Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیموفلاج تکفیری فاشزم میں اعتدال پسندی کی تلاش – تیسرا حصہ

by دسمبر 14, 2017 کالم
کیموفلاج تکفیری فاشزم میں اعتدال پسندی کی تلاش – تیسرا حصہ
Print Friendly, PDF & Email

ان کی جانب سے تکفیری فاشزم کو دیوبندی ماڈریٹ ازم کے طور پہ پیش کرنے کی نمایاں کوشش اس وقت سامنے آئی جب نجم سیٹھی نے اپنے ہفت روزہ انگریزی رسالے ‘فرائیڈے ٹائمز’ میں محمد احمد لدھیانوی کی پروجیکشن بطور ماڈریٹ مذہبی سکالر کے شروع کی۔محمد احمد لدھیانوی کے انٹرویو رسالے میں شایع کئے گئے۔ اور ساتھ ہی ان کے ماڈریٹ ازم پہ مضامین کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اور اسی دوران نجم سیٹھی جیو ٹی وی پہ ایک پروگرام کرنے لگے اور اس کے ساتھ ہی جیو نیوز پہ محمد احمد لدھیانوی کی پروجیکشن کا سلسلہ بھی زیادہ ہوتا چلا گیا۔

اسی دوران ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل پہ اس وقت فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر رضا رومی بھی پاکستان علماء کونسل کے سربراہ طاہر اشرفی کے ساتھ ‘میں اور مولانا’ ٹاک شو کے ساتھ نمودار ہوئے۔اس سے پہلے فرائیڈے ٹائمز ہی میں طاہر اشرفی کو بھی ایک نابغہ ماڈریٹ مولوی کے طور پہ پیش کرنے کا سلسلہ شایع ہوچکا تھا۔

حامد میر،طلعت حسین سے لیکر پاکستان کے کئی نامور اینکرز محمد احمد لدھیانوی، اورنگ زیب فاروقی اور طاہر اشرفی کی بطور دیوبندی ماڈریٹ رہنماؤں کے طور پہ پرائم ٹائم میں پروجیکشن کرتے نظر آئے۔اور حیرت انگیز طور پہ اس دوران پاکستان کے اس لبرل سمجھے جانے والے پریس سیکشن نے محمد احمد لدھیانوی، اورنگ زیب فاروقی، طاہر اشرفی کے مشرق وسطی میں جاری فرقہ وارانہ خلفشار اور یمن و شام پہ تکفیری جنگ مسلط کرنے کے عمل کی پوری حمایت کرنے اور پاکستان میں سعودی عرب کی متنازعہ خارجہ پالیسی کے ترجمان بن جانے پہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور یہاں تک کہ اس جانب کوئی’دوستانہ تنقید’ کا رویہ بھی اختیار نہ کیا۔

پاکستان کا یہ لبرل سیکشن جو ایک طرف تو میاں نواز شریف کے لبرل امیج کی کمپین چلارہا تھا۔دوسری جانب یہ محمد احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی اور طاہر اشرفی کو دیوبندی ماڈریٹ مولویوں کے طور پہ پیش کررہا تھا تو اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کی فوجی قیادت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پہ اس تنقید کے ساتھ سامنے آرہا تھا کہ وہ کالعدم جہادی و عسکریت پسند تنظیموں کی مین سٹریمینگ کرنے کا الزام دے رہا تھا۔اور ایک مرتبہ پھر اس سے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے کردار کو نظر انداز کررہا تھا۔بلکہ اسے چھپانے میں لگا ہوا تھا۔لیکن یہی لبرل سیکشن کالعدم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کی مین سٹریم کئے جانے کا سرے سے تذکرہ بھی نہیں کررہا تھا۔اس حوالے سے انگریزی پریس میں ( ڈیلی ڈان اس سے مستثنی ٰہے ) آنے والے تجزیہ اور فیچر دیکھیں خاص طور پہ فرائیڈے ٹائمز، نیوز لائن، نیوز ویک پاکستان اور انٹرنیشنل میڈیا (نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ وغیرہ ) کو دیکھیں تو ان میں اہلسنت والجماعت پاکستان/سپاہ صحابہ پاکستان اور خاص طور پہ محمد احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی اور رمضان مینگل وغیرہ کے تذکرے سرے سے غائب دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   منّو بھائی کی یادیں: اپنے آپ سے زیادہ مایوسی نہیں

آپ اگر پاکستان کے لبرل انگریزی سیکشن کی کالعدم تنظیموں کے مین سٹریم کئے جانے کی مبینہ پالیسی پہ تنقید اور غم وغصّہ سے بھرے مواد کا جائزہ لیں تو حیرت انگیز طور پہ یہ بات سامنے آئے گی کہ اس مواد میں حافظ سعید، جماعت دعوۃ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک،مسعود اظہر کے تذکروں اور اس کی مین سٹریم کئے جانے پہ ملٹری اسٹبلشمنٹ پہ تنقید کا جو وزن ہے وہ بہت بھاری نظر آئے گا۔جبکہ اس تنقید میں ایک تو یہ حقیقت زیادہ تر غائب نظر آئے گی کہ جماعت دعوۃ اپنی مین سٹریم سرگرمیوں میں اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی قیادت کی مکمل سپورٹ پارہی تھی جبکہ جیش جوکہ اصل میں اعظم طارق کی کوششوں سے بننے والی تنظیم تھی جس کا 99 فیصدی کیڈر سپاہ صحابہ کا ہی رکن ہے کو بھی اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کی حمایت حاصل ہورہی تھی۔

اس دوران ایک اور عنصر جسے پاکستان کے انگریزی پریس سیکشن اور جیو-جنگ گروپ میں اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کو دیوبندی ماڈریٹ ازم کے طور پہ پیش کرنے والے صحافتی گروپ نے خاص طور پہ چھپایا وہ تھا سندھ اور بلوچستان کے اندر سیکورٹی فورسز خاص طور پہ رینجرز اور ایف سی کے انچارج صاحبان کی جانب سے اہلسنت والجماعت پہ ہونے والی نظرکرم تھی۔اورنگ زیب فاروقی اور محمد احمد لدھیانوی و رمضان مینگل کو اس حوالے سے کسی چیلنج کا سامنا نہیں ہوا جو وہاں پہ دیگر جماعتوں کو بطور خاص ہوا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نواز شریف کی اینٹی اسٹبلشمنٹ اور لبرل امیج بلڈنگ کرنے والا پاکستان کا ایک لبرل پریس سیکشن اپنے تجزیوں میں منہاج القرآن، سنّی اتحاد کونسل،مجلس وحدت المسلمین کو اسٹبلشمنٹ نواز ثابت کرنے اور ان کی سنّی بریلوی اور شیعہ شناخت پہ خاصا زور دے رہا تھا لیکن اس نے اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی قیادت کے سندھ-کراچی ، بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رشتوں اور ناتوں کو سرے سے دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔اور اس تنظیم کے کراچی، کوئٹہ،پشاور،ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ نسل کشی اور سنّی بریلوی کلنگ اور یہاں تک کہ بلوچ ایکٹوسٹ اور دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کے قتل میں ملوث ڈیتھ اسکواڈ کے رمضان مینگل گروپ سے مبینہ رشتوں کو سرے سے چھپائے رکھا۔

اور نجم سیٹھی کی جانب سے شروع کئے جانے والے تکفیری فاشزم کے کیموفلاج سیکشن کو دیوبندی ماڈریٹ بناکر پیش کرنے کی اس مہم کو پاکستان کی این جی او کے شعبے میں بھی ایک سیکشن کے اندر مقبولیت ملی۔اور اس سیکشن نے اس کیموفلاج سیکشن کو ماڈریٹ بناکر پیش کرنے کی مہم آگے بڑھائی۔

یہ بھی پڑھئے:   دو نومبر۔۔۔کس کی جیت اور کس کی ہار؟ - انور عباس انور

یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ پاکستان کا ایک لبرل سیکشن کیموفلاج تکفیری سیکشن کے اسٹبلشمنٹ اور اس کے نواز-شہباز سے رشتہ داری کو کیوں چھپاتا آیا ہے؟

یہاں ایک اور پہلو پہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔یہ پاکستانی سیکشن جو کیموفلاج تکفیری سیکشن کو دیوبندی ماڈریٹ بناکر پیش کرتا آیا ہے۔اس نے اس کیموفلاج سیکشن کے سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کی حمایت کو کبھی بیان نہیں کیا۔اور نہ ہی اس سیکشن کی جانب سے احمدی کمیونٹی سمیت ديکر کمیونٹیز کے خلاف ہونے والی نفرت انگیزی اور اس سے آگے ان پہ حملوں تک لیجانے والی جو سرگرمیاں ہیں ان میں تعاون فراہم کرنے کی کوششوں پہ بھی کبھی ویسے کلام نہیں کیا جیسے آج کل یہ سنّی بریلوی کے اندر تحریک لبیک یارسول اللہ جیسی تنظیموں کی انتہا پسندانہ مہم پہ پے درپے مواد مین سٹریم کررہا ہے۔

کیا اس سیکشن نے آج تک کبھی عالمی ختم نبوت انٹرنیشنل موومنٹ کے نیٹ ورک/مجلس احرار اسلام اور اس کے اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کے درمیان رشتوں پہ کوئی تحقیق اپنے پڑھنے والوں کو پیش کی ہے اور ان کی احمدی کمیونٹی پہ حملوں کی تفصیل سے آگاہ کیا ہے؟ یہ آخر تکفیری فاشزم کے کیموفلاج کو ‘ دیوبندی اعتدال پسندی’ کے طور پہ کیوں پیش کرتا ہے؟ کیا پورے دیوبندی تھیاکریسی میں اسے اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ، پورے دیوبندی مذہبی پیشوائیت میں ماڈریٹ مذہبی پیشوا کیموفلاج تکفیری محمد احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی جیسے ہی میسر آئے؟

جبکہ اس سیکشن کا جو رویہ ڈاکٹر طاہر القادری، دعوت اسلامی کے سربراہ محمد الیاس قادری وغیرہ کے بارے میں وہ تضحیک آمیز بھی ہے اور بہت زیادہ نفرت سے بھرا ہوا بھی ہے۔بلکہ اس سیکشن نے تو ان کو دہشت گرد تک قرار دینے سے گریز نہ کیا۔

ان تضادات کو سامنے لائیں تو اچانک سے یہ سیکشن تھیاکریسی، تھیاکریٹک رویوں کا اپنے آپ کو سب سے بڑا مخالف بناکر پیش کرتا ہے لیکن اس دعوے کے برعکس یہ تھیاکریسی میں کیموفلاج تکفیری فاشزم کے اندر اعتدال پسندی کی تلاش کرتا پایا جاتا ہے۔

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

Views All Time
Views All Time
88
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: