Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چوہے تیں تھیں اُتے

by جون 30, 2016 کالم
چوہے تیں تھیں اُتے
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhہم نے پشاور کے معصوم اور بے گناہ چوہوں پر ہونے والی ’سنگ زنی‘ کے خلاف زنجیر کیا ہلائی کئی دوستوں کی طرف سے ہم پر ’چوہاماری‘ شروع ہو گئی اور ہم کو بھی چوہوں کی صف میں کھڑا کر دیا شاید اس طرح انھیں ’سنگ زنی‘ میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔
سچی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ اگر یہ ’سنگ بدست‘ انسان دوست ہوتے اور انھیں انسان اور چوہوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے پر مخلوقات کے زمین پر مساوی حقوق کی آواز بلند کرنے پر کوئی گلہ ہوتا تو ہم بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے اور اپنے آپ کو ملزم تسلیم کرتے۔ لیکن افسوس ان کی ناراضی کی وجہ مخلوق تسلیم کرنے، ان کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہی نہیں۔ اپنے آپ کو محض عظیم اور اشرف ثابت کرنا تھا۔ حال آں کہ عظمت اور شرف اعمال کے پردے میں چھپے ہوتے ہیں۔
محض خان ہونا یا انسان کے ہاں جنم لینا کوئی اعزاز نہیں!! وہ چاہتا تو دنیا کی سیر کے لیے کسی اور مخلوق کے پیٹ سے بھی جنم دے سکتا تھا۔ وہ کوئی درندہ بھی ہو سکتا تھا چرندہ اور پرندہ بھی۔ ویسے ذرا تصور کیجیے انسانی چہرے کے ساتھ چرندے چارہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور درندے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے کمزور جانوروں کی چیر پھاڑ کر رہے ہوتے۔
ذرا غور سے دیکھیے تو معلوم ہو ا ہر شہر، ہر بستی میں سرعام چیر پھاڑ ہو رہی ہے۔۔۔ کوئی روکنے والا نہیں۔ بل کہ قہقہہ بازی ہو رہی ہے۔ اور وہ جو معاشرے اور اقدار کے محافظ ہیں وہی اس ’سرعام‘ ہونے والی درندگی کو نظریاتی تحفظ فراہم کرتے اور کہتے ہیں۔
یہی تقدیر ہے اور اسی میں ارتقائی عمل کا راز ہے۔ یہ عمل نہ ہوتا تو یہ کائنات عدم توازن کی بنا پر کب کی اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکی ہوتی۔ یعنی عدم سے شروع ہونے والی ایک کہانی عدم کی ہی نذر ہو جاتی۔ نہ کوئی جانور ہوتا نہ انسان۔ نہ کوئی ’چوہا‘ ہوتا نہ کوئی چوہامار۔ نہ کسی کو کسی بیماری کا احساس ہوتا اور نہ ہی کوئی خود کو ڈاکٹر بنا کر پیش کرتا۔ انسانیت کے تحفظ کا دعویٰ کرتا۔ مذہب کی آڑ میں قبائلی نظام کو بچانے کی کوشش کرتا حال آں کہ یہ بھی چوہوں جیسی نقب زنی ہے۔
بہر حال دوستو۔۔۔ ہم نے چوہاماری کے بجاے چوہا بچاؤ مہم شروع کر کے، اپنے چوہا سازوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کیا کی کہ ہم پر بھی ’چوہامار‘ گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ظاہر ہے کہ ہم نہ تو چوہے تھے اور نہ ہی ہم نے کبھی اپنے عمل اور کردار کو چھپانے کے لیے ’چوہے بازی‘ کا سہارا لیا ہے، ہم جو ہیں وہی ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کوئی نقاب اوڑھتے ہیں نہ سر پر کسی خاص تہذیب کی پگڑی باندھتے ہیں نہ ٹوپی پہنتے ہیں۔ آنکھوں پر کسی خاص رنگ کے شیشوں والی عینک ہوتی ہے۔۔۔
ہم بھی خدا کی مخلوق ہیں اور ہر مخلوق کے اس کائنات میں مساوی کردار کو تسلیم کرتے ہیں باقی جو کچھ بھی ہے وہ سب زعم خود فریبی ہے۔ بل کہ خود کو خان اور خانِ اعظم ثابت کرنے کی کوشش ہے
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
دوستو۔۔۔ تو تھی آں جواب غزل۔ اب ذرا کچھ اور دوستوں کی بات بھی ہو جائے جنہوں نے ہماری طرح چوہوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے انسانیت کی بہتری کو استعمال کرنے کی حمایت کی ہے ان میں ہمارے دو یوسفزئی بھائی روحان اور عقیل ہیں جو ہماری طرح اگرچہ قبائلی نظام کے نمایندہ ہیں اور نہ ہی ذات پات کے اسیر۔ لیکن ان کے ناموں کے ساتھ ہماری ہی طرح لاحقے لگے ہوئے ہیں۔ بچپن یا شعوری سفر کے آغاز سے پہلے کی یہ غلطی ’پا بہ زنجیر‘ بنی ہوئی ستم بالاے ستم کہ اب رہائی ممکن نہیں رہی۔ ان دوستوں نے ہمارے ’چوہا بچاؤ‘ موقف کی حمایت تو کی ہے مگر تائید میں صداے احتجاج کا حصہ بننے میں ابھی تک تامل کا شکار ہیں۔۔۔ ہمیں معلوم ہے تامل میں انکار نہیں کچھ تحفظات اور مجبوریاں ہوتی ہیں اس لیے امید ہے وہ بہت جلد ہمارے شانہ بشانہ ہوں گے۔ اور ہماری طرح ظالموں کے بجاے مظلوموں کی صف میں کھڑے ہو کر بے گناہ اور معصوم چوہوں جیسی مخلوقِ خدا کی دعائیں لیں گے۔ ہمارا تو دعویٰ ہے کہ اگر انسان کے شعوری ارتقا میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں ’سٹیٹس کو‘ کی حمایتی قوتیں ذرا کمزور ہوں، یا مظلوم مخلوقات کو تھوڑا سا راستہ مل جائے تو طبقاتی فکر کے ساتھ طبقاتی نظام بھی ختم ہو جائے گا۔ کوئی خود کو خان، چودھری میاں کہلانا پسند نہیں کرے گا بل کہ اپنے انسان ہونے پر فخر کرے گا۔
یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟؟ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسی نے ہی یہ سارے نظام بنائے ہیں طبقاتی نظام بھی۔ جو خالصتاً وحشت اور بربریت کا نمایندہ ہے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ وحشت اور بربریت کا نقصان بھی سب سے زیادہ انسان کو ہوا ہے اس کے باوجود یہ اپنے سوچ پر نظر ثانی کو تیار نہیں۔۔۔ مزید یہ کہ ہمارے ’خان‘ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ قبائلی نظام بھی طبقاتی نظام کا ہی مکروہ روپ اور بدترین چہرہ ہے۔ چونکہ ان کے ذاتی، سیاسی اور مالی مفادات کا تحفظ اسی بدترین چہرے کے داغوں اور جھریوں میں مضمر ہے اس لیے وہ اسے سیاسی نعرہ تو بناتے ہیں مگر سیای عمل اور جدوجہد نہیں۔ یہ اسی طرح کی صورتِ حالات ہے جس میں چوہوں کی تاریک نشینی اور پوشیدہ زندگی کو طاعون کا باعث تو قرار دیا جاتا ہے اور ان کو کفر کی علامت بنا کر جہاد تو شروع کیا جاتا ہے مگر ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے پوشیدہ جوہر استعمال کرنے کو عملی اقدمات اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ دوغلا پن ہی نہیں سیاسی نظام کا بدنما چہرہ نہیں تو اور کیا ہے۔
حرفِ آخر کی سچائی یہی ہے کہ انسان نے ہی بنائے ہیں کسی چوہے یا کسی اور مخلوق نے نہیں۔ وہ سب آتے قانونِ فطرت کے تحت آتے، زندگی گزارتے اور چلے جاتے ہیں۔ یہ انسان ہی ہے جو آغاز سے انجام تک باغیانہ روش تک نہیں کرتا۔ کاش یہ بھی کوئی چوہا ہوتا تو آج یہ کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق اس تباہی اور تنزل کا شکار نہ ہوتی۔ مرشد بلھے شاہ سے معذرت کے ساتھ
چوہے تیں تھیں اُتے
یعنی۔۔۔ چوہے تم سے کہیں بہترین ہیں۔۔۔ اے انسان

Views All Time
Views All Time
416
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جو مشال کے ساتھ ہوا تو آپ کیا کریں گے؟-محمد حنیف
Previous
Next

One commentcomments

  1. روخان یوسفزئ

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: