Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قرآن کا سائنسی مزاج-مہتاب پیامی

قرآن کا سائنسی مزاج-مہتاب پیامی
Print Friendly, PDF & Email

قرآن پروردگارِ عالم کی ایک  لازوال نعمت ہے جو حضورِ اکرم ﷺ کے وسیلہ سے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ ہر دور میں انسان نے اس وسیع اور بسیط کتاب کی تشریح اور تفہیم اپنے علم کی روشنی میں کی ہےاورعلم کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اس کی قرآن فہمی کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ صدیوں تک قرآن کی تفسیر کرنے والے بعض آیات کی صریحاً توضیح کرنے سے قاصر رہے ۔ بہت سی آیات ایسی ہیں جن کا ظاہری ترجمہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی پوشیدہ حقیقتوں کا انسانی علم احاطہ نہیں کر سکتا۔ جدید علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان حقائق کی کماحقہ، ترجمانی میں آسانیاں ہوئی ہیںاور ظاہری معانی کے علاوہ پنہاں مقاصد بھی بڑی حد تک واضح ہوتے جار ہے ہیں۔

قرآن اور علوم جدید بالخصوص سائنس کے موضوع پر بحث دانش وروں کو فکر کا موقع ملتا ہے۔ عام طور پر قرآن اور سائنس کے موضوع پر بحث کا رخ قرآنی ارشادات اور سائنسی ایجادات کے درمیان ہم آہنگی کی تلاش پر مرکوز رہتا ہے۔ اور اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ سائنسی ایجادات اور انکشافات کو قرآن کریم کی کسی نہ کسی پیشن گوئی پر منطبق کیا جائے۔ یہ بھی قرآن فہمی کاایک رخ ہوسکتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن اٹل حقیقتوں سے بحث کرتا ہے جب کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں۔

سطورِ ذیل میں قرآن عظیم  کے سائنسی مزاج کو واضح  کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سائنس بنیادی طور پر ایک انداز فکر ہے۔ محدود معنوں میں ہم سائنس سے فزکس ، کیمسٹری ، بیالوجی و غیرہ مراد لیتے ہیں لیکن آفاقی مفہوم میں سائنس کائنات کا علم ہے۔  سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “جاننا” کے ہیں۔ پروفیسر کے لنگسردکے مطابق سائنس نظامِ فطرت کے علم کا نام ہے جو مشاہدہ، تجربہ اور عقل سے حاصل ہوتاہے۔ علم کے جس شعبے کو ہم سائنس کہتے ہیں اس کا دوسرا نام علم کائنا ت ہے جس میں انسان کا علم بھی شامل ہے۔سائنس دان کائنات کے مشاہدے سے کچھ نتائج اخذکرتاہےاور ہر درست سائنسی نتیجے کو ہم مستقل علمی حقیقت یا قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ مشاہدے اورتجربے سے دریافت ہونے والے علمی حقائق کو جب مرتب اور منظم کرلیا جاتاہے تو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔

سائنسی رویہ انفرادی سوچ بچار (Individual Inquiry) ،منطقی طرز فکر (Logical Approach) ، جرحی سوالات کی جرأت (Critical Question ing) ،شوق تجسس (Inquisitiveness) اور استدلالی صلاحیتوں (Argumentative capacity) پر مشتمل ہوتا ہے۔ بعض معاشروں میں مروجہ عقائد، فطرتی شوق  وتجسس اور دریافت طلبی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ گلیلیو کی مثال سامنے ہے جس کو مروجہ عقائد کے خلاف نئے سائنسی انکشافات پیش کرنے پر موت کی سزا دی گئی۔ اس کے برعکس مسلمان سائنسدانوں نے قرآنی احکامات اور ارشادات کی روشنی میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔

بہ حیثیت کتاب قرآن کی بے شمار فضیلتیں ہیں۔ اس کے پڑھنے والوں کی تعدادبہت  زیادہ ہے۔ دنیا کی اکثر زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوا ہے۔ بے شمار فنکاروں نے اس کی تزئین اور آرائش کی اور ایک سے ایک لا جواب شکل پیش کیا۔ اس کی ایک خاص فضیلت اس کے متن کی دائمیت ہے جس کو ابد تک انسانیت کی رہ نمائی کرنا ہے۔ اس کے مطالب میں کشادگی اور بلندی کی ایسی صلاحیت موجود ہے کہ ہر دور کا انسان اس سے  رہ نمائی حاصل کرسکتا ہے۔ دنیا میں موجود بے شمار تفسیریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس طرح ہر دور کے انسان نے اس کے مفہوم کو اپنے علم کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ قرآن کی سب بڑی فضلیت یہ ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کا موضوع ِبحث کا ئنات ہے ۔لہٰذا خدا کے قول اور فعل میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے ناقص علم سے یہ ہم آہنگی تلاش نہیں کرسکتے تو یہ ہمارا قصور ہے۔ ہماری مروجہ تقسیم علوم کے حوالے سے یہ کسی شعبۂ علم کی کتاب نہیں۔ اس کے باوجود اس میں تمام کائنات کا علم ہے۔ مختصراًیہ کے اس میں وہ صداقتیں ہیں جن کی بنا پر یہ نظامِ کائنات چل رہا ہے دوسرے وہ تاریخی اصول ہیں جن کے تحت قوموں کا عروج و زوال ہوتا ہے اور تیسرے وہ اخلاقی ضابطے ہیں جن سے معاشرہ اور فرد کی زندگی سنورتی ہے اور جن کے ترک کرنے سے فساد واقع ہوتا ہے ۔ قرآن کوئی سائنس کی درسی کتاب نہیں ہے اس کے باوجود اس میں مختلف اشاروں ، کنایوں اور اصولوں کا ذکر ہے جن کے ذریعہ قرآن فطرت کے بعض بنیادی اصولوں اور سائنسی حقیقتوں سے متعلق اپنے پڑھنے والوں کے لیے فکر کی راہ متعین کرتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو مضامین اور موضوعات کے تنوع(Diversity)کی فراوانی پر حیرت ہوتی ہے مثلاً تخلیق کائنات، قوموں کا کردار ، تمدنی اصول وغیرہ ، لیکن ان تمام موضوعات کی غرض و غایط ایک دینی مقصد ہے، جس سے ایمان اور عقیدے میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ خدا کی قدرت کا ملہ کے متعلق قرآن میں جو ارشادات ملتے ہیں انہیں پڑھ کر فکر انسان میں تخلیق کائنات پر غور اور فکر کرنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور اس کی روشنی میں انسان کا ہر فعل قدرت کے منشا اور مرضی  کے مطابق ہوتا ہے، یہی دین کی بنیادی غرض ہے۔ قرآن کا مطالعہ ہمیں جا بہ جا فطرت کا مشاہدہ کرنے اور عوامل فطرت پر تحقیق و جستجو کی مسلسل دعوت دیتا ہے۔ مثلاً:

وَھُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْھٰرًاﺚ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَﺚ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ[الرعد:۳]

[ترجمہ]اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگراور نہریں بنائیں ، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے  رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو ۔[کنز الایمان]

وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةًﺚ نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِھ۪ مِنْۭ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَا۬ئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ[النحل:۶۶]

[ترجمہ]اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے، گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے۔[کنز الایمان]

وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَھُمْ عَنْھَا مُعْرِضُوْنَ [یوسف:۱۰۵]

[ترجمہ]اور کتنی نشانیاں ہیں  آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں  اور ان سے بےخبر رہتے ہیں۔[کنز الایمان]

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَا۬ئِ مِنْ مَّا۬ئٍ فَاَحْیَا بِھِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّةٍﺕ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَا۬ئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ[البقرة:۱۶۴]

[ترجمہ] بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ۔ [کنز الایمان]

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ[غافر:۵۷]

[ترجمہ] بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی  لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ [کنز الایمان]

امام ابن کثیر  ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

بنی اسرائیل کے عابدوںمیں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدتِ عبادت پوری کرلی تھی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایاکرتاتھا اس پر نہ ہو اتو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت  کے زمانہ میں کوئی گناہ کر لیاہو گا، اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر کسی گناہ کا پور اقصد کیا ہو گا۔ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غوروتدبر کے بغیر ہی ہٹا لی ہو۔ عابد نے کہا کہ ایساتو برابر ہوتارہا۔ فرمایا بس یہی سبب ہے۔

اللہ کے رسولﷺ  نے بھی لوگوں کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور بڑی تاکید سے فرمایا کہ علم کا حصول ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ آپ ﷺکا فرمان مبارک ہے۔

وَعَنْ اَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیھ وسلم طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمِ وَمُسْلِمَة[مشکوٰة شریف جلد اول، حدیث نمبر ۲۱۲]

[ترجمہ] حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺنے فرمایا۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے

  قرآن مجید میں ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِھِ الْعُلَمٰ۬ؤُا[فاطر:۲۸]

[ترجمہ]  اللہ  سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔[کنز الایمان]

یہاں ایک اہم واقعہ کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے جس کے راوی علامہ عنایت اللہ مشرقی ہیں ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ اس وقت پیش آیا جب وہ برطانیہ میں زیر تعلیم تھے ۔

“۱۹۰۹ء کا ذکر ہے ،اتوار کا دن تھا اورزور کی بارش ہورہی تھی ۔میں کسی کا م سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس ( James Jeans )بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے ۔میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اورکہنے لگے : کیا چاہتے ہو؟میں نے کہا “دوباتیں ،اوّل یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے ” ۔سر جیمز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتا تان لیا ۔ “دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جارہا ہے؟”میر ے اس سوال پر جیمز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میر ی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ،“ آج شام میرے ساتھ چائے پیٔو”!

چناں چہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا ۔ٹھیک چار بجے لیڈی جیمزنے باہر آکر کہا : “سر جیمز تمہارے منتظر ہیں”۔ اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چاے لگی ہوئی تھی ،پروفیسر صاحب تصوّرات میں کھوئے ہوئے تھے ۔کہنے لگے ،“تمہارا سوال کیا تھا؟”اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیراجرام آسمانی کی تخلیق ،ان کے حیرت انگیز نظام ،بے انتہا پنہائیوں اور فاصلوں ،ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی روابط اور طوفان ہاے نورپر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی وجبروت پردہلنے لگا اور ان کی اپنی کیفیت تھی کہ سرکے  بال سیدھے اُٹھے ہوئے تھے ،آنکھوں سے حیرت وخشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں،اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ا ن کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی ۔فرمانے لگے ،“عنائت اللہ خاں، جب میں اللہ کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے جلا ل سے لرز نے لگتی ہے اورجب میں کلیسامیں اللہ کے سامنے سرنگوں ہوکر کہتا ہوں “تو بہت بڑا ہے ”تو میری ہستی کا ہر ذرّہ میرا ہم نوا بن جاتاہے ،مجھے بے حد سکون…. …..اورخوشی نصیب ہوتی ہے ۔مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے ،کہو عنایت اللہ خاں!تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجا، جاتاہوں ؟”

علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا ۔میں نے کہا “جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آگئی ہے ،اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟”فرمایا “ضرور!” چناں چہ میں نے یہ آیت پڑھی:

وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۭ بِیْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُھَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌﭪ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَا۬بِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُھ۫ کَذٰلِکَﺚ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِھِ الْعُلَمٰ۬ؤُا[فاطر:۲۷، ۲۸]

[ترجمہ]اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے اور کچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے) اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں  اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔[کنز الایمان]

یہ سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے:

“کیا کہا؟اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں؟حیرت انگیز ،بہت عجیب ۔یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ اورمشاہد ہ کے بعد معلوم ہوئی ،محمد (ﷺ)کو کس نے بتائی ؟کیا قرآن مجید میں واقعی یہ آیت موجود ہے ؟اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے ۔محمد (ﷺ)اَن پڑھ تھے،انہیں یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی تھی ،یقینا اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائی تھی ۔بہت خوب،بہت عجیب! ”

چنانچہ سائنس ہمیں اس کائنات اور دیگر موجودات کے مطالعے کا ایک طریقہ بتاتی ہے۔ اس سے ہمیں مخلوق کے وجود کی رعنائیوں اور خالق کی حکمت بالغہ کا شعور ملتاہے۔ لہٰذا اسلام سائنس کی حوصلہ افزائی کرتاہے کیوںکہ ہم اس کے ذریعے تخلیقاتِ خداوندی کی لطافتوں اور نزاکتوں کا بہتر مطالعہ کرسکتے ہیں۔

 اسلام مطالعہ اورسائنس کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتاہے بلکہ اس امر کی بھی اجازت دیتاہے کہ اگرہم چاہیں تو اپنے تحقیقی کام کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے دین کے بیان کردہ حقائق سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اس سے ٹھوس نتائج برآمد ہونے کے ساتھ ساتھ منز ل بھی جلد قریب آجائے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دین وہ واحد ذریعہ ہے جو زندگی اورکائنات کے ظہورمیں آنے سے متعلق سوالات کا صحیح اور متعین جواب فراہم کرتاہے۔ اگر تحقیق صحیح بنیادوں پر استوار ہو تو وہ کائنات کی ابتدا ، مقصدِزندگی اور نظام زندگی کے بارے میں مختصر ترین وقت میں کم سے کم قوت کو بروے کار لا تے ہوئے بڑے حقائق تک پہنچا دے گی۔

آج سائنسی نے جو ترقی کی ہے اس نے انسان پر حیرت کے دروازے کھول دیے ہیں، جس چیز کے متعلق آج سے ۵۰؍یا ۱۰۰؍سال پہلے سوچنا بھی محال تھاوہ ممکن ہو چکی ہے۔ انسان زندگی کے ہر شعبے میں سائنسی علوم پر بھروسا کرتا  اوراس کو اپناتاچلاجا رہا ہے مگر سائنس  کاایک نقصان دہ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ بعض مسلمان بھی دین کے معاملے میں سائنس کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے،دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ کہ اسلام ایک قدیم مذہب ہے جو موجودہ  زمانے کی ضروریات کو پور ا نہیں کر سکتا، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

فزکس کے مشہور نوبل انعام یافتہ سائنس دان “البرٹ آئن سٹائن ” کے بقول“ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا۔”اس کے معنی یہ ہیں کہ سائنس کو اگر مذہب کی روشنی اور رہ نمائی حاصل نہ ہوتو وہ صحیح طورپر آگے کی طرف  قدم نہیں بڑھا سکتی۔ ایسا نہ کرنے سے یقینی نتائج کے حصول میں نہ صرف بہت سا وقت ضائع ہو جائے گا بلکہ ا س سے بڑھ کر یہ امکان بھی غالب ہے کہ تحقیق بالکل بے نتیجہ اور ناقص رہے گی اورماضی گواہ ہے کہ اکثر ایسا ہی ہوتارہا ہے۔ مادہ پرست سائنس دانوں نے ماضی میں جو طریقہ اختیار کیا بالخصوص پچھلے ۲۰۰؍ سال میں، وہ جو مساعی بروے کار لاتے رہے اس میں بہت سا وقت ضائع  ہوا۔ بہت سی تحقیق اکارت گئی او را س پر صرف ہونے والا لاکھوں کروڑوں ڈالرز کا سرمایہ ضائع ہو گیا۔ اس سے انسانیت کو کچھ بھی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس لیے کہ ان کی تحقیق غلط راستوں پر تھی۔یہی چیز مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کا باعث بنی اوراہل مذہب سائنس سے متنفرہوئے۔

اس سے یہ بات واضح طو رپر سمجھ لینی چاہیے کہ سائنس صرف اسی صورت میں قابل اعتما د نتائج حاصل کرسکتی ہے جب اس کی تحقیق وتفتیش کا مدعا ومقصد کائنات کے رازوں اور اشاروں کو سمجھنا ہو۔اگر اس نے اپنے وقت اور وسائل کو ضائع ہونے سے بچاناہے تو اسے صحیح ہدایت کی روشنی میں صحیح راستے کا انتخاب کرناہو گا۔

یہ تصور کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے مخالف ہیں ،یہودیت اورعیسائیت کے زیر اثر ممالک میں بھی اسی طرح پھیلاہواہے جیساکہ اسلامی دنیامیں ہے ،خصوصیت سے سائنسی حلقوں میں اگر اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی جائے تو طویل مباحث کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا۔مذہب اور سائنس کے مابین تعلق کسی ایک جگہ یا ایک وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا ہے۔ یہ ایک امر واقعہ  ہے کہ کسی توحید پرست مذہب میں کوئی ایسی تحریر نہیں ہے جو سائنس کو ردّ کرتی ہو۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں چرچ کے حکم کے مطابق سائنسی علوم کا حصول اور اس کی جستجو گناہ قرار پائی تھی۔ پادریوں نے عہد نامہ قدیم سے ایسی شہادتیں حاصل کیں جن میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ممنوعہ درخت جس سے حضرت آدم  نے پھل کھایا تھا وہ شجر علم تھا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور اپنی رحمت سے محروم کردیا۔ سائنسی علوم چرچ کے حکم سے مسترد کر دیے گئے اور ان کا حصو ل جرم قرار پایا۔زندہ جلا دیے جانے کے ڈر سے بہت سے سائنس دان جلا وطنی پر مجبور ہوگئے یہاں تک کہ انہیں توبہ کرنا،اپنے رویہ کو تبدیل کرنا اور معافی کا خواستگار ہوناپڑا۔مشہور سائنس دان گلیلیو پر اس لیے مقدمہ چلایا گیا کہ اس نے اس نظریہ کومان لیا تھا جو زمین کی گردش کے بارے میں کوپر نیکس نے پیش کیاتھا اور اس مقدمے کے نتیجے میں گلیلیو کو سزاے موت ہوئی اور اسے موڑ کر توڑ دیا گیا، تایخ میں اتنی خوف ناک سزاے موت شاید ہی کسی کو دی گئی ہو۔اور یہ نتیجہ تھا “کتابِ مقدس” بائبل کی ایک غلط تاویل کا۔

قرآن کے سائنسی مزاج کو سمجھنے کےلئے ہمیں پہلے سائنسی تحقیق کے بنیادی اصول جاننا چاہیے  جو چھ عوامل پر مشتمل ہیں۔

١۔ مشاہدہ Observation

٢۔مفروضہ Hypothesis

٣۔تجربہ     EXperimentation

 4۔ثبوت یا عدم ثوبتProve or Disprove

 ٥۔استخراج استنباط Induction /Deduction

 ٦۔مزید تجربات Further Experimentation ۔

قرآن کریم میں حضرت ابراہیم        اکا واقعہ اس مسلسل غور مشاہدہ اور مفروضہ کی بہترین مثال ہے۔ حضرت ابراہیم          نے چمکتے ستارے ، چاند اور سورج کے نکلنے، ڈوبنے اور جسامت کے لحاظ سے جن مفروضوں پر بظاہرہ تکیہ کیا اور بالآخر خدا کی طرف مائل ہوئے اس میں بین السطور انہی تحقیقی اصولوں کی جھلک نظرآتی ہے اور اس طریقہ ہدایت کو دلیل خلف کہتے ہیں سائنس میں اس کے مماثل (Antithesis)ہے۔

 ڈاکٹرغلام جیلانی برق نے قرآن کے سائنسی مزاج کی تشریح میں بڑا قابل قدر انکشاف کیا ہے۔ مندرجہ بالا سائنسی تحقیق کے بنیادی اصولوں کو انہوں نے قرآن میں تلاش کر کے ان کے مماثل معانی رکھنے والے قرآنی الفاظ کے ایک ذخیرہ کی نشاندہی کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق قرآن میں حسب ذیل الفاظ اور ان کے مشتقات تحقیق و تجسس کی علامت قرار پاتے ہیں۔

یُرَا۬ءُوْنَ ۔را۔ دیکھنا۔ ٢٩٨ دفعہ ۔

یُنْظَرُوْنَ ۔نظر مشاہدہ کرنا۔ ١٣ دفعہ ۔

یَعْقِلُوْنَ۔ تعقل۔ سمجھنا ٥١ دفعہ۔

یَتَدَبَّرُوْنَ ۔ تدبر۔ سوچنا۔ ٤٤ دفعہ ۔

یَفْقَھُوْنَ ۔ تفقھ، سمجھنا ۔ ٢٨ دفعہ ۔

یَتَفَکَّرُوْنَ، تفکر۔ خیال کرنا۔ ١٨ دفعہ۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر برق نے فطری مظاہرات سے متعلق آیات کی تعداد ٢٠٠؍  بتائی ہے اس طرح تقریباً ۷۷۰؍ مقامات پر قرآن کے اس سائنسی مزاج کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریڈر ڈاکٹر محمد شریف خاں نے اپنے ایک حالیہ مقالہ میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں اگر ۱۵۰؍ آیات احکامات مثلاً نماز ، روزہ، زکوٰۃ اور حج سے متعلق ہیں تو ۷۵۶؍ آیات مطالعۂ کائنات سے متعلق ہیں۔ فطری مظاہرات اور مطالعۂ کائنات سے متعلق ڈاکٹر برق اور ڈاکٹر شریف کے تلاش کردہ آیات کے تعداد میں تقریباً یکسانیت اس ضمن میں تحقیق کرنے والوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

سائنسی تحقیق کے متبادل مندرجہ بالا قرآنی الفاظ کی تعداد کے حوالہ سے ایک اور دلچسپ انکشاف بھی قابل غور ہے۔ عام سائنسی طریقۂ تحقیق میں مشاہدات اور تجربات میں صرف ہونے والے وقت اور پھر ان مشاہدت کی بنا پر غور و فکر اور نتائج اخذ کرنے میں تقریباً ٣ ؍اور ا؍کا تناسب ہوتا ہے۔ مشاہدے کی  اور اس کے مماثل آیات کی تعداد ٤٢٨ ؍ہے جب کہ باقی آیات جن کا تعلق سوچ بچار سے ہے ١٤١ ؍ہیں یعنی تقریباً ٣ ؍اور ١ ؍کا تناسب جو قابل غور ہے۔

اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں نے قرآن کریم میں کائنات کے مظاہر کے واضح اور خفی اشارات کی مدد سے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ موجودہ سائنس میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ اسلام سے پہلے انسانیت پر شرک کا  غلبہ تھا جو فطرت پر تحقیق کرنے میں مانع تھا۔ مشرک کے لیے فطرت کے مظاہر لائق عبادت تھے اور اس کا عقیدہ اس میں تجسس اور جرح کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ جب کہ قرآن ان مظاہر کی تسخیر کا حکم دیتا ہے۔ فطرت کے خزانے تخلیق کے روز اول ہی سے زمین کے اندر اور باہر اور کائنات میں موجود تھے اور انسانی ذہن کی صلاحتیں بھی روز اول ہی سے پائی جاتی ہیں، مگریہ قرآنی تعلیمات کا اثر تھا کہ مسلمان سائنس دانوں نے کائناتی مظاہر کی عبادت کا سلسلہ ختم کر دیا اور اس کے وسائل کی ماہیت میں تحقیق اور استعمال کی بنا  ڈالی جو بالآخر اہم علوم کا سر چشمہ بن گئی۔ اس سلسلہ میں جن مسلمان سائنس دانوں کے نام سر فہرست ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔ جابر بن حیان ( کیمیا)، البیرونی( طبیعیات)، عمر خیام، الکندی (ریاضی) دمیری ( حیوانیات) ابن الہیشم (عکاسی) ،ابن سینا ( طب) اور زہراوی ( سرجری ) وغیرہ ۔ تقریباً ٦؍صدیوں تک عربی زبان سائنسی دنیا کی زبان کے طور پر حاوی رہی جس کے مغرب پر دیرپا اثرات آج بھی قائم ہیں ۔ مصری مورخ سید حسین نصر نے اپنی کتاب میں مسلم سائنس دانوں کے ایسے ایسے انکشافات کی نشان دہی کی ہے جو آگے چل کر بے شمار سائنسی ایجادات کا پیش خیمہ بنے۔

  مسلم سائنس دانوں کے کارنامے

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام کی انتہائی ترقی کے زمانہ میں جو آٹھویں اور بارہویں صدی عیسوی کے درمیان کازمانہ ہے یعنی وہ زمانہ جب سائنسی ترقی پر عیسائی دنیا میں پابندیاں عائد تھیں ،اسلامی جامعات میں مطالعہ اور تحقیقات کا کام بڑے پیمانہ پر جاری تھا۔یہی وہ جامعا ت تھیں جنہوں نے عظیم مسلم سائنس دانوں کو جنم دیا۔اس دور کے مسلم سائنس دانوں نے فلکیات ،ریاضی ،علم ہندسہ (جیومیڑی)اور طب وغیرہ کے شعبوں میں قابل قدر کارنامے انجام دیے۔ مسلمانوں نے یورپ میں بھی سائنسی علوم کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا اوراپنے ہاں بھی سائنس دانوں کی معقول تعداد پیداکی۔ اندلس(اسپین)میں سائنسی علوم نے اتنی ترقی کی کہ اس ملک کو سائنسی ترقی اور انقلابی دریافتوں کی کٹھالی کہا جانے لگا ،بالخصوص میڈیسن کے شعبے میں اس نے بے پناہ شہرت حاصل کرلی۔

 مسلمان طبیبوں نے کسی ایک شعبے میں تخصیص(Specialization)پر زور دینے کی بجاے متعدد شعبوں بشمول علم دواسازی،علم جراحت ،علم امراض چشم ،علم امراض نسواں ،علم عضویات ،علم جرثومیات اور علم حفظان صحت میں مہارت تامہ حاصل کرلی۔ اندلس کے حکیم ابن جلجول(۹۹۲ء) کوجڑی بوٹیوں اورطبی ادویہ اور تاریخِ طب پر تصانیف کے باعث عالمی شہرت ملی۔اس دور کا ایک اورممتاز طبیب جعفرابن الجذر(۱۰۰۹ء )جوتیونس کارہنے والا تھا،اس نے خصوصی علاماتِ امراض پر ،تیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔عبداللطیف البغدادی ( ۱۱۶۲ء ­ ۱۲۳۱ء ) کو علم تشریح الاعضا (ANATOMY)پر دست رس کی وجہ سے شہرت ملی۔ اس نے انسانی ہڈیوں کے بارے میں مروّجہ کتب میں پائی گئی غلطیوں کی بھی اصلاح کی۔ یہ غلطیا ں زیادہ تر جبڑے اور چھاتی کی ہڈیوں کے متعلق تھیں۔ بغدادی کی کتاب “الافادہ والاعتبار” ۱۷۸۸ء میں دوبارہ زیور طباعت سے مزین ہوئی اور اس کے لاطینی ،جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم کرائے گئے۔اس کی کتاب“مقالات فی الحواس” پانچوں حواس کی کارکردگی کے بارے میں تھی۔

مسلم ماہرین تشریح الاعضا نے انسانی کھوپڑی میں موجود ہڈیوں کو بالکل صحیح شمار کیا اور کان میں تین چھوٹی چھوٹی ہڈیوں (میلس،انکس اور سٹیپز)کی موجودگی کی نشاندہی کی۔تشریح الاعضا کے شعبے میں تحقیق کرنے والے مسلم سائنس دانوں میں ابن سینا (۹۸۰ء­۱۰۳۷ء )کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی جسے مغرب میں “ایویسینا” (AVICENNA)کہا جاتا ہے۔اسے ابتدائی عمر میں ہی ادب ،ریاضی، علم ہندسہ (جیومیٹری)، طبیعیات ، فلسفہ اور منطق میں شہرت مل گئی تھی اور نہ صرف مشرق بلکہ مغرب میں بھی ان علوم میں اس کی شہرت پہنچ گئی تھی۔ اس کی تصنیف “القانون فی الطب”کو خصوصی شہرت ملی۔ (اسے مغرب میں کینن“CANON”کہا جاتا ہے)۔ یہ عربی میں لکھی گئی تھی۔ ۱۲؍ویں صدی میں اس کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا اور ۱۷؍ ویں صدی تک یورپ کے سکولوں میں بطور نصابی کتاب پڑھائی جاتی رہی۔ یہ امراض اور دواؤں کے بارے میں ایک جامع تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ۱۰۰؍ سے زیادہ کتابیں فلسفے اورنیچرل سائنسزپر لکھیں۔ اس کے علم کا بیش تر حصہ بشمول “القانون فی الطب” طبی معلومات پر مشتمل ہے جسے آج بھی ایک مسلّمہ حیثیت حاصل ہے۔

زکریا قزوینی نے دل اور دماغ کے بارے میں ان گمراہ کن نظریات کو غلط ثابت کیا جو ارسطو کے زمانے سے مروّج چلے آرہے تھے۔چناں چہ انہوں نے جسم کے ان دو اہم ترین اعضا کے بارے میں ایسے ٹھوس حقا ئق بیان کیے جو ان کے بارے میں آج کی معلومات سے نہایت قریب ہیں۔زکریا قزوینی ،حمداللہ المستوفی القزوینی(۱۲۸۱ء­۱۳۵۰ء)اور ابن النفیس نے جدید طب کی بنیاد رکھی۔ ان سائنس دانوں نے ۱۳؍ویں اور ۱۴؍ ویں صدی میں دل اور پھیپھڑوں کے درمیان گہرے تعلق کی نشان دہی کر دی تھی۔ وہ یوں کہ “شریانیں آکسیجن ملاخون لے جاتی ہیں اور وریدیں بغیر آکسیجن خون کو لے جاتی ہیں ” اوریہ کہ “خون میں آکسیجن کی آمیزش کا عمل پھیپھڑوں کے اندر انجام پاتاہے”اور یہ بھی کہ “دل کی طرف واپس آنے والا آکسیجن ملا خون شریان کبیر(AORTA)کے ذریعہ دماغ اور دیگر اعضائے بدن کو پہنچتا ہے ۔”

علی بن عیسیٰ( م ۱۰۳۸ء)نے امراض چشم پر تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کی پہلی جلد میں آنکھ کی اندرونی ساخت کی مکمل تشریح اور وضاحت کی گئی ہے۔ان تینوں جلدوں کا لاطینی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ کردیاگیاہے۔محمد بن زکریا الرازی (۸۶۵ء­۹۲۵ء )برہان الدین نفیس (م ۱۴۳۸ھ) اسماعیل جرجانی( م۱۳۶۰ء) قطب الدین الشیرازی(۱۲۳۶ء­۱۳۱۰ء)منصور ابن محمداورابوالقاسم الزہراوی  (ALBUCASIS ) مسلم سائنس دانوں میں وہ اہم شخصیات ہیں جنہیں طب اور تشریح الاعضا کے علوم میں دست رس کی وجہ سے شہرت ملی۔

مسلم سائنس دانوں نے طب اور تشریح الاعضا کے علاوہ بھی کئی شعبوں میں شان دار کارنامے انجام دیے۔مثال کے طور پر البیرونی کو معلوم تھا کہ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے۔ یہ گلیلیوسے کوئی ۶۰۰؍ سال قبل کا زمانہ تھا۔اسی طر ح اس نے نیوٹن سے ۷۰۰؍ سال پہلے محور ِزمین کی پیمائش کرلی تھی۔ علی کوشوع (ALI KUSHCHU)پندرہویں صدی کا پہلا سائنس دان تھاجس نے چاند کا نقشہ بنایااور چاند کے ایک خطے کو اسی کے نام سے منسوب کر دیاگیاہے۔ ۹؍ ویں صدی عیسوی کے ریاضی دان ثابت بن قرہ (THEBIT)نے نیوٹن سے کئی صدیاں پہلے احصاے تفرقی (DIFFERENTIAL CALCULUS)ایجاد کرلی تھی۔ بطانی 10ویں صدی کا سائنس دان تھاجو علم مثلثات(TIRGNOMETERY)کو ترقی دینے والاپہلاشخص تھا۔ابو الوفا محمد البزنجانی نے احصاے تفرقی(حساب کتاب کا ایک خاص طریقہ) میں پہلی بار “مماس ومماس التمام” (TANGENT/COTANGENT)اور “خط قاطع و قاطع ِالتمام” (SECANT-COSEANT))متعارف کرائے۔

الخوارزمی نے ۹؍ ویں صدی میں الجبرا پر پہلی کتاب لکھی۔ المغربی نے فرانسیسی ریاضی دان پاسکل کے نام سے مشہور مساوات “مثلث پاسکل”اس سے ۶۰۰؍ سال پہلے ایجاد کرلی تھی۔ ابن الہیثم  (ALHAZEN)جو ۱۱؍ویں صدی میں گزراہے علم بصریات کا ماہر تھا۔راجر بیکن اور کیپلر نے اس کے کام سے بہت استفادہ کیا جب کہ گلیلیونے اپنی دوربین انہی کے حوالے سے بنائی۔

الکندی(ALKINDUS)نے علاتی طبیعیات اور نظریۂ اضافیت آئن سٹائن سے ۱۱۰۰؍ سال پہلے متعارف کرا دیاتھا۔شمس الدین نے پاسچر سے ۴۰۰؍ سال پہلے جراثیم دریافت کرلیے تھے۔ علی ابن العباس نے جو۱۰؍ ویں صدی میں گزرا تھا کینسر کی پہلی سرجری کی تھی۔ ابن الجسر نے جذام کے اسباب معلوم کیے اور اس کے علاج کے طریقے بھی دریافت کیے۔یہا ں چندایک ہی مسلمان سائنس دانوں کا ذکر کیا جا سکا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے مختلف شعبوں میں اتنے کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں  کہ انہیں بجاطور پر سائنس کا بانی کہا جاسکتاہے۔

 ٨٠٠ سال تک مسلمان سائنس کے علم بردار رہے۔ جب تک سائنس مسلمانوں کے پاس تھی عقیدتاً خدا پرست رہی اور اس سارے عرصہ میں مسلمانوں نے حکمت کو خدا کی امانت سمجھ کر خدا کی بتائی ہوئی حدود میں اس کی پرورش کی اور انسانیت کے فلاح وبہبود کے لیے بہت کام کیا جس کی کچھ تفصیل اوپر دی گئی ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ جب ان میں انحطاط آگیا تو اہل یورپ نے اس کو اپنی گود میں لے لیا اور اس طویل عرصہ میں اس کی اصل شناخت بھی ختم ہو گئی۔ شاید اسی آنے والی کیفیت کی طرف حضورِ اکرم ﷺ نے اشارہ کیا تھا۔“ حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے۔” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سرپرستی کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سائنس کے عقیدہ میں بھی تبدیلی آگئی۔ یعنی جب اس کی فطرت بدل گئی تو اس سے انسان کی نسل کشی کا بھی کام لیا گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب نے سائنس کو اقدار سے لا تعلق بنادیا جب کہ مسلمانوں کے نزدیک ہر کام میں سبب اور اثر کے ساتھ سزا اور جزا کا تصور بھی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج انسان کے پاس ایسے ہتھیار اور پروسس ہیں جو اگر بے دریغ استعمال کیے جائیں تو انسانیت کو کرۂ ارض سے نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ خددا ترسی ہی وہ جذبہ ہے جو احتساب کے خیال سے انسان کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

آج کا دور اپنے وسیع تر معنوں میں سائنسی دور ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ کا جو میلان سائنس نے دیا ہے وہ قرآنی اصول ہے۔ قرآن اور سائنس کا ربط مخلوق کو خالق تک رسائی کا موقع دیتا ہے اور وہ بے اختیار کہتا ہے کہ اے خدا تو نے اس کائنات کو بے غرض و  غایت نہیں پیدا کیا۔ ایسا سوچنا بہ طور خود ایک مثبت رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معرفت الہی کی پہلی منزل ہے خدا ہم کو قرآن فہمی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

اب ہم ذیل کی سطور میں قرآن کی الہامی ترتیب اور ریاضیاتی معجزہ پر بھث کریں گے جو اس بات کے بین ثبوت ہیں کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، کسی انسان کا کلام نہیں، جیسا کہ بعض مستشرقین نے اسے حضور اکرم ﷺ کا کلام کہا ہے۔

قرآن کی الہامی ترتیب اور ریاضیاتی معجزہ

آئیے ابقرآن کی ایک ایسی خصوصیات دیکھیں جو عام فہم بھی ہیں اور سب کو نظر بھی آسکتی ہیں۔ اس میں نہ دلیل کی ضرورت ہے نہ منطق کی اور نہ ہی سائنسی تحقیق کے مزاج کی، بس آپ ہند سے اور گنتی سے واقف ہوں جس کو بچہ بچہ جانتا ہے۔

 قرآن کی ایک اہم خصوصیت اس کے متن کی ترتیب کا تسلسل اور ابدیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لفظ کسی آیت کے سیاق وسباق میں١٤؍سو سال پہلے جس ترتیب میں تھی آج یا آئندہ اس میں تبدیلی نا ممکن ہے یہی قرآنی کی الہامی ترتیب کی دلیل ہے۔

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کی چند خصوصیات:

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ہر سورہ کا سر نامہ ہے۔ اس آیت میں ۱۹؍ حروف ہیں جن کو آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ قرن میں ١١٤ ؍ سورتیں ہیں۔ تمام سورتیں  بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتے ہیں سواے سورہ توبہ کے لیکن جب ہم سور ہ نمل کی ٣٠ ؍ ویں آیت دیکھیں تو اس کے متن میں بھی بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم موجود ہے ( ملکہ سبا کے نام حضرت سلیمان         کا خط)اس طرح کل بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کی تعداد ١١٤؍ہوتی ہے جو مساوی ہے ١٩٦کے۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ ١٩؍کا ہندسہ یا بہ الفاظ دیگر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کا قرآن کی ترتیب میں بڑا عمل دخل ہے۔ یہ تمام مظاہر اس آسمانی کتاب کی منظم ترتیب اور الہامی خصوصیت کا ثبوت مہیا کرتے ہیں ۔کیا ١٩؍ کے ہندسہ کا قرآن کی ترتیب سے کوئی خاص ربط ہے؟ ہاں ہے۔ سورہ مدثر  کی ٣٠؍ ویں آیت میں دو زخ کے ١٩؍ فرشتوں کا ذکر ہے۔ یہ ذکر قرآنی آیات کو سحر اور جادو سے تعبیر کرنےوالوں کی تنبیہ میں ہے۔

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کے ٤؍حروف ہیں۔ ( بسم ۔ اﷲ۔الرحمٰن۔الرحیم)پورے قرآن میں یہ چار الفاظ جتنی مرتبہ آئے ہیں وہ ١٩؍کا ضعف یا ١٩؍ پر قابل تقسیم ہیں۔ لفظ بسم ١٩؍ مرتبہ ( ١٩١) لفظ اﷲ ٢٦٩٨؍ مرتبہ (١٩١٤٢) الرحمن ٥٧؍ مرتبہ (١٩٣) اور لفظ الرحیم ١١٤؍مرتبہ یعنی (١٩٦)۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ یہ چار الفاظ قرآن میں یوں ہی نہیں بکھرے ہوئے ہیں بلکہ وہ مختلف جملوں یعنی آیات کا جزو بن کر ایک خاص مفہوم ادا کرتے ہیں ۔ جس میں تبدیلی سے قرآنی مفہوم تبدیل ہو جائے گا۔

حروف مقطعات اور بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم کا ربط:

اوپر ہم نے قرآن کے چار الفاظ کی ترتیب کا ذکر کیا ہے۔ اب چند حروف کی خصوصیات پر غور کریں۔ قرآن کی عجیب خصوصیت اس کے حروف مقطعات ہیں جو اس کو دوسرے صحیفوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ عربی کے ٢٨؍ حروف تہجی ہیں ان سے ١٤؍ حروف کو منتخب کر کے ان سے ١٤؍ حروف مقطعات بنائے گئے ہیں ( مثلا الم ، الر ص ، ق ، ن وغیرہ ) قرآن کے ٢٩؍ سورتیں ایسی ہیں جن کی ابتدا ان حروف مقطعات سے ہوتی ہے۔ ان حروف مقطعات میں کیا معنی پنہاں ہیں کوئی نہیں جانتا ۔ البتہ کچھ لوگ قیاس آرائی سے ان کے مفہوم نکالنےکی کو شش کرتے ہیں۔ لیکن ان کی  خصوصیات سے کسی کو انکار نہیں وہ ہے ان کا ١٩؍ سے ربط۔ اب ذرا ١٤ +١٤+٢٩ کو جوڑیئے یعنی ٥٧۔ یہ دراصل حروف مقطعات کے ماخذ حروف، مقطعات کے مرکب اور مقطعات والے سورتوں کا مجموعہ ہے، جملہ ٥٧؍یعنی ١٩٣۔

حروف مقطعات بطور کلید قرآن :

اب چند حروف مقطعات کی مخصوص کیفیات پر غور کریں۔ حرف“ق” بہ حیثیت حروف مقطع دو سورتوں میں آیا ہے۔ سورہ ق اور سورہ شوریٰ  میں حمعسق کے جزو کے طور پر ۔ ان ہر دو سورتوں میں حروف ق کی تعداد ٥٧؍ ہے یعنی مجموعی طورپر ١١٤؍ جو کہ ١٩ ٦ ہے۔ لیکن “ق”  کے سلسلے میں ایک اور اہم خصوصیت قرآن کے الہامی ترتیب پر صداقت کی مہر ہے۔ سورہ کی آیات ١٢؍١٣ اور ١٤ میں قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کا ذکر ہے، یہ ساری باغی اقوام ہیں۔ پورے قرآن میں قوم لوط کا ذکر ١٢؍ دفعہ ہے اور ہر جگہ اس کو تسلسل کے ساتھ قوم لوط سے مخاطب کیا ہے۔ لیکن سورہ “ق”  کی ١٣؍ ویں آیت میں اس “قوم لوط” کو “اخوان لوط” لکھا ہے اگر یہاں پھر “قوم لوط” لکھا جاتا تو ایک “ق”  کا اضافہ ہو جاتا یعنی “ق”  کی تعداد ٥٨؍ ہو جاتی جوکہ ١٩؍ پر نا قابل تقسیم ہو کر قرآن کی اس حرفی ترتیب کے نظام کو متاثر کرتی۔

حرف “ص” بھی حروف مقطعات میں شامل ہے۔ یہ حرف تین سورتوں کی ابتدا میں ہے۔ سورہ ص ، اعراف ، اس میں “المص” کا جزو ہے اور سورہ مریم  میں “کھیعص” میں شامل ہے۔ ان تینوں میں “ص”  کی تعداد ١٥٢؍ ہے (یعنی ١٩٨) جو سورہ ص کے ٣٨ ؍اعراف کے ٩٥ ؍اور مریم کے ١٩؍ کا مجموعہ ہے۔ لیکن اس میں بھی ایک استثنا کار فرماہے۔ سورہ اعراف کی ٦٩؍ ویں آیت میں جس میں “ص”  شامل ہے ایک لفظ “بصطھ”  ہے (وزاد کم فی الحلق بصطھ) اس لفظ کی ترکیب میں حرف “ص”  استعمال ہوا ہے جبکہ عام طور پر یہ “س”  سے لکھا جاتا ہے، ساری عربی زبان میں “بصطھ”  کی ہجوں میں “ص”  نہیں ہےاگراس لفظ کو “ص” سے نہ لکھ کر “س”  سے لکھا جاتا تو “ص” کی تعداد ١٥١؍ ہوتی جو ١٩؍ پر ناقابل تقسیم رہتا۔ ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر لفظ اور ہر حرف بطور نگینہ اپنی جگہ ثابت ہے یہی اس کی الہامی ترتیب کا ایک مظہر ہے۔

حروف مقطعات جن میں ایک سے زائد حروف شامل ہیں مثلاً“ یٰس ، الم” وغیرہ ایک اور خصوصیت کے حامل ہیں۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تمام سورتوں میں جن میں حروف مقطعات ہیں ان میں ان حروف کی تعداد کا مجموعہ ٤٩٣٨١؍ ہے جو ١٩؍ سے قابل تقسیم ہے یعنی ( ١٩ ١٥٩٩) ریاضی کی زبان میں کہا جائے گا کہ انھیں ایک طرح سے آپس میں میں پیوست (Inetrlocked) کر دیا گیا ہے جو قرآن کے تسلسل پر دلالت کرتا ہے۔

اس کی ایک اور  مثال حروف “ط” اور “ہ” میں دیکھیے۔ بطور حروف مقطعات یہ دو حروف سورہ طہ میں ہیں اور ان کی تعداد  ٢٨ +٣١٤ = ٣٤٢ ہے، یعنی ١٩١٨ ۔ اس کے علاوہ حرف “ط” حرف مقطعات کے جزو کے طور پر تین اور سورتوں یعنی سورہ شعراء  میں بطور “طس” ، سورہ نمل  میں بطور “طس” اور سورہ قصص میں بطور “طسم” وارد ہوا ہے۔ اسی طرح حرف “ہ” سورہ مریم میں “کھیعص” کے ساتھ موجود ہے۔ اگر ان پانچوں سورتوں میں “ط”   ا ور“ہ”   کی تعداد جو ڑ لیں تو ٥٨٩؍ ہے جو ١٩٣١ ہے۔

قرآن کے بعض اور ریاضیاتی معجزے

 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جس چیز کو جس کے برابر کہا ہے اُن الفاظ کو بھی اتنی ہی دفعہ دُہرایاہے اورجس کو جس سے کم کہا ہے اسی نسبت سے ان الفاظ کو بھی قرآ ن مجید میں استعمال کیا گیاہے۔ اس دعوٰی کی بنیاد نہ تو اللہ تعالیٰ کے فرمان یعنی قرآن مجید میں موجودہے اورنہ ہی کسی حدیث یا صحابہ کے اقوال میں پائی جاتی ہے۔ بلکہ حال ہی میں جب کچھ مسلم اسکالرز نے اس جانب توجہ کی اور تحقیق فرمائی تو ان کو حیرت انگیز نتائج کا سامنا کرناپڑا اور ان کے سامنے قرآن مجید کا ایک اورمعجزانہ پہلو نکھر کر سامنے آیا کہ جس کی مثال دنیا کی کسی دوسری کتاب میں ملنا ناممکن ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات برملاکہی جاسکتی ہے کہ کوئی اگر کمپیوٹر کی مددسے بھی ایسا لکھناچاہے تو نہیں لکھ سکتا۔اوریہی قرآن مجید کا امتیا ز اورکمال ہے۔

v                    مثلاً قرآن مجید میں حضرت عیسی کی مثال حضرت آدم سے دی گئی ہے:

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَﺚ خَلَقَھ۫ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَھ۫ کُنْ فَیَکُوْنُ[آلِ عمران:۵۹]

[ترجمہ]بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے اسے مٹی سے بنایا پھر اسے کہا کہ ہو جا پھر ہو گیا۔[کنز الایمان]

معنی کے لحاظ سے یہ بات بالکل واضح ہے مگر اگر آپ قرآن مجید میں عیسیٰ کا لفظ تلاش کریں تو وہ ۲۵؍مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اوراسی طرح آدم کا نام بھی ۲۵؍ہی دفعہ قرآن میں موجودہے۔ یعنی معنی کے ساتھ ساتھ دونوں پیغمبروں کے ناموں کو بھی یکساں طور پر درج کیا گیا ہے۔

v                            اسی طرح سورة الاعراف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

“اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں سے اس (کے درجات)کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف جھک گیااوراپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا۔ایسے شخص کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تواس پر حملہ کرے تو بھی ہانپتا ہے اور نہ کرے تو بھی ہانپتا ہے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ۔”

یہ کلمہ “اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰتِنَا” یعنی“ جو ہماری نشانیوںکو جھٹلاتے ہیں”قرآن مجید میں ۵؍دفعہ آیا ہے جبکہ “کَلْب”یعنی کتے کانام بھی پورے قرآن میں ۵؍دفعہ ہی دہرایا گیا ہے۔

v                     اسی طرح سورة ”فاطر”میں فرمایا کہ “اندھیرا اورروشنی ایک جیسے نہیں ہیں۔”

اندھیرے کو عربی میں “ظلمت”کہتے ہیں اورقرآن میں یہ لفظ ۲۳؍مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ جبکہ لفظ روشنی یعنی “نور” کو ۲۴؍مرتبہ دہرا یا گیا ہے۔

v                    قرآن مجید میں“سَبْعَ سَمٰوٰت”یعنی سات آسمانوں کا ذکر ۷؍مرتبہ ہی ہوا ہے۔ نیز آسمانوں کے بنائے جانے کے لیے لفظ “خَلَقَ”بھی ۷؍مرتبہ ہی دہرایا گیاہے۔

v                    لفظ “یَوْم”یعنی دن ۳۶۵؍مرتبہ ،جب کہ جمع کے طورپر “یَوْمَیْن” یا“ اَیَّام”۳۰؍مرتبہ اورلفظ “شَھْر”یعنی مہینہ ۱۲؍دفعہ دہرایا گیاہے۔

v                    لفظ “شَجَرَہْ”یعنی درخت اورلفظ “نَبَّات”یعنی پودے ،دونوں یکساں طورپر ۲۶؍مرتبہ ہی دہرائے گئے ہیں۔

v                    لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق “انعام ”دینے کالفظ ۱۱۷؍مرتبہ استعمال ہوا ہے جب کہ معاف کرنے کا لفظ “مَغْفِرَہ” ۲۳۴؍مرتبہ یعنی دگنی تعداد میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنا زیادہ پسند کرتاہے۔

v                    لفظ “قُل”یعنی کہو ،کو گنا گیا تو وہ ۳۳۲؍دفعہ شمارہوا۔ جب کہ لفظ “قَالُوا”یعنی وہ کہتے ہیں یا پوچھتے ہیں؟کو شمار کیا گیا تو وہ بھی ۳۳۲؍مرتبہ ہی قرآن میں دہرایا گیاہے۔

v                    لفظ “دُنْیا”اور“آخِرَتْ”،دونوں مساوی طورپر ۱۱۵؍دفعہ ہی دہرائے گئے ہیں۔

v                    لفظ “شَیْطَان”۸۸؍مرتبہ جبکہ لفظ“مَلَائِکَھ”یعنی فرشتے کو بھی ۸۸؍دفعہ ہی دہرایا گیا ہے۔

v                    لفظ “اِیْمَان”۲۵؍دفعہ اورلفظ “کُفْر”بھی اتنی مرتبہ ہی استعمال ہوا ہے۔

v                    لفظ “جَنَّتْ”اورلفظ “جَھَنَّم”یکساں تعداد میں یعنی ۷۷؍مرتبہ دہرائے گئے ہیں۔

v                    لفظ “زَکَوٰة”کو قرآن مجید میں ۳۲دفعہ دہرایاگیا ہے جب کہ لفظ “بَرَکَاة”یعنی برکت کو بھی ۳۲؍دفعہ ہی استعمال کیا گیا ہے۔

v                    لفظ “اَلْاَبْرَار” کو ۶؍دفعہ دہرایا گیا ہے اس کے مقابلہ میں لفظ “اَلْفُجَّار” کو صرف ۳؍مرتبہ دہرایا گیاہے۔

v                    لفظ “خَمَرْ”یعنی شراب قرآن میں ۶؍مرتبہ استعمال ہوا ہے جبکہ لفظ “سَکَارٰی”یعنی نشہ یا شراب پینے والا،بھی ۶؍مرتبہ ہی دہرایا گیا ہے۔

v                    لفظ “لِسَان”یعنی زبان کو ۲۵؍دفعہ لکھا گیا ہے اورلفظ “خِطَاب”یعنی بات یا کلام ،کوبھی ۲۵؍مرتبہ ہی دہرا یا گیا ہے۔

v                    لفظ “مَنْفَعْھ”یعنی فائدہ ،اوراس کے متضادلفظ “خُسْرَان”یعنی خسارہ ، کو بھی یکساں طورپر ۵۰،۵۰؍مرتبہ ہی دہرایاگیا ہے۔

v                    لفظ “مَحَبَّھ”یعنی دوستی اورلفظ “طَاعَھ”یعنی فرماںبرداری،دونوں مساوی طورپر ۸۳؍مرتبہ ہی دہرائے گئے ہیں۔

v                    لفظ “مُصِیْبَة”۷۵؍مرتبہ استعمال ہواہے اورلفظ “شُکْر”بھی ۷۵؍مرتبہ ہی دہرایا گیا ہے۔

v                    لفظ“اِمْرَأة”یعنی عورت اورلفظ “رَجُل”یعنی مرد یا آدمی ،دونوں یکساں طورپر ۲۳،۲۳؍مرتبہ ہی دہرائے گئے ہیں۔قرآن مجید میں ان الفاظ کا اتنی مرتبہ دہرانا بڑا دلچسپ اورحیران کُن ہے۔ کیونکہ جدید سائنس کے مطابق انسانی جنین کی تشکیل میں بھی ۴۶؍کروموسومز حصہ لیتے ہیں اوران میں ۲۳؍کروموسومز ماں کے اور۲۳؍ہی باپ کے ہوتے ہیں اوریہ مرد کے جرثومے اورعورت کے بیضہ میں موجودہوتے ہیں۔چناں چہ قرآن مجیدمیں دہرائے گئے ان الفا ظ کی جدید سائنس کے ساتھ مطابقت بڑی معنی خیز ہے۔

v                    لفظ “صَلَوَات” یعنی نمازیں ،۵؍دفعہ دہرایا گیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دن رات میں کُل پانچ نمازیں ہی پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

v                    لفظ “اَلْاِنْسَان”یعنی آدمی ، ۶۵؍مرتبہ دہرایا ہے۔ جبکہ انسان کی تشکیل کے سب مراحل کو بھی اتنی ہی دفعہ دہرایا ہے۔ ان مراحل کی تفصیل درج ذیل ہے۔

تُرَاب (مٹی)                                                              ۱۷؍ دفعہ

نُطْفَہ (منی کا قطرہ یا بوند)                                                                ۱۲؍ دفعہ

عَلَقَ (جمے ہوئے خون کا لوتھڑا)                                    ۶؍دفعہ

مُضْغَہ (بوٹی)                                                               ۳؍  دفعہ

عِظَام (ہڈیاں)                                                            ۱۵؍ دفعہ

لَحْم (گوشت)                                                              ۱۲؍ دفعہ

مجموعہ                                                                        ۶۵؍ دفعہ

اس لیے ان الفاظ کے درمیان مطابقت بھی بڑی معنی خیز ہے۔

v                    لفظ “اَرْض”یعنی زمین کو قرآن مجیدمیں ۱۳؍دفعہ دہرایا گیا ہے۔ جبکہ لفظ “بَحْر”یعنی سمندریاد ریا ،کو ۳۲؍دفعہ دہرایا گیاہے۔ان دونوں کا مجموعہ ۴۵؍بنتاہے۔

چناں چہ ان کی نسبت کومعلوم کرنے کے لیے زمین اورسمندرکے انفرادی عدد کو ان دونوں کے مجموعے سے تقسیم کرتے ہیں تو درج ذیل نتیجہ سامنے آتاہے۔

زمین کے لیے        100 = 28.888888889% 13/45

 سمندر کے لیے        100 = 71.111111111% 32/45

درج بالا حاصل ہونے والا نتیجہ جدید سائنس کے عین مطابق ہے۔ جس کے مطابق بھی زمین پر% ۷۱؍پانی جب کہ% ۲۹؍خشکی پائی جاتی ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل پر غوروخوض کے بعد یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کا حسابی نظام اتنا پیچیدہ مگر منظم ہے کہ یہ انسانی عقل کے بس کی بات نہیں ،لاریب تمام جن وانس مل کر بھی ایسی بے مثال محیرالعقول کتاب تیارنہیں کرسکتے۔ حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ اس وقت شام ،دمشق،مصر اورعراق وغیرہ میں لاکھوں عیسائی اوریہودی ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب موجود ہیں،جن کی مادری زبان عربی ہے جو عربی زبان میں نثر لکھنے پر قادرہیں جن کی ادارت میں اخبار اوررسائل اشاعت پذیر ہیں،ان میں ایسے ایسے ادیب اورماہر لسانیات ہیں جنہوں نے لغات ِ عربیہ پر نظرالمحیط،المنجد،اقرب الموارد اور المحیط جیسی ضخیم کتابیں لکھ ڈالیں مگر وہ تورات،زبوراورانجیل کے بارے میں اس قسم کے کمپیوٹر ائزڈنظام نہ پیش کرسکے۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ قدرت نے یہ نظام ازل ہی سے قرآن مجید کے لیے مختص فرمادیاتھاجس کااظہار اب کمپیوٹر کے زمانے میں ہواہے۔

مآخذ و مراجع

  1. قرآن مجید مع ترجمہ کنز الایمان
  2. تفسیرابن کثیر ،جلد سوم ۔
  3. مشکوٰۃ شریف۔
  4. بائبل، قرآن اور سائنس، از: مورس بکائی، ناشر: مجلس اتحاد المسلمین ، کراچی ۔ ١٩٧٩ء
  5. بین الاقوامی اسلامی مجلس مذاکرہ کی رپورٹ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور ١٩٥٧ء
  6. سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں کی خدمات، از:حبیب شطی،سکرٹری جنرل سندھ ٹیکنیکل بورڈ، سندھ ایجوکیشنل جرنل، کراچی
    شمارہ ٣،١٩٨٤ء
  7. مقالات : قرآن اور سائنس،بین الاقوامی سیمینار، کراچی ۔١٩٨٦ء
  8. فلسفہ ،سائنس اور کائنات، از: ڈاکٹر محمود علی سڈنی،  ترقی اردو بیورو، نئی دہلی ۔ ١٩٩٣ء
  9. قرآن اور جدید سائنس ، [مترجم]حیدر علی مولجی طہ، عباس بک ایجنسیز، درگاہ حضرت عباس، رستم نگر، لکھنؤ۔١٩٩٤ء
  10. جدید سائنسی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کا حصہ، از: سید حسین نصر،  مصر ١٩٨٥ء
  11. Quran;Attempt at Computerzation، رسالہ العطش۔ کراچی شمارہ ٩، بہ حوالہ: ٰIsalamic Production Tuesm, Arizona, USA
  12. سیارہ ڈائجسٹ۔ قرآن نمبر ۔ ١٩٨٨ء
  13. سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں ۔
  14. الشمس والقمر بحسبان ۔
  15. The Quran and Modern Science
  16. THE MESSIANIC LEGACY,-GEORGI BOOKS ,LONDON :1991
  17. EDWARD J. LARSON VE LARRY WITHAM, Scientists and Religion in America, SCIENETIFIC AMERICAN, SEP.1999, p. 81
  18. بحوالہ قرآن رہنمائے سائنس ۔
  19. (5)۔ http://www.miraclesofthequran.com/index2.htm
Views All Time
Views All Time
503
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تنقیدی شعور-خورشید ندیم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: