ذہنی اور جسمانی سزا بچوں کے لیے نقصان دہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

ہمارا وطن پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں تعلیم کی صورت حال کئی پسماندہ ممالک سے بھی نا گفتہ بہ ہے۔ بے شمار وجوہات کی بدولت بچوں کی کثیر تعداد سکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتی ۔ جو خوش قسمت سکول پہنچ جاتے ہیں ان میں سے ایک سروے کے مطابق پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے 33فیصد بچے اسکول چھوڑ جاتے ہیں۔ یوں پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 22.64ملین ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کے تقریباً دو کروڑ چھبیس لاکھ بچے تعلیم کی نعمت سے محروم رہ گئے ہیں۔ یہ سارے بچے یا تو چائلڈ لیبر کی چکی میں پس رہے ہیں یا پھر اپنی آئندہ زندگی ایک ان پڑھ شہری کے طور پر گزاریں گے جن کی اپنی کوئی سوچ، کوئی فکر نہیں ہو سکتی۔

اسکول تک پہنچ کر اسکول چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ تو مالی وسائل کی عدم دستیابی ہے جہاں والدین چھوٹے بچوں کو ہی اپنا دست و بازو بنانے کے لیے مختلف کاموں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ لیکن ایک اور اہم وجہ اسکول میں دی جانے والی وہ سزائیں ہیں جو انہیں استاد، سکول اور تعلیم سے متنفر کر دیتی ہیں۔یہ صورتحال تباہ کن حد تک خطرناک ہے کہ بچے اساتذہ کی مارپیٹ کی بدولت اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں اور سزا کے خوف سے اپنی زندگیاں جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیں۔ ان سزاؤں کی اقسام پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے سکولوں میں سزا اور مارپیٹ کا نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ یونیسیف کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے ایک صوبے کے سکولوں میں تینتالیس اقسام کی سزائیں رائج ہیں۔ یوں لگتا ہے سکولوں میں سزا کے بغیر تعلیم کا تصور ادھورا ہے۔
سزاؤں کی ایک بڑی قسم جسمانی سزا ہے جس میں چھڑی کا بے رحمی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے گاؤں کے اکثر سکولوں میں استادا اور ڈنڈا لازم و ملزوم تصور کیے جاتے ہیں۔ ڈنڈے سے طالب علموں کی کھلی ہتھیلیوں پر ضربیں لگاکر انہیں اذیت دی جاتی ہے جس سے ان معصوموں کی ہتھیلیوں پر سرخ اور نیلے نشان ابھر آتے ہیں ۔ جاڑوں کی خون جما دینے والی سردی میں ہتھیلیوں پر ڈنڈے کی ضربوں کا اثر دو چند ہوجاتا ہے۔
ڈنڈے کی عدم موجودگی میں استاد جوتوں، مکوں اور تھپڑوں کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ سزا کی ایک اور قسم وہ ہے جس میں استاد ڈنڈے ، جوتے یا ہاتھ کا استعمال تو نہیں کرتا البتہ مطلوبہ اذیت پہنچانے کے دوسرے ذرائع عمل میں لائے جاتے ہیں۔ مثلاً طالب علموں کو مرغا بنانا، بغیر کرسی کے کرسی کی پوزیشن پر بٹھانا، بچوں کو دونوں ہاتھ اٹھا کر کھڑے کرنا، کلاس سے باہر تیز دھوپ یا شدید سردی میں کھڑے رکھنا یا ایک طالب علم کے ہاتھوں دوسرے طالب علم کی پٹائی کرانا۔ ان سب سزاؤں میں مشترک چیز طالب علم کو جسمانی تکلیف کے تجربے سے گزارنا ہے جو اسے اسکول اور تعلیم سے بد دل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
جسمانی سزاؤں کے نتیجے میں بعض اوقات افسوس ناک نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پیشتر سندھ کے ایک تعلیمی ادارے میں استاد نے ایک طالب علم پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ نا صرف قوت گویائی سے محروم ہو گیا بلکہ وہ چلنے پھرنے سے بھی محروم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے:   ذرا دھیان سے-سہیل احمد

کلاس روم میں دی جانے والی یہ سزائیں معاشرے میں تشدد کو فروغ دیتی ہیں۔ ان جسمانی سزاؤں کے علاوہ کچھ سزائیں ذہنی اور نفسیاتی ہوتی ہیں ۔ یہ سزائیں جسمانی سزاسے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ یہ طالب علموں کی روحوں پر زخم لگاتی ہیں ، یہ زخم کسی کو نظر تو نہیں آتے لیکن ان کے داغ ہمیشہ کے لیے طالب علموں کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جیسے استاد کا طالب علم کو مرغا بنانادراصل اسے انسان کے درجے سے گرا کر حیوانوں کے درجے پر لانا ہے۔ پوری کلاس کے سامنے مرغا بنتے ہوئے طالب علم کی عزت نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے۔ عزت نفس کو مجروح کرنے والی مزید سزاؤں میں استاد کاطالب علم کو ان کی رنگت، قد، جسم، ڈیل ڈول یا ذہنی معیار کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو مخصوص ناموں سے پکارنا ہے۔ استاد کی طرف سے بچوں کو تفویض کیے گئے یہ نام ہمیشہ کے لیے ان کی ذات سے وابستہ ہو جاتے ہیں ۔

بعض اوقات استاد کسی مخصوص طالب علم یا طالب علموں کو باقی کلاس سے الگ تھلگ کر دیتے ہیں ،یہ رویہ ہمیشہ کے لیے ان طالب علموں کو ایک منفی شناخت دیتاہے اور وہ ایک کلاس میں ہوتے ہوئے بھی اس کا حصہ نہیں ہوتے۔ کیا اس سے بڑی سزا کا تصور ممکن ہے جب ایک ہی کلاس میں کچھ بچوں کو اچھوت کا درجہ دے دیا جائے ۔ جب معلم کلاس کے کچھ بچوں کو نالائق کا خطاب دے دیتا ہے اور ان کے ساتھ اسی طرح کا سلوک روا رکھنا شروع کردیتا ہے تو یقینی طور پر متاثرہ بچوں کا ذاتی تشخص بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بچے اس شناخت کو دل سے تسلیم کر لیتے ہیں اور یوں ساری عمر کے لیے ان کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہو جاتا ہے کہ وہ نالائق ہیں۔

ہمارے اسکولوں میں برا بھلا کہنا تو عام سی بات ہے ، کچھ اساتذہ گالیوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور طالب علموں کا توہین آمیز جملوں سے پوری کلاس کے سامنے مذاق اڑاتے ہیں۔ یوں طالب علموں کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کیا جاتا ہے ۔ اکثر اسکولوں میں طالب علموں کے سوال کرنے پر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور ’’تمہیں یہ بھی نہیں آتا‘‘ کہہ کر ہمیشہ کے لیے سوالات کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ سارے طریقے بچوں کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینے کے لیے کافی ہیں جنہیں ہمارے اکثر اساتذہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ شاید وہ یہ نہیں سوچتے کہ بچے کتنے حساس ہوتے ہیں ۔ ان کی طرف سے بچوں کو دی جانے والی اذیت ان کی زندگیاں برباد کر سکتی ہے۔ جہاں ایک اچھا استاد بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا کر ان کی زندگیاں بدل سکتا ہے وہیں ایک روایتی اور منفی سوچ کا حامل استاد جسمانی اور ذہنی اذیت کے سبب بچوں کی زندگیاں برباد کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

کچھ افراد اپنی خام خیالی یا کم تجربے کی بدولت جسمانی اورذہنی سزا کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ سزا سے سیکھنے کا عمل بہتر ہوجاتا ہے اور یہ ڈسپلن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اتفاق سے ابھی تک کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ سزا سے سیکھنے کا عمل بہتر ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس بہت سے محققین کا کہنا ہے کہ ایک بامعنی تعلیم اور سیکھنے کے عمل میں بہتری کے لیے دلچسپی کا ہونا ضروری ہے اور اس دلچسپی کے لیے استاد کی موٹیویشن اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سزا کے حق میں ایک اور دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اس سے کلاس روم کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کنٹرول سے مراد ایک ایسی کلاس ہے جہاں قبرستان جیسی خاموشی ہو یا جہاں ہر وقت استاد کی ہاں میں ہاں ملائی جائے یا جہاں کوئی سوال کرنے کی جرات نہ کرے تو ایسا کنٹرول کسی طور استاد کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اچھے کلاس روم سے مراد ایک زندہ کلاس روم ہے جہاں استاد اور طالب علموں کے درمیان ایک بامعنی انٹر ایکشن ہو ، جہاں طالب علموں کو سوال پوچھنے کی نہ صرف آزادی ہو بلکہ سوال کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی بھی ہو۔ جسمانی اور ذہنی سزاکاہلکا سا تصور بھی ایسے کلاس روم کے لیے زہر قاتل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مسیحا کی موت-عائشہ خانم

پاکستانی نظام تعلیم میں سب سے بڑا مسئلہ تخلیقی سوچ کا فقدان ہے۔ تخلیقی سوچ کے فروغ میں کلاس میں ہونے والے سوالات کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے۔ سوالات کی حوصلہ افزائی کے لیے طلبا کو ایسے ماحول کی فراہمی ضروری ہے جس میں ان کے خیالات کاا حترام ہو ، جہاں اختلاف رائے کی گنجائش ہو، جہاں استاد خود بھی سیکھنے کے لیے تیار ہو ، جہاں دوسرے کی رائے کا احترام، برداشت اور رواداری جیسی اقدار پروان چڑھیں۔ کلاس روم کا یہی جمہوری ماحول طلبا میں جمہوری اقدار کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ یہی اقدار طلبا کی زندگیوں میں غیر محسوس طریقے سے راستہ بناتی ہیں اور پھر ان کی ذاتی زندگیوں سے معاشرتی زندگی میں منعکس ہوتی ہیں۔ سکول میں جسمانی سزائیں عام طور پر اور ذہنی ایذائیں خاص طور پر طلبا کو ڈرپوک، خوفزدہ اور کولہو کا بیل بنا دیتی ہیں جن کی کسی معاملے پر اپنی آزادانہ رائے نہیں ہوتی۔ جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے اور وہ زندگی کی رہٹ میں ایک ہی دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ کلاس میں دی گئی ذہنی ایذائیں طلبا کو بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار بنا دیتی ہیں۔ یہ سزائیں طلبا کی روحوں پر ایسے پائیدار زخم چھوڑ جاتی ہیں جو نظر تو نہیں آتے لیکن ان کی ایذائیں انہیں عمر بھر بے چین رکھتی ہیں۔ کاش ہماری تعلیمی پالیسیوں کا ایک ہدف روح کے ان زخموں کا مداوا بھی ہو۔

Views All Time
Views All Time
120
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: