Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مارکسزم اور ادب، ایک علمی نشست کا احوال

by جنوری 29, 2018 حاشیے, ہیڈ لائن
مارکسزم اور ادب، ایک علمی نشست کا احوال
Print Friendly, PDF & Email

"25 جنوری 2018 کو الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں پروگریسو یوتھ الائنس کے زیر اہتمام "مارکسزم اور ادب” کے عنوان پر معروف مارکسسٹ سیاستدان اور مدبر ایلن ووڈز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب اور مارکسزم لازم و ملزوم ہیں. انہوں نے دنیا بالخصوص یورپ میں شاعری کی تاریخ اور انقلابات میں اس کے کردار پر بھرپور روشنی ڈالی. ان کا کہنا تھا کہ انسانی تہذیب کی ابتدا سوشلزم سے ہوئی، جب دنیا کے سب انسان مل بانٹ کر کھاتے اور زندگی گزارتے تھے اور ذاتی ملکیت کا کوئی تصور موجود نہ تھا. ان کے مطابق تاریخ کے سرمایہ دار حکمران اور بادشاہ ہمیشہ شاعری اور فنون لطیفہ سے خائف رہے کیونکہ انھیں فکرو شعور میں اپنا زوال دکھائی دیتا تھا. ایلن نے یورپی ادب میں شیکسپیئر سمیت بہت سے ادیبوں کے کردار کا ذکر کیا اور مختلف زبانوں میں ان کی ادبی تخلیقات پیش کیں.

ایلن ووڈز نے کہا کہ ادبی تخلیق اور پروپیگنڈا میں بہت فرق ہوتا ہے. شاعری انسان کی روح اور جذبات کی آئینہ دار ہوتی ہے جبکہ پروپیگنڈا انسانی دماغ سے جنم لیتا ہے اور معیار میں کم تر ہوتا ہے. وہ برصغیر پاک و ہند کی شاعری سے بےحد متاثر ہیں کیونکہ ظاہری طور پر ترقی یافتہ دنیا میں، جہاں وہ رہتے ہیں، ادب اس وقت زوال کا شکار ہے. یورپ میں ادب کا زوال ہوس زر کا نتیجہ ہے. شاعری میں پیسے نہیں ہوتے لیکن پیسوں میں بھی شعری لطافت نہیں ہوتی. پاکستان میں فیض احمد فیض کی ادبی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں پاکستان کے نوجوان انقلابی شعراء فیض کے بچے ہیں.

یہ بھی پڑھئے:   ایکس ایل آئی اور جی ایل آئی کو بند کرنے کا فیصلہ

کارل مارکس کے ادبی ذوق اور رحجان کا ذکر کرتے ہوئے معروف مصنف اور محقق نے کہا کہ مارکس نہ صرف شیکسپیئر جیسے ترقی پسند ادیب کا مداح تھا بلکہ بہت سے رجعت پسند ادیبوں کو بھی پڑھا کرتا تھا اور ان کی تعریف کرتا تھا. ان کے نزدیک نوجوانوں کو کارل مارکس پر کتابیں پڑھنے کی بجائے اس کو براہ راست پڑھنا چاہیے کیونکہ اس کے بارے میں 99% کتب اس کے بدترین دشمنوں کی تحریر کردہ ہیں، جنھوں نے ہمیشہ اس کے بارے میں بدترین جھوٹ لکھ کر مارکسزم کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی.

آخر میں کامریڈ نے شرکاء کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اس وقت افراتفری اور انتشار کی فضا موجود ہے. تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے ماحول میں ہمیشہ انقلابات نے جنم لیا ہے. کامریڈز کو انفرادی فوائد حاصل کرنے کی بجائے اجتماعی فلاح کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے. دنیا کی سائنسی ترقی، ایجادات، تہذیب و تمدن اور ثقافت کو ایٹمی جنگ اور تباہی سے بچانے کا واحد راستہ سوشلسٹ جدوجہد اور انقلاب ہے.”

Views All Time
Views All Time
244
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: