Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کاظمین میں فجر کی نماز کا سرور

Print Friendly, PDF & Email

ویسے تو تمام حرم معصومین ؑ میں نماز کا اپنا مزہ ہے لیکن روضہ کاظمین مقدس میں نماز فجر کا جو سرور ہے وہ ہر جگہ میسر نہیں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے 2015 میں پہلی بار جب عراق پہنچا تو سب سے پہلی زیارت کاظمین مقدس کی ہوئی تھی اور پہلی نماز واجب بھی اسی جائے عرش پر عطا ہوئی تھی۔ نماز فجر جب خود اپنے اوپر فخر محسوس کررہی ہوگی کہ کیا خوب مقام پر ادا ہوئی ہوں میں۔۔

کاظمین مقدس کا روضہ بھی دوسرے روضوں سے اس وجہ سے مختلف ہے کہ یہ واحد حرم ہے جس میں دو گنبد ہیں اور گنبد بھی اس قدر جاذب نظر ہے کہ آپ ان کو دیکھ کر وجد کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں ۔ اس روضے میں دو گنبد ، چار مینار ، دو چھوٹے مینار ، 14باب ہیں ۔ باب القبلہ اور باب المغفرہ کے ساتھ ایک اور مینار ہے جس میں گھڑیال نصب ہے جو کہ ہر 15منٹ بعد چار بار بجتا ہے اور اس کا بجنا اس قدر سکون دیتا ہے گویا کہ واحد ایسی گھڑی جو شور کرنے پر سکون دیتی ہو۔۔

خوش قسمتی کی معراج ہوگئی ہے نماز فجر وارث فجر کے جد کے روضے میں ادا ہوگئی نماز اپنی اور میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوں زیارت بھی تلاوت کرچکا ہوں موٹے موٹے لال قالین میں بیٹھا عرشی ہواؤں سے لطف اندوز ہورہا ہوں الٹے ہاتھ پر قبلہ ہے اور دل کا قبلہ میرے سامنے ، دونوں گنبد کی جلالت کو دیکھ کر اور مصائب کو یاد کرکے دل بیٹھا جاتا ہے اور رہ رہ کر زیارت کا وہ جملہ یاد آتا ہے

یہ بھی پڑھئے:   مساجد، بچے اور ہمارا بچپن | قمرعباس اعوان

” ایذا دی گئی ان کو ظلم کے ساتھ رکھا گیا ، قید سخت میں تنگی دی گئی ان کو زندان کے تہہ خانےکی کال کوٹھڑیوں میں تنگ و سخت بیڑیوں سے ان کی پنڈلیاں لہولہان رہیں ، ان کے جنازے پر توہین و تذلیل کے ساتھ آوازیں کے ساتھ آوازیں کسی گئیں ، وہ اپنے نانا محمد مصطفی ﷺ اپنے باپ علی مرتضی ؑ اور اپنی ماں سیدہ زہرا ؑ کے پاس پہنچے جب کہ ان کا حق غصب کیا گیا ، حکومت چھین لی گئی ، مقصد دبا دیا گیا ، انتقام خون باقی ہے اور آپ کو جام زہر پلایا گیا تھا "

اب وقت سفر آگیا ہے کاظمین مقدس سے روانگی کا ، اب اس جگہ روانگی ہے جہاں کئی سو سال پہلے ایک غریب مسافر نے قیام فرمایا تھا اس مسافر کا تعلق کائنات کے سب سے عزت دار گھرانے سے تھا لیکن مسلمانوں نے جو سلوک کیا اس گھرانے کے افراد سے ، دنیا عالم وہ جب بھی سنتی ہے تو وہ سہم جاتی ہے اور غیرت مند تو تڑپ جاتے ہیں ۔ بس اب خون کےآنسو بہانے کا وقت ہوا چاہتا ہے ، سسکنے تڑپنے کا وقت ہوا چاہتا ہے ، بس اب حاضری کا وقت ہوا چاہتا ہے ابا عبداللہ ؑ کے دربار میں ، رئیس الشجعان کے دربار میں ۔۔

یہ بھی پڑھئے:   تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب، اندیشوں سے لگتا ہے

لبیک یا قتیل العبرات
لبیک یا رئیس الشجعان

 

Views All Time
Views All Time
334
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: