاکستان کی عوام ریاست اور حکمران طبقات سے بیگانے ہوچکے ہیں۔ اور اس تجزیہ میں آخری بات وہ یہ کرتے ہیں:
” جب بھی اس ریاست کو کسی بڑی عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا تو جہاں حکمران طبقات اپنے تمام اختلافات و تنازعات سے بالاتر رکھ دیں گے وہیں سامراجی قوتیں بھی بھی باہم متحد ہوجائیں گی اور اس مزاحمت کو کچلنے کے لئے ریاستی اداروں پہ دباؤ بڑھائیں گے کہ وہ عوام پہ ننگا جبر کریں تو یہ ریاست بھی طبقاتی بنیادوں پہ تقسیم ہوجائے گی۔”ص 43
●چوتھا باب ‘اقتصادی بربریت’ کے عنوان سے ہے۔
اور اس کا ایک جزو پاکستانی معشیت پہ قرضوں کے بوجھ پہ ہے۔اس باب کے مطابق پاکستانی معشیت کو سنبھالنے کے لیے کم مدت میں واجب الادا قرضوں کے حصول کی پالیسی پہ عمل کیا جاتا رہا ہے اور اس وقت پاکستان کے کل قرضے کا 22 اعشاریہ 5 فیصد تین سال میں جبکہ 17 فیصد تین سے پانچ سال میں ادا کیا جانا ہے۔ اس کا مطلب ہے 2020ءتک پاکستان کو 14 ارب ڈالر اور 2022ء میں مزید دس ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔
اسی اقتصادی بربریت کے باب میں ایک ذیلی سرخی "سی پیک اور معاشی افراتفری” کے عنوان سے ہے۔ یہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ آئی ایم ٹی کے مطابق سی پیک ایک معاشی قیامت سے کم نہیں ہے جو پورے سیاسی و معاشی ڈھانچے کو زمین بوس کرسکتی ہے۔ اس ذیلی سرخی کے عنوان کے تحت جو حقائق بیان کئے گئے ہیں ان کو ہم درج ذیل نکات میں بیان کرسکتے ہیں:
سی پیک سے ٹیکسٹائل سمیت پاکستان کی دیگر تمام صنعتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ صرف کنسٹرکشن سے متعلق صنعتیں کسی حد تک فائدہ اٹھارہی ہیں۔
لیبر فورس سے لیکر خام مال تک تمام لوازمات چینی کمپنیاں چین سے درآمد کررہی ہیں۔پاکستانی منڈی کو سستی چینی مصنوعات نے یرغمال بنالیا ہے۔ چینی مصنوعات کو کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹیوں میں بے پناہ چھوٹ ملی ہے۔فیصل آباد میں پاور لومز تباہی کے دہانے پہ کھڑی ہیں۔ 50فیصد پاور لومز بند ہوچکی ہیں۔آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو تمام پاور لوم سیکٹر بند ہوجائے گا۔ ٹیکسٹائل جہاں پہ ملکی لیبر کا کل 30 فیصد کام کرتا ہے وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہے۔ بیروزگار مزدروں جو سی پیک کی وجہ سے ہورہے ہیں ان کو روزگار فراہم کرنے کا کیا متبادل ہے ؟ اس کا کچھ پتا نہیں۔ پاکستان کیبل بنانے والے صنعت کار کمال امجد میاں نے ڈان کو بتایا چینی سرمایہ کار توانائی کے شعبے میں سارا مال اور سازوسامان چین سے منگوا رہے ہیں اور گزشتہ سال ہم اپنی پیداواری صلاحیت کا صرف 40 فیصد ہی استعمال کرسکے کیونکہ ہمارے پاس آڈر ہی نہیں ہے۔ چینی درآمدات کو ٹیکسوں پہ چھوٹ دی جارہی ہے تو مقامی طور پہ ہماری پروڈکٹس پہ گزشتہ سالوں میں 45 فیصد مزید ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ تجارتی خسارہ 32اعشاریہ 5 ارب ڈالر ہے۔اس میں چین سے ہمارا تجارتی خسارہ 12 ارب ڈالر ہے۔ جب کہ سی پیک سے پہلے یہ چار اعشاریہ صفر بتیس ارب ڈالر تھا۔ جو رواں مالی سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے برابر ہے۔ اور دونوں ملکوں کے مابین تجارت کا حجم اٹھارہ اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔ ورلڈ ٹریڈ رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان کی چین کو برآمدات پہ 87 ٹیکنکل روکاٹیں (ٹی بی ٹی) کھڑی کیں جن میں جانوروں کے تیار چارے پہ 33 اور کیمکلز اور الائیڈ اندسٹری پہ 51 ٹی بی ٹی عائد کیں۔
سی پیک سے ہونے والی معاشی تباہی اور تجارتی خسارے کا سارا نزلہ روپے کی قدر میں کمی صورت گرایا جارہا ہے۔

Views All Time
Views All Time
208
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گلگت بلتستان کا پاکستان کے نام خط
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: