شادی، دہشت گردی، ولیمہ – باتیں ریحام خان کی

Print Friendly, PDF & Email

اکتیس دسمبر کو ڈیلی میل والوں نے خبر چلائی کہ ہم دونوں کی شادی پہلے ہی ہو چکی ہے۔ میں اپنے خاوند کی ہدایت کے مطابق ٹوئیٹر پر خاموش رہی۔ دوسری طرف عمران خان نے ایک بڑا ٹرن لیا اور ٹوئیٹ کیا “ میری شادی کی اطلاعات میں مبالغہ آمیزی زیادہ ہے”۔اس نے میرے اور میرے بچوں کے ساتھ اِس پر بات چیت کی اور ہم سب کہہ رہے تھے کہ یہ غلط آئیڈیا ہے۔ اُس وقت میں نے سوچا کہ یہ اس کو مزے دار بنانا چاہ رہا ہے۔مجھے لگا وہ مارک ٹوئن کے خیالات سے انسپائرڈ ہے۔ میں یہ سمجھ ہی نا سکی کہ عمران ادبی ذوق رکھنے والا شخص نہیں ہے۔

جب اس نے کہا کہ وہ دسمبر میں شادی کا اعلان کریں گے تو میں پہلے کی طرح مطمئن ہو گئی تھی۔ وہ آخری دفعہ اپنے بچوں سے بات کرنے کے لیے لندن جانا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ یہ خبر انہیں آمنے سامنے بیٹھ کر بتانا چاہتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں اور جمائما سے شادی کے بارے میں جھوٹ بولتا رہا ہے۔ اس کی بہنوں کو بھی یقین نہیں تھا کہ ہماری حقیقت میں شادی ہوئی ہے یا بس میں گھر منتقل ہوئی ہوں۔ اگرچہ سچ جلد ہی ظاہر ہو گیا۔

میں اس طرح کے حیلے بہانے کرنے کی عادی نہیں تھی۔ لیکن مجھے امید تھی کہ جلد ہی سب کچھ بدل جائے گا۔ میرے لیے یہ ایک شاک تھا۔ میرے لیے اپنے کولیگز اور سٹاف سے یہ چھپانا مشکل ہو گیا تھا۔ میں، عمران اور عون بیٹھ کر بات کرتے تھے کہ شادی کا اعلان کس طرح کیا جائے۔ دوبارہ کنٹینر پر ولیمہ کی تقریب کرنے کا کہا گیا تھا جو ہم دونوں نے منع  کر دیا۔ ہم نے مہمانوں کی لسٹ پر بات کی،عمران بہت چھوٹی تقریب کرنا چاہتے تھے۔ وہ پی ٹی آئی میں سے کسی کو نہیں بلانا چاہتے تھے۔ ہم نے اس کے سارے خاندان کو گنا جو ساٹھ لوگ بن رہے تھے۔ وہ گارڈن پارٹی کا سوچ کر پرجوش تھے جیسے وہ یہی چاہتے تھے۔

ہمارے گھر کتوں کی دوسری اہمیت تھی۔ دو الفا میل ہمیشہ لڑتے رہتے تھے۔ دسمبر کی صبح جب میں نے اُن کو  علیحدہ کرنے کی کوشش کی تو ایک نے مجھے کاٹ لیا۔ عمران نے فوراً شوکت خانم سے ڈاکٹر کو بلا کر پوچھا کہ مجھے کتنے انجیکشن لگیں گے۔ عمران کی جانب سے یہ بہت out of character ہے۔ تمہارا اس کے سامنے خون نکل رہا ہو تو بھی وہ تمہارے پاس سے سیدھا گزر جائے گا۔ (جیسا اس نے بعد میں ساحر کے ساتھ کیا)۔ یہ اس کی شخصیت کا حصہ نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ میرے لیے پریشان تھا۔ وہ ایسا وقت تھا کہ مجھے لگا دنیا میں مجھ سے اہم اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   ادیب کے خواب اور تخلیق میں مطابقت ادیب کی موت ہے

عمر میرے زیادہ سفر کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے مجھے سفر کرنے سے روکتے تھے۔ جب تک شادی کا اعلان نہیں کیا گیا مجھے خفیہ سکیورٹی دی گئی۔ اس کے ذاتی ڈرائیور سفیر اور گارڈ ایوب کی ڈیوٹی مجھے پک اینڈ ڈراپ کرنے کی تھی۔ لیکن شک سے بچنے کے لیے میں خود ہی ڈرائیو کیا کرتی تھی۔ مجھے بعد میں پتا چلہ کے ایجنسیوں کے آدمی موٹر سائیکل پر میرا پیچھا کر رہے تھے اور انہوں نے بنی گالہ آتے جاتے میری تصویریں بنائی تھیں۔ اے پی ایس سے پہلے شادی کے شور سے بچنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔

شادی کی خبر آخر کار تب کنفرم ہوئی جب آئی ایس پی آر کی ایک ملازم خاتون نے خبر لیک کر دی۔ جب میں اگست میں پی ٹی وی میں تھی تو وہ اچانک رضاکارانہ طور پر میرے لیے کانٹینٹ ریسرچر کے طور کام کرنے آئی۔ اے پی ایس سے پہلے دسمبر میں اس نے شادی کی ٹوئیٹ کر دی۔ چند منٹوں بعد مجھے ڈائریکٹر جنرل کے اسسٹنٹ کی جانب سے مبارکباد کا میسج موصول ہوا۔

نوجوان بچوں کا قتل میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے لیے کافی تھا۔ میں میک اپ کی تہوں کے نیچے بھی اپنی پریشانی نہیں چھپا پا رہی تھی۔ جب میں ناخوش ہوں تو کافی بوڑھی لگتی ہوں۔ میں ساری رات ہوٹل کے کمرے میں بغیر سوئے بیٹھی رہی۔ اگلی صبح میں نے مشرف کا انٹرویو کیا یہ ایک ہیوی ویٹ شخص کا سیاست پر پھیکا سا انٹرویو تھا۔ میں نے سوچا کہ اب میں یہ نہیں کروں گی اور پھر لمبے عرصے تک وہ میرا آخری سیاسی شو تھا۔

جیسے ہی بنی گالہ گئی تو میں شادی کی چھوٹی سی تقریب کرنا چاہ رہی تھی۔ میرے بچے سرما کی چھٹیاں منانے آئےہوئے تھے۔ میں نے ایک بھانجے اور دوست کو کال کی کہ وہ کرسمس پر پاکستان آ جائیں ان کے لیے ایک ایسا سرپرائز ہے کہ وہ یقیناً مس نہیں کرنا چاہیں گے۔ اے پی ایس کے بعد میں نے وہ پلان کینسل کر دیا۔ میں تمام والدین کی طرح سوچ رہی تھی کہ میں اب اپنے چھوٹوں کو سکول نہ بھیجوں۔

میرا سر بھاری تھا میں ساری رات فیس بک پر شہید ہونے والے بچوں کی سیلفیاں دیکھتی رہی۔ جیسے ہی میں گھر داخل ہوئی اور اپنے مردہ جسم کو گھسیٹ کر بیڈ روم تک لائی میں نے دیکھا کہ عمران سامنے سے آ رہا ہے۔ وہ ریلیکس لگ رہا تھا۔ اس نے کہا“ بے بی شکر ہے خدا کا، دھرنا ختم ہو گیا ہے”

یہ بھی پڑھئے:   رقہ سے سینکڑوں جنگجوؤں کا فرار: امریکہ،برطانیہ و کرد اتحادی افواج کا داعش سے خفیہ معاہدہ بے نقاب –بی بی سی

میں اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسی لمحے سوچنے لگی کہ میں نے ایک ایسے شخص سے شادی کی ہے جس نے لوگوں کو کولیٹرل ڈیمج سمجھ رکھا ہے۔ میں نے جلدی سے ان سوچوں کو دبایا اور کہا ”لیکن عمران“ یہ اب تک کی سب سے خوفناک خبر ہے“ـ ایک لمحے میں اس کے تاثرات سنجیدہ ہوئے “ اوہ واقعی یہ خوفناک ہے۔ انہوں نے ہمیں تمام لاشیں دکھائیں۔ تمام لاشیں ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر ڈھیر لگایا ہوا تھا۔ پھر جلد ہی عمران کی توجہ اس کے دماغ میں چلنے والے اہم واقعے کی طرف مڑی جو ہماری شادی کا اعلان تھا۔

اے پی ایس سے پہلے ہماری شادی کی خبر گرم تھی۔ یہ تھوڑی تھوڑی کر کے ریلیز ہو رہی تھی۔ میں مردہ لاشوں اور خونی آڈیٹوریم کو دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ یہ رشیا بیسلان میں ہونے والے واقعے کی طرح تھا۔ نہ صرف یہ واقع اس سے انسپائر لگتا تھا۔ بلکہ جس طرح تصویریں شیئر کی جا رہی تھی وہ بھی ملتا جلتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ بیسلان کا واقعہ کس طرح ہماری یاداشت پر نقش تھا۔ قتل سے زیادہ شیئر کی جانے والی تصویریں خوفناک تھیں۔ میں بچوں کو سوچ رہی تھی۔ میں یہ سوچ ہی نہیں پا رہی تھی کہ والدین کس حال میں ہوں گے۔ مجھے کہا گیا کہ دوپہر میں لائیو ٹرانسمیشن کروں اور میں مشکل میں اپنے آپ کو یکجا کر رہی تھی۔ میں اے پی ایس جانے کی بجائے کراچی چلی گئی۔ میں ایسے واقعوں میں پہلے پہنچنے والوں میں سے تھی لیکن اس واقع پر میں نے خود کو بچایا۔ جن صحافیوں نے یہ کور کیا ان میں زیادہ تر بعد میں مہینوں ٹراما میں رہے۔ میرا نمائندہ مجھے جائے وقوعہ کی منٹ منٹ بعد اپ ڈیٹ اور تصویریں بھیج رہا تھا۔

جب ہم نے لائیو چلنا شروع کیا تو باسز نے ہمیں مکمل تصویر دکھانے کی اجازت نہ دی اور ہمیں فوراً آف ائیر ہونا  پڑا۔ انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہم ائیر ٹائم دے کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔

مترجم: بلال حسن بھٹی

Views All Time
Views All Time
985
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: