ملامنصور ڈرون حملے کانشانہ

Print Friendly, PDF & Email

wisal khanاپنے پیشرواوربانی امیرملاعمرکے نقش قدم پہ چل کرافغان طالبان کے دوسرے امیرملااخترمنصوربھی امریکی ڈرون حملے کانشانہ بن چکے ہیں یہ نشانہ انہیں کہاں بنایاگیا؟ نشانہ بنانے کیلئے کیاٹائمنگ مناسب تھی؟حالیہ عرصے میں افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پرجو’’مذاکرات‘‘ ہورہے ہیں یہ نشانہ انہیں کہاں تک متاثرکرےگا؟ اس نشانے کاخطے کی پہلے سے خراب امن وامان کی صورتحال پرکیااثرات مرتب ہوں گے؟ پاکستانی عوام اور فہمیدہ حلقوں کی جانب سے یہ اور اس طرح کے متعددسوالات اٹھائے گئے جن میں سے اکثر سوالات جواب طلب ہیں اوریہ شائد تشنہء جواب ہی رہیں گے اس خطے کے حکمرانوں کی اکثریت نہ چاہتے ہوئے بھی امریکی اشاروں پہ ناچ رہی ہے امریکہ جو بزعمِ خود دنیا کی سب سے بڑی فوجی اوراقتصادی طاقت ہے اور اس طاقت کا عملی ثبوت امریکہ کی جانب سے دنیا کے متعددچھوٹے اوردفاعی لحاظ سے کمزورممالک کوتباہ کرکے پیش کیاگیاہے جس میں اسے اکثروبیشترکامیابی ہی نصیب ہوئی ہے مگر’’ہارڈ ٹارگٹ‘‘ افغانستان میں اسے شرمناک شکست سے دوچارہوناپڑا. اس شکست کے بعد امریکی تھنک ٹینکس نے حکمرانوں کو مشورہ دیاکہ اپنی فوج وہاں سے نکال کروہاں کے مقامی باشندوں کوآپس میں لڑاؤ.املاک وہاں کی تباہ ہوں گی ،تباہی وبربادی وہاں کا مقدر بنے گی، خونریزی وہاں ہوگی ،لوگ وہاں کے مریں گے اور امریکہ کااسلحہ انڈرورلڈ کے ذریعے ان آپس میں لڑنے والوں کوملتارہےگا. امریکہ کی ہزاروں کی تعدادمیں اسلحہ فیکٹریوں کی مشینری بھی زنگ سے محفوظ رہےگی اورمنافع بھی ہاتھ آئےگا. یعنی’’ آم کے آم گٹھلیوں کے دام ‘‘یہ کیاکہ ہم ہزاروں میل دوراپنی فوجیں بھیجیں اس کے خرچے اورجانی نقصانات برداشت کریں اوراس کے باوجودشکست کھاکر شرمندگی الگ سے اٹھائیں اسی پالیسی پر عمل کرکے امریکہ یہاں کے لوگوں کوآپس میں مرغوں کی طرح لڑاکرخود پشتومثل کے مطابق ’’دآخرت پہ ڈھیرئی ناست دے ‘‘ یعنی اونچی چوٹی پہ بیٹھ کراطمینان انجوائے کررہاہے، تماشادیکھ رہاہے، اورتھپکی دے رہاہے اس پالیسی کانشانہ سب سے پہلے پاکستان کوبنایاگیا یہاں پاکستانی طالبان نامی تنظیم کوپروان چڑھایاگیاجس نے پاکستانی فوج سے براہ راست ٹکراؤ کی صورتحال پیداکی جب پاکستان کی ریاستی رٹ کوچیلنج کیاگیاتوپھرپاک فوج کہاں چپ رہ سکتی تھی اس نے دانشمندی کاثبوت دیتے ہوئے سیاسی ڈائیلاگ کوموقع دیا،ملک میں موجودمذہبی اورسیاسی راہنماؤں کی مددلی گئی، پاکستانی طالبان نے ملکی سیاست میں سرگرم اور چوٹی کے سیاستدانوں کواپنامذاکرات کارمنتخب کیا( جن میں نوازشریف عمران خان اورمنورحسن کے اسمائے گرامی قابل ذکرہیں)پاکستانی طالبان کے اس انتخاب سے پاکستانی سیاست میں ان کے ہمدردبھی بے نقاب ہوئے مگرمذاکرات کی ناکامی اور طالبان کی ہٹ دھرمی پرحرکت میں برکت کامظاہرہ کرکے پاک آرمی نے امن دشمنوں کاخاتمہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی جو مشکل اورکٹھن کام امریکہ اوراس کے انتہائی طاقتور،جدید جنگی مشینری،دنیاکے جدیدترین اسلحے ،بیش قیمت اوراعلیٰ تربیت سے لیس اتحادی افواج دس بارہ برس کی جھک مارنے کے باوجودانجام نہ سکی پاکستانی فوج مختصرعرصے میں اس سے کئی گنابڑی جنگ جیتنے کے قریب پہنچ گئی ہے جس کودنیابھی حیرت ،تعجب ،ستائش اورجیلسی کی ملی جلی کیفیت سے دیکھ رہی ہے مگرامریکہ سے یہ کامیابی ہضم نہیں ہورہی کیونکہ اس کامیابی سے امریکی سبکی کے علاوہ خطے میں استحکام کے آثارنمایاں نظرآرہے ہیں اس استحکام کوعدم استحکام میں بدلنے کیلئے ملااخترمنصورکونشانہ بناناضروری تھاورنہ انہیں افغانستان یاایران میں نشانہ نہیں بنایاگیاامریکہ ہمیشہ خونریزی کیلئے پاکستانی سرزمین کوپسندکرتاہے اس سے پہلے اسامہ کوبھی ایبٹ آبادمیں نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی تھی امریکہ مذاکرات کے بہانے بلاکرنشانہ بنانے کے بھی متعددمظاہرے اسی سرزمین پہ فرماچکاہے ملامنصورکے ڈرون حملے میں نشانہ بنانے سے واضح ہوچکاہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی پاک فوج اورافغان طالبان کولڑاناہے جس کیلئے متعدداقدامات اٹھائے گئے ہیں ملااخترمنصورکوافغانستان میں طویل عرصے تک موجودگی کے باوجودنشانہ نہیں بنایاانہیں نشانہ بنایاگیاتوخصوصی طورپہ پاکستانی علاقے میں ۔اس کے بعدامریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس کا باقاعدہ اعلان کیاگیاکہ طالبان امیرکوپاکستانی علاقے میں آرمی چیف اوروزیراعظم کی پیشگی آگاہی کے بعدنشانہ بنایاگیا اس اعلان کامقصدطالبان کے غیض وغضب کوپاکستان کی جانب موڑناہے جوپہلے ہی پاکستان کےلئے اپنے دل میں رحم کاجذبہ نہیں رکھتے امریکہ نے طالبان پرجتنے حملے کئے ہیں طالبان نے اس کابدلہ پاکستان سے لینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیااپنے فطری حریف پاکستانی طالبان کے ہاتھوں معصوم بچے گاجرمولی کی طرح کاٹنے پربھی افغان طالبان نے کسی خاص ناپسندیدگی کااظہارنہیں کیااب ملااخترمنصورکانشانہ نجانے کتنے بے گناہ اورمعصوم پاکستانیوں کی بھینٹ لے گااب پاکستان کی دفاعی ضروریات مزیدبڑھیں گی اورامریکہ اپنے دفاعی امدادپرقدغنیں لگاکرپاکستان سے اپنی شرائط منوانے کے بعدحاتم طائی کی قبرپرلات مارنے کے اندازمیں دوبارہ یہ امدادبحال کرےگااس طرح دونوں جانب سے امریکی اسلحہ استعمال ہوگامریں گے خطے کے مقامی باشندے اور نفع حاصل ہوگاامریکہ کو۔اگرپاکستانی فوج کی ضرب غضب میں کامیابیوں کودیکھاجائے توخطہ امن کی جانب لوٹنے لگاتھامگرخطے کا امن امریکی مفادات سے متصادم ہے اوپرسے پاک چائنااقتصادی راہداری منصوبے سے بھی امریکہ کے پیٹ میں مروڑاٹھ رہے ہیں اگریہ منصوبہ مکمل ہوتاہے توناصرف چین کے ترقی کی رفتارمزیدتیزہوجائیگی بلکہ پاکستان بھی اقتصادی لحاظ سے ترقی کی شاہراہ پردوڑنے لگے گاپاکستان ترقی کرے اوراپنے پیروں پہ کھڑاہو یہ امریکہ اوراس کے اتحادی بھارت کے پیٹ میں مروڑکیلئے کافی ہے پاکستان کی اقتصادی ترقی اسے امریکی کاسہ لیسی سے نجات دلاسکتی ہے پاکستان اس راہداری سے ناصرف چین بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت روس ،یورپ اورپوری دنیاکوایک نیاتجارتی روٹ دے سکتاہے جس سے پاکستان میں خوشحالی آنے اوراس کی معاشی مشکلات میں کمی کے امکانات کوردنہیں کیاجاسکتا اس متوقع خوشحالی کوروکنے کےلئے امریکہ کے نئے اتحادی بھارت نے ایران کوبھی استعمال کرنے کافیصلہ کیااورایرانی بندرگاہ چاہ بہار کوگوادرکے مقابلے پرلانے کیلئے سوچ بچارجاری ہے پاک چائنااقتصادی راہداری کوناکام بنانے کے لئے اس کے راستے میں کانٹے بچھائے جارہے ہیں طالبان امیرکانشانہ بنانابھی اسی سلسلے کی کڑی ہے امریکہ نے پاکستانی علاقے میں ملامنصورکوڈرون حملے کانشانہ بناکراس نشانے سے خطے کاپہلے سے غارت شدہ سکون اور گوادرکاشغرشاہراہ سمیت بہت کچھ نشانے پہ رکھ لیاہے ۔

Views All Time
Views All Time
338
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاپولزم اور پاکستانی سیاست - خورشید ندیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: