Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں اور میرے ہم وطن پاکستانی | مرزا یاسین بیگ

by اکتوبر 20, 2017 بلاگ
میں اور میرے ہم وطن پاکستانی | مرزا یاسین بیگ
Print Friendly, PDF & Email

ہم دنیا کی وہ ترقی یافتہ قوم ہیں کہ ہم گھر میں سورہے ہوتے ہیں اور ہمارا ووٹ پڑجاتا ہے۔ ہمیں پیٹ بھر کھانا ملے نہ ملے مگر گھر کے ہر فرد کو چار سم اور ایک موبائل ضرور مل جاتا ہے ۔ ہمارے گھر کے نل میں پانی مشکل سے آتا ہے مگر دو سو ٹی وی چینلز پر پروگرامز باقاعدگی سے آتے ہیں ۔ ہم دفتر نہیں جاتے مگر تنخواہ پابندی سے مل جاتی ہے ۔
ہم وہ قوم ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں امن کی تلقین کرتا ہے اور ہم اسی مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔ ہم لڑائی جھگڑے کے اتنے شوقین ہیں کہ گھروں میں عورتیں لڑتی ہیں ،دفتروں ،بسوں اور بازاروں میں مرد پارلیمنٹ میں ممبران اور ٹی وی ٹاک شوز میں لیڈرز ۔ ہم زبان سے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہر زبان میٹھی ہوتی ہے ، ہر زبان کو فروغ ملنا چاہیئے مگر عملی طور پر دوسری زبان بولنے والوں کو چن چن کر قتل کرتے ہیں ۔
ہم روز عظمت کا یہ ترانہ گاتے ہیں کہ ہمارا مذہب عورت کو بے پناہ تکریم دیتا ہے مگر بازاروں ، سڑکوں میں عورتوں کو دیکھ کر ہماری رال ٹپک رہی ہوتی ہے ۔ دفتروں میں ہر عورت کے پیٹھ پیچھے گندی باتیں کرنا ہمارا شیوہ ہوتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری بہو بیٹی پر نظر بھی نہ ڈالے اور ہم جس کو چاہیں نظروں ہی نظروں میں ریپ کردیں ۔
ہم اتنے بھولے ہیں کہ جو لیڈران کئ دہائیوں سے اپنے باپ دادا اور بیٹے بیٹیوں کے ذریعے ہمارا استحصال کررہے ہیں ان کے جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں پہنچ جاتے ہیں مگر ان کی کرپشن کے خلاف ایک ہزار آدمی بھی کھڑا نہیں ہوتا ۔ دس افراد مل کر ایک بھکاری کی تو لاتوں ، گھونسوں سے مرمت کر دیتے ہیں مگر ایک حرام خور لیڈر کی پٹائی نہیں کرپاتے ۔
ہم وہ قوم ہیں کہ جن ممالک سے بھیک اور قرضے لیتے ہیں ان ہی کے خلاف نعرے لگاتے ہیں ۔ کرتے خود برے اعمال ہیں اور ذمے داری تھوپ دیتے ہیں امریکہ پر ۔ محلے سے کوئی شریف انتخاب لڑے تو اسے ووٹ نہیں دیتے اور پھر رونا روتے ہیں کہ ہمارے لیڈرز کرپٹ ہیں۔
ہم صرف دکھاوے کیلئے شادیوں پر لاکھوں کا اصراف کرتے ہیں اور اپنی شادی شدہ زندگی خود ہی مشکل بنالیتے ہیں ۔ رقم پاس ہو تو حج پر حج کرتے ہیں مگر اس رقم سے کسی غریب کی مدد نہیں کرتے ۔ دو ہزار کی آبادی کیلئے چندہ جمع کرکے دس مسجدیں بنالیتے ہیں مگر ایک اسکول یا اسپتال نہیں کھولتے ۔
بیٹیوں کو اعلٰی تعلیم دلواتے ہیں مگر اعلٰی تعلیم یافتہ بہو کو ملازمت کرنے نہیں دیتے ۔ ہمیں ڈاکٹرز بہو گھر میں جمع کرنے کا شوق ہے ۔ ہم امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر خوشحال ممالک کو دن رات گالیاں دیتے ہیں اور ان ہی کے سفارت خانوں کے باہر ویزا لینے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں ۔
ہم روز رونا روتے ہیں کہ مہنگائی ہوگئی ہے اور روز رات کو مہنگے ریسٹورینٹس میں کھانے کھاتے ہیں ۔ ہم بجلی پیدا کرنے میں سب سے پیچھے اور بچے پیدا کرنے میں سب سے آگے ہیں ۔ ہمارے وزراء میٹرک پاس اور سرکاری دفتر کے کلرک ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں ۔ میرٹ کا لفظ ہم بھول چکے ہیں اور رشوت و سفارش کے بل بوتے پر زندہ قوم کہلاتے ہیں ۔
مساجد ہم سے خالی اور پورن سائٹس ہم سے آباد ہیں ۔ ہم جب لشکرکشی کریں تو جہاد اور جب کوئی ہمیں ڈرون مارے تو حرام زاد ۔ ہم سے ہمارا ملک سنبھلتا نہیں مگر فلسطین،عراق،افغانستان کیلئے آنسو بہاتے ہیں ۔
گھر کا پڑوسی ہو یا ملک کا ان کے ہاں جھانکنا،ان کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنا ہمارا محبوب مشغلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں کسی کے بھی محبوب نہیں ۔ اسلام ہمیں صرف اس لئیے عزیز ہے کہ وہ چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔ ہم رسول کی حرمت پر جان دینے کو تو تیار ہیں مگر جب تک ہماری جان ہے اسی رسول کے کہے پر چلنا پسند نہیں کرتے ۔ ہم مذہب کا استحصال کرنے والے منافقین کی عزت کرتے ہیں اور جو سچ بول رہا ہو اس کی گردن کاٹ دیتے ہیں ۔ ہم لاؤڈ قوم ہیں جب تک لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نہ سن لیں لگتا ہے ہمارا اسلامی تشخص پورا نہیں ہوا ۔
ہم نے قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی طعامِ پاکستان کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ ہم واحد ملک ہیں جہاں کا صدر،وزیراعظم ،وزرا، پارلیمنٹ،بیوروکریسی،عدلیہ،پولیس،فوج اور عام آدمی تک جس کا جہاں، جتنا بس چلے ، وہ حرام کھاتا ہے ، چاہے رشوت کی شکل میں ہو، غبن ہو،چوری ہو، ڈاکہ ہو ،قرضہ ہو ، بھیک ہو یا کسی کمزور سے ہتھیایا ہوا ہو۔ پھر اسی مال کا ایک فیصد مسجد کو چندہ دے کر اور اسی رقم سے حج کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ مال پاک ہوگیا اور سارے گناہ دھل گئے ۔ حج کرنے کی وجہ سے الحاج کا لقب بھی مل جاتا ہے جو عزت میں مزید اضافہ کرتا ہے ۔ ہمارے سامنے اگر کوئی راتوں رات کروڑپتی بن جائے تو ہم پیٹھ پیچھے تو اس کی بدعنوانی کی داستانیں سناتے ہیں مگر وہ سامنے آجائے تو سیلوٹ مارتے ہیں ۔
پاکستان میں شریف صرف وہ ہے جس کا بس نہ چلتا ہو ۔ پاکستان بہترین جگہ ہے بدترین لوگوں کیلئے ۔ پاکستان کی فوج ڈسپلن کی پابند فوج ہے اس لئے چند سالوں بعد پوری ڈسپلن کے ساتھ اپنے ملک پر خودقبضہ کرلیتی ہے ۔ دنیا کا ہر ملک فوج رکھتا ہے مگر ہماری فوج ایک ملک رکھتی ہے۔ دنیا ایکو گرین ہورہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارا گرین پاسپورٹ کہیں قابل قبول نہیں ۔ خوشحال ممالک ہمیں امداد تو دے دیتے ہیں مگر اپنے ملک کا ویزا بہت مشکلوں سے دیتے ہیں ۔
مجھ سمیت ہر پاکستانی کی برائی یہ ہے کہ ہم دوغلے ہوچکے ہیں ۔ کہتے کچھ ہیں،کرتے کچھ ہیں ۔ مال بٹورنا اور غریب پر ظلم کرنا ہمارا قومی تشخص بن چکا ہے ۔ مذہب سے اپنے آپ کو نہیں سنوارتے بلکہ اسے ایک اوزار بناکر دوسروں کا جینا حرام کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو جان سے مارنے کیلئے تو ہم میں بڑی ہمت ہے مگر جو سیاست دان اور مذہب فروش ہمارے ملک کو کھارہے ہیں اور عوام کو اپنا نوکر بنایا ہوا ہے ان کے خلاف ہم متحد ہوکر آواز نہیں اٹھاتے ۔ اسی دکھ نے مجھ سے یہ تحریر لکھوائی ہے ۔ پاکستان زندہ باد،پاکستان کے مظلوم سچی عوام زندہ باد۔

یہ بھی پڑھئے:   ٹوٹ پھوٹ کا شکار خاندانی نظام اور طلاق



Views All Time
Views All Time
282
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: