Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

Print Friendly, PDF & Email

سفر جب پیروں سے لپٹ جائیں ،ہجرتیں جب پاؤں کی چھاگل بن جائیں ۔جب راستے کے کانٹے پھول بن کھل جائیں تو سمجھو مبارک ساعتوں نے آپ کے قدم چھو لیے ۔زندگی کی ہر ساعت میں ہر گھڑی جس آغشتہ وجود نے الہڑ تقاضوں ،جوانی کے مہکے جزبوں کے سپنے نظر انداز کرکے اپنی دعائے نیم شبی میں اپنے رب کو چاہا،رنگین جذبات سے بھری راتوں میں دل نے خوابوں میں اس نگری کے طواف کیئے ،جب لڑکیاں کھلی آنکھوں سے کسی کے سپنے بنتی ہیں،یہ دل اس وقت سے کوئے جاناں کی تلاش میں سرگرداں رہا۔ کچی عمر کا حسین خواب جب خود کو اس گھر کے طواف کرتے دیکھا ۔

میری آنکھوں سے روشنی صرف اس اک خواب کی تعبیر میں بسر ہوئی ۔دل نے ہزار سجدے کیے ۔نظروں نے صدقے اتارے ۔یوں اک ان بنی دنیا کے طلسماتی شہر کی اسیری کی خواہش میں رب نے اس کوتاہ نظری کو بھی توقیر عطا کردی ۔جہاز کا ان بنا سفر ،خوابوں کی جنت میں جیسے ہی لے گیا دل گویا سارے در توڑ کر آمادہ بغاوت ہوگیا ۔نہ رہا قابو میں کچھ ۔شہر مدینہ و مکہ میرے دعائے نیم شبی کے ثمر ۔مجھ عاصی کو اللہ نے کس مقام پہ لا کر کھڑا کردیا ۔نہ تاب طاقت ۔نہ گویائی ۔اشراق کے پردے چھٹے سپیدہ سحر نے صبح کی آنکھ میں کاجل بھردیا ۔خانہ خدا کحل جواہر میری آنکھوں کا سرمہ وقت کے صبیح چہرے پر پڑ رہا تھا ۔من عاصیم ۔من بے چارہ ام ۔میں کسی تنویمی کیفیت کے زہر اثر اس ساحر آنکھوں کا سرمہ بھر لینا چاہتی تھی ۔

وہ لمحہ قریب تھا سیڑھی سیڑھی قدم من من بھر کے ہورہے تھے ۔آخر اللہ کا گھر کب، کس حالت میں دیکھ سکوں گی ۔ کعبہ پہ پڑی جب پہلی نظر کے مصداق دنیا بھولنا کسے کہتے ہیں ۔کچھ باقی نہ رہا دل بے قرار کو ہاتھوں نے تھام تھام لیا ۔یہ نظریں یہ منظر دھندلے کیوں ہوجاتے ہیں ایسے موقع پر ۔رستوں سے ہمیشہ شکایت رہی ۔شاید ہم کھلی شفاف آنکھوں میں بھر ہی نہیں سکتے ۔عجیب معبود ہے۔ پانی کے گھر میں ہی رہتا ہے ۔دنیا کی بنی شاید کوئی چیز ہوتی تو سلامت نہ رہتی لیکن یہ میری آنکھ تھی ۔چشم بصیرت تھی جس نے سنبھالا ۔ہاتھ دل سے جاتا ہی نہیں تھا ۔اس حالت میں طواف کیے جانا ۔سنا تھا حالت طواف میں کعبہ کی سمت نظر نہیں کرتے ۔لیکن وے میں چوری چوری تیرے نال لا لیئاں اکھاں وے ۔ ۔دل کی چوریاں قابل دست انداز کہاں ہوتی ہیں ۔ سحر زدہ کیفیت ،بے نام جزبے ،پتہ نہی دل کی ڈور کس کے ہاتھ تھی ۔جسم کے گرد جو ریشم کی ڈور تھی اس پتلی کو گھمائے جاتی تھی ۔کیسے خود کار روبوٹک انداز میں دل اس کوچہ کے گرد واری صدقے ہورہا تھا ۔جس دل نے ساری ساری رات اس کی طلب میں گزارے تھے ۔مجھ سی عاصی ،گنہ گارسوائے معصیت میرے دامن میں کچھ نہ تھا ۔بجز ندامت سیل رواں تھا کہ ٹھاٹیں مارتا تھا ۔اس ڈور سے بندھے بندھے دل چاہتا تھا گرداگرد چکر لگاتی رہوں ۔شاید دل بے تاب کو قرار آجا ئے ۔

یہ بھی پڑھئے:   جناب وزیراعظم!ہم نے گھرجاناہے

سبحان اللہ و بحمدہ و سبحان اللہ العظیم ،پاک ہے وہ رب ،عظیم ہے ۔مغفرت عافیت کا پیام، اک تنویمی کیفیت جس کا کوئی نام نہیں ۔سعی صفا و مروہ ،اک سیل بے کراں لوگوں کا ہجوم ،ڈری سہمی آنکھوں سے دنیا کو پیارے اسمعیل علیہ السلام کی اور بی بی حاجرہؑ  کی سنت کی پیروی میں دیوانہ وار کبھی ہلکے کبھی تیز قدم چلتے دوڑتے دیکھا ۔سوچا لوگ کہتے ہیں عورت کی تقلید نہیں،اسکی قیادت نہیں جائز تو یہ سنت حاجرہ ؑساری دنیا کے مرد عورت ہر ذی نفس کیسے کر رہا ہے ۔کوئی تقدیس سنت عورت کا اعلیٰ مقام صبر کی انتہائی کمال درجہ حالت جب اک ماں کی تڑپ نے خشک بے آب و گیاہ سوکھے صحرا میں محبت کے سوتے بکھیر دیئے تھے ۔ایڑیوں کی حرارت نے سخت مٹی کا سینہ چیر کر عالم آب و خاک کو تر کردیا ۔ آج انہی بی بی حاجرہ ؑکی حکم ربی کی سنت دیوانہ وار عشاق ادا کر رہے تھے ۔کیا منظر، جذباتی لوگ با آواز بلند دعائیں پڑھتے جاتے۔رب کی عبودیت کے اقرار کا اک اور انداز ،اک الگ دنیا ۔جب وقت کی اکائیاں کہیں رک سی گئیں ،جہاں وقت ،سمے سب کچھ الگ سی جہات میں ہوتے ،جہاں سب کچھ دنیا سے الگ ،منفرد ،ٹوٹا وجود ،مگر جڑنے کی خواہش ،سارے ٹکڑے رنگین شیشوں کی طرح منظر میں بند ۔

یہ بھی پڑھئے:   فری لانسنگ کا دور

سعی مکمل ہوئی ،دوگانہ شکرانہ ادا کیا ۔لیکن اک بات جو شاید آپ متفق ہوں مجھ سے ۔جب لوگوں کو موبائل کیساتھ لائیو وڈیو بناتے ہوئے طواف کعبہ کے دوران دیکھا ۔یا سعی کے دوران وڈیو چیٹ میں مستغرق دیکھا تو دل نے نفی کردی ۔کیا اللہ کے اور انسان کے درمیان بھی کوئ ڈیجیٹل رابطہ ضروری ہوتا ہے ۔سب کے ہاتھوں میں موبائلز کی موجودگی نے کم از کم میرے روحانی تقدس تصدق کو ضرور مجروح کیا ۔کاش گورنمنٹ دوران طواف یا سعی پابندی لگادے ۔رب کی طرف جو مراجعت ہے کم از کم وہ پاک۔ ہو ،ہموار ہو ۔اس میں دنیا کے رنگ جب جھلک گئے تو شفافیت کی گنجائش کہاں ۔یا شاید میں بہت فرسودہ خیالات کی نکلی ۔اللہ کے حساب کتاب جدا ۔اس کے احوال دگرم ۔

Views All Time
Views All Time
225
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: