Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مائیکرو آرگنزمز

by مارچ 18, 2018 بلاگ
مائیکرو آرگنزمز
Print Friendly, PDF & Email

صبر ،استقامت،سچائی ،عدل اور ایثار کے متعلق ابتدائی جماعتوں سے اسلامیات کی کتاب میں پڑھتےآ رہے ہیں ۔ان کی تعریف یاد کرتے تھے بہت جلد یاد ہو جاتی تھی۔ ہم یہی سمجھتے رہے کہ ان تمام خصائل کو اپنانا بھی اسی طرح بہت سہل ہو گا ۔بھوک لگتی تو پانچ منٹ لیٹ کھانا کھانے کو ہم صبر سمجھتے رہے ۔ کوئی ہمیں مدد کے لیے بلاتا تو اپنی ترجیحات کو مقدم رکھ کر ڈٹ جانے کو ہم استقامت کہتے رہے۔ جب ماں سوال کرتی کیا کھا رہے ہو؟ تو منہ سے فورا کھانے کی چیز باہر پھینک کر جواب دیتے کہ ہم تو کچھ نہیں کھا رہے اور اسی کو ہم سچائی سمجھتے رہے ۔

ہمیں لگتا تھا کہ اپنی نظر میں سچا ہو جانا ہی اصل سچائی ہے۔ لیکن بھول گئے کہ بیشتر اوقات اپنی نظر میں سچا ہونے کے باوجود ہم جھوٹے ہوتے ہیں ۔ ہماری نگاہ میں قاتل و مقتول کے درمیان عدالت کا سچا فیصلہ ہی بس عدل کے تقاضوں میں آتا ہے۔ کلاس فیلو کو ضرورت پڑھنے پہ کتاب یا پنسل دے دینے کو ہم ایثار کا بہت بڑا درجہ سمجھتے تھے۔ اسی لیے ہم اپنے ورثے میں موجود صبر و استقامت ،سچائی اور عدل و انصاف کے واقعات کو عام بات سمجھتے رہے ۔

یہ خصائل اخلاق تو مائیکروآرگنزم کی مانند ہوتےہیں۔ عام آنکھ سے نظر نہیں آتے لیکن اگر مائیکروسکوپ سے دیکھا جائے تو بہت گہرے دیکھائی دیتے ہیں ۔اور ان خصائل کی گہرائی کو جاننے کے بعد وہی واقعات ہم پہ دہرائے جائے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ان لوگوں کی اہمیت و عظمت کا اندازہ ہوتا ہے جنہوں نے ان کو اپنایا اور گہرائی میں اترتے رہے ۔یوں لگتا ہے کہ اپنا سب قربان کرنے کے باوجود ہم ان جیسا مقام و مرتبہ نہیں پا سکتے ۔ہم ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں۔

کچھ احکامات کو سمجھنے کے لیے عام آنکھ کافی نہیں ہوتی کیونکہ ان کی گہرائی تک جانے کے لیے مائیکروسکوپ چاہیے ہوتا ہے اور ان کی گہرائی اس قدر دلکش ہوتی ہے جتنا ہم سمجھتے جاتے ہیں اتنا ہی اس کی گہرائی میں اترتے جاتے ہیں۔ غور کریں۔۔۔۔۔۔صبر بہت اعلی عمل ہے خالق فرماتا ہے صبر کرنے والے کے لیے جنت ہے ۔لیکن جہاں ہمیں صبر کا مظاہر کرنا ہوتا ہے وہاں ہم شکوہ وشکایات کے ڈھیر لگا کے کچھ نہ ملنے پہ خود کو مطمئن کرنے کے لیے صبر کرجانے کی تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔

سچائی بہت اہم مقام ہے سچ ایسا ہو کہ رب تعالیٰ خود صدیق کا لقب عطا کر دے ۔ اکثر اوقات ہم لوگوں کو پھنسانے اور ان کی عزتوں کو نیلام کرنے کے لیے ہی سچائی کا نعرہ لگاتے ہیں اور جہاں اپنی انا اور عزت کا مسئلہ آئے تو عزت کی خاطر جھوٹ بولنا جائزہ ہے جیسے فقرات سے خود کا مطمئن کر تے ہوئے حیلے بہانوں کے ذریعے خود کو بچا ہی لیتے ہیں۔ اپنی گلی محلے میں غربت کے مارے لوگوں کی بے بسی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایثار کا مظاہر بھی وہاں کرتے ہیں جہاں بورڈ پہ نام لکھوانا مقصود ہو۔

ہمیں قدم قدم پہ عدل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے ۔زندگی کے کسی بھی شعبے میں فیصلہ ہمارے حق میں ہو تو عدل اور اگر مخالف پارٹی کے حق میں ہو تو بے ایمانی اور ناانصافی لگتی ہے ۔مختصراً ہم سمجھتے ہیں کہ خصائل اخلاق کی جو تعریف ہماری نگاہ میں وہی تعریف وہی عمل سچا ہے اپنی نگاہ میں مطمئن ہو کر ہم بہت سے اعمال کو بھلائی و نیکی سمجھ کر کرتے ہی جارہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
158
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قلمکار جیتے رہو
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: