میری بیٹی میری جنت

Print Friendly, PDF & Email

کچھ لوگوں کو اولادِ نرینہ کا دکھ اندر ہی اندر کھائے جاتا ہے۔ جب کہ بیٹیاں اپنے ماں باپ کو کسی قسم کے پیار کی کمی ہونے نہیں دیتیں تاہم نہ جانے کیوں والدین بالخصوص کچھ ماؤں کو ان بیٹوں سے اتنا پیار ہو جاتا ہے جو ابھی تک اس دنیا میں آئے بھی نہیں ہوتے لیکن پھر بھی ان بیٹوں کی خاطر جو ابھی دنیا میں آتے بھی نہیں، پہلے سے موجود بیٹیوں کے ساتھ وہ مائیں ناروا سلوک کرتی ہیں جو کم از کم کسی عورت کو تو زیب نہیں دیتا۔

مانا کہ بھائی اپنی بہنوں کا زیور ہوتے ہیں۔ بیٹے ماں کے دلارے اور باپ کا سہارا ہوتے ہیں۔ لیکن جب قدرت کے نظام کے تحت اولادِ نرینہ نہیں ہو پا رہی ہوتی تو اُس غم میں اتنا نڈھال تو نہیں ہونا چاہئیے کہ اپنی پھول سی بچیاں بھی اچھی نہ لگیں۔ ان کو دیکھ کر یہ کہنے لگیں کہ کاش ان کے بجائے کوئی بیٹا ہوتا تو یہ سراسر نا انصافی ہے۔ مجھے کوئی عورت اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف سے بتائے کہ کیا بیٹے، بیٹیوں جیسے ہوتے ہیں؟ سچ بتائیں کہ اسے کون زیادہ پیارا لگتا ہے بہو یا داماد؟ کون شادی کے بعد بھی اپنے ماں باپ کو پہلے سے زیادہ پیار اور پہلے سے زیادہ خیال رکھتا ہے بیٹا یا بیٹی؟ تو خدا کی قسم ہے کہ آپ کا دل چیخ چیخ کر پکارے کر کہے گا کہ وہ بیٹی ہے، بیٹی ہے اور صرف بیٹی ہی ہو سکتی ہے۔

بیٹیاں شہزادیاں ہوتی ہیں، سر کا تاج ہوتی ہیں۔ عزت ہوتی ہیں، ناموس ہوتی ہیں۔ بیٹیاں جنّت کی سب سے انمول نعمت ہوتی ہیں۔ لیکن انسان ناقدرا ہوتا ہے، اسے نعمتوں کی ناشکری کی دیرینہ عادت ہے۔ انسان صرف جاذب نگاہ چیزوں کو پسند کرتا ہے اور یہ اس کی سراسر غلط نگاہ ہوتی ہے جو زندگی کے کسی مقام پر اسے پچھتاوے کے چوراہے پر لا کر کھڑا کرتی ہے۔ جب اس نے بیٹیوں کو وہ پیار نہ دیا، نہ ان کی وہ تربیت کی، نہ ان کو وہ حقوق دیے جو بیٹوں کو دیتے تھے۔ حتیٰ کہ بازار سے کچھ خریدیں گے تو بھی بیٹے کے لیے اچھی سی چیز خریدیں گے اور بیٹی کو گھر کا زائد فرد سمجھ کر اسے بس وہ چیز دیں گے جس سے بس بے چاری کی بمشکل ضرورت پوری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جنسی تعلیم ضروری مگر۔۔۔

لیکن خدا کی قسم! میں بیٹیوں کے نام پر قربان جاؤں، یہ لکھتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے ہیں کہ ان شہزادیوں نے زندگی بھر ماں باپ اور بھائیوں کے اس پیار سے محروم رہ کر بھی مجال ہے کہ کوئی شکایت کی ہو۔ ابو کو بھلے وہ ایک نظر نہ بھائیں مگر پھر بھی ابو میں ان کی جان ہوتی ہے۔ ابو کو ذرا سی تکلیف ہوئی تو یہ ننھی سی جان ساری رات ابو کو دیکھتی رہتی ہے کہ میرے ابو کس طرح تکلیف میں ہیں تو بیٹی کیسے سکون سے سو سکتی ہے اور یہ احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کتنا پیار کرتی ہے۔ اپنے بھائیوں پر کیسے جان چھڑکتی ہیں، گھر میں کبھی کبھی روٹی کم پڑ جاتی ہے تو وفا کی یہ پتلیاں خود بھوکی رہ کر بھی اپنے بھائیوں کے لیے روٹی بچا کر رکھتی ہیں۔ بیٹیوں کو اس پیار کے بدلے میں کچھ نہیں چاہتیں۔ وہ تو بے لوث محبت کرنے والی دیویاں ہوتی ہیں۔ اگر ہمارا مذہب اجازت دیتا تو میں کہتا ہوں کہ ان پوتر بیٹیوں کی پوجا ہونی چاہئیے ۔ ارے کوئی ان سے پوچھے جن کی بیٹیاں نہیں۔ صرف بیٹوں کو پیار کرتے تھکتے نہیں، لیکن بدلے میں انہیں کچھ صلہ نہیں ملتا۔ کیونکہ ان کے پاس وہ بیٹی نہیں ہوتی جو صرف تھوڑے سے پیار کے بدلے میں ستر گنا زیادہ پیار لوٹا دیتی ہے اور وہ لاڈلے بیٹے جو ستر گنا پیار کے عوض رتی برابر بھی بدلہ نہیں چکا سکتے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں والدین کو ان بیٹوں کا ملال تو ساری زندگی رہتا ہے لیکن ان کو ان بیٹیوں کی سچی خوشی کیوں محسوس نہیں کرتے؟ جو ہر دم اپنے والدین پر خدا کا سایہ بن کر موجود ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   میر مرتضٰی کی یاد میں

او میرے خدایا! کیوں ایسا ہوتا ہے؟ کیوں لوگ سچے اور حقیقی پیار سے خود کو محروم کرکے پھر سچے پیار کی شکایت بھی خود کرتے ہیں؟ کیا یہ نادانی ہمارا سب کچھ لے کر ہمیں حسرتوں کے میدان پر نہیں لا چھوڑے گی، جہاں ہم کوئی تمنا تو کرسکتے ہیں مگر ایسی تمنا جو صرف تکلیف ہی دے سکتی ہو، ایسا نہیں کہ وہ دن دوبارہ لوٹ آ سکیں اور ہم اپنی بیٹیوں کو وہ پیار دے سکیں جس کی وہ حق دار ہیں۔ کیوں ہم نے ساری زندگی اپنی پیاری سی گڑیاؤں کو اپنے سینے سے نہ لگایا۔ اور میں سمجھتا ہوں اور یہ ہی حقیقت ہے کہ ضرور ان لوگوں نے کوئی گُناہ کئے ہوں گے جن کی پاداش میں وہ بیٹیوں کے سچے اور حقیقی پیار کو نہ پہچان سکے اور پھولوں کے بیچ رہ کر بھی ان کی خوشبو سے تاحیات محروم رہے۔

Views All Time
Views All Time
425
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: