Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

منظور پشتین، عوامی شکایات اور ریاست کی ذمہ داری

منظور پشتین، عوامی شکایات اور ریاست کی ذمہ داری
Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ دلچسپ اور حیرت انگیز ڈویلپمنٹس کے لیے غیرمعمولی زرخیزی کا حامل ہے. ان دنوں بھی ہم پاکستان میں ایک ایسے ہی نئے سیاسی رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ” پختون تحفظ موومنٹ” کے نام سے برہا ہونے والی یہ تحریک اس وقت سڑک سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر جگہ اپنے نقوش ثبت کرنے کے مرحلہ میں ہے ۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک پڑھے لکھے نوجوان، منظور پشتین کی قیادت میں منظم ہوتی یہ تحریک ہر خاص و عام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رہی ہے۔

اس تحریک کے حوالے سے جن دو باتوں نے مجھے متوجہ کیا، ان میں سے پہلی تو یہ بیان تھا کہ منظور پشتین کا خلوص ہر شک و شبہ سے بالا ہے گو ان کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے ۔ فوراً ذہن پر زور ڈالا کہ یہ بات پہلے کہاں سنی، پر جو نام ذہن میں آیا اس نے ہوش اڑا دیے ۔ ابھی تو ہم ان کے خلاف آپریشنوں سے فارغ نہیں ہوئے اور اب ایک اور ایسا نعرہ ؟؟؟ پہلے والوں نے تو پھر اپنے نام کے ساتھ پاکستان کا لاحقہ لگا رکھا تھا یہ تو ہیں ہی "پختون تحفظ موومنٹ” ۔ گویا کہ اس کی بنیاد لسانی ہے ، قومی یا صوبائی نہیں۔ اس نوع کی تحاریک کا ہدف یا دشمن سرحدوں کے اندر ہی ہوتا ہے اور اس کے خلاف جزبات کو ابھارا جاتا ہے ۔۔۔۔ جیسا کہ اس وقت ہم اس تحریک کے نعروں وغیرہ میں دیکھ بھی رہے ہیں۔

دوسری بات یہ سامنے آئی کہ ان کے مطالبات بالکل سادہ اور عام فہم ہیں۔ تو جناب، بات یہ ہے کہ طالبان کا مطالبہ تو اس سے بھی سادہ تھا اور وہ بھی آئین پاکستان میں درج تھا ۔۔۔۔ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ۔ اگر ہم تاریخ عالم اور خود اپنے خطہ کو دیکھیں تو سادہ مطابات صرف اس حد تک سادہ ہوتے ہیں کہ سادہ لوح لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے پیچھے لگایا جا سکے اور عوام کی شرکت اسے ایک حقیقی پریشر گروپ بنا دے۔ اس سادگی کے پیچھے بالعموم ٹھیک ٹھاک "پُرکاری” پنہاں ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ عمل درآمد کے مرحلہ پر کون فیصلہ کرے کہ مطالبات کے جواب میں جو کیا گیا وہ کافی یا مناسب تھا۔ آپ جب چاہے کہہ دیں کہ ہم نہیں مانتے۔ مثلاً، مسنگ پرسنز پر آپ نے ایک تعداد دے دی ، اس کے بعد یہ آپ کا مسئلہ نہیں کہ کون پہلے ہی بھاگ کر پڑوسی ملک چلا گیا یا وہ کسی زیرِ زمین گروہ کا حصہ ہے ۔۔۔۔ آپ با آسانی کہہ سکتے ہیں کہ بندے پورے نہیں ہوئے ہم مطمئن نہیں۔ یا شومئی قسمت کوئی بارودی سرنگ کہیں پھٹ گئی تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھا ہماری بات مانی نہیں گئی۔ اس کے بعد اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ "ہم” نے تو سادہ مطالبات سامنے رکھے تھے اب ریاست یہ بھی نہیں کر سکتی تو ہم اور اس سے کیا مطالبہ کریں۔ اب ہم الف، ب، یا جیم راستہ لیں گے۔ کم از کم تحریک طالبان پاکستان نے تو یہی کیا۔ اتفاق ایسا ہے کہ ان دونوں "تحاریک” میں اور بھی مماثلتیں تلاش کی جا سکتی ہیں ۔ دونوں کا نکتہ آغاز اسلام آباد ہے، اور یہ بات بھی کہ یہ دونوں کسی کے "ناحق خون” کے بدلہ کی بات سے شروع ہوئیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی نے ریاست کے سیکیورٹی اداروں کا اپنا ہدف بنایا اور اس کی آڑ میں ریاست ہی کو سینگوں پر لے لیا۔

ایسی تحاریک پولیٹیکل سائنس کے ہر طالب علم کے لیے بہت دلچسپی کا باعث ہونا چاہئیں کیونکہ یہ سب کسی نئے اسٹریٹیجک پینترے کا پہلا ٹیکٹیکل قدم ہوا کرتی ہیں۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے خیالات و اعترافات سے ہم سب واقف ہیں. پھر سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران دیے گئے انٹرویوز اور بیانات نے اس ضمن میں ہر ابہام کو قریب قریب ختم کر دیا ہے۔ اب اس تحریک کو ہی دیکھ لیجیے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ منظور پشتین صاحب کو جس قدر سیدھا سادہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے شاید حقیقت اس سے کچھ مختلف ہو۔ جس طرح کی ڈیمانڈز اور نعرے لے کر وہ میدان میں اترے ہیں وہ پتہ دیتے ہیں کہ یہ کوئی حادثاتی مہم نہیں، بلکہ اس میں منظور صاحب کو بہت سے "عالی دماغوں” کی مدد حاصل ہے. اگر شروع میں ایسا نہیں بھی تھا تو اب ضرور ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کی بات کسی لحاظ سے بھی سادہ بات نہیں۔ یہ مطالبہ تو ٹی ٹی پی نے بھی نہیں کیا تھا ۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ خدشات کو بنیاد بنا کر جائز مطالبات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، نہ ہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ عوام کی مشکلات سے صرفِ نظر کیا جائے۔ تاہم دوسری جانب یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ان مطالبات کی آڑ میں کسی "گریٹر ایجنڈا” کی تکمیل کے عزائم پر بھی مسلسل نگاہ رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:   سہارتو: ایشیاء میں لبرل آمریت کا ایک مہرہ - شاداب مرتضی

دوسرا اہم معاملہ یہ ہے کہ اس تحریک کی ٹائیمنگ اور جگہ ایسے ہیں کہ بہت سے دیگر معاملات اس کو مہمیز فراہم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ تحریک خود بھی بہت سے ایشوز کو الجھا سکتی ہے۔ اس فہرست میں ڈیورنڈ لائین کے دوںوں اطراف کے معاملات شامل ہیں۔ مثلا ۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ تو قبائلی علاقوں کی مجوزہ اصلاحات ہیں جن کے تحت فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جانا ہے۔ اس حوالہ سے بعض قوم پرست و دیگر حلقوں کے تحفظات ریکارڈ پر ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ کی وجہ سے افغان حکومتی کے حلقے بھی اس پیشرفت پر عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ پاک افغان سرحد پر لگنے والی باڑ بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخی کا باعث ہے۔ ماضی قریب میں ہونے والے سیکیورٹی اقدامات اور بارڈر مینجمنٹ کی جانب اضافی توجہ سے "افغان ٹرانزٹ ٹریڈ” کی آڑ میں اسمگلنگ کے کام سے منسلک طبقہ بھی بہت متاثر ہؤا ہے ۔ اگر فاٹا اور بلوچستان کی پختون بیلٹ میں بے چینی پھیلتی ہے تو اس سے یہ سب طبقات کچھ نا کچھ فائدہ ضرور حاصل کریں گے۔ مقامی آبادی کا رویہ اگر معاندانہ ہو جائے تو تمام تر انتظامی اختیارات رکھنے کے باوجود ریاست مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ایسی صورتحآل افغانستان کو بھی سُوٹ کرتی ہے اور چند دیگر علاقائی قوتوں کو بھی۔

پاکستان کے داخلی حالات کے تناظر میں بھی اس تحریک کی ٹایمنگ بہت اہم ہے۔ سول ملٹری کشمکش کی بساط پر مختلف چالیں چلی جا رہی ہیں۔ اگر کسی بھی امکانی صورتحال میں فوجی قیادت کچھ مشکل میں آتی ہے یا کسی علاقہ میں اسے بیک فٹ پر جانا پڑتا ہے تو یہ چند قوم پرست یا دیگر سیاسی حلقوں کے لیے پوائینٹ اسکورنگ کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم جمہوریت کے حوالے سے حساس طبقات کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس مہم کی اعلانیہ حمایت دیکھ رہے ہیں۔ اُدھر بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ منظور پشتین کی روز افزوں مقبولیت تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے ۔ اس لیے تحریک انصاف کے عوامی نیشنل پارٹی جیسے سیاسی مخالفین جو قوم پرست تو ہیں لیکن خیبر پختونخواہ کے ساتھ فاٹا کے انضمام کے پرزور حامی بھی ہیں وہ بھی فی الوقت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے بالکل خاموش ہیں۔ اس وجہ سے اس وقت منظور پشتین کو کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ۔۔۔۔ کیا اس تحریک میں سب کچھ ہی مشکوک ہے ؟ اس استفسار کا واضح اور دوٹوک جواب ہے ، "نہیں”۔ اس تحریک کا سب سے سچا پہلو وہ عوام ہیں جو اس کا دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مشکلات، ان کے شکوے ان کی مایوسیاں ۔۔۔۔ یہ سب ایک بہت بڑی حقیقت ہیں۔ ریاست کو ان کی آواز پر فوری طور پر کان دھرنا ہوں گے اور ان کا مداوا کرنا ہو گا۔ پاکستان کے اس خطہ کے عوام کی ایک عظیم تعداد پہلے ہی بہت قربانی دے چکی ۔ اسے اب کسی نئے نعرے پر تباہ ہونے کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان کی مشکلات ان کا اصل مسئلہ ہے۔ جو ان تکالیف کی بات کرے گا وہ اس بات سے قطع نظر کے ایسا کرنے والے کے اپنے عزائم کیا ہو سکتے ہیں، اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ ریاست کو فی الفور مقامی بندوبست بہتر کرنا ہوگا۔ پولیٹیکل ایجنٹس اور ان کے رویہ پر کڑی نظر کسی بھی اصلاحی پالیسی کا اہم ترین نکتہ ہے۔ اس کے بعد مسنگ پرسنز اور چیک پوسٹوں کے معاملات کو ایک قابل بھروسہ میکانزم سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے جس میں مقامی آبادی کا مستقل بنیادوں پر "فیڈ بیک” شامل رہے تاکہ معاملات میں ٹھوس بہتری لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:   ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے | اکرم شیخ

اس سب کے ساتھ ایک اور اہم ترین کام منظور پشتین اور نقیب اللہ محسود کے والد کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے۔ یہ دو شخصیات اس تحریک میں مرکزی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہم دنیا بھر میں یہ رجحان دیکھتے آئے ہیں کہ ایسی تحاریک کے دو مراحل ہوتے ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں عوامی حمایت کے لیے بظاہر عام سا دکھنے والا لیڈر سامنے آتا ہے ۔۔۔ جب لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اکٹھی ہو جاتی ہے تو اس لیڈر کو منظر سے غائب کر دیا جاتا ہے ۔ اس طرح وہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ غم و غصہ اور انتقام کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ اب اس کے نام پر "اصل ایجنڈا” پر ڈٹ کر عمل ہوتا ہے اور خوب فساد پھیلایا جاتا ہے ۔ نقیب اللہ کے والد کی اہمیت یہ ہے کہ بظاہر ان کے صاحبزادے کے بہیمانہ قتل سے ہی اس تحریک کا خمیر اٹھا۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ مزید کوئی فقیر ایپی نہ آئے تو اسے کوئی اور "نیک محمد” بھی درکار نہیں جس کے نام پر معاملات کو بگاڑنے کا موقع ملے۔ یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ ریاست کا اب تک کا رویہ کافی مناسب ہے۔ ریاستی اداروں نے اب تک منظور پشتین اور ان کے جلسوں یا حامیوں کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ اس حکمت عملی سے یقیناً ایسے لوگوں کو بہت مایوسی ہوئی ہو گی جو بگاڑ کے خواہاں تھے۔ اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر عرض ہے کہ منظور پیشتین اور نقیب اللہ صاحب کے والد کی ہر قسم کے خطرے سے حفاظت ریاست کی نا گزیر ذمہ داری ہے۔

آخر میں پختون علاقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سے یہ گزارش ہے کہ یہ ملک آپ کا ہے۔ آپ خود سمجھدار اور دانشمند لوگ ہیں، اپنا بھلا برا خوب سمجھتے ہیں۔ اپنے لیڈران کے انتخاب کا مکمل حق بھی رکھتے ہیں۔ تاہم ایک ادنی ہم وطن کی حیثیت سے صرف یہ عرض ہے کہ یہ بھی دیکھ لیں کہ پختون قومیت، جہاد اور اب پھر پختون قومیت کے نام پر آپ مزید کتنے نقصان کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پہچانیں جو لیڈر بن کر آپ کو پھنسا دیتے ہیں جبکہ ان کی زندگایں ویسے کی ویسے جاری رہتی ہیں۔۔ لر او بر افغان والے افغانستان میں پختونوں کے قتل عام پر بھی کیا ایسا ہی کوئی احتجاج کر رہے ہیں ؟ امریکہ یا افغان حکومت کو کچھ کہہ رہے ہیں۔ حامد کرزئی جب کہتے ہیں کہ امریکہ ہمیں مار رہا ہے تو یہاں سے کوئی ہاں میں ہاں ملاتا ہے انکی ؟ پھر یہ بھی دیکھ لیجیے کہ جو ایسے نعرے دیتے ہیں وہ حکومتیں اور مراعات پاکستان سے حاصل کرتے ہیں۔ وہ افغانستان جا کر کیوں نہیں بیٹھ جاتے ؟ اس لیے کہ افغانستان یا کسی اور ملک میں ان کی جو بھی قدر ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔ خواہ اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ وہ پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اگر آج پاکستان نہ ہو تو ان کی بھی ایک ٹکے کی عزت نہ ہو۔ یہ بھی ان میں سے ایک ہوں جن سے قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ لیڈران پر ہی موقوف نہیں ۔۔۔۔ میری اور آپ کی بھی جو وقعت ہے وہ اسی ملک کی وجہ سے ہے۔ اس لیے احتجاج یا شکایت کا پہلا ہتھوڑا اس شاخ پر نہیں برسنا چاہیے جس کا نام پاکستان ہے اور جس پر ہم سب کا آشیانہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

Views All Time
Views All Time
63
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: