آدمی کو ہی میسر ہو کبھی انساں ہونا

Print Friendly, PDF & Email

Umme Rubabدفتر میں ایک بار میرے باس نے مجھ سے کہا ام رباب تمہاری سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ تم ایک ذہین عورت ہو،میں نے ہنس کر کہا جی سر میں جانتی ہوں اور اپنی ذہانت پر فخر بھی کرتی ہوں ، مگر شعور کی منزل پر قدم رکھنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میری سب سے بڑی بد قسمتی دراصل میرا عورت ہونا ہے۔
یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے کہ عورت کو ناقص العقل سمجھا جاتا ہے یا مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خود کو بد عقل، کم عقل یا ناقص العقل سمجھتی رہے جب کہ مرد جاہل اور ان پڑھ بھی ہو تو خود کو عقل کل سمجھتا ہے۔اس رویے کا سامنا ہر وقت ہر لمحے عورت کو کرنا پڑتا ہے، کبھی گھر میں کبھی دفتر میں حتٰی کہ ایک راہ چلتا بھی خود کو عقل کل اور عورت کو حقیر گردان کر بات کرتا ہے۔گھر کا مالی ہو، چوکیدار ہو یا گھر پر الیکٹریشن،پلمبر یا کوئی مزدور قسم کا کوئی شخص کام کرنے آجائے تو کام نپٹانے کے سلسلے میں خاتون خانہ کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کرتا رہتا ہے جب تک وہی ہدایات اسے صاحب خانہ سے نہ مل جائیں۔
در اصل یہ مرد کی ذہنی کم زوری کی نشان دہی ہے، ہر کم زور مرد عورت سے ڈرتا ہے چاہے وہ اس کی ماں ہو ،بہن ہو ،بیوی ہو یا بیٹی۔اور مردوں کی یہ قسم عورت کو کم تر سمجھنے اور ان کا مذاق اڑانے کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ایسے لوگ عورت پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے ہیں اور اگر عورت قابو میں نہ آئے تو سب سے آسان کام عورت کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ہے جس کے بعد عورت کی بولتی یقیناًبند ہو جاتی ہے۔
مردوں کی برتری دراصل ہمارے معاشرے کے مردوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔یہ سچ ہے کہ اللہ نے مرد کو جسمانی طور پر عورت سے مضبوط بنایا ہے مگر ذہنی طور پر عورت بہت سے مقامات پر مرد سے بہت آگے ہے۔یہ خیالات اسلامی معاشرے اور خصوصاً بر صغیر کے مسلمانوں میں ہی پروان چڑھے ہیں۔مغربی دنیا میں تو مرد گھر کے کام کاج بھی کرتا ہے اور عورت کا ہاتھ بھی بٹاتا ہے،وہاں عورت بس، ٹرین اور راکٹ چلانے سے لے کر دنیا کا ہر کام کرتی ہے اور کر سکتی ہے۔جس معاشرے میں مرد کو پیدا ہوتے ہی یہ بات سکھائی جاتی ہو کہ عورت محض استعمال کی چیز ہے وہ کوئی انسان نہیں ہے، چونکہ اللہ نے تمہیں جسمانی طور پر عورت سے بہتر اور مضبوط بنایا ہے لہذٰا جسمانی طور پر بلا تخصیص ہر عورت پر تمہارا سو فی صد حق ہے۔ چاہے ذہنی طور پر تم اس سے بہت پیچھے بھی ہو تب بھی جسمانی برتری کی بنیاد پرخود کو عقل کل سمجھنا تمہارا فرض اولین ہے لہذٰا ہر لمحے اسے کم تر سمجھنا اس کی بے عزتی کرنا تمہارے فرائض میں شامل کر دیا گیا ہے۔اسے یہ نہ بتایا جائے کہ مذہب اور اخلاقیات کا جتنا اطلاق عورت پر ہوتا ہے اتنا ہی مرد پر بھی ہوتا ہے اور اسے یہ نہ سکھایا جائے کہ مذہب عورت سے شروع ہو کر عورت پر ہی ختم نہیں ہوتا۔وہاں ایسے رویے ہی تشکیل پاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عورت نام کی مخلوق مقدس کتاب کی طرح جز دان میں لپیٹ کر طاق پر سجانے کے لئے ہوتی ہے اور یہ رواج ہر گھر ہر خاندان میں ہوتا ہے۔مگر یہ تقدس صرف اپنے گھر کی عورت تک محدود ہوتا ہے۔گاؤں دیہات میں تو مرد اپنی غلطی کی سزا عورت کی قربانی دے کر پیش کرتا ہے جسے اپنی سہولت کے مطابق محتلف نام دے دئیے گئے ہیں مثلاً ونی،وٹہ سٹہ ۔۔وغیرہ ۔ کچھ لوگ اس معاشرے میں بھی عورت کو استعمال کی چیز سمجھنے کے بجائے انسانیت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور عزت بھی کرتے ہیں۔ لہذٰا باقی تمام لوگ انہیں مختلف القابات سے نوازتے ہیں مثلاً جورو کا غلام ،زن مرید یا فیمینسٹ ۔۔۔
ایک وقت تھا جب لوگوں کی پرکھ او ر پہچان ان کے خاندانی پس منظر سے ہوا کرتی تھی اور وہ پس منظر علم ہوا کرتا تھا۔ آج انسان کی پہچان اسکا پس منظر صرف دولت ہے،ظاہر ہے جب معاشرے میں دولت،پیسہ اور مادیت پرستی ہی طاقت اور پہچان بن جائے اور جہالت کا بول بالا ہو وہاں ایسا معاشرہ ہی تشکیل پائے گاکہ اب علم دولت نہیں پیسہ دولت بھی ہے طاقت بھی۔علم کا نشہ چڑھتا ہے تو گھمنڈ اور غرور نہیں انکساری پیدا ہوتی ہے دولت کا نشہ چڑھے تو غرور دو چند ہوتا ہے۔ہم جن سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کی بہتری کے لئے کوئی مثبت قدم اٹھائیں گے وہی ان لوگوں کو آخرت میں حوروں سے ملنے کا ایسا لالچ دیتے ہیں کہ ہر لنگور آخرت کا انتظار کئے بغیر اسی دنیا میں حوروں سے مستفیض ہونا چاہتا ہے۔کاش ہم اس جہالت کے ناسور سے چھٹکارا پا لیں امید ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں اچھا وقت ضرور دیکھیں گی کہ امید پر دنیا قائم ہے۔

Views All Time
Views All Time
1144
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟ | عامر حسینی
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: