Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ضرورت ہے شاہی خاندان کو اتالیق کی

by جولائی 15, 2016 کالم
ضرورت ہے شاہی خاندان کو اتالیق کی
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newیہ ایک غیر اعلانیہ اشتہار ہے۔ جس کی چرچا ہر ٹی وی چینل پر صحافتی دانش ور اور اینکرز کرتے ہیں۔
ضرورت ہے ایک وزیرِ خارجہ کی۔
جس کا ماضی ’’ملازمت‘‘ کا ہو اور نہ ہی ذہنیت ملازموں والی۔
آزادی کے بعد کی پیداوار ہو اور
تربیتی ادارہ بھی انگریزوں کا بنایا ہوا نہ ہو۔ آزاد سوچ کا مالک ہو اور آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
وقت اور حالات کے مطابق مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کر سکتا ہو۔۔۔ ایڈہاک اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں پر یقین نہ رکھتا ہو۔ یعنی، بیوروکریٹ نہیں، سیاستدان ہو۔
جس کو عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کا ادراک ہو۔۔۔ صاحب علم بھی ہو اور صاحب فہم بھی۔
افسوس کہ۔۔۔ نوازشریف اور عمران خان اس معیار پر پورا نہیں اترتے، ایک کشمیری ہے اور دوسرا پٹھان وہ بھی نیازی۔ اس ملک کو تقسیم کرنے میں ایک نیازی کا بھی ہاتھ تھا۔۔۔ اس نے وطن پر قربان ہونے کے بجاے ہتھیار پھینکنا زیادہ بہتر سمجھا تھا۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی
ایک سوال بڑا اہم ہے۔ پاکستان میں وزیر خارجہ کون رہا ہے۔ جس کے دور میں وزارتِ خارجہ بھی متحرک تھی اور پاکستان کو اس کی جغرافیائی اور سیاسی، علاقائی اور عالمی حیثیت میں قبول بھی کیا جاتا تھا اور اس کو اہمیت بھی دی جاتی تھی۔
تفصیلات تو بہت طویل ہیں اگر ان کا تذکرہ ہوا تو بہت سے لوگوں کو ناگوار گذرے گا بس یہی کہنا کافی ہے کہ۔۔۔
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
تاریخ بتاتی ہے کہ۔۔۔ بادشاہ اپنے بچوں کو رموزِ حکمرانی سکھانے کے لیے ’اتالیق‘ رکھا کرتے تھے اور انھیں قومی خزانہ سے باقاعدہ معاوضہ تنخواہ اور صلہ دیا جاتا تھا۔۔۔ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لیجیے گا کہ پرانے بیوروکریٹ، یا پھر وزارتِ خارجہ کے ایک پرانہ ’تنخواہ دار‘ جس کے ریکارڈ پر سوائے وفاداری کے کچھ اور نہیں اسے مریم نواز کو امورِ خارجہ کی باریکیاں، بتانے پڑھانے اور سکھانے کے لیے ’اتالیق‘ مقرر کیا گیا ہے۔ قومی خزانے پر اس کا بوجھ کیا ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہمارے تو پر جلتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اتنا پتا چلا ہے کہ۔۔۔ معمولی ذہانت کے اس ’افسر بکار خاص‘ کی بیگم صاحبہ کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ وزیراعظم کے خفیہ فنڈ سے دیے جاتے ہیں۔ تا کہ انھیں کچن چلانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔
اور ہاں۔۔۔ وزیراعظم کی لندن روانگی سے پہلے 118 افراد کی جو فہرست فراہم کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ۔۔۔ ان لوگوں کے سروں سے دست شفقت ہٹا لیا جائے۔ ان میں اس ’اتالیق‘ کا نام بھی شامل تھا۔ لیکن ظاہر ہے وزیراعظم کی صحت یابی کو ابھی کچھ عرصہ درکار ہے اور وزیراعظم کے پاس بیماری کا جواز بھی ہے اس لیے معاملہ واپسی تک یونہی چل رہا ہے۔
دوستو۔۔۔ اتالیق نے کیا جوہر دکھائے ہیں یہ تو اس وقت کھل کر سامنے آئیں گے جب کوئی باقاعدہ ذمہ داری ہو گی اور فیصلے ہوں گے، ابھی تو یہ تربیتی دور ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ اس خبر کی تصدیق کرنا چاہیں تو گذشتہ دنوں میں غیر ملکی سفیروں کی مریم نواز سے ملاقاتوں اور ان کی تصویروں کی اخبارات میں خصوصی اشاعت کو دیکھ لیں۔
اب یہ سوال نہ کیجیے گا کہ ایسا کیوں اور کیسے ہو رہا ہے۔ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ ’دختر اول‘ وزارتِ خارجہ کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس کے ’میڈیا سیل‘ کی سربراہ بھی ہیں اور انھیں اس سلسلے میں محکمہ تعلقاتِ عامہ پنجاب کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل کی ’ہنرمندی‘ کا مکمل تعاون بھی حاصل ہے جنھیں ایک وفاقی وزیر کے قریبی عزیز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کی وفاداری بھی تمام شک و شبہ سے بالا ہے۔ لوگ ان کی ترقی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
بہرحال۔۔۔ صاحبو بات تو ایک وزیر خارجہ کی ضرورت سے شروع ہوئی تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ جب خاندانی حکومت ہو، اور شاہی خاندان کے تمام افراد، عوام کے خود ساختہ خادم ہوں۔۔۔ بلکہ محکمے، ادارے اور وزارتیں زیادہ اور خاندان کے افراد کم ہوں تو ارتکازِ اختیار کا سہارا تو لینا ہی پڑتا ہے۔ سعودی عرب ہمارا نظریاتی ہی نہیں سیاسی آئیڈیل بھی ہے۔ وہاں بھی ’خاندان سعودیہ‘ کی حکومت ہے۔ تمام وزارتیں اور ادارے اسی خاندان کے پاس ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی اس کے ’نقش قدم‘ موجود ہیں، یا پھر اگر وزیراعظم کی صاحبزادی کو وزارتِ خارجہ سنبھالنے کے لیے امورِ خارجہ کی تربیت دی جا رہی ہے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے صاحبزادے کو ڈپٹی وزیر اعلیٰ کا مرتبہ حاصل ہے اور وہ صبح شام صوبائی امور چلا کر ’امورِ صوبہ‘ کو باریک بینی سے دیکھ کر مستقبل کی صف بندی کر رہے ہیں انھیں بھی درجنوں ’اتالیق‘ میسر ہیں تو آنے والے دنوں کی سیاسی نقشہ بندی کو سمجھنا چاہیے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جہاں بادشاہت ہو، وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اتالیقوں کی ہی موجیں ہوتی ہیں بس ان کا ہنرمند اور گفتار کا غازی ہونا لازم ہے۔

Views All Time
Views All Time
485
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستانی فوج کا نکتہ نظر: بنگالی دانشوروں کا قتل
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: