Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بند گلی – مہ جبین آصف

بند گلی – مہ جبین آصف
Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ دنوں اک وڈیو اور کچھ تصاویر دیکھیں جو اس تحریر کا مہمیز بنیں ،افریقہ کے کسی دور افتادہ قصبے میں ریگستان کی تپتی ریت پر کچھ فاصلہ پر پڑی کئی لاش نما استخوانی جسم جن کے صرف شکم ہی بھوک کی شدت سے باہر کو نکلے تھے یا مسلسل قحط کی حالت کی وجہ سے ،پپڑی جمے سیاہ ہونٹ ،زرد آنکھیں سوکھے پچکے خشک گال ،تپتی ریت کی جلن سے چند ثانیہ کو جنبش کرتے ،سرکو ریت سے اٹھاتے یہ شیر خوار بچے ،حشرات سے بھی ارزل تر،حشرات تو پھر بھی موسمی تبدیلیوں سے کیمو فلاج کی صلاحت رکھتے لہذا انکی مثال بھی دینا مناسب نہیں ۔ یہ مر دوں سے بد تر جسم تپتی ریت کو محسوس کرکے مبہم سی جنبش کرتے تھے اس وسیع ریگزار میں کچھ فاصلہ پر زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے ۔حیرت ان پر جو اس منظر کوکیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر نے یا شاید ترسیل کے عالمی اداروں کی توجہ مبذول کرانے کے لئے ٹیم لیکر پہنچے تھے ۔میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ میں عالمی ترسیل کے اداروں کو بے حس سمجھوں یا ارتکاز زر کے سسٹم کو مو رد الزام گر دانوں یا سماج کی بے حسی کو روؤں یا موت کے منظر کی عکا سی کرتے لینز پر نوحہ کناں یا اس آنکھ پر جو بے کسی کے لمحات کو کلک کرنے دور دراز کا سفر طے کرکے پہنچے تھے جب کہ اس لمحہ ان پیاسے سوکھے ہونٹوں کو پانی کے اک قطرہ سے سیراب کرکے زندگی دی جاسکتی تھی ۔ان ،میں سے کچھ معصوموں نے تو انسانیت کی اس تذلیل اور ابن آدم کی اس بے حسی کو دیکھ کر ہی سانسوں کا رشتہ اس مکروہ دنیا سے توڑ لیا ہوگا ۔کسی ماں کے پاس انکے سوکھے لب سیراب کرنے کیلیے اک قطرہ دودھ نہ تھا کجا کہ انکی سیلفی لی جائیں ۔یہ ہےموجودہ دور کا ناسور سیلفی کلچر جس کے اثرات سے ہم بہرہ مند ہو رہے ہیں ۔یہ وہ آگ ہے جو ہہمارے گھروں تک پہنچ گئ ہے لیکن ہم گرگٹ کی طرح آنکھیں موندے یہ سمجھ رہے ہیں کہ برا وقت ہمیشہ دو سروں کےلیے ہوتا ہے ۔مجھے اسی سیلفی کلچر سےجانے کیوں اپنے بچبپن کی کڑی جڑتی نظر آئی شاید مجھے کبھی بازیافت نہ ہوتی یہ بات ،تربیت کے اس پہلو کی سمتت آگاہی نہ ہوتی جو ان سیلفیوں کو دیکھ کر ذہن کے نہاں خانے سے شعور میں چلی آئی ۔ہر لڑکی کی طرح جب ہم سن شعو ر میں قدم رکھ رہے تھے ،یاد ہے آئینہ کے سا منے موجود پا کر ہمارے والد سر زنش کیا کرتے تھے کہ آئینہ کے سامنے زیادہ چہرہ دیکھنے سے چہرہ پر جھائیاں پڑ جاتی ہیں اور ہم سیاہی مائل بد نما لگتے چہرہ کا تصور کر کے فورا ہٹ جاتے ۔بظاہر شاید یہ بات عام سی محسوس ہوتی ہے لیکن اب سوچتی ہوں کہ ہمارے والدین کتنے نامحسوس طریقے سے تربیت کرتے تھے کہ بات بھی پہنچ جائے اور بچہ کی انا بھی سلامت رہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری ایج گروپ کے لوگوں میں بے جا انا ،خود پسندی ،ظاہری خصائص پر بے جا فخر ،نرگسیت جیسے منفی جذبوں کا شائبہ تک نہیں ۔ہم نے ان باتوں کو ہمیشہ غیر ضروری سمجھا اور صلاحیتوں کی پرداخت کو مطمع نظر مانا ۔باطن اجا لنے کی تربیت ازخود شخصیت میں رچتی بستی رہی ۔مجھے حیرت ہوتی ہے ان والدین پر جو بچیوں کو ٹیڑھے،ترچھے منہ بگاڑ کر ،ناخن سے لیکر پاؤں ،بالوں سے لیکر پوروں تک علیحدہ علیحدہ تصویر کشی کرنے پر کوئی نوٹس نہیں لیتے ۔یہ خود نمائ ،بےجا تکبر ،بے حسی ،بے اعتنائی ،نر گسیت شدید انانیت جیسی منفی عادات پیدا کر رہی ہیں حتی کہ ایڈونچر کے شوقین اپنی جان تک گنوا بیٹھے ۔بچیاں دن رات فوٹوز اپلوڈ کر رہی ہیں۔ ماں باپ نہال ہوکر داد دے رہے غیر ضروری ستائش کی یہ دو دھاری تلوار جو آہستہ آہستہ کاٹ رہی ہے ایسی بے حسی جب شخصیت میں راسخ ہو جاتی ہے تو معاشرے کا ناسور بن ،جاتی ہے جہاں آگے نکلنا ،ہر شخص سے ستھرے مقابلہ کے بجائے دھکا دینے ،سر جھٹک کر آگے بڑھ جانے ،ذات کو سیلف سنٹرڈ ،ہونے جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔جب ہی تو سر عام سگا بھائی بہن کو آگ لگاتا ہے اور وڈیو بنارہے لوگ بجائے ریسکیو کے فخر سے وائرل کرتے ہیں ۔یہ ہے معاشرے کی وہ بے حسی جو ہم کو کس بوائلنگ پوائنٹ پر لے جائے گی اس کا نہ کوئ انت ہے ،نہ سرا ،نہ جادہ ہے ،نہ منزل۔ہم جانے کس بند گلی میں محبوس ہو گئے ہیں جہاں فہم ادراک عقل سب پر پردہ پڑ چکا ہے ۔ہم بچوں کو مصنوعی ہوا ،رنگین مصنوعی مشروبات، فلیورڈ فوڈ کھلا کر فیک مسکراہٹ میں سیلفی بنوا کر شاید تر بیت بھی مصنوعی ہی کر رہے ہیں ۔خود کو بھی فریب دے رہے ہیں اولاد تو گر ہی رہی غار منزلت میں ۔کاش کوئی مداوا ہو ،کوئی عیسیٰ ،کوئ مسیح ہماری سوچوں کو اجال دے ۔باطن کی تطہیر کردے ۔ہمیں موت کی دستک کو موت سے قبل سننے کا وجدان عطا کردے ۔ورنہ آگے دیوار ہے جس سے آگے کوئی رستہ نہیں ،روزن نہیں ،گھپ اندھیرا ہے بے حسی کی موت کا۔

Views All Time
Views All Time
637
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   یمن میں نسل کشی: میڈیا امریکی۔سعودی جنگی جرائم چھپا رہا ہے - منار مہوش (ترجمہ:عامر حسینی)
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: