Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

منو بھائی کی یاد میں

by جنوری 20, 2018 حاشیے
منو بھائی کی یاد میں
Print Friendly, PDF & Email

منیر احمد قریشی عرف منو بھائی سے میرا اولین رابطہ طالب علمی کے زمانے میں ہوا۔ مجھے اردو کے کالم نگاروں پر اپنا ایم اے کا تِھیسس لکھنا تھا چنانچہ میں نے ایک مفصل سوالنامہ تیار کیا اور جوابات حاصل کرنے کے لیے منو بھائی کو ارسال کر دیا۔ چند روز بعد مکتوب الیہ کا جواب آیا کہ اگر کالم نگاری کی تاریخ اور مختلف کالم نگاروں کے اندازِتحریر پر اِن تمام سوالات کا جواب مجھی کو دینا ہے تو پھر تمھارا تحقیقی مقالہ بھی میں ہی لکھ دیتا ہوں۔

لیکن تھوڑی سی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد انھوں نے مجھے بنیادی معلومات بہم پہنچا دیں اور یوں پنجاب یونیورسٹی میں میرا آخری سال بخیر و خوبی انجام کو پہنچا۔

منو بھائی سے میری پہلی دُوبُدو ملاقات تب ہوئی جب میں تعلیم سے فارغ ہو کر پاکستان ٹیلی ویژن میں پروڈیوسر کے طور پر ملازم ہو چکا تھا۔ میں نے فرمائش کی کہ میرے لیے ایک سلسلہ وار کھیل لکھ دیجیے۔ فوراً مان گیے لیکن کچھ شرائط عائد کر دِیں: مثلاً یہ کہ ڈرامے میں کوئی گلیمر نہیں ہوگا یعنی نہ تو محل نما گھر ہوں گے نہ لمبی لمبی کاریں اور نہ انگریزی لہجے میں بات کرنے والے الٹرا ماڈرن کردار، بلکہ گلی محلے کی کہانی گلی محلے کے کرداروں کی زبانی ہو گی۔

یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد ایئرپورٹ کا منظر

آخری شرط منو بھائی نے یہ رکھی کہ یہ کھیل پنجابی زبان میں ہو گا۔ اُن کا موقف یہ تھا کہ جس طرح کے کردار چُنے گئے ہیں وہ اپنی ماں بولی میں بات کرتے ہی اچھے لگیں گے۔ دلیل معقول تھی اس لیے کسی بحث کے بغیر منصوبے پر کام شروع ہو گیا اور چند ہفتوں بعد لاہور ٹیلی ویژن سے منو بھائی کا پنجابی سیریل ‘کیہ جاناں میں کون’ منظرِعام پر آ گیا۔

منو بھائی نے ڈرامے کا فن کسی کتاب سے نہیں بلکہ اپنے ارد گرد چلتے پھرتے اور سانس لیتے کرداروں سے سیکھا تھا، اسی لیے اُن کے تخلیق کردہ کردار کٹھ پتلیوں کی بجائے جیتے جاگتے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ چونکہ اپنی صحافتی زندگی کے آغاز میں بہت عرصے تک رپورٹنگ کے شعبے سے وابستہ رہے تھے اس لیے معاشرتی زندگی کا کوئی بھی پہلو ان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا۔

سلسلے وار کھیل ‘آشیانہ’ میں انھوں نے خاندانی اقدار کو موضوع بنایا جبکہ ‘دشت’ میں انھوں نے بلوچستان کے صحرائی کلچر پر قلم اٹھایا۔ تاہم سب سے زیادہ مقبولیت اُن کے سلسلہ وار کھیل ‘سونا چاندی’ کو حاصل ہوئی۔ یہ ایک دیہاتی جوڑے کی کہانی ہے جو شہر آ کر مختلف گھروں میں نوکری کرتا ہے اور ان کے توسط سے شہری زندگی اور معاشرے کے بہت سے نشیب و فراز سامنے آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   استاد کی تعریف | وقاص اعوان

منو بھائی نے طویل دورانیے کے بہت سے کھیل بھی تحریر کیے جن میں ‘گم شدہ’ اور ‘خوبصورت’ آج تک لوگوں کو یاد ہیں۔

جس انسان دوستی کا مظاہرہ ہمیں اُن کی کردار نگاری میں نظر آتا ہے وہی ہمیں اُن کی عملی زندگی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن جس طرح اُن کے اخباری کالم اور ٹی وی ڈرامے لوگوں کو یاد رہیں گے اُسی طرح انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کے طور پر بھی اُن کی یاد ہمیشہ ہمارے دِلوں میں زندہ رہے گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Views All Time
Views All Time
200
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: