Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مہاجر

by اگست 23, 2016 افسانہ
مہاجر
Print Friendly, PDF & Email

عالمی افسانوی میلہ mahajar2016

عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر 16 ” مہاجر ”
احسان قاسمی ۔ نوری نگر، خزانچی ہاٹ ، پورنیہ ، بہار ( انڈیا )

—————————————————————-میرا داہنا ہاتھ لرز رہا ہے – پہلے بالکل غیر محسوس طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب تو اسکی کپکپاہٹ جیسے میرے سارے وجود کو یخ بستہ کرتی جا رہی ہے – کیا مجھ پر فالج کا اثر ہو رہا ہے یا میرے بوڑھے ناتواں جسم کی ساری حرارت رفتہ رفتہ نامعلوم خلاؤں میں تحلیل ہوتی جا رہی ہے ؟ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! محسن کا خط پاکر شاید میں بہت نروس ہو گیا ہوں – لیکن کیوں ؟ میرا چھوٹا بھائی برسوں بعد وطن واپس آ رہا ہے – مجھے تو خوش ہونا چاہئے ، لیکن اس کے برعکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ محسن کا خط میرے رعشہ زدہ ہاتھ میں دبا ہوا کچھ یوں گویا ھے ـــــــــــــــ ” بھیّا ! سرکاری غلامی کا بیڑہ جسے ڈھوتے ڈھوتے میں بوڑھا ہو گیا ، آج ٹوٹ گیا ہے – آج ارض وطن کو پلکوں سے چومنے کی شدید خواہش اور آپکی محبّت پاش نگاہوں کے عکس خیال نے میرے اندر ایسی شورش برپا کردی ہے کہ اب ایک ایک لمحہ بوجھل سا لگنے لگا ھے – ایک عمر گزار لینے کے بعد اب یہ محسوس کر رہا ہوں کہ میرا ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ واقعی غلط تھا – یہ ملک ہمیں کبھی نہیں اپنائے گا – کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ہاں ! ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ھر خط میں یہی تو لکھا ھے کہ اسکا وطن چھوڑنے کا فیصلہ ایک جذباتی و ہیجانی فیصلہ تھا – اس ملک میں اسے دو وقت کی روٹی تو مل سکتی ہے مگر عزّت نفس نہیں – وہ ایک مہاجر کی حیثیت سے وہاں گیا ھے اور تا حیات مہاجر ہی رہیگا اور آئندہ بھی نسل در نسل اسکی شناخت ایک مہاجر کی حیثیت سے ہی کی جاۓ گی مگر اس وقت اس پر ایک جنون اور ایک دیوانگی سوار تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی نگاہوں کے سامنے بستی کے مسلم افراد کو چن چن کر ہندو بلوائیوں نے مارا اورجلایا تھا – چیختی چلاتی عورتوں کی عصمت دری اور ڈرے سہمے روتے بلکتے ہوئے معصوم بچّوں کو نیزوں کی انیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا کیوں کہ پنجاب سےموصول ہونے والی خبروں کے مطابق وہاں یہی سب کچھ مسلمانوں نے بھی کیا تھا اور یہ انتقامی کارروائی تھی – خوش قسمتی یا بد قسمتی سے ہمارا خاندان بچ گیا تھا اور بعد میں ہمارے باپ نے اس شہر میں مستقل قیام کے لئے ایک قطعہ اراضی خرید لیا تھا – میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بہت سمجھایا تھا کہ یہ وقتی طوفان ہے جو گزر جاۓ گا اور ہر چیز معمول پر آ جائیگی – حیات انسانی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں مد و جزر تو آ تے ہی رہتے ہیں مگر وہ نہ مانا اور باپ کے انتقال کے بعد سارے کپڑے لتّے اور ڈگریاں سمیٹ کر بہتر زندگی اور بہتر سماج کی تلاش اور خود کو لسانی اور مذہبی اعتبار سے محفوظ کر لینے کے خوابوں کے ساتھ وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر پردیس کی راہ لی – تھوڑی سی تگ و دو کے بعد اسے وہاں سرکاری ملازمت بھی حاصل ہو گئی – وہ خوش تھا مگر رفتہ رفتہ اس کے خطوط کی لکیروں میں پروئے ہوئے لفظوں کا لہجہ بدلنے لگا – اب لفظوں میں خزاں کے رنگ بھی ابھرنے لگے – ہم مذہب اور ہم زباں ہوتے ہوئے بھی وہ اس سماج میں اچھوت کی طرح تھا – مجموعی نفرت کے اظہار کے لئے اسے ایک مخصوص نام بھی دے دیا گیا تھا – بہت مجبوری سے اسنے اپنا تبادلہ ملک کے مشرقی خطّے میں کروا لیا تھا تا کہ تبدیلی مقام و حالات سے شاید زخمی ہوتی ہوئی زندگی کچھ بہتر ہو جائے مگر ابھی اس نے نئے ماحول کو ٹھیک طرح سے اپنی سانسوں میں سمویا بھی نہ تھا کہ سیاسی اتھل پتھل مچ گئی اور ایک دفعہ اسکی نگاہوں کے سامنے پھر وہی خونی مناظر تھے – زبان ، کلچر اور صوبائی تفریق کی بنا پر اسکے ھم مذہب بھائی ہی ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے ، عورتوں کی عصمت کو پامال کیا جا رہا تھا اور معصوم بچّوں کو سنگینوں کی نوک پر نچایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بمشکل اپنی جان بچاکر چور راستوں سے بھاگا –
ــــــــــ ” امیّ آپ ابو کو سمجھاتی کیوں نہیں ؟ یہ بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ریاض کی کرخت اور کھردری آواز میری سماعت پر خراش ڈالتی ہوئی اندر اترتی محسوس ہوتی ھے – نہ جانے کیوں ان دنوں مجھے ریاض کے چہرے کے تنے ہوئے عضلات ،بھنچے ہوئے جبڑوں اور شعلہ بار نگاہوں سے خوف سا محسوس ھونے لگا ھے – اسکے چلنے پھرنے میں بھی ایک عجیب اضطرابی کیفیت اور چوکنّا پن ہے جیسے وہ کسی نادیدہ دشمن کے متوقع وار سے خود کو محفوظ رکھنے کی سعئ مسلسل میں مبتلا ھو – اسکی آواز میں بھی وہی تناؤ ، بےچینی اور شورش ھے – کل وہ اونچی اور کرخت آواز میں مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘ آپ جانتے ہیں راحت اور مسرّت نے کتنے مہینوں سے گھر سے باہر قدم نہیں نکالا ؟ وہ کسقدر افسردہ اور ڈری سہمی رہتی ھیں ؟ روزانہ کہیں نہ کہیں سے نئے فسادات کی خبر آجاتی ہے – محلّے کے نوجوان زہریلے نعرے لگاتے پھرتے ہیں – نعروں کی آواز سن کر ان پر تشنجی کیفیت طاری ھو جاتی ھے – ابّوجان ! آپ خود سوچئے محلّے میں بیشتر آپکے سٹوڈنٹس ھیں اسی لئے کم و بیش ہم ابتک محفوظ ھیں لیکن کیا آپکے بعد بھی ہمیں اسی عزّت اورتوقیر کے لائق سمجھا جاۓگا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راحت اور مسرّت کا کیا ھوگا ؟ امیّ جان اور گڈو کا کیا ہوگا ؟ یادو جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
ہاں ! یہی باتیں اس دن یادو جی بھی کہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنی یہ ضد چھوڑ دو – اس ملک کی آب و ہوا اب اتنی زہریلی ہو گئی ہے کہ تمہارے اونچے آدرشوں کے پھول یہاں کھل ہی نہیں سکتے – میں جانتا ھوں کہ یہ گھر تمہارے ارمانوں اور تمنّاؤں کی اینٹ سے بنا ھے اور اسکی ہر اینٹ تمہاری کاوشوں کے پسینے اور خون جگر کے گارے سے مزّین ھے – اسکی محرابوں میں ان گنت یادوں کی شمعیں روشن ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر میرے بھائی ! ان معصوم جانوں کا تو کچھ خیال کرو "ــــــــــ
آج ریاض کسی مسلم محلے میں ایک مکان دیکھ آیا ھے – میں اچھی طرح جانتا ھوں وہ محلہ اور مکان کیسا ھوگا – ایک انتہائی غلیظ اور گنجان آباد محلہ اور گندی بجبجاتی نالیوں کے کنارے بنا تنگ و تاریک گلیاروں اور پر تعفّن کوٹھریوں والا ایک کابک نما مکان جسکے باہری برآمدے میں بچھی چوکی پر میں کسی عضوۓ معطل کی مانند پڑا دن رات کھانستا کھنکھارتا بدرو سے آتی مکھیوں کو بھگاتا رہونگا- شاید گھر کے اندر جانے میں بھی قباحت محسوس ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک ٹمٹماتی شام جب پڑوسیوں سے پتہ پوچھتا پوچھاتا یکایک محسن میرے روبرو آ کھڑا ہوگا تو میں اس سے کیا کہوں گا ؟ کیا میں اس سے یہ کہ سکوں گا کہ محسن میرے بھائی ! تم نے تو صرف ایک بٹوارہ دیکھا تھا لیکن آج اس ملک کے ہر شہر ، قصبہ اور گاؤں میں لاکھوں کروڑوں پناہ گزین کیمپ آباد ھیں جہاں ہم ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، اونچی ذات ، نیچی ذات ، پچھڑی ذات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبائلی ، آسامی ،پنجابی ،کشمیری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کے سب اپنی مرضی ، اپنے آدرشوں اور اپنے خوابوں کے بر عکس مہاجر بن کر رہنے پر مجبور ھیں – مہاجر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف مہاجر !!

Views All Time
Views All Time
390
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   چاندی کی بالیاں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: