بے حِس لوگ – منیحہ لیاقت

Print Friendly, PDF & Email

wanehar-liaqatکسی موضوع پرلکھنا چاہ رہی تھی مگر دماغ میں اتنا کچھ چل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہا کیا چیز قلم بند کروں کیا چھوڑ دوں۔ آج کل میں ایک یونیورسٹی میں ملازمت کر رہی ہوں ۔ آنے جانے کے لئے میٹرو بس میں سفر کرتی ہوں جسے بہت سے لوگ جنگلہ بس کہتے ہیں ۔ میٹرو بس سروس سے بہت سے لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ لاہور شاہدرہ اسٹیشن اور گجومتہ اس کے دو ٹرمینل ہیں جن کے درمیان یہ لاہور کے قریباً ستائیس اسٹاپ سے ہو کر گزرتی ہے ۔ کرایہ انتہائی مناسب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میٹرو بس پر سواریوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے ۔ میرا اسٹیشن شاہدرہ ہے جہاں سے میں میٹرو میں سوار ہوتی ہوں ۔ جس وقت بھی چلے جائیں ،سواریوں کا رش کم ہونے میں ہی نہیں آتا ۔میٹرو میں سیٹ ملنا تو محال ہی ہے۔ اکثر و بیشتر کھڑے ہو کر ہی سفر کٹتا ہے۔دیگر سواریوں بھی انھی حالات سے دو چار ہوتی ہیں۔ جو لوگے آگے کھڑے ہوتے ہیں وہ جا کر سیٹوں پر بیٹھ جاتے ہیں پیچھے رہ جانے والوں میں سے کچھ، کھڑے رہ کر ہی اگر کر لینے کا فیصلہ کر کر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ باقی اگلی بس کا انتظار کرتے ہیں ۔ بہر حال میں گھر سے یونیورسٹی کے لئے نکلی ۔ رکشہ پکڑ کر میٹرو اسٹیشن پہنچی ۔ ہمیشہ کی نسبت آج رش کچھ کم ہی تھا مجھے آسانی سے بس میں سیٹ مل گئی میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک خاتون آکر بیٹھ گئیں۔ ان کے ساتھ ایک بچی بھی تھی جسے انھوں نے دونوں سیٹوں کے درمیان میرے ساتھ بٹھا دیا ۔ بس نے سفر شروع کیا ۔ نیازی چوک جا کر بس رکی تو اور کچھ سواریاں بس میں سوار ہوئیں۔ ان میں ایک کافی ضعیف العمر اماں جی تھیں جو سیٹ میسر نہ آنے کے باعث ہینڈل پکڑ کر کھڑی ہو گئیں ۔میں نے بچی سے کہا کہ بچے آپ کھڑے ہو جاؤ میں بھی کھڑی ہوتی ہوں ان اماں جی کو جگہ دے دیتے ہیں ۔ میں اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑی ہو گئی اور ان ماں جی کو اپنی جگہ دے دی ۔ بچی کی ماں فوراً بولی نہیں تم بیٹھی رہو آرام سے۔ کسی کو ایسے اپنی جگہ نہیں دیتے۔ ماں جی سیٹ پر تو بیٹھ گئیں مگر جگہ کم ہونے کے باعث تنگ ہو رہی تھیں۔ میں نے بچی کی ماں سے کہا کہ آنٹی پلیز اپنی بیٹی سے کہیں کہ اماں جی کو تھوڑی زیادہ جگہ دے دے ۔ کہنے لگیں ہم ان ماں جی سے پہلے بیٹھے تھے ۔ میں نے کہا کہ وہ میری سیٹ پر بیٹھی ہیں۔ میری باتیں سن کر بچی تھوڑی سیدھی ہو کر بیٹھی تو اس کی ماں نے فوراً اسے ڈانٹ دیا کہ تم اپنی جگہ پر بیٹھی رہو۔ میں نے کہا وہ میری جگہ ہے ۔ آنٹی جی چٹخ کر بولیں پر تم تو کھڑی ہو ۔تمہاری کون سی جگہ ۔ اس صورت حال سے کافی لوگ متوجہ ہو رہے تھے اس لئے میں نے بحث چھوڑ دی اور چپ کر کے کھڑی ہو گئی جبکہ اس بچی کو اس کی ماں بار بار سمجھا رہی تھی کہ آئندہ کبھی کسی کو اپنی جگہ نہ دینا۔ اگر کوئی اتنا ہی ضعیف ہے کہ کھڑا نہ ہو سکے تو وہ رکشہ کروا کے جہاں جانا ہے،چلا جائے ۔
بچی کی عمر کوئی بارہ تیرہ برس کی تھی اور اس کی ماں اس کے ماغ کی کیا نشوونما کر رہی تھی ۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ بچے بے حس ہو گئے ہیں۔ بےحس بچے نہیں ان کی تربیت کرنے والے ہو گئے ہیں ۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہر روز ہمارے چاروں طرف ہیں بس ضرورت ہے تو کسی دیکھنے والی آنکھ کی ۔ہم بچوں کو یہ نہیں سکھا رہے کہ بڑوں کی عزت کرو، ہم یہ نہیں سکھا رہے کہ بزرگوں سے شفقت کرو ۔ ہم کیا سکھا رہے ہیں ؟؟؟ وہ بچے جن کے دماغوں میں بچپن سے ڈالا جا رہا ہو کہ اپنا حق کسی ضرورت مند کی خاطرکبھی قربان مت کرنا، کسی ضرورت مند کی کبھی مدد مت کرنا ۔ کیا یہ وہ بچے ہیں جو ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہیں؟ جن کی نشوونما ہی بے حِسی کے جذبات سے کی جارہی ہو وہ کیسے کسی درد مند کا درد سمجھیں گے اور گلہ کرتے ہیں کہ حکمران ہمارے درد نہیں سمجھتے ۔۔۔ کل کو وہ بچی یا بچہ حکومت میں آئیں تو کیا وہ اپنی عوام کا درد سمجھیں گے؟؟؟ کبھی نہیں ، کبھی بھی نہیں ۔۔۔ خدارا اصلاح اپنے گھر سے شروع کریں ۔

Views All Time
Views All Time
449
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہیلری کے نام ایک اوریائی خط - ڈاکٹر زری اشرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: