Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں مجھے جینے دو نا

ماں مجھے جینے دو نا
Print Friendly, PDF & Email

zari ashrafپھر کسی شرارت پر غیر کی شکایت پر
مار کر مجھے عارف خود بھی رو رہی ہے ماں….
اور میں اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہوں. جی کل کائنات کا مالک اپنی محبت کی مثال ماں کے پیار سے ظاہر کرتا ہے کہ پیار تو ایک ماں کا بھی بہت ہوا کرتا ہے. ماں وہ لفظ جو لبوں پر آئے تو ہزاروں درد سمٹ جائیں. ہر دکھ میں پہلا لفظ جو منہ سے نکلتا ہے وہ ماں ہے. جب ساری دنیا آپ کی مخالف ہو اور ماں ساتھ دے تو سب مشکلیں آسان ہو جایا کرتی ہیں.
اولاد ماں کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے. اولاد کی خاطر ماں ساری دنیا سے ٹکر لے لیتی ہے. اور بیٹیاں ماؤں کا مان ہوا کرتی ہیں. کسی بھی عورت کی شبیہ اس کی بیٹی میں دیکھی جا سکتی ہیں. تو پھر زینت کی ماں کیا ماں نہیں تھی؟ کیسے جلایا ہوگا اپنے ہاتھوں سے اس بیٹی کو جس کے دکھ سکھ کی سانجھی تھی وہ ماں. درد زہ کو سب سے زیادہ تکلیف دہ درد کہا جاتا ہے پر ہر ماں یہ درد بخوشی قبول اور برداشت کرتی ہے کہ وہ ایک نئی زندگی کو جنم دے رہی ہوتی ہے اور پھر ساری زندگی مائیں جان پی کھیل کر اولاد کو ہر دکھ سے بچاتی ہیں ..پر وہ کون سی مائیں ہیں جو کبھی نہر میں تین چار بچوں سمیت کود جاتی ہیں .زہر کھلا دیتی ہیں یا پھر سرے سے جلا ہی دیتی ہیں…
زینت کا کیا قصور تھا ..شادی ہی تو کی تھی پر معاشرے اور ماں نے اسے جلا دیا. کیا ماں کو ایک بار بھی رحم نہ آیا ہو گا کی اتنی پھول سی بچی کو جلا رہی ہوں جس کے ابھی خواب دیکھنے کے دن ہیں وہ ابھی دنیا کو دیکھنا اور پرکھنا چاہتی تھی تتلیوں کی طرح اڑنے کی خواہش تو لازمی ہوگی. زندگی کی آخری رات اس نے سونے سے پہلے بہت سے سہانے خواب دیکھے ہوں گے من پسند ساتھی کے ساتھ جو لمحے گزارنے تھے اس کے خواب دیکھے ہوں گے. اسے تو خبر بھی نہیں ہوگی کہ وہ ہاتھ جو چلنا اور دنیا سےلڑنا سکھاتے ہیں کبھی اسے جلنا بھی انہیں ہاتھوں سے ہو گا.
کتنا پکارا ہو گا اس نے کہ ماں مجھے بچا لے ..ماں مجھے مت جلا ..ماں ابھی تو میں نے خواب دیکھنا شروع کیے ہیں…ماں مجھے معاف کردے ماں بس آج اس لمحے مجھے معاف کردے …ماں میں تم سے بھی تو بہت پیار کرتی ہوں مجھے جینے دے پیاری ماں..یہ سارے الفاظ زینت نے لازمی دہرائے ہوں گے پر اس کی ماں تو ممتا سے خالی ہو چکی تھی شائید جس لمحے جلایا ہو گا ..مائیں تو اپنے بچے گیلے پستر پہ نہیں لیٹنے دیتیں.تو وہ کیسی ماں تھی جس نے اپنی بیٹی جلا دی..
زینت کوتو باعزت رخصت کرنا تھا ظالم ماں نے اس دنیا سے ہی رخصت کردیا. پر زینت کی ماں کے اس عمل نے ہم سب ماؤں کو شرمندہ کر دیا ہے بہت کرب و بلا کی سی کیفیت ہے ایک ماں نے اپنی بیٹی جلائی ہے اور مجھے دیکھو میں اپنی بیٹیوں سے نظریں نہیں ملا رہی ان کے سوالوں سے سارا دن ڈرتی رہی آخر میری بیٹی نے مجھ سے پوچھ ہی لیا کہ ماما ہم بہت بار نافرمانی کرتے ہیں آپ کی کیا کبھی اپ کا دل کیا کہ ہمیں مار ہی دیں.اور میں بس آنسو بہا کے رہ گئی کہ ماں تو ایسا کر ہی نہیں سکتی ..
ارے اگر ماں ہو تو اولاد کا امن رکھنا بھی سیکھو دنیا سے لڑنا سیکھو دنیا کے پروا کرنا چھوڑو لوگ چار دن باتیں کریں گے سب بھول جائیں گے پر بچوں کی خوشیاں تو واپس نہیں آئیں گی ان بچوں کو جینے کا حق ہم مائیں نہیں دیں گی تو کون دے گا بھلا ….
ماں مجھے جینے دو نا

Views All Time
Views All Time
1176
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments3

  1. ۔۔۔بے حد پر اثر تحریر سچ رلادیا آپ نے ۔آپکی طرح میں بھی کل خبر دیکھ کر ماں کی شباہت بیٹی میں تلاش کر رہی تھی ۔یہ تو اپنی کوکھ کو آگ لگانے کے مترادف ہے کتنے صدمے دیکھیں گی یہ آنکھیں زری غم سے شاید پتھر ہوجائیں اب تو

  2. سید انور محمود

    کیا ایک ماں کے برئے عمل کی وجہ سے ہم ہر ماں کو برا کہہ سکتے، شاید نہیں، کیونکہ ہمارئے پاس جو ماں کی شبہی ہے اس سے بہتر شبہی کوئی نہیں، بس دعا کریں کہ آئندہ ہماری کوئی بچی اب یہ نہ کہے "ماں مجھے جینے دو نا”۔

  3. maa tujhy salam <3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: