Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

الیاس گھمن معاملہ، مفتی ریحان کا مؤقف

by اکتوبر 6, 2016 بلاگ
الیاس گھمن معاملہ، مفتی ریحان کا مؤقف
Print Friendly, PDF & Email

میں کئی روز سے بغور اپنے مضمون پر عمل اور رد عمل کا مشاہدہ کررہا ہوں ، میں آج کچھ باتیں بھی کلیئر کرنا چاہتا ہوں ۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے اس مضمون کے پیچھے نہ تو کوئی گروہ کارفرما ہے اور نہ گھمن صاحب کے مخالف مسلک کا اس سے کوئی تعلق اور لینا دینا ہے ، یہ ساری کہانی سوشل میڈیا سے شروع ہوئی تھی ، سوشل میڈیا پر پھیلی اور وسیع پیمانے پر اس نے لوگوں کو متاثر کیا ، درد و غم ، آہوں اور آنسئوں میں ڈوبی ہوئی یہ داستان بہت سوں کو بے قرار کرگئی ، بہت سوں کے دل ٹوٹے بہت اور بہت سارے لوگ شدت غم سے رونے تک پر مجبور ہوئے۔ یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جنہوں نے اسے پڑھا ، مگر جس نے اسے براہ راست سنا اور سمجھا اس کے دل و دماغ پر کیا بیتی ہوگی یہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے ۔

میں یہاں ایک اعتراف بھی کرنا چاہتاہوں کہ میں نہ تو گھمن کے حامی طبقے سے ہوں نہ مخالف طبقے سے ، میں نے یہ داستان خالص انسانی جذبے کی بنیاد پر لکھی ، اسے لکھتے ہوئے نہ تو میرے دل میں کوئی مذہبی تعصب تھا نہ مسلکی اور نہ سیاسی ۔

اس کی ابتدا بھی سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک خبر سے ہوئی تھی ،جس میں ایک معروف صحافی نے ایک اسکینڈل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ، کیا اس مظلوم خاتون کو انصاف ملا یا نہیں ۔

میں چونکہ فیس بک پر موجود تو رہتا ہوں اور اہم لوگوں کی وال پر نظر بھی ڈالتا رہتا ہوں سو کسی نے مجھے بھی اس پوسٹ کے بارے میں بتایا تو اپنی صحافیانہ فطرت سے مجبور ہوکر میں نے کچھ لوگوں سے اس کی تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی ، نہ جانے کس طرح میری اس دلچسپی کی خبر ان محترم خاتون تک پہنچ گئی ، جس پر مجھے انہوں نے ان باکس میں کچھ چیزیں شیئر کیں ، جب میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے پاس یہ کہاں سے آئیں تو انہوں نے کہا کہ میں خود وہ متاثرہ خاتون ہوں ۔ جب خاتون نے مجھے بتایا کہ میں ہر طرف سے مایوس ہوگئی ہوں اور اب میں نے اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے اور اب مجھے انصاف قیامت میں ملے گا تو میں نے خاتون کو پیش کش کی کہ اگر وہ چاہیں تو میں ایک بہتر انداز میں ان پر گذرے ان حالات کو سوشل میڈیا پر پیش کرسکتا ہوں اور ان کے جذبات کو اپنے الفاظ میں لوگوں تک پہنچانے میں مدد کرسکتا ہوں جس کے بعد آپ کے مجرم کو یہاں پناہ نہیں ملے گی کیونکہ ہمارا معاشرہ اب اتنا بھی مردہ نہیں کہ اتنا بڑا ظلم دیکھ کر بھی اس کی مدد کیلئے آگے نہ بڑھے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو مجھے پوری تفصیل بتانا ہوگی جو کچھ آپ نے وہاں دیکھا ، جو کچھ آپ نے وہاں سنا اور جو کچھ آپ نے وہاں محسوس کیا ۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس جو بھی ثبوت ہیں جو بھی ریکارڈنگز ہیں وہ بھی مجھ سے شیئر کرنا ہوں گی۔

چونکہ مجھے اس داستان کو بیان کرنے کیلئے کوئی زمین بنانا تھی اور پھر اس زمین کے اوپر اس المناک واقعے کی بنیاد رکھنا تھی اس لئے میں نے اسے مفتی ریحان کے ایک قلمی نام سے لکھنے کا فیصلہ کیا ۔

خاتون سے یہ سارا مکالمہ یا تو ان باکس میں ہوا یا فون اور واٹس ایپ پر۔ میرے پاس ان باکس اور واٹس ایپ پر خاتون سے کی گئی اس سارے مکالمے کی تفصیلات موجود ہیں اور محفوظ بھی تاکہ اگر کل عدالت یا کسی اور فورم پر پیش کرنے کی ضرورت ہو تو پیش کی جاسکیں ۔ میں نہ تو خاتون سے بذات خود ملا ہوں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ وہ کہاں رہتی ہیں ، تو جولوگ دبیز لفافے ، موٹرسائیکل کے ٹائروں کے نشانات جہاں گفتگو ہوئی وہ مدرسہ میرا دارالافتا اور بڑے مفتی صاحب کو ڈھونڈ رہے ہیں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔

ہاں اس داستان میں کوئی بھی بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی کوئی بھی الزام میں نے اپنی طرف سے نہیں لگایا ۔ مجھے جو بتایا گیا وہی میں نے تحریر کیا ، بلکہ جو کچھ بتایا گیا وہ اس سے بہت زیادہ تھا جو تحریر کیا گیا ۔ یہ ایک مظلوم خاتون پر گذرنے والے شب و روز کے حالات تھے، جو لوگ ثبوت ثبوت کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ، انہیں معلوم ہو کہ یہ کسی عدالت میں پیش کیا جانے والا فرد جرم نہیں تھا جس کے ساتھ ثبوت بھی لف کئے جاتے نہ ہی ایسا کرنا ممکن تھا ۔ایک خاتون کے ساتھ اس کے اپنے ہی خاوند کے ہاتھوں ظلم کی ایک داستان تھی جو اسی کی زبان سے بیان کردی گئی ، اب اگر کچھ لوگوں کے دستار گر رہے ہیں اور کچھ لوگوں کے بدنوں سے تقدس کی عبائیں پھسل پھسل کر زمین پر آ رہی ہیں تو ان کو بھر پور حق ہے کہ مذکورہ فریق کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور ان سے جواب طلب کریں ۔

یہ کسی ایک مسلک کا المیہ بھی نہیں ، ایسے گھنائونے کردار ہر مسلک میں ہوسکتے ہیں ، اس لئے اسے دیوبندیت کے خلاف استعمال کرنا حد درجے کی خیانت اور ظلم ہوگا۔ کوئی بھی مذہب اور مسلک ایسے شرمناک چھپے ہوئے بھیڑیوں کے وجود سے خالی نہیں ۔

میرے اس مضمون کی حمایت او رمخالفت میں بے شمار مضمون لکھے گئے ، بہت سارے مضامین گھمن کے حامیوں نے بھی لکھے مگر میں انہیں پرکاہ حیثیت دینے کیلئے بھی تیار نہیں تھا کیونکہ عقیدت کے بتوں کے آگے سجدہ ریز مریدوں کے گفت کی حیثت ہی کتنی ہوتی ہے ، مجھے انتظار تھا گھمن کے اپنے موقف کا اس کی اپنی زبان سے نکلے ہوئے شبدھوں کا ، جو پرسوں کسی بھائی نے مجھے دے دیئے ، میرا یہ جوابی مضمون گھمن صاحب کے ان ہی باتوں کا جواب سمجھ لیں

میں نے جب یہ داستان لکھی توکچھ معروف سائٹس پر لگانے کیلئے دوستوں سے بات کی مگر داستان سے نکلتے چنگاریوں نے انہیں ہاتھ نہ لگانے پر مجبور کیا ، مجھے کیا خبر تھی کہ اپنے خاکستر میں ایک چنگاری سلامت تھی جسے شعلوں سے الجھنے میں مزہ آتا تھا ، سو جب یہ سٹوری سبوخ سید صاحب کے ہاتھ لگی تو وہ آتش نمرود میں ایک منٹ ضائع کئے بغیر کود پڑا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ سٹوری سبوخ صاحب نے خود لکھی ہے اور انہیں گالیاں بھی بہت پڑیں ، اللہ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے اتنا بڑا رسک لیا اور گالیاں تبرا اور دشنام برداشت کیا۔ آب آتے ہیں اپنے مدعا کی طرف؛

چونکہ گھمن صاحب کا جوابی بیانیہ ایک صحافی عدنان کریمی کی جانب سے آیا جس کا نام ہے

“اعتراضات الزامات اور مولنا الیاس گھمن کا موقف”۔ موصوف لکھتے ہیں

(گزشتہ چند روز سے فیس بک جیسے کثیر الفکری فورم پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے، مولانا الیاس گھمن کے بارے میں ان کی سابقہ اہلیہ کا خط، استفتا نے ہڑبونگ مچا رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ پر وہ خط شائع ہوا، لکھاری نے تمام معاملات کو ایسا افسانوی جامہ پہنایا کہ اسے پڑھ کر کوئی باشعور شخص شرمندہ ورنجیدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم نے بھی وہ مضمون پڑھا تو دل مسوس کررہ گیا۔ دوسری جانب مولانا گھمن کے حامیوں کی فوج نے اس پورے قضیہ کو مماتیوں کے کھاتے میں ڈال کر دامن جھاڑ لیا اور اندھی تقلید کی ایسی خوفناک روایت قائم کی کہ جس سے موصوف خود پریشان وبیزار نظر آتے ہیں۔)

سوال : اس پریشانی اور بیزاری کا کیا ثبوت ہے؟

اب تک جتنے مدافعانہ مضامین حلقہ گھمن کی جانب سے منظر پر آئے ہیں ..کیا وہ اس روش سے خالی ہیں؟

کیا ان مضامین میں ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے مسلکی اختلاف کا شاخسانہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے؟

کیا مفتی اویس ہزاروی کے مضمون میں برملا یہ بات نہیں کی گئی کہ ہم جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے گھمن کا کون سا مخالف طبقہ چھپا ہوا ہے؟

جناب ! گھمن اینڈ کمپنی نے جان بوجھ کر دھول اڑایا اور اسے حیاتی مماتی کا اختلاف کہہ کر ان الزامات کو بہتان باور کرانے کی کوشش کی …

آگےموصوف لکھتے ہیں۔۔۔…

(فریقین کے نوک جھونک سے فیس بک اکھاڑے کا منظر پیش کرنے لگا۔ فریقین کی جانب سے بہت ساری غلطیاں ہوئیں، فریق اول نے بنا دلیل وبرہان اور بغیر تحقیق و تفتیش کے وہ خط وائرل کردیا جو کہ بہر طور غلط اور بددیانتی ہے۔)

جناب ! کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کس نے یہ خط وائرل کردیا؟

آپ جب اس خط کو وائرل کرنے والے کا نام بتا دیں گے تو آپ سے ہمارا اگلا سوال یہ ہوگا….کہ آپ کو کیسے پتہ کہ جس نے وائرل کیا اس نے بغیر تفتیش اور ثبوت کے کیا؟

کیا آپ بتائیں گے….آپ نے خط وائرل کرنے والے سے رابطہ کیا ؟ اور اس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟

آپ یہ دعوی کس بنیاد پر کرتے ہیں کی فریق اول نے بغیر تحقیق اور تفتیش کے ہی وہ خط وائرل کردیا ؟

پھر یہاں دو چیزیں ہیں…ایک ہے مفتی ریحان کا مضمون اور ایک ہے خاتون کا علما کے نام بھیجا جانے والا مکتوب…

سب سے پہلے تو مفتی ریحان کا مضمون وائرل ہوا …خطوط تو بعد میں مختلف لوگوں نے وائرل کیئے ….

کیا آپ کی مراد اس خط سے یہ مفتی ریحان کا مضمون تو نہیں؟

اگر ایسا ہے تو یہ مضمون سبوخ سید نے قوم کے سامنے پیش کیا ہے….

کیا عدم تفتیش و تفحص کا الزام لگانے سے پہلے آپ نے سبوخ سید سے رابطہ کیا؟…جس طرح کہ آپ نے فریق ثانی الیاس گھمن سے کیا.

اگر کیا ہے تو ان کا موقف کہاں ہے آپ کے مضمون میں؟ کیا آپ نے اصل متاثرہ فریق …یعنی سمیعہ صاحبہ سے رابطہ کیا جس نے یہ خط لکھا تھا؟ اگر نہیں کیا تو آپ مجھے بتائیں کہ ایک فریق کا موقف بیان کرنا اور دوسرے سے صرف نظر کرنا بد دیانتی کی بدترین مثال نہیں”

آپ آگے لکھتے ہیں….

“(بہر کیف اس پورے قضیے کو دیکھنے کے بعد ذہن میں یہ خیال کوندا کہ کیوں نہ قرآنی حکم “فتبینوا” پر عمل کرتے ہوئے صاحب معاملہ کی طرف رجوع کیاجائے۔ خیال کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے موبائل نکالا، مولانا کا نمبر ڈائل کیا لیکن مصروفیت کی بنا پر وہ کال ریسیو نہیں کرسکے۔ واٹس ایپ میں ٹیکسٹ کیا، تھوڑی دیر بعد دوبارہ فون کرنے پر بات ہوئی، تعارف کروایا، انہوں نے بڑی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا، خاکسار نے اپنا مدعا بیان کیا اور اس “مبینہ استفتا” واٹس ایپ کردیا۔ چند لمحے بعد انہوں نے ریکارڈنگ کے ذریعے آگاہ کیا کہ اب نماز کا وقت ہے، نماز کے بعد آپ جس طرح وضاحت طلب کرنا چاہیں میں حاضر ہوں۔ ان کی چند منٹ کی شیریں گفتگو اور عجز وانکسار میں ڈوبے ہوئے لہجہ نے رعایت اللہ فاروقی صاحب کے اس قول پر مہر تصدیق ثبت کردیا کہ وہ عجز وانکسار کا پیکر ہیں۔ ان کی نماز سے واپسی کے انتظار تک میں یہ سوچتا رہا کہ اس جیسی شخصیت نے اس قسم کی کوئی بداخلاقی کی بھی ہوگی یا نہیں)….”

یہ بھی پڑھئے:   تعلیم وہ خوب ہے جو سکھلائے ہنر - اختر سردار چودھری

ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیئے..جناب!.

ایک تو آپ نے قرآنی حکم تبین کے تقاضے روند ڈالے۔ اوپر سے ایک فریق کو معتبر اور معصوم ثابت کرنے کی بنیاد بھی رکھ دی…وہ بھی اپنے تصور کے اوپر….ایک بندے کی شیرین بیانی کا اس کے جنس زدہ روحانی بیماری سے کیا تعلق ؟ کیا معصوموں کی عزتوں کے لٹیرے …چرب زبان ملنسار اور بظاہر میٹھے اور شیرین زبان نہیں ہوسکتے…کیا ایسے درندوں کیلئے ان کا یہ ملنساری اور چرب زبانی والا طریقہ شکار کو پھانسنے کا بہترین ٹول ثابت نہیں ہوتا؟ ایک طرف تبین کا دعوی دوسری طرف ملزم کا وکیل صفائی بن کر اس کی نیکوکاری کا اندازہ محض فون پر لگالینا کیا یہ عدل والی بات ہے؟

موصوف آگے لکھتے ہیں

(نماز کے بعد تھوڑی سی تاخیر پر انہوں نے فون پر معذرت کی اور واٹس ایپ میں چودہ وائس ریکارڈنگ کے ذریعہ اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مذکورہ استفتا اور خط کے نکات سراسر جھوٹ اور بددیانتی پر مبنی ہیں۔ وضاحت کا لب لباب یہ تھا کہ “میری شادی اپریل 2012 میں ہوئی اور میری سابقہ بیوی سمیعہ (صاحبزادی مفتی زین العابدین رح) کا مئی میں سرگودھا آنا ہوا اور جب وہ وہاں آئیں تو انہوں نے الزام لگایا کہ میری پہلی بیوی پہرہ دار اور معاون بن کر گھر کے باہر کھڑی تھیں اور میں اندر مدرسہ کی طالبہ کے ساتھ غلط کام میں مصروف تھا، انہوں نے جب میری پہلی بیوی کو بھی پہرہ دار بناکر بطور گواہ پیش کرنا چاہا تو میری پہلی بیوی نے شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب کو وضاحتی وبرآتی خط لکھا جس میں ان کے تمام الزامات کا جواب بھی دیا۔)

یہ تو بالکل ایک نئی بات آپ سنا رہے ہیں جس کا سارے فسانے میں کہیں ذکر نہ تھا…

گویا گھمن صاحب کہہ رہے ہیں کہ سمیعہ نے سرگودھا آکر الزام لگایا کہ میں مدرسہ میں طالبہ کے ساتھ غلط کام کررہا تھا اور میری پہلی بیوی پہرہ دے رہی تھی…. یہ الزام لگانے کے بعد سمیعہ نے مولانا سلیم اللہ خان کو خط لکھا اور اس خط میں یہ بھی لکھا کہ جب میں مدرسہ کے اندر وہ کام کررہا تھا اور سعدیہ (پہلی بیوی)پہرے کا کام کررہی تھی..تو ثبوت اور گواہ کے طور پر سعدیہ کا نام پیش کیا ….جس کے بعد سعدیہ نے مولانا سلیم اللہ خان کو جوابی وضاحتی براتی خط لکھا اور سمیعہ کے الزامات کی تردید کی….

جناب!یہ خط اگر ہے تو پیش کیا جائے۔ ہمارے پاس جو خط ہے اس میں یہ بات نہیں   بلکہ دوسری بات ہے اور وہ دوسری بات جو سمیعہ صاحبہ نے مفتیا ن کرام کے نام اپنے مکتوب میں لکھی ہے وہ یہ ہے

“الیاس گھمن شادی کے چند روز بعد سے ہی میری بیٹی پر نظر رکھنے لگا.میں بہت بچاتی تھی مگروہ کہتے تھے کہ میری بھی بیٹی ہے. سوتیلی بیٹی کے ساتھ وہ جس طرح پیار کرتے تھے کہ منہ چومنا ماتھا چومنا جسم پر ہاتھ پھیرنا اور بغل گیر ہونا یہ سب مجھے بہت ہی برا لگتا تھا.ان کو میرا اس بات سے منع کرنا جھگڑے میں تبدیل ہوگیا. پھر جب بھی آتے اس بات پر جھگڑا ہوتا. پھر میں نے ان دونوں کے ملنے پر پابندی لگا دی تو اس نے مجھ سے چوری میری بیٹی کو موبائل اور سم دیدی. تاکہ رابطے میں رہے.بیٹی کو اس موبائل کو چھپا کر رکھنے کا حکم دیا. تو کچھ عرصہ بعد میں نے اس سے وہ موبائل چھین لیا۔ اس نے دوبارہ اس کو چوری سے موبائل دیا.اس کے بعد ڈیڑھ سال کے دوران اس نے مجھ سے چوری سے کئی بار اس پر حملہ کیا .اس کے بعد میں نے بیٹی سے وہ موبائل بھی چھین لیا.اور دونوں بچیوں کا اس سے پردہ کروایا.اس کے بعد میری بیٹی نے رو رو کر دو گھنٹے میں مجھے تفصیل بتائی. کہ ماما آپ کا نکاح 5 اپریل کو ہوا اور ہم 5 مئی کو سرگودھا گئے. آپ نے وہاں ہم دونوں بہنوں کو الگ کمرے میں سلایا .اس کے بعد وہ آدھی رات کو دروازہ کھٹکھٹا کے اندر آگیا.اپنی بیوی سعدیہ کو اس نے ماما آپ کی نگرانی کیلئے کھڑا کیا.آتے ہی کمرے میں اس نے مجھ سے بوس و کنار شروع کردیا .کمر پہ پیٹ پہ گردن پہ اور میرے کپڑے ہٹا کر میری فوٹو موبائل پر بنائی .میں نے الیاس گھمن کے منہ پر تھپڑ مارا تو الیاس گھمن بدمعاشی پر اتر آیااور مجھے دھمکیاں دینے لگا کہ اگر تم مجھے کبھی اپنے قریب نہیں آنے دوگی تو میں تیری یہ فوٹو نیٹ پر لگادوں گا. الیاس گھمن نے کہا کہ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا.

جب یہاں تک معاملہ پہنچ گیا تو مفتی صاحب میں نے اس شرمناک واقعہ کو ایک عالم دین جن کا نام مولانا غلام مصطفی ہے سے ذکر کیا.اور پوچھا کہ میں اس کے نکاح میں ہوں کہ نہیں. تو انہوں نے کہا کہ آپ نکاح میں نہیں ہیں۔. اس کے بعد میں نے عبدالحفیظ مکی صاحب اور عبدالوحید مکی صاحب جو میرے بہنوئی ہیں ان کو میں نے تین صفحوں کا ایک رقعہ لکھا اور سارے حالات لکھے تو بھائی عبدالحفیظ مکی نے فون پر مجھے کہا کہ میں نے سب طرف سے پتہ کرلیا ہے کہ آپ نکاح میں ہیں ، آپ نے دوبارہ مولانا غلام مصطفیٰ یا کسی اور مفتی صاحب سے رابطہ نہیں کرنا اور کہا کہ بچی کی شادی جلدی کردو ، اس کے بعد الیاس گھمن کا گھر میں آنا جانابھی نہ روکو اور اس کے عیب پر پردہ بھی ڈالو ، آپ سے یہ درخواست ہے کہ آپ میرے سارے حالات پڑھ کر فتویٰ جاری فرمادیں والسلام

سمیعہ زین العابدین

20/12/2015

اب یہ خط پڑھیں اور الیاس گھمن کا جواب ملاحظہ کریں تو کیا یوں نہیں لگتا ہے کہ سوال گندم اور جواب چنا ۔ ؟

الیاس گھمن نے اس سوال سے پہلو تہی کیوں کی ؟ جب کہ سارا جھگڑا ہی اسی بات کا ہے۔ کیا سمیعہ صاحبہ گھمن صاحب سے مدرسہ کے دوسرے بچوں کے ساتھ ان کی زیادتی پر لڑرہی تھی یا اپنی بچی کی عصمت پر ہاتھ ڈالنے پر؟ تو الیاس گھمن اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے ۔۔۔ ؟الیاس گھمن دوسری سٹوری سنا کر کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں ؟ کیا کوئی بھی باشعور اور درد دل رکھنے والے انسان کو خط میں بتائی گئی حقیقت اور اس میں چھپا ہوا درد محسوس کرنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے ؟

اب میرا سوال یہ ہے ۔۔کہ جب گھمن اس خط میں لگائے گئے الزام کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں   تو کیا وہ بتانا پسند کریں گے کہ یہ الزام من گھڑت کیوں ہے ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ خاتون آپ کے اوپر اپنی بیٹی کےسا تھ زیادتی کا الزام کیوں لگارہی ہے ؟ آپ کو کوئی ٹھوس وجہ تو بتانی ہی پڑیگی کہ جو اتنی ٹھوس ہو کہ کوئی بھی ہوش مند انسان اسے تسلیم کرسکے کہ ہاں یہ وجہ ہوسکتی ہے اور اس وجہ سے کوئی ماں اپنی ہی بیٹی کی عزت کو برسرعام نیلام کرنے کیلئے تیار ہوسکتی ہے ۔کیا محض سوکن لانے پر کوئی عزت دار گھرانے کی ماں اپنی بچی کے بارے میں کسی پر ایسا بھیانک الزام لگاسکتی ہے ؟ کیا بچی یہ الزام اپنے اوپر برداشت کرسکتی ہے ؟ وہ تو اپنے ماں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے اور ظالم کے خلاف ماں کا ساتھ دے رہی ہے ۔

اصل بات یہ ہے کہ خاتون کے ساتھ یہ ڈرامہ شادی کے چند دن بعد ہی شروع ہوگیا تھا ، اور خاتون اس صورتحال سے پریشان رہنے لگی تھی جیسا کہ مکتوب سے ظاہر ہے اور وہ پوری کوشش بھی کررہی تھی کہ اس صورتحال سے اپنا پیچھا چھڑائے ۔ اس نے الیاس گھمن سے شادی اپنے بھائیوں کی رضامندی سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی فیصلے چند رشتہ داروں کے بیچ میں آنے پر کی تھی اور گھمن نے خاتون سے شادی ان کے والد کی شہرت اور وسیع حلقہ ارادت سے مالی فائدہ حاصل کرنے کیلئے کی تھی ، مگر جب اس نے دیکھا کہ ان سب فوائد کے ساتھ ساتھ مال غنیمت میں اس کے سیاہ دل کی تسکین کا سامان بھی میسر ہورہا ہے تو وہ صبر نہ کرسکا اور اپنی فطری خباثت کے ہاتھوں مجبور ہوگیا یہ سب کچھ کرنے پر ۔

جگہ جگہ انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ خاتون کو جب شروع ہی میں پتہ چل گیا تو اس نے اسی وقت کیوں علیحدگی کا فیصلہ نہیں کیا ، اس کا جواب یہی ہے کہ خاتون اپنی مرضی اور بھائیوں کی نامرضی سے کی گئی اس شادی کو نبھانے کی کوشش کررہی تھی ، بھائیوں اور بھاوجوں کے طعنوں کا خوف ہمارے معاشرے میں کسی بھی خاتون کو بہت سارا بوجھ اور ظلم سہنے پر مجبو کرتی ہے ۔ یہ بھی اسی قسم کی صورتحال تھی ، جو خط خاتون نے بزعم خویش اپنے خیر خواہ عبدالحفیظ می کو ابتدا میں بھیجا تھا ، اس میں اس نے واضح طور پر ساری صورتحال لکھ ڈالی ہے ، کہ کس طرح اس کا خاوند اسے اگنور کرتا ہے اس سے بات تک نہیں کرتا اور جب کرتا ہے تو شعلے برساتا ہے ، اور کس طرح وہ خاتون کو محبت دینے کیلئے بھی شرط یہی رکھتا ہے کہ جب تم مجھے اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دوگی تو میں تمہیں توجہ دوں گا۔

خاتون نے مجھے بتایا کہ ایک بار سرگودھا میں ان کے مدرسے میں لڑکیوں کا کوئی کورس ہورہا تھا ، اس میں گھمن نے کہا کہ تم اپنی بیٹی کو بھی اس کورس میں بھیج دو ، میں نے کہا میں اس صورت میں بھیجوں گی اگر میں بھی ساتھ رہوں گی ، گھمن نے کہا نہیں تم ساتھ نہیں آئو گی اسے اکیلا بھیجو گی ، پھر گھمن نے مجھے کہا کہ تم اگر میری بات مانتی ہو تو میں تمہیں عمرہ کروانے کا وعدہ کرتا ہوں”

ذرا تصور کیجئے اس درندگی کا ، ایک اتنا بڑا عالم دین اور متکلم اسلام ، اپنی ہی بیوی سے کہتا ہے کہ اپنی بیٹی دس دن کیلئے میرے حوالہ کردو تو میں تمہیں عمرے پر بھیج دوں گا۔۔۔کیا کوئی ادنی سے ادنی مسلمان بھی ایسی بات کرسکتا ہے ؟یہ بات سن کر اگر میری رگوں میں خون نہ ابلے اور یہ خون میری آنکھوں سے نہ برسے تو لعنت ہے میری انسانیت پر اور لعنت ہے میری مسلمانی پر ۔۔۔

خاتون نے دو کرداروں کا ذکر اس خط میں کیا اور درخواست کی کہ کچھ گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے ان کا ذکر کھلے الفاظ میں نہ کروں بلکہ اشاروں میں کروں ، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ دو کردار کونسے تھے۔ ایک وہ جس نے سب کچھ جاننے کے بعد بھی اسے مشورہ دیا کہ تمہارا گھمن کے ساتھ نکاح نہیں ٹوٹا اور تم کسی مفتی سے فتویٰ نہیں لو۔۔

یہ بھی پڑھئے:   مسلم لیگ (ن) کا نیا صدر کون ہو گا؟ | ارشد فاروق بٹ

مدرسے کا ایک ادنی طالب علم بھی حرمت مصاہرت کا علم رکھتا ہے ، جس کے مطابق کوئی بھی انسان شہوت سے اپنی بیٹی کو یا بیوی کی بیٹی کو ہاتھ لگادے تو اس پر اپنی بیوی ہمیشہ کیلئے حرام ہوجاتی ہے ، تو پھر اس صاحب نے جو پتہ نہیں کون کون سے القابات اور خطابات اپنے نام کے آگے اور پیچھے لگائے رکھتا ہے اورحرم کے جوار میں رہتا ہے ،کس بنیا دپر اسے کہتا ہے کہ میں نے ارد گرد سے پتہ کرلیا ہے گھمن سے تمہارانکاح نہیں ٹوٹا، صاف بات ہے ، یہ موصوف گھمن کا پیر ہے اور گھمن اس کا خلیفہ ، اب ایک پیر اپنے خلیفہ کے کرتوتوں پر پردہ نہیں ڈالے گا تو خلیفہ اپنے پیر کے کرتوتوں پر پردہ کیسے ڈال سکے گا۔ میرا علما سے سوال ہے ؟ کیا مذکورہ پیر کی اس حرکت کے بعد اسے کیا سمجھا جائے ؟ اگر اس نے جان بوجھ کر خدا کا ایک حکم چھپایا ، اس نے ایک خاتون کو زندگی بھر زنا کرنے کی اجازت دی۔ اگر اس نے یہ اجازت اس لئے دی کہ یہ ایسا کرنا گناہ نہیں سمجھتا ، تو کیا یہ پیر دائرہ اسلام میں داخل ہے ؟

کیا اس پیر کے خلاف علما کو آواز بلند نہیں کرنی چاہیئے ؟کیا اس پیر سے اعادہ کلمہ اور توبہ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیئے ؟

دوسرا اس خاتون نے ایک پیرزادے کا ذکر کیا جس کو میں نے ہلکے سے اشارے میں بیان کیا۔ مگر چور کی داڑھی میں تنکا اتنا بھاری نکلا کہ موصوف برداشت نہ کرسکے اور اپنے مخلص اور رازدار دوست کا دفاع کرنا ضروری سمجھا۔ جناب نے تو یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں جانتا ہوں کہ اس سب کے پیچھے کون ہے اور میں نام بھی بتا سکتا ہوں ۔۔ اب واجب ہے کہ اس صاحب کا بھی تھوڑا سا تذکرہ کرلیا جائے یہ صاحب ہیں گھمن کے لنگوٹیا یار ، خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کے والد محترم کے بارے میں مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ اللہ والے ہیں مگر اس کے بیٹے نے جو حرکتیں کیں وہ غلط تھیں ، وہ حرکت کیا تھی ؟

گھمن کو اس فتوے نے پریشانی میں تو ڈال ہی دیا تھا اور وہ کسی بھی طریقے سے اپنی گرتی ہوئی دستار کو سلامت رکھنے کے جتن کررہا تھا۔ اس کیلئے اس نے کئی طریقے اختیار کیئے جس کا میں مختصرا تذکرہ کروں گا۔ گھمن ایک تو بلیک میلنگ سے کام لے رہا تھا ، اس نے اپنی ہی بیوی کی مختلف حالتوں میں تصویریں لے رکھی تھیں اور ان کی بیٹی کی تصویریں بھی ان کے پاس موجود تھیں ، وہ بار بار دھمکی دیتا تھا کہ میرے پاس ایسے ایسے کاریگر ہیں جو آپ کی ان تصویروں کے ساتھ ایسے ایسے کام کرے گا اور پھر اسے نیٹ پر لگادیں گے کہ تم اور تمہاری بیٹی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی ۔ خاتون کو میں نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ آج کے دور میں فوٹوشاپ کے کاریگر گلی کے ہر نکڑ پر بیٹھے ہیں اور تصویر کی گواہی بہت ہی کمزور شے بن گئی ہے اس لئے گھمن سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ، اگر وہ یہ غلیظ حرکت کربھی لے گا تو آپ کاکچھ نہیں بگاڑ سکے گا بلکہ اپنا چہرہ مزید سیاہ کرلے گا۔

دوسرا گھمن نے یہ ہوشیاری کی کہ خاتون کے نوعمر لڑکے کوورغلاکر لالچ دے کر تحفے دے کر جیسے کہ بچون کو ورغلانے کا عام طریقہ ہے اپنی سائیڈ پر کرلیا اور اسے ہر اس جگہ اپنے ساتھ لے کر جانے لگا جہاں تک خاتون کے مذکورہ خط کی نقل پہنچنے کا اندیشہ تھا ، اور جب کسی جگہ ان سے اس فتوے کی بابت سوال کیا جاتا تو وہ ہنسی میں اڑاکر کہتا ، یہ سب باتیں ہیں ، ان میں صداقت ہوتی تو کیا میرا یہ بیٹا میرے ساتھ یہاں ہوتا؟

اسی حوالہ سے اس نے ایک دوسرے ثبوت کا بھی ذکر کیا ہے کہ جب خاتون کے بڑے بیٹے کی شادی تھی تو میرا نام متمنی شرکت کے طور پر شادی کارڈ پر چھاپا تھا۔۔۔۔ اس کا بھی قصہ یہ تھا کہ خاتون اور خاتون کا بڑا بیٹا اس کا نام کارڈ پر ڈالنے کیلئے آمادہ نہیں تھے ، اور جو کارڈ انہوں نے چھاپے تھے اس میں گھمن کا نام ڈالا بھی نہیں تھا، مگر اس نے ہنگامہ کھڑا کردیا کہ میں شادی میں کس منہ سے شرکت کروں گا اگر کارڈ پر میرا نام نہیں ہوگا اور میرے آنے والے دوست کیا کہیں گے ، سو بامر مجبوری کچھ دوسرے کارڈ چھپوانے پڑے جس پر ان کا نام بھی ڈالا گیا ، میرے پاس دونوں کارڈز کی نقول موجود ہیں وہ بھی جو خاندان نے چھپوائے تھے اور وہ بھی جو بعد میں گھمن نے شور اور رولا ڈال کر چھپوائے اور آج اسے اپنی عصمت کی دلیل کے طور پر لہرارہا ہے ۔

گھمن کہتا ہے کہ اگر میں بدکردار تھا تو شادی کے تیسرے سال مارچ 2015 میں خاتون کے ڈرائیونگ لائنسنس میں میرا نام کیوں درج ہے ؟ شاید موصوف بدحواسی میں یہ سوچنا بھول گئے کہ ڈرائونگ لائسنس کیلئے نکاح نامہ یا طلاق نامہ نہیں دکھایا جاتا بلکہ شناختی کارڈ کی کاپی فارم کی ساتھ لگانی پڑتی ہے اور خاتون کے شناختی کارڈ پر اگر اس کا نام بطور خاوند درج تھا تو شناختی کارڈ بے شک اسی وقت بنایا گیا تھا جب محترمہ گھمن کے نکاح میں تھیں ۔

گھمن نے حفظ ماتقدم کے طور پر ایک اور طریقہ یہ اختیار کیا کہ خاتون کو بدنام کرنے کیلئے اور اصل سبب طلاق کو چھپانے کیلئے انتہائی گھٹیا انداز میں اپنے دوست جو بدقسمتی سے ہزاروی صاحب کے فرزند ہیں اور ایسا فرزند جس کے کرتوتوں کے باعث مبینہ طور پر خود ان کا نامور باپ زار و قطار رونے پر مجبور ہوئے ہیں انہیں آمادہ کیا کہ آپ میری بیوی کو فون کرو اسے شیشے میں اتارو اور پھر اس کی آواز اور واٹس ایپ ڈیٹا جمع کرو تاکہ ہم اسے اس کے کردار پر سوال اٹھانے کیلئے استعمال کرسکیں ۔ یہ صاحبزادہ اپنے گرو کی بات کیسے ٹال سکتا تھا سو میدان میں کود پڑا۔۔۔خاتون سے فون پر باتیں گھمن کی برائیاں اور اس کے والد کی عظمت کے قصے ان سے عقیدت کی داستانیں سنا کر پیش کش کی کہ گو میں عمر میں آپ کے بیٹے کے برابر ہوں مگر آپ سے عقد کرکے آپ کے والد کی روح کے سامنے سرخرو ہونا چاہتاہوں ( مولویوں کی فن راہ ہمواری سے بہت سارے لوگ واقف ہوں گے) تو یہ شرمناک کردار اس نے ادا کیا جسے گھمن کی دوستی اپنی عزت سادات برباد کرنے پر بھی آمادہ کرگئی ۔

یہ ہوگیا گھمن صاحب کے سارے دلائل اور ان پر جرح   اب جو لوگ مجھے عار دلانے کی کوشش کررہے ہیں ان کی خدمت میں گذارش ہے کہ یہ زنا بالرضا کا کیس نہیں. اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ایسے معاملوں پر پردہ ڈالنا چاہیے یا اچھالنا نہیں چاہیے۔ اگر آپ اس طرح کی چیزوں پر پردہ ڈالیں گے تو مجرموں کو مزید شہہ ملے گی ، آپ ایک مجرم پر پردہ ڈال کر کتنی معصوم بچوں بچیوں کی زندگی اور عزت خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی یہ ریپ اور فساد فی الارض کا الزام ہے. اس لیے نہ تو چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عینی شاہدین یا چار گواہوں کی ضرورت ہےتیسری بات یہ کہ یہ ایک تعزیری معاملہ ہے اور ریاست پابند ہے کہ وہ واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے نہ کہ عینی شاہدین کی بنیاد پر ، چوتھی بات یہ کہ یہ بچوں کو ہراساں کرنے اور ان پر جنسی تشدد کے الزام کا معاملہ بھی ہے. اس الزام کی تحقیقات کے لیے حکومت یو این او کے ضابطوں کے تحت پابند بھی ہے. اس نے چائلڈ کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔

اس میں ایک ماں اور اس کی بچی کو بلیک میل کرنے کی بات کی گئی ہے اور یہ الزام خاتون نے تحریری طور پر پیش بھی کردیا ہے ، اس کے بعد یہ سوال ہی نہیں بچتا کہ یہ محض ایک چھوٹا سا الزام ہے ، حکومت ملزم کو پکڑ کر اس کا ریمانڈ لے اور سارے حقائق معلوم کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ جو لوگ علما کے جرگے کی بات کررہے ہیں وہ بھی درحقیقت تعزیرات پاکستان کا مذاق اڑارہے ہیں ، اب یہ کیس عدالت ہی حل کرسکتی ہے ۔ آج اگر ہم نے اس کیس سے صرف نظر کرلیا تو کتنے ہمارے بچے اور بچیاں ان جیسے درندوں کے ہاتھوں مذہب اور دین کے نام پر برباد ہوجائیں گے ۔ لیکن اگر ایک بندے کو سزا مل گئی تو بہت سارے درندے اس کے انجام سے ڈر کر اپنے ناپاک ارادوں سے تائب ہوجائیں گے ۔

اس لئے ہم سب کا فرض ہے کہ اس قسم کے جنسی درندوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی حکومت کو مجبور کریں کہ ایسے لوگون کو پکڑ کر سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرے اور مجرموں کو انسانی معاشرے سے نکال کر انہیں یا تو جیل کی کوٹھڑی کے اندر رکھے یا کوئی دوسری سزا دے کر انسانی معاشروں کی حفاظت کرے ،

اگر حکومت اس معاملے کو نہیں اٹھاتی تو سوشل. میڈیا ایکٹیوسٹ اقوام متحدہ کو براہ راست خط لکھ سکتے ہیں کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وہ بروئے کار آئے عوام از خود عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا سکتی ہے عدلیہ خود سوموٹو ایکشن لے سکتی ہے

چونکہ مضمون بہت طویل ہوگیا ہے اس لئے کچھ سوالوں کے جواب دوسری نششت میں دیئے جائیں گے

نوٹ : الیاس گھمن معاملہ پر کافی تحریریں شائع ہو رہی ہیں۔ اس سب کی بنیاد قلمی نام مفتی ریحان سے لکھی گئی ایک تحریر ہے۔ اس کے بعد جوابی تحریریں بھی شائع ہوئیں۔ مفتی ریحان کی طرف سے ایک بار پھر طویل مؤقف سامنے آیا ہے۔ یہ مؤقف مکالمہ ڈاٹ کام پر شائع ہوا ہے۔ قلم کار اپنے قارئین کے لئے اسے شائع کر رہا ہے۔ قلم کار ادارہ کا مضمون میں لکھی گئی کسی بھی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

Views All Time
Views All Time
1579
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

One commentcomments2

  1. جذاک اللہ خیرا کثیرا
    اس خبیث مولوی کو مت چھوڑنا اس کو مزید ایکسپوز کرو اور سارے ثبوت سوشل میڈیا پر لگائو

  2. مفتی ریحان بلکہ میرے ای میل پر سینڈ کرو میں خود یو ونگا ٹیوب پر لگاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: