Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مرزا غالب ،ذاتی کوائف اور تصانیف

مرزا غالب ،ذاتی کوائف اور تصانیف
Print Friendly, PDF & Email

پیدائش : 27 دسمبر 1797، مقام اکبر آباد یعنی آگرہ، اترپردیش
اصل نام : مرزا اسداللہ بیگ خاں
تخلص : اسد، غالب
عرف : مرزا نوشہ
خطاب : نجم الدولہ دبیرالملک بہادر نظام جنگ
والد کا نام : مرزاعبداللہ بیگ خاں
والدہ کا نام : عزّت النسا بیگم
وفات : 15 فروری 1869

تعلیم
ابتدائی تعلیم آگرہ ہی میں مولوی محمد معظّم صاحب سے حاصل کی۔ جب ان کی عمر چودہ سال (14) کی تھی تو ایک ایرانی نژاد نومسلم عالم ملّا عبدالصمد آگرے میں آئے۔ روایت ہے کہ مرزا نے دو سالوں تک ملا عبدالصمد سے اکتساب فیض کیا۔ حالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اکثر مرزا کو یہ بھی کہتے سنا گیا ہے کہ چوں کہ لوگ انھیں بے استادا کہا کرتے تھے، اسی غرض سے انھوں نے ایک فرضی نام کا استاد گھڑلیا تھا۔ حالاں کہ اس نام کاایک فارسی نژاد عالم ضرور تھا۔ اتنی بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ غالب نے باضابطہ کسی تعلیمی ادارے میں حصول علم کے لیے وقت نہیں لگایا تھا، البتہ ان کا ذاتی مطالعہ اور مشاہدہ کچھ ایسا تھا کہ کائنات اور اشیائے کائنات کے باطن تک ان کی فکر پہنچ جایا کرتی تھی۔

شادی
مرزا غالب کی عمر جب کہ محض 13 برس کی تھی یعنی 1810 میں ان کی شادی ہوگئی۔ ان کی شادی نواب احمد بخش خاں کے چھوٹے بھائی نواب الٰہی بخش خاں کی بیٹی امراؤ بیگم سے ہوئی۔ الٰہی بخش خاں معروف خود بھی ایک کہنہ مشق شاعر تھے۔ شادی کے بعد 1812 میں غالب آگرے سے دہلی منتقل ہوگئے ۔

غالب اور شاہی دربار
مرزا غالب دہلی کے ادبی حلقے میں مشہور تھے۔ ان کی مالی حالت کمزور ہوچکی تھی، لہٰذا دوستوں نے انھیں قلعہ کی ملازمت اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔ حکیم احسن اللہ خاں اور مولانا نصیرالدین عرف میاں کالے صاحب کے کہنے پر بہادر شاہ ظفر نے غالب کو خلعت فاخرہ اور نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ کے خطاب سےنوازا۔ ساتھ ہی پچاس روپے ماہوار تنخواہ مقرر کردی۔ غالب سے یہ بھی فرمائش کی گئی کہ وہ خاندان تیموری کی تاریخ لکھیں۔ 1857 کے ہنگامے کا ذکر غالب نے اپنے خطوط میں اور فارسی تصنیف ‘دستنبو’ میں بھی کیا ہے۔ اس کے بعد پنشن اور تنخواہ دونوں سے غالب محروم ہوگئے۔ انھوں نے والی رام پور نواب یوسف علی خاں کو خط لکھا جس کے بعد انھیں سو روپے ماہوار آخر دم تک ملتے رہے۔

آخری ایام
مرزا غالب آخری عمر میں کم سنتے تھے بلکہ یہ نوبت آگئی تھی کہ ملنے والے لکھ کر رقعہ ان کے سامنے بڑھاتے تھے، پھر وہ جواب دیا کرتے تھے۔ موت سے کچھ دنوں پہلے ان پر بے ہوشی سی طاری رہنے لگی۔ موت سے اک روز پہلے دماغ پر فالج گرااور 15 فروری 1869 کو وفات پاگئے۔ ان کی قبر بستی حضرت نظام الدین میں ہے۔ اسی سے ذرا آگے بڑھنے پر حضرت نظام الدین اولیا کا مزار بھی ہے جس کے آنگن میں اردو اور فارسی کے بڑے نامور شاعر حضرت امیر خسرو بھی مدفون ہیں۔

تصانیف
دیوان ِ غالب: اس میں مرزا کا اردو کلام ہے جس میں غزلو ں کے علاوہ قصائد، قطعات اور رباعیات ہیں۔
دستنبو: اس کتاب میں 1850 سے لے کر 1857 تک کے حالات درج ہیں۔ یہ کتاب فارسی میں ہے ۔
میخانۂ آرزو ۔ فارسی کلام
عود ہندی اور ” اردوئے معلیٰ ” مجموعہء خطوط ۔

اردو شاعری اردو غزل میں جو روایتی طرز اظہار رہا ہے، غالب نے خود کو ان سے الگ کیا۔ ان کا اپنا انداز بیاں ہے، جس میں عشق و محبت، فکر و فلسفہ، تصوف اور طنز شوخی و ظرافت ہے۔ غالب نے زندگی اور انسانوں کو بہت قریب سے دیکھا، سمجھا اور برتا ہے اسی لئے ان کی شاعری میں بناوٹ نہیں ہے۔ غالب پوری کائنات اور انسانی دنیا کو سوالیہ انداز سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ اردو میں کوئی دوسرا شاعر نہیں جس نے نسل در نسل افراد کو متاثر کیا ہو۔ کسی کو شاعری سے رغبت ہو نہ ہو، سڑک کا ان پڑھ عام آدمی ہو یا اردو زبان پر اتھارٹی عالی جناب ڈاکٹر جمیل جالبی، سب غالب کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔

میری لاش کو گلیوں میں گھسیٹے پھرو کہ میں
جاں دادہ ہوائے سر رہ گزار تھا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا ، نہ کہیں مزار ہوتا

Views All Time
Views All Time
210
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آم - پھلوں کا بادشاہ | رانا اعجاز حسین چوہان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: