Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گلگت بلتستان – حقوق و فرائض لازم و ملزوم ہیں

by نومبر 12, 2017 بلاگ
گلگت بلتستان – حقوق و فرائض لازم و ملزوم ہیں
Print Friendly, PDF & Email

دنیاکا مسلمہ قانون یہ بتاتا ہے کہ حقوق اور فرائض لازم وملزوم ہیں۔ دنیا کا ہرملک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے شہریوں کو تمام بنیادی اور آئینی حقوق دینے کا ذمہ دار ہے ۔ جب ریاست اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں کرتی اور حتی الامکان شہریوں کے حقوق کی ضمانت دے تو اس وقت شہریوں پر لازم ہے کہ وہ ریاست کے عائد کردہ تمام فرائض کی انجام دہی میں لیت ولعل سے کام نہ لیں۔

گلگت بلتستان دنیاکابدقسمت ترین خطہ ہے جہاں نہ بین الاقومی قوانین کا احترام کیا جاتاہے نہ رائج ملکی و علاقائی قوانین کا۔ ستر سال کا عرصہ گذر گیا ایک قوم ابھی تک اپنی شناخت کی بھیگ مانگ رہی ہے۔ اپنے حقوق کی بات کررہی ہے اور پاکستان سے اپنی بے لوث محبت کا صلہ مانگ رہی ہے لیکن اسے ہر بار دھتکاراگیااور ہر بار مختلف ہتھکنڈوں سے تقسیم کیا گیااور باہم لڑایاگیااور سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ اس قوم کو حقوق کے نام پر لالی پاپ دے کر بہلایاگیا۔

حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے عوام میں پھربے چینی کی ایک لہر پیداہوئی جب نام نہاد ڈمی قانون ساز کونسل گلگت بلتستان نے اس مسلمہ متنازعہ علاقے میں ٹیکس نافذ کیا۔اس ظالمانہ فیصلے خلاف گلگت بلتستان بھر کی سیاسی سماجی مذہبی تنظیموں کے ساتھ انجمن تاجران نے بھی بھرپور مذاحمت کی تیاری کی اور ہڑتال کااعلان کیا۔ حالات کی نزاکت کااحساس تھا یا یاروایتی منافقانہ روش جناب وزیراعظم سکردو تشریف لائے اور ٹیکسز کے نافذ کا حکم کالعدم قراردیا۔ لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفاہوجائے کی مانند ان کا اعلان ہوا ثابت ہوا۔ اب گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی اور گلگت بلتستان بھر کی سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں کے ساتھ بزنس برادری نے بھی 13نومبر سے تین روزہ شٹرڈاؤں ہڑتال کااعلان کیاہے۔

یہ بھی پڑھئے:   میں کیسا مسلمان ہوں بھائی - عامر حسینی

گلگت بلتستان کے عوام کو اب بھی ہوشیار اور بیدار ہونے کی ضرورت ہے ورنہ یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ سیاسی ، مذہبی اور مسلکی تفریق کو ختم کریں ایک ہوجائیں اور اس بدقسمت خطے کے لئے اس کے حقوق کے لئے مل کر آواز بلند کریں۔

اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان حقوق کی جنگ میں ہراوال دستے کاکردار اداکررہی ہے اس سے پہلے بھی کمیٹی کا کردار قابل تعریف رہاہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی میں تمام مسالک اور علاقوں کی بھرپورنمائندگی ہے اور اس کا تعلق نہ کسی سیاسی جماعت سے ہے نہ کسی فرقےسے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا کردار گلگت بلتستان میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی نمایاں رہاہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں جب گندم پرسبسڈی ختم کی گئی تو ایکشن کمیٹی حرکت میں آئی اور ایک طویل جدوجہد کے بعد ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو جھکنے پر مجبور کیا۔اب نون لیگ کے دور میں جب ناجائز ٹیکسز کے ذریعے غریب عوام پر ظلم ہواتو ایکشن کمیٹی میدان عمل میں موجودہے ۔ بوکھلاہٹ کاشکار صوبائی حکومت اراکین عوامی ایکشن کمیٹی کو دھمکیاں دینے پراتر آئی ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   گلگت بلتستان میں طرزی حکومت آخر کب تک؟ | شیر علی انجم

گلگت بلتستان کے عوام عوامی ایکشن کمیٹی کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے حقوق کے لئے متحد ہوجائے۔ آپ کو معلوم ہے کہ حقوق دیے نہیں لیے جاتے ہیں۔ اپنے حقوق کے لئے اٹھناآپ کا حق ہے نہ کہ بغاوت۔ آپ پاکستان کے اتنے ہی محب الوطن شہری ہیں جتنے دوسرے صوبے کے عوام ہیں۔ آپ کو کسی سے محب الوطنی کی سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ستر سالوں کی محرومی کے باوجود آپ کا حوصلہ کےٹو جیسا ہے اور آپ نے ثابت کیا ہے کہ ہم سا محب الوطن کوئی نہیں۔

Views All Time
Views All Time
211
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: