ہم گناہ گاروں کا "من کنت مولا” تو بس یہی ہے

Print Friendly, PDF & Email

noor-darweshمیں نے ایک بوڑھے عراقی کی تصویر دیکھی تھی جو میرے ذہن پر ہمیشہ کیلئے نقش ہوگئی۔ دیکھنے والے سے کلام کرتی ہوئی تصویر تھی۔ سنہ2005 میں مقتدی الصدر کے حامیوں نے روضہ امام علیؑ کے اندر پناہ لے رکھی تھی اور امریکی فوج نے روضے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ تین ہفتے تک یہ محاصرہ جاری رہا تھا اور پھر مقتدی الصدر کے حامیوں نے ہتھیار ڈال دئے تھے۔ شاید روضے کو کچھ نقصان بھی پہنچا تھا۔ کچھ عرصہ قبل جب مجھے نجف الاشرف جانے کا موقع ملا تو بغداد سے نجف کے راستے میں اُس تصویر کا بھی خیال آیا۔ شاید وہ تصویر میرے تحت الشعور میں بیٹھ چکی تھی۔ دراصل وہ تصویر تین ہفتے کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد کی تھی جس میں ایک بوڑھا عراقی روضے کی بیرونی دیوار سے روتے ہوئے لپٹا ہوا تھا جیسے کوئی چھوٹا بچہ تین ہفتے اپنے انتہائی شفیق، محبت کرنے والے اور پیارے سرپرست سے دور رہا ہو۔ گویا مولاؑ کے لقب ” یتیموں کا باپ ” کی تفسیر تھی وہ تصویر۔ اُس تصویر میں جذبات کا پہلو اس قدر غالب اور طاقتور تھا کہ میں یہ تحریر لکھتے ہوئے بھی اس تصویر کو اپنے سامنے محسوس کو رہا ہوں۔ جب میں روضے کے باہر پہنچا تو تصویر والام منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لوگوں کو جمِ غفیر روضے کے در و دیوار تھامے کھڑا تھا جیسے اُس بوڑھے عراقی کی طرح بہت عرصے بعد اپنے انتہائی شفیق، محبوب اور پیارے مولا سے ملا ہو۔ مجھے اُس بوڑھے عراقی جیسے بہت سے عراقی نظر آئے، لگ رہا تھا کہ میری طرح اُن سب کے تحت الشعور میں وہ بوڑھا عراقی موجود ہے۔ مجھے کچھ دیر تو خود کو یقین دلانے میں لگی کہ واقعی میں اُس ہستی کی بارگاہ میں پہنچ گیا ہوں جس کے فضائل سن کر، جس کی منقبت پڑھ کر اور جس کے نعرے لگا کر میں بڑا ہوا۔ جب تھوڑا یقین آگیا تو میں بھی اُس بوڑھے عراقی کی طرح اُس دروازے سے بے اختیار لپٹ گیا جو بابِ مدینہ العلم کی بارگاہ کا دروازہ تھا۔ اُس دن میں نے اُس بوڑھے عراقی کی کیفیت کو کسی حد تک عملاََ محسوس کیا۔ سچ بتاؤں تو عجیب سرور اور احساسِ اُنسیت تھا اُس دروازے سے لپٹنے میں، ضریح کو مس کرنے پر کیفیت کیا ہوگی، شاید بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ ایک عام ، کم علم اور گناہ گارانسان کیلئے اُنسیت اور سرپرستی کا یہ احساس ہی من کنت مولا کی تفسیر ہے۔ علماء اور صوفیاء تو یقیناََ اس کے لاتعداد رموز بیان کرتے ہیں البتہ ہم گناہگاروں کے لئے من کنت مولا سے اتنا تعلق ہی کل کائنات ہے، مولا (ع) بس اِس تعلق کو قائم رکھیں۔

Views All Time
Views All Time
1631
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عورت ایک کھلونا - شہسوار حسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: