Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہندی سینما کی دس بہترین رومانٹک فلمیں

ہندی سینما کی دس بہترین رومانٹک فلمیں
Print Friendly, PDF & Email

مرد اور عورت کے درمیان محبت ہمیشہ سے آرٹ کا موضوع رہا ـ مصوری، شاعری، فکشن، مجسمہ سازی اور سینما الغرض فن کے ہر شعبے میں اس موضوع کو لے کر بہترین فن پارے تخلیق کئے گئے ـ سینما نسبتاً جدید فن ہے ـ سینما نے بھی اس موضوع کو خوب برتا اور متعدد بہترین فلمیں پیش کی گئیں. ہندوستانی سینما نے اپنے آغاز کے ساتھ ہی رومانس کو اولیت دی ـ ہندی سینما میں رومانس کو زیادہ اہمیت دینے کی ایک بڑی وجہ شاید اساطیری داستانیں ہیں جن میں مرد و عورت کے درمیان محبت کے جذبات کو کافی اہمیت دی گئی ہے ـ اس حوالے سے رام اور سیتا، رادھا اور کشن کے ساتھ ساتھ ستی ساوتری کی وفا شعاری نے بھی اہم کردار ادا کیا ـ ہندوستان کی پہلی فلم "راجہ ہریش چندر” کو مکمل طور پر رومانوی قرار دینا مشکل ہے مگر اس فلم میں رومان کی چھاپ گہری ہےـ خاموش فلموں کے دور میں مضبوط ترین رومانوی فلم ہدایت کار اردشیر ایرانی کی "انارکلی” کو قرار دیا جاسکتا ہے ـ اس فلم نے ہندی رومانس پر کافی دور رس اثرات مرتب کئے ـ پہلی بولتی فلم "عالم آرا” بھی رومان سے لبریز ہے، اتفاق سے اس کے ہدایت کار بھی اردشیر ایرانی ہی ہیں ـ

چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں ہندی فلموں میں رومانس نسبتاً ترقی یافتہ نظر آتی ہے مگر رومانس کا حقیقی عروج بلاشبہ پچاس اور ساٹھ کی دہائیاں ہیں ـ ان دو دہائیوں میں ہدایت کاری، اداکاری، اسکرین پلے اور موسیقی کے ذریعے رومانس کو اوجِ ثریا پر پہنچا دیا گیا ـ اس دور کے اہم ترین رومانٹک اداکار دلیپ کمار کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر راج کپور، دیوآنند سمیت میوزیکل فلموں کے ہیرو بھارت بھوشن نے بھی اعلی فن پارے پیش کئے ـ ثریا، مدھو بالا، نورجہان، وحیدہ رحمان ، سادھنا اور نرگس نے بھی اس دور میں نسائی محبت کی زبردست ترجمانی کی ہے ـ دوسرے فیز میں راجندر کمار، منوج کمار، دھر میندر ، شمی کپور اور ششی کپور سے ہوتے ہوئے رومانس کا پرچم راجیش کھنہ نے تھام لیا ـ راجیش کھنہ غالباً وہ پہلے ہیرو ہیں جنہیں کنگ آف رومانس کا خطاب دیا جاسکتا ہے ـ بانکپن، معصومیت، جذباتیت اور کھلنڈرا پن راجیش کھنہ کی محبت کی اہم ترین خصوصیات ہیں ـ اس میدان میں ان کے جانشین عصرِ حاضر کے شاہ رخ خان ہیں ـ شاہ رخ خان رومانٹک اداکاری کے جدید ورژن ہیں ـ

خواتین میں کسی ایک کو بہترین رومانٹک اداکارہ تسلیم کرنا مشکل ہے تاہم آشا پاریکھ، شرمیلا ٹیگور، ممتاز اور ہیمامالینی کی رومانوی اداکاری ریکھا ، جیا بہادری، نیتو سنگھ اور زینت امان سے نسبتاً بہتر رہی ہے جبکہ پروین بابی اپنی سیکس اپیل کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں ـ ان کے بعد سری دیوی، مادھوری سے ہوتے ہوئے پرچم کاجول کے ہاتھ پہنچتا ہے ـ کاجول کی محبت کے والہانہ پن، سیکس اپیل اور اداؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں ملکہِ رومانس قرار دینا شاید مبالغہ نہ ہو. زیل میں جن دس فلموں کا ذکر کیا گیا ہے یہ ہدایت کاری، موسیقی، اداکاری اور اسکرین پلے کے لحاظ سے شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں ـ اس فہرست سے باہر بھی رومانوی فلموں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن چونکہ انتخاب دس فلموں کا ہے اس لئے ان کو باہر رکھنا مجبوری ہے خواہش نہیں ـ

جگنو 1947 کی فلم "جگنو” دلیپ کمار کی کامیاب فلمی زندگی کا نقطہِ آغاز ہے ـ ہدایت کار شوکت حسین رضوی کی ہدایت میں بننے والی یہ فلم کالج لائف کی رومانٹک اسٹوری ہے ـ سورج (دلیپ کمار) اور جگنو (نورجہان) کی نرم گرم محبت کی لچھے دار داستان کو کمالِ مہارت سے فلم کا روپ بخشا گیا ہےـ دلیپ کمار کی اداکاری کے حسین جلوے اسی فلم سے شروع ہوئے ـ نورجہان نے بھی جگنو کے کردار میں اپنی اداکاری و سریلی آواز سے جان ڈال دی ہے ـ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ محمد رفیع کے کامیاب فلمی کیریئر کی ابتدا بھی اسی فلم سے ہوئیـ چوری چوری راج کپور اور نرگس کی رومانٹک جوڑی پر مبنی 1956 کی فلم "چوری چوری” محبت کی ایک دلکش داستان ہے ـ اننت ٹھاکر کی ہدایت کاری سے تخلیق پانے والی اس فلم میں ہیروئن (نرگس) اپنے محبوب (پران) سے شادی کرنے کے لئے گھر سے بھاگ جاتی ہے ـ راستے میں اس کی ملاقات ایک صحافی (راج کپور) سے ہوتی ہے ـ دونوں ہم سفر بن جاتے ہیں ـ سفر کے دوران ان کے درمیان نوک جھونک ان کو محبت کے رشتے میں باندھ دیتی ہے ـ

فلم کی کہانی سادہ اور پرمزاح ہے ـ نرگس اور راج کپور کی رومانٹک کیمسٹری و اداکاری سے فلم پرلطف بن جاتی ہے ـ رومانی لمحات کو شنکر جے کشن کی موسیقی اور لتا منگیشکر و مناڈے کی آوازوں نے چار چاند لگا دیے ہیں ـ پنچھی بنوں اڑتی پھروں مست گگن میں (لتا)
جہاں میں جاتی ہوں وہیں چلے آتے ہو (لتا ـ مناڈے) یہ رات بھیگی بھیگی، یہ مست فضائیں (لتا ـ مناڈے) 1991 کو مہیش بھٹ نے عامر خان اور پوجا بھٹ کو لے کر اس فلم کی ری میک "دل ہے کہ مانتا نہیں” کے نام سے بنائی ـ دلچسپ بات یہ ہے کہ "دل ہے کہ مانتا نہیں” کو بھرپور عوامی پزیرائی ملی ـ مغلِ اعظم 1960 کی فلم مغلِ اعظم نہ صرف محبت کی ایک لازوال داستان ہے بلکہ اسے ہندی سینما میں سنگِ میل کی حیثیت بھی حاصل ہے ـ یہ فلم بنیادی طور پر اردشیر ایرانی کی خاموش فلم "انارکلی” سے ماخوذ ہے مگر اس میں ہدایت کار کے آصف کی فنکاری کا پلڑا بھاری ہے ـ فلم کنیز انارکلی (مدھو بالا) اور شہزادہ سلیم (دلیپ کمار) کی محبت کے گرد گھومتی ہے ـ اس محبت کا دشمن رموزِمملکت کو مقدم ماننے والا شہنشاہ اکبر (پرتھوی راج کپور) ہے ـ

فلم کی ہرچیز بے داغ ہے ـ نوشاد علی کی موسیقی اور مدھوبالا کا کلاسیک رقص دل موہ لیتے ہیں ـ "مغلِ اعظم” کی ایک خصوصیت اس کی شاندار سیٹ ڈیزائننگ ہے ـ 1960 کے ہندوستان میں اسے محیرالعقول کارنامہ سمجھا جاتا تھا ـ ہدایت کار کے. آصف کی اس خلاقیت کے متاثرین میں دورِ حاضر کے ہونہار ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی بھی شامل ہیں ـ بھنسالی کی متعدد فلموں میں کے.آصف کا رنگ جھلکتا ہے ـ جب جب پھول کھلے. ہدایت کار سورج پرکاش کی فلم "جب جب پھول کھلے” کو محبت کی داستانوں میں بادِ نوبہار کا درجہ حاصل ہے ـ 1965 کی اس فلم نے ششی کپور کے فلمی کیریئر کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ـ یہ ایک دولت مند گھرانے کی لڑکی (نندا) اور ایک غریب کشتی چلانے والے (ششی کپور) کے درمیان رومانس کی لطیف داستان ہے ـ نندا تفریح کی غرض سے کشمیر جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات ششی کپور سے ہوجاتی ہے ـ دونوں کے درمیان معصوم محبت پروان چڑھتی ہے ـ طبقاتی تفریق محبت کے آڑے آتی ہے مگر بالآخر جیت محبت کی ہی ہوتی ہے ـ

یہ بھی پڑھئے:   فلم "وراثت" مروجہ فیشن سے مختلف دیہاتی سماج کی حقیقی کہانی

کلیان جی-آنند جی موسیقی اور لتا و رفیع کی آوازوں کا جادوں لطیف داستان کو مزید خواشگوار بنانے کا فریضہ نبھاتے ہیں ـ "یہ سماں ، سماں ہے یہ پیار کا (لتا منگھیشکر) پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا (محمد رفیع) ان دو گانوں کے علاوہ بھی فلم خوبصورت گیتوں سے مرصع ہے ـ ہدایت کار دھرمیش دھرشن نے 1998 کو اس فلم کی "راجہ ہندوستانی” کے نام سے زبردست ری میک بنائی ـ عامر خان اور کرشمہ کپور کی اداکارانہ صلاحیتوں سے آراستہ فلم "راجہ ہندوستانی” بھی ایک ناقابلِ فراموش رومانٹک و میوزیکل ہٹ ثابت ہوئی ـ ارادھنا 1969 کی فلم "ارادھنا” میں راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگور کی کیمسٹری سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو متاثر نہ ہوسکے ـ ہونہار ہدایت کار شکتی سامنت کی اس تخلیق نے ہندی سینما کو متعدد سالوں تک اپنے سحر میں باندھے رکھا ـ راجیش کھنہ کے بانکپن اور ناقابلِ شکست رومانوی قوت نے رومانس کا تصور ہی بدل کر رکھ دیا ـ بعد کے سالوں میں رومانس کا معیار "ارادھنا” کے راجیش کھنہ قرار پائے ـ

یہ بھارتی فضائیہ کے پائلٹ (راجیش کھنہ) کی ایک الھڑ مٹیار (شرمیلا ٹیگور) پر مرمٹنے کی داستان ہے ـ محبت زگ زیگ کی مانند چلتی ہے ـ مختلف موڑ آتے ہیں اور ہر موڑ دل میں کسک پیدا کرتے ہیں ـ فلم کی اہم ترین خاصیت اس کی موسیقی اور گانے ہیں ـ ایس.ڈی برمن کی موسیقی پر لتا منگیشکر، محمد رفیع اور کشور کمار نے آوازوں کے دیپ جلائے ہیں ـ یہی وہ فلم ہے جس نے کشور کمار کو لیجنڈ کشور دا بنایا ـ "روپ تیرا مستانہ، پیار میرا دیوانہ بھول کوئی ہم سے نہ ہوجائے ” (کشور کمار) "میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو” (کشور کمار)”کورا کاغذ تھا یہ من میرا لکھ دیا نام اس پہ تیرا” (لتا و کشور کمار) بوبی 1975 کی "بوبی” ہدایت کار و اداکار راج کپور کی تخلیق ہے ـ رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ کو لے کر پہلی دفعہ ٹین ایج لو اسٹوری کی تکنیک استعمال کی گئی ـ یہ ایک رجحان ساز فلم ثابت ہوئی ـ

اس تکنیک کو استعمال میں لاکر راہول راویل نے 1981 کو "لو اسٹوری(کمار گورو و وجیتا پنڈت) اور 1983 کو "بیتاب” (سنی دیول و امرتا سنگھ) ، سبھاش گئی نے اسی سال "ہیرو” (جیکی شیروف و میناکشی) ، منصور خان نے 1988 کو "قیامت سے قیامت تک” (عامر خان و جوہی چاؤلہ) ، سورج برجاتیہ نے 1989 کو "میں نے پیار کیا” (سلمان خان و بھاگیہ شری) بنائی ـ ان تمام فلموں نے تماش بینوں سے دل کھول کر داد سمیٹی ـ "بوبی” دو نوجوان دلوں کی محبت بھری کتھا ہے ـ دونوں کے بزرگ محبت کے رنگوں میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اختتام میں پیار کی ہی جیت ہوتی ہے ـ فلم کی نہ صرف ہدایت کاری لاجواب ہے بلکہ نوخیز اداکاروں کی محنت بھی اپنی مثال آپ ہے ـ راج کپور کی فلم ہو اور موسیقی پھیکی ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ـ لکشمی کانت-پیارے لال کی موسیقی محبت سے لبریز ہے ـ کبھی کبھی میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں تم ہوتی تو کیسا ہوتا؟تو یہ کہتی، تم وہ کہتی تم اس بات پہ حیران ہوتی تم اُس بات پہ کتنی ہنستی تم ہوتی تو ایسا ہوتا تم ہوتی تو ویسا ہوتا میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں یہ رات ہے یا تری زلفیں کھلی ہوئی ہیں ہے چاندنی یا تمہاری نظروں سے مری راتیں دھلی ہوئی ہیں یہ چاند ہے یا تمہارا کنگن ستارے ہیں یا تمہارا آنچل ہوا کا جھونکا ہے یا تمہارے بدن کی خوشبو یہ پتیوں کی ہے سرسراہٹ کہ تم نے چپکے سے کچھ کہا ہے یہ سوچتا ہوں میں کب سے گم صم جبکہ مجھ کو بھی یہ خبر ہے کہ تم نہیں ہو، کہیں نہیں ہو مگر یہ دل ہے کہ کہہ رہا ہے کہ تم یہیں ہو، یہی کہیں ہو مجبور یہ حالات، ادھر بھی ہیں اُدھر بھی
تنہائی کی اک رات، ادھر بھی ہے اُدھر بھی
کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر کیسے کہیں ہم
کب تک یونہی خاموش رہیں اور سہیں ہم
دل کہتا ہے دنیا کی ہر اک رسم اٹھا دیں
دیوار جو ہم دونوں میں ہے، آج گرا دیں
کیوں دل میں سلگتے رہیں، لوگوں کو بتادیں ہاں ہم کو محبت ہے، محبت ہے، محبت ہے

"ڈائریکٹر آف لو” یش چوپڑا کی فلم "کبھی کبھی” کا نعرہ ہے "لو از لائف” ـ 1976 کی یہ محض دو دلوں کی داستان نہیں بلکہ یہ داستان در داستان ہے ـ امیت (امیتابھ بچن) اور پوجا (راکھی) ، امیت (امیتابھ بچن) اور انجلی (وحیدہ رحمان) وجے (ششی کپور) اور پوجا (راکھی) ، وکی (رشی کپور) اور پنکی (نیتو سنگھ) ، وکی (رشی کپور) اور شوبھا (سیمی گریوال) کے درمیان محبت کی الجھی الجھی اور سلجھی سلجھی کہانی متاثر کن انداز میں فلمائی گئی ہے ـ فلم میں شاعری، شوخی اور نزاکت ہے تو جدائی، تڑپ اور درد بھی ہے ـ کہیں دو دل مل رہے ہیں، کہیں مل کر بچھڑ رہے ہیں ـ حسد کی آگ میں جلتی روحیں ہیں، محبت کی تپش میں پگھلتے جسم ہیں ـ وصل کی راحتیں، ہجر کی اذیتیں ـ ایک ہی فلم میں متعدد جذبات سلیقے اور ہنرمندی سے پروئے گئے ہیں ـ جذباتوں کی شدت کو سینما اسکرین پر ہنرمندی سے دکھانا یش چوپڑا کا وہ کمال ہے جس نے ان کو محبت کا فسانہ گر بنا دیا ہے ـ

یہ بھی پڑھئے:   تلاش

فلم کی موسیقی جھرنا اور گیت بہتے ہوئے ٹھنڈے میٹھے چشمے ہیں ـ خیام کی دھنوں پر ساحر کی شاعری پھر اس شاعری پر لتا اور مکیش کی صدائیں ـ یہ فلم حسن کا سمندر اور مصوری کا دریا ہے ـ ایک دوجے کے لئے تامل ہدایت کار کے.بالا چندر نے بہت کم ہندی فلمیں بنائی ہیں مگر یہ طے ہے انہوں نے جب بھی ہندی سینما کا رخ کیا کچھ بڑا کیا ـ 1981 کی رومانٹک فلم "ایک دوجے کے لئے” بھی رومانس کے میدان میں ایک ایسی ہی بڑی تخلیق ہے ـ اس فلم کی عکاسی، مناظر، اداکاری اور موسیقی دل کو کسی سے پیار کرنے پر اکساتے ہیں ـ یہ دو مختلف ثقافتی پسِ منظر کے حامل دلوں کی کہانی ہے ـ گوا کی لڑکی سپنا (رتی اگنی ہوتری) اور تامل نوجوان واسو (کمل ہاسن) آپس میں ہمسائے ہیں ـ رفتہ رفتہ یہ ہمسائیگی پیار میں بدل جاتی ہے ـ دل کلی کا ابھی پھول بننے کے سپنوں میں کھونے ہی لگتا ہے کہ سماجی کانٹے سپنا توڑ دیتے ہیں ـ پیار سماج کے خلاف آمادہِ جنگ ہوجاتی ہے ـ محبت اور سماج کے درمیان اس جنگ کا اختتام دیگر فلموں کے برعکس اداس کردیتا ہے ـ اس فلم کے المناک اختتام کو 1988 کی فلم "قیامت سے قیامت” تک میں بھی استعمال کیا گیا ہے ـ

کمل ہاسن اور رتی اگنی ہوتری نے دیے گئے کرداروں کو احسن طریقے سے نبھایا ہے ـ خاص طور پر رتی اگنی ہوتری داد کی مستحق ہیں جنہوں نے کمل ہاسن جیسے کردار میں اتر جانے والے فنکار کا مکمل ساتھ دیا ہے ـ موسیقی کی دھنیں ترتیب دینے کی ذمہ داری لکشمی کانت-پیارے لال کو تفویض کی گئی ہیں ـ موسیقی فلم کے شایانِ شان بلکہ ناقابلِ فراموش ہے ـ لتا منگھیشکر کا ایک گانا تو لازوال ہے:

"اے پیار تری پہلی نظر کو سلام” عاشقی نوے کی دہائی شروع ہوتے ہی ہندی سینما نے ایک لمبی چھلانگ لگائی ـ اس چھلانگ کو فلم "عاشقی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ـ 1990 کی اس فلم کے ہدایت کار ترقی پسند مہیش بھٹ ہیں ـ راہول (راہول رائے) اور انو (انو اگروال) کی کبھی ہاں ، کبھی ناں پر مبنی محبت جواں دلوں کو گرماتی بھی ہے اور انہیں محبت کے تقاضے سکھاتی بھی ہے ـ اس فلم نے راہول رائے اور انو اگروال کو فلم انڈسٹری میں قدم جمانے کا سنہری موقع فراہم کیا مگر افسوس دونوں اس سے فائدہ اٹھانے میں یکسر ناکام رہے ـ البتہ "عاشقی” نے ہندی سینما کو موسیقی کے شعبے میں انمول رتنوں سے نوازا ـ اس فلم کی موسیقی جاندار اور گیت یادگار ترین ہیں ـ فلم کی موسیقار جوڑی ندیم-شروان نے اسی فلم سے ایک شاندار کیریئر کا آغاز کیا ـ اسی طرح کشور کمار کی کاربن کاپی کمار سانو کی فنی زندگی بھی اسی فلم سے منسلک ہے ـ اس فلم کی موسیقی اور گیت آج بھی سننے والے کو سُروں کی دنیا میں کھو جانے پر مجبور کرتے ہیں ـ "دھیرے دھیرے سے مری زندگی میں آنا” ( کمار سانو و انورادھا) "بس اک صنم چاہیے عاشقی کے لئے” (کمار سانو) "اب تیرے بن جی لیں گے ہم” (کمار سانو) "نظر کے سامنے جگر کے پار” (کمار سانو) مدت بعد ایک ہی فلم کے تمام گانوں نے ساز و آواز کی حرمت میں اضافہ کیا ـ 2013 کو ہدایت کار موہت سوری نے ادیتیا کپور اور شردھا کپور کو لے کر "عاشقی 2” کے نام سے اس فلم کی ری میک بنا کر نئی نسل کو اس کی کھوج پر مجبور کردیا ـ خوش قسمتی سے اس فلم کی ری میک نے بھی اپنے اصل کی طرح فلم بینوں سے "سپر ہٹ” کی سند پائی ـ دل والے دلہنیا لے جائیں گے

"ڈائریکٹر آف لو” یش چوپڑا کے صاحبزادے ادیتیا چوپڑا نے 1995 کو فلم "دل والے دلہنیا لے جائیں گے” کے ذریعے قریب قریب دھماکہ کردیا ـ یہ فلم رومانس کے شعبے میں رجحان ساز ثابت ہوئی اور اس نے ہندی سمیت ہندوستان کی تمام زبانوں کے سینماؤں پر مثبت و منفی دونوں قسم کے زبردست اثرات مرتب کئے ـ یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو دورِ حاضر کا رومانس اسی فلم سے متاثر ہے یعنی ہم "دل والے دلہنیا لے جائیں گے” کے عہد میں سانس لے رہے ہیں ـ دورِ حاضر کے رومانٹک ترین فنکاروں شاہ رخ خان اور کاجول کی دل کو چھو لیتی اداکاری سے آراستہ و پیراستہ اس فلم نے جہاں خوشگوار اثرات مرتب کئے وہاں یہ ناگوار بھی ثابت ہورہی ہے ـ اس نے رومانس کو نچلے طبقات کے ہاتھوں سے چھین کر امیروں اور بالخصوص بیرونِ ملک مقیم خوش حال بھارتیوں کا چونچلا بنادیا ـ طبقاتی لحاظ سے یہ فلم سمِ قاتل اور فن کی کسوٹی پر کھری ہے ـ

فلم کی کہانی یورپ کی وادیوں میں ملنے والے راج (شاہ رخ خان) اور سمرن (کاجول مکھرجی / کاجول دیوگن) کے گرد گھومتی ہے ـ محبت کے سامنے سمرن کے روایتی پنجابی والد چوھدری بلدیو سنگھ (امریش پوری) دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں ـ محبت سے بھرے دل پیار کی کدال اٹھائے اس دیوار کو ڈھانے کی جدوجہد کرتے ہیں ـ فلم تکنیکی شعبوں سمیت اداکاری میں بھی لاجواب ہے ـ حتی کہ مکالموں تک کا میدان بھی اس نے مار لیا ہے ـ موسیقی اور گیت کانوں میں رس گھولتے ہیں ـ”نجانے میرے دل کو کیا ہوگیا
ابھی تو یہیں تھا، ابھی کھوگیا” (لتا و ادت) "میرے خوابوں میں جو آئے
آ کے مجھے چھیڑ جائے” (لتا منگیشکر)

"ڈولی سجا کے رکھنا
چہرہ چھپا کے رکھنا” (لتا و ادت)

"تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم
پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم” (لتا و کمار سانو)

Views All Time
Views All Time
271
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: