Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خام فلسفی کی محبوبہ

by دسمبر 19, 2017 کالم
خام فلسفی کی محبوبہ
Print Friendly, PDF & Email

Jean-Léon Gérôme ایک فرنچ مصور اور سنگ تراش تھا۔ اس کی بنائی ہوئی ایک تصویر 1845ء میں جو اس نے بنائی تھی عالمگیر شہرت کی حامل ٹھہری۔ یہ تصویر ایک اور سنگ تراشPygmalion اور اس کی محبوبہ Galatea کے درمیان اس وقت بوس و کنار کی منظر کشی کی ہے۔ جب وینس دیوی اس کی محبوبہ کے مجسمے میں روح پھونک دیتی ہے اور اسے دوبارہ زندگی بخش دیتی ہے۔ یہ پینٹنگ میٹروپولٹن میوزیم آف آرٹ پیرس میں آویزاں ہے۔ اب اس تصویر کا ایک تعلق مغرب میں پچاس کی دہائی سے بنتا ہے۔ جسے ‘ ڈپریشن ایرا’ کہا جاتا ہے اور اس زمانے کا ایک سانگ ہے A Kiss to Build a Dream On۔ Louis Armstrong جوکہ ایک امریکی ٹرمپٹیر ،سنگر اور کمپوزر تھا کو اس گیت نے شہرت بخشی تھی۔ اس نے کہا تھا:

"Oh give me your lips for just a moment
And my imagination will make that moment live
Oh give me what you alone can give
A kiss to build a dream on”

آج جب میں صفدر بھائی کے دان کئے سگاروں کے تحفہ میں سے ایک سگار پی رہا تھا اور اس سگار کی بو میرے دماغ کو سحر میں لے ہوئی تھی اور اس کی کڑواہٹ میرے منہ میں گھل رہی تھی تو ایسے میں مجھے ایک خام فلسفی دوست اور اس کی محبوبہ دونوں ہی میرے بہت گہرے دوست تھے اور آج جب وہ منوں مٹی تلے سورہے ہیں تو بھی میں کبھی کبھی ٹرانسپیرنٹ ہوکر ان کی قبروں میں اتر جاتا ہوں اور ان سے محو کلام ہوتا ہوں۔ عجب بات ہے دونوں نے آج تک اپنی گردن پہ پڑی کلہاڑی کی ضربوں سے پڑنے والے زخموں پہ کوئی پٹی نہیں باندھی اور ان دونوں گردنوں سے بھل بھل کرتا لہو ان کے کفن پہنے لاشوں پہ بہتا رہتا ہے اور دونوں کی آنکھوں کی پتلیوں میں کچھ لوگوں کے چہرے نقش ہیں۔ اور چہروں پہ حیرت ایسے جم گئی ہے جیسے نکتہ انجماد پہ چیزیں مجسم برف ہوجاتی ہیں۔ میں ان نقوش میں موجود چہروں کو نہیں پہچانتا کہ وہ کون ہیں۔ لیکن چہروں سے خشونت ٹپکتی ہے۔آنکھیں خشمگین ہیں۔ ہاتھوں میں کلہاڑیاں ہیں جن کے پھلوں سے خون کی بوندیں ٹپ ٹپ ہیں اور ایسے لگتا ہے اس رات نکتہ انجماد میں وہ بوندیں بھی برف ہوگئیں تھیں۔ دس سال ہوگئے میں خام فلسفی کی بیوی کو جو ایک پاگل خانے میں رہتی ہے ملنے نہیں گیا۔ بہت سال پہلے گیا تھا تو اس نے کہا تھا،”خام فلسفی کو کہو واپس آجائے،مجھے جب کوئی اعتراض نہیں محبت کرنے پہ تو لوگوں کو کیوں ہے؟ لوگ کون تھے ؟ آج تک مجھے نہیں پتا چلا۔ خام فلسفی اور اس بدن میں بسی تمباکو کی بو سے مست ہوجانے والی اور تمباکو کی بو دوسروں سے آئے تو متلی کرنے والی اس کی محبوبہ کو میری میرے ساتھ بیٹھ کر دسمبر کی 31 تاریخ کو سال نو شروع ہونے سے پہلے سگار پینا اور بہت مشکل سے ملنے والے دیسی ٹھرّے کے گھونٹ بھرنا بہت پسند تھا۔ اور ایسے میں ہم گھٹنوں تک لمبا کوٹ پہن کر آنے والے سروش سے امجد اسلام امجد کی’ آخری چند دن دسمبر کے ۔۔۔ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں’ سنتے۔ اور اپنے ساتھ گریٹ لینڈ سکاچ کی بوتل لے کر آنے والی پیٹی بورژوازی سیکنہ زیدی جس کی آواز مردوں کی طرح تھوڑی سی بھاری تھی بالکل رانی مکھر جی کی طرح بیٹھی ہوئی تھی کی نظم اس کے اپنے سیکسی لہجے میں ‘ میں کون ہوں؟۔۔۔کہاں سے آئی ہوں؟ کیسی لگتی ہوں؟ تمہاری آنکھیں بولتی ہیں۔۔۔۔ تمہیں ان سب کی پرواہ کہاں ہے؟۔۔۔تم میرے کولہے اور چھاتیوں کو بس تکتے ہو۔۔۔۔ان پہ پل پڑنے کو بے تاب ہو۔۔۔۔ذرا اشارہ کی دیر ہے۔۔۔۔تمہاری دانشوری غائب ہوجائے گی۔۔۔تم ہڑکایا کتّا بن جاؤ گے۔۔۔جب تک میرے وجائنا میں ۔۔۔اپنی ایستادگی کے ساتھ۔۔۔ تم داخل نہ ہوجاؤ۔۔۔۔ اپنےکولہوں کے پورے زور سے دھکے پہ دھکا ماروگے نہیں۔۔۔اور پھر سفید سیال کے بہنے تک ۔۔۔تم ہڑکتے ہی رہو۔۔پھر ڈھے جاؤ گے۔۔۔اور میں ساری کشش کھودوں گی ۔۔۔ سنتے اور مجھے نجانے کیوں اس پہ غصّہ آجاتا ۔ مجھے لگتا کہ اس نے میری چوری پکڑ لی ہے اور میں اس کے زریعے اپنے بارے سچ کے باہر آنے پہ غصّے سے باؤلا ہوجاتا۔ اور کہتا بچ ۔۔۔۔پاس بیٹھی ہما جعفری زور زور سے ہنسنے لگتی اور کہتی ،” کتنے کمزور ہو،سچ کا سامنا نہیں کرسکتے،کیونکہ عشق نے تمہارے پیروں میں زنجیریں نہیں ڈالی نا؟ کاش اللہ میاں یار کا بھیس بدل کر تمہارے دل کا شکار کرنے آجائے اور تم اپنے ہوس کے لباس کو لیر ولیر کرڈالو۔”

یہ بھی پڑھئے:   تین باتیں

خام فلسفی اور اس کی محبوبہ ہما جعفری سے کہتے،” ہماجی! تم بنا تمباکو پئے اور ٹھّرا چڑھائے وجدانی کیفیت میں کیسے بول لیتی ہو۔ اور ایسے عشق آلود لہجے کہاں سے ڈھونڈ لاتی ہو؟” تو ہما بس ایک مدھر ہنسی ہنس کر رہ جاتی اور کہتی تمہاری تنہائی اور بے گانگی مادیت سے بنی ہے اور میری ‘معرفت’ سے جو ‘علی شناس’ ہوجائے اسے مادیت کے نشے سے وجدان طاری کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔کتنی عجیب بات ہے وہ بھی منوں مٹی تلے سو رہی ہے اور میں اسے اٹھانے جاتا ہوں تو اس کے چہرے پہ شانتی شانتی دیکھتا ہوں۔ اور اسے اٹھاتا ہوں تو کبھی وہ ہڑبڑا کر نہیں اٹھتی ایسے بیدار ہوتی ہے جیسے ہموار ہوا چلتی ہو۔مادیت سے وجدانی ہوئے یا علی شناس ہوکر وجدانی ہوئے منوں مٹی تلے جلد سو کیوں جاتے ہیں؟

میں یہ کیا ہفوات بکنا شروع ہوگیا۔ آپ کو بتانا یہ تھا کہ میرا خام فلسفی دوست اپنی محبوبہ کے ہونٹ اک لمحے کے لئے نہيں مانگتا تھا۔ نہ ہی اسے اپنی محبوبہ سے ایک بس ایک بوسہ درکار تھا جس پہ وہ ایک خواب بنتا اور اسے امر کردیتا بلکہ اسے تو بار بار اپنی محبوبہ کے بوسے کی طلب تھی اور وہ ایسے ہزاروں بوسوں سے ہزاروں خواب بننا چاہتا تھا اور ان سب خوابوں کو امر کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی اس خواہش کو کلہاڑی کے تیز چمکتے پھل نے کاٹ ڈالا تھا۔ اسے کئی دسمبر درکار تھے۔ سال کی ہزاروں آخری راتیں اور ان راتوں کے آخری پہر درکار تھے۔ اور وہ دونوں سگار کی کڑواہٹ اور تیز ٹھّروں کے گھونٹ گھونٹ بھرکے وجدانی کیفیت میں وصال کرنا چاہتے تھے۔ اور خام فلسفی کی محبوبہ فلسفی کے پیلے دانتوں میں بسی تمباکو کی بو کو سونگھنے میں مست ہوجانے اور کسی اور سے آنے والی بو سے متلی ہوجانے کے راز سے پردہ اٹھنے کی منتظر رہی یہاں تک کہ اس کی گردن پہ کلہاڑی کے پھل نے ایسا وار کیا کہ یہ انتظار اور تجسس امر ہوگیا۔میں نے ایسے ہی ایک لمحے کو اپنی نظم میں قید کرنے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ میں اس منظر کو کسی پینٹنگ میں دکھا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی وینس دیوی ہوں کہ دونوں کو زندہ کرسکتا۔

یہ بھی پڑھئے:   Dogs Dream About Their Owners?

خام فلسفی کی محبوبہ (نظم)
پس منظر میں چکوال پارٹی گاتی ہے
درداں دی ماری اے
اوہو اوہو
ہائے کئی دلاں دی پیاری اے
اور ادھر
عاشق اپنی محبوبہ کی آنکھوں پہ
اس کے سردی سے کپکپاتے ہونٹوں پہ
اور نیلی رگوں کی جھلک مارتی گردن پہ
جب کثرت تمباکو نوشی سے
سیاہ پڑگئے ہونٹوں سے
ٹھنڈے اور سرد بوسوں کی بارش کرتا ہے
تو وہ اچانک پوچھ بیٹھتی ہے
کیا اپنی بیوی سے بھی دوران مباشرت
تم ایسے ہی
سرد بوسوں کی بارش کرتے ہو
کیا اس کا ایسے ہی سواگت کرتے ہو
اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے
جس پہ ناخن پالش سے عاری ہیں
وہ اس کے دونوں لبوں کو کھولتی ہے
اپنی ناک اس کے تمباکو کے دھوئیں سے پیلے پڑگئے دانتوں کے قریب لاتی ہے
اور کہتی ہے
مجھے تو اس تمباکو کی بو سے بھی پیار ہوچلا ہے
تم سر تا پا تمباکو کی بو میں بسے ہو
جب کبھی وصال سے سرشار ہوتی ہوں
یہ بو اپنے ساتھ ہی لے جاتی ہوں
یہ جب کبھی کم ہونے لگتی ہے
پھر تمہارے پاس آجاتی ہوں
کسی اور سے آئے یہ بو
تو دماغ الٹنے لگتا ہے
یہ کیا ہے ؟
کبھی اس راز سے بھی پردہ اٹھاؤنا
اے میرے خام فلسفی محبوب
(عامر حسینی)

Views All Time
Views All Time
241
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: