Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

موت کا ایک دن معین ہے

by دسمبر 23, 2017 حاشیے
موت کا ایک دن معین ہے
Print Friendly, PDF & Email

کہتے ہیں کہ پرانے دور میں ایک سوداگر تھا۔ وہ اپنی دانش اور کاروباری سمجھ بوجھ کے باعث بہت مشہور تھا۔ ایک دفعہ وہ اپنے دوست سے ملنے دوسرے شہر گیا۔ وہاں اس کا سامنا ایک شخص سے ہوا۔ وہ شخص سوداگر کی جانب گھورتا رہا۔ سوداگر کو اس کی نظر سے کھلبلی محسوس ہوئی اور اس نے اپنے دوست سےکہا کہ وہ اس کے لئے ایک تیز رفتار گھوڑے کا بندوبست کرے تا کہ سوداگر اپنے شہر جا سکے۔ مسلسل سفر کرنے کے بعد سوداگر شام کو اپنے گھر پہنچا۔ اپنے کمرے میں جاتے ہی آنگن میں آہٹ محسوس کی، باہر آ کر کیا دیکھتا ہے کہ گھر کے آنگن میں وہی گھورنے والا شخص بیٹھا ہے۔ سوداگر نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو جواب ملا کہ میں تیری موت ہوں اور صبح تمہیں اس شہر میں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی اسی لئے میں تمہیں غور سے دیکھ رہا تھا کہ اس شخص کی موت تو یہاں سے دور واقع ہونی ہے۔ مگر دیکھ تو اپنی موت تک آ ہی گیا ہے۔ "یہ کون کہتا ہے؟” میں نے سوال کیا۔ علی نے میرے سوال پر میری طرف ایسی نظر ڈالی جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ کیسا سوال ہے۔ پھر میں نے کہا کہتے ہیں کہ انسان کے ہر متوقع عمل کے مطابق فطرت میں متوقع جوابی عمل ہے۔ اور یہ دنیا ان تمام امکانات میں سے ایک امکان ہے۔ اور ہر ممکن عمل کے مطابق بہت سی دنیائیں ہیں جہاں ایک ہی جیسے کام مختلف انداز میں ہو رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ کسی دنیا میں اگر کوئی شخص اپنا عمل تبدیل کر دے تو اس کے بعد ہونے والے واقعات اس دنیا کے بالکل برعکس ہوں۔ کون کہتا ہے یہ؟ میری بات کو کاٹ کر علی نے بدلہ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   میری خواہش (حاشیے) | عزیر راجو

میں نے بھی اس سوال کا جواب صرف ایک نظر سے دیا۔ چنانچہ اگر وہ سوداگر اگر اس گھوڑی سے ڈر کر بھاگنے کے بجاۓ اسے صرف یہ کہہ دیتا کہ جا اوۓ اپنا کام کر تو عین ممکن ہے وہ سوداگر بچ جاتا اور آگے جا کر بزنس کا مایہ ناز انسان بن جاتا. اور بہت ممکن ہے کہ کسی دنیا میں ایسا ہو چکا ہو.
میں نے بات مکمل کی تو علی نے جمائی لی. میرا پیرالل یونیورس کا نظریہ اسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا.
میں نے اپنی پیش کردہ کہاوت کا نتیجہ بیان کرنا ضروری نہ سمجھا۔ میں گھر پہنچا تو رات کے آٹھ بجنے والے تھے. اماں سے ملا تو سلام دعا کے بعد انہوں نے بتایا کے کل انہیں سودا سلف کی خریداری کے لئے بازار جانا ہے. اس لئے ان کا مشورہ تھا کہ میں دفتر سے چھٹی لے کر ان کے ساتھ جاؤں. میں نے انہیں بتایا کہ مجھے ایک ضروری فائل جمع کروانا ہے . اس لئے میں ان کے ساتھ نہیں جا سکتا. ہاں اگر وہ ایک دن انتظار کر لیں تو ممکن ہے کہ میں اس سے اگلے روز ان کے ساتھ جا سکوں.انہوں نے خریداری کا ارادہ ایک دن بعد پہ ٹال دیا.

یہ بھی پڑھئے:   قصور کی بے قصور زینب

صبح سو کر اٹھا تو دل بوجھل سا محسوس ہوا.خیال آیا کہ آج دفتر سے رخصت لے ہی لوں. اچھے طرح آرام کر لوں گا اور اماں کو خریداری بھی کروا دوں گا. مگر پھر وہی فائل کا خیال آیا تو دل پر پتھر رکھ کر تیار ہوا اور دفتر کے لئے روانہ ہوا.
بائیک پر ابھی ایک منٹ بھی نہ چلا تھا کہ زمین میں حرکت محسوس ہوئی .زلزلے کے خیال سےبائیک روک لی. زلزلے نے شدت اختیار کر لی. سڑک کے کنارے پر آہٹ محسوس ہوئی مڑ کر دیکھا تو کنارے پر بنا گھر ٹوٹ چکا تھا. اس کی چھت کا ایک حصہ مجھ پر گرا۔ آنکھوں میں اندھیرا چھانے سے پہلے یہ سوچ میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی. "کاش میں گھرپر ہی رہ جا تا تو شاید اس مقدر سے بچ جاتا مرنے سے پہلے گھر پر سوتے رہنے کا خیال آیا۔
"کہانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا۔ کہیں بھی جا کر چھپ جاؤ موت آپ کو ڈھونڈ نکالے گی”

Views All Time
Views All Time
167
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: