جناب وزیر اعظم صاحب ! حافظ سعید کی بھی سنئیے

Print Friendly, PDF & Email

Anwar Abbas Anwar newوزیر اعظم صاحب نواز شریف صاحب بھارتی وزیر اعظم یا بھارتی حکومت آپ کی بات نہیں سنتے تو نہ سنیں۔۔۔ عالمی برادری اپنے ضمیر کو بیدار نہیں کرتی تو نہ کرے کم از کم آپ حافظ سعید کی بات تو سن سکتے ہیں؟
حافظ سعید کوئی غیر نہیں اور نہ ہی ہماری اسٹبلشمنٹ( سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ) دونوں کی آنکھوں کا تارا نہیں، سرکا تاج بھی کہا جا سکتا ہے اس بات سے اگر کوئی انکاری ہے تو اس بات کا جواب دے کہ جب مشرف دور میں لشکر طیبہ پر پابندی لگائی جا رہی تھی تو کس نے حافظ سعید کو ہدایت کہ کہ وہ اپنے لشکر کا نام جماعتہ الدعوۃ رکھ لیں چنانچہ راتوں رات لشکر طیبہ جماعتۃ الدعوۃ میں تبدیل ہوگئی اور کس کے کہنے پر جماعتۃ الدعوۃ کا ہیڈکوارٹر مریدکے سے پتوکی منتقل ہوا؟ اس لیے ہم تسلیم کریں یا نہ کریں دنیا اس سے باخبر ہے کہ جماعتہ الدعوۃ کی پاکستان کے طاقتور مراکز( مراد حکومت ) میں کیا پوزیشن ہے۔
امیر جماعتہ الدعوۃ حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ حکومت نے بھارتیوں کا اعتماد بحال کرتے کرتے کشمیری عوام کا اعتماد کھو دیا ہے انہوں نے واضع کیا ہے کہ حکومت کی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے مگر ہماری نہیں حافظ سعید نے مسلم امہ سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ مسلمان ممالک کے تنازعات اور وہاں کے عوام کے خلاف ہونے والے ظلم ستم کو رکوانے میں ناکام رہی ہے لہذا اس سے الگ ہوجائیں اور اپنی علیحدہ اقوام متحدہ تشکیل دیں۔۔۔ حافظ سعید کے منہ سے نکلنے والی ساری بات سچی اور کھری ہیں لیکن نئی نہیں ہیں، یہی مطالبات کئی عشروں سے مختلف حلقوں بلکہ کئی مسلم ممالک کے سربراہان مملکت کی جانب سے بھی کہی گئیں لیکن اقوام متحدہ کے مالکان کے خیرخواہ ممالک ان مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اقوام متحدہ کی موجودہ صورتحال میں ہی مست مست ہیں۔
امیر جماعتہ الدعوۃ حافظ سعید کی باتوں سے اختلاف رائے نہیں ہو سکتا ہاں البتہ ان کے طرز تخاطب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ حافظ صاحب نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں،لیکن انکا انداز گفتگو ایسا ہے کہ سننے اور پڑھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے حافظ سعید حکومت اور مسلم امہ کو احکامات جا ری کر رہے ہیں جیسا کہ ہمارے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک آج بھی ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ آج بھی ملک کے وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہیں۔ایسا ہی حال کچھ پیپلز پارٹی کے دیگر راہنماؤں کا ہے۔
ہمارے پاکستانی سیاستدانوں کی حالت اور اخلاقی جرات کی جو ہے سوہے ، ذرا اسلامی ممالک جو مادی اور مالی لحاظ سے امریکہ اور یورپ سے بھی مضبوط ہیں لیکن اسرائیل کے سرپرست انکل سام اور اسکے اتحادیوں کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں ، ایران کو ہی لے لیجیے اس نے کئی بار پیشکش کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اخراجات اٹھانے کو تیار ہے ،اس نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر امریکہ سے باہر منتقل کیا جائے تاکہ وہ امریکی اثرو نفوذ سے آزاد ہو سکے لیکن آج تک بڑے بڑے شیر دلیر اسلامی ممالک نے ایک لفظ تک نہیں کہا جسکا مطلب ہے کہ عرب اور غیر عرب ،اسلامی اور غیر اسلامی ممالک سب کے سب غلامی کی زندگی جینے پر راضی ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف سے کشمیری عوام کو بہت امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ کشمیری ہونے کے ناطے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی ہر حوالے سے حمایت کریں گے اور اسکی راہ میں کسی حکومتی یا عالمنی مجبوری کو حائل نہیں ہونے دیں گے لیکن حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین اور حافظ محمد سعید سمیت تمام حریت راہنما مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں ماسوائے حکومت کے وفاداروں کے جنہوں نے ہر حال میں حکومت کی ہاں میں ہاں ملانی ہوتی ہے اور واہ واہ کرکے اپنی فائلیں نکلوانی ہوتی ہیں۔ایسے راہنماؤ میں علماء کونسل کے خود ساختہ چئیرمین طاہر اشرفی، مولانا فضل الرحمن قبیل کے بہت سارے نام گنوائے جا سکتے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کے لیے بھارتی فورسز کی بربریت سے برسرپیکار نہتے کشمیری رہنماؤں کو پاکستانی عوام سے کوئی گلہ ،شکوہ اور شکایت نہیں ہے اسے تو پاکستان کی حکومت اور اسکے سربراہ کے طرز عمل سے شکایت ہے جس کے باعث وہ ان سے نالاں ہیں،انکا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے تخت پر براجمان کٹھ پتلی ہیں یہ اپنی سوچ نہیں رکھتے اور نہ ہی کشمیر اور کشمیری عوام کی قسمت سے متعلق جڑے فیصلے یہ خود کرتے ہیں ،اسلام آباد باہر سے اشارے دیکھ کر پالیسی بناتے ہیں بلکہ باہر سے بھیجی گئی پالیسی کو اپناتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی حکومت نے کشمیر اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو فراموش کرکے بھارت سے تجارت سے دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں،پیار محبت کی پینگیں ڈالی جا رہی ہیں جو سراسر کشمیری عوام کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔
اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اپنے عمل و کردار سے کشمیری عوام کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کرے ،بھارت سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرے کیونکہ ایسے اقدامات اٹھائے بنا ہم (پاکستان) کشمیری عوام کی ہمدردیاں اور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پائیں گا جس کے نتائج کشمیری کی آزادی کی تحریک کی ناکامی کے سوائے کچھ اور نہیں ہوں گے، لہذا حکومت جس کے سربراہ کے علاوہ بہت سارے وفاقی وزرا بھی کشمیری ہونے پر فخر کرتے ہیں، کو اپنی پالیسیاں ،ترجیحات اور اہداف از سرنو مرتب کرنی ہوں گی وگرنہ خالی بیانات دینے سے کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی بھارتی درندے اپنی سفاکانہ کارروائیوں ،ظلم و ستم سے باز نہیں آئیں گے ۔اگر ہم (حکومت) یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی بھارت کو مجبور کریں گے کہ وہ کشمیری سے نکل جائے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرارردادوں کے تحت حق خوداردیت دلائے گا تو یہ بھی ہماری بھول ہے امریکہ نے پہلے ہماری کونسی مدد کی ہے جو اب کریگا اور نہ ہی عالمی ضمیر بیدار ہوگا بے شک جتنے مرضی احتجاجی جلسے اور جلوس نکال لیے جائیں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقاریر کر لی جائیں کچھ نہیں ہونے والا، اسرائیل اور بھارت یوں ہی فلسطینیوں اور کشمیری کی عزت و آبرو اور جان و مال سے کھیلتے رہیں گے۔

Views All Time
Views All Time
295
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سیرل المیڈا ساگا اور جعلی لبرل بت کا انہدام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: