Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ہنسو تو رنگ ہو چہرے کا

Print Friendly, PDF & Email

مجھے ابھی اک دوست کا میسج آیا کہ مسکراؤ آج وومن ڈے ہے۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن عجیب سا تاثر جو مسکراہٹ بنتے بنتے رہ گیا۔ مجھے جشن طرب کی محفلوں میں ہمیشہ چیخیں، کان کے پردے پھاڑتی آوازیں کیوں سنائی دینے لگتی ہیں؟ میں واقعی مسکرانا چاہتی ہوں اک نارمل عورت کی طرح۔ بے حس عورت جسے اس متعفن معاشرے کی طرف سے منہ پھیر کر چلنے کی عادت ہو یا جو اس بدبودار ،کریہہ، متعفن، زخم رستے زخموں پر زبان رکھے انہیں چاٹنے کی عادی ہوچکی ہو۔ لیکن نہیں ، مجھے ہمیشہ کسی زینب، لائبہ، دعا جیسی بچیوں کے نام سن کر کوکھ کی آخری دیواروں تک کھینچاؤ کیوں محسوس ہوتا ہے؟

مظلوم بچی کی چیخیں جو گھٹ کر موت کی خموشی میں بدل گئیں۔ میرے جسم و ذہن کو کیوں اجاڑ قبرستان کردیتی ہیں۔بسوں میں بیٹھی عورتیں ہوں، یا دفتر میں کام کرتی دوشیزہ، مجھے اس کے جسم کے آرپار ہوتی حریص نظریں، رال ٹپکاتی ہوس کیوں نظر آجاتی ہے۔ آج وومن ڈے ہے 8 مارچ جب مغرب سے آزادئ نسواں کی لہر اٹھی ۔ صنفی حقوق کی عورتوں کو مرد کے بے جا تسلط سے آزاد کرانے کی آواز، پلے کارڈ اٹھائے جدید مہکتے ملبوس میں لپٹی عورت۔ حقوق نسواں کا نعرہ لگاتی عورت کے عقب سے مجھے وہ غریب ماسی کیوں یاد آتی ہے جس کے گردے اس کے شوہر نے دیہات سے شہر لاکر آپریشن کے بہانے فروخت کرکے دوسری شادی رچا لی اور اس مظلوم کو اپنی معصوم بچیوں کو پالنے کیلیے کڑی دھوپ، تلخی حیات کا مشروب پینا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سالگرہ مبارک قلم کار - سخاوت حسین

کیا قصور تھا اس میڈیکل کالج کی طالبہ کا جس کو رشتہ نہ دینے پر سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ کیا قصور تھا ان بچیوں کا جنہیں زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ اور وہ اس لمحہ بھی بابا کا پسینہ پونچھتی تھی۔اس پدر سری معاشرے میں خواہ وہ شہزادی ڈیانا ہو، ملالہ ہو یا بے نظیر بھٹو، عورت کی توانا آواز کو ہمیشہ بھاری قدموں نے کچلا ہے۔ آج ثناء خوان تقدیس نسواں کہاں ہیں جنہیں قصور کی کچرہ میں ادھڑی نوچی بھنبوڑی گئ یلاش نظر نہیں آتی۔ اسے کور چشمی کہیں یا چشم پوشی۔ ڈارک رومز انہی پیاری حسین معصوم فرشتوں جیسی کلیوں کی چیخوں سے ہی آباد رہیں گے۔ وہ اذیت جو معصوم کے ہر عضو کو کاٹ کر۔ ذبح کرتے نرخرے سے نکلتی آواز کی سرشاری میں ہے۔ یہ کونسی لذت ہے جس کا کوئی سرا نہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ آج سگ آزاد ہے اور سنگ مقید۔

کس آزادئ نسواں کی آواز پر میں لبیک کہوں۔ وہ آزادی جو مر دوں کے اس معاشرے کی دین ہے۔ جہاں کوئی طبقاتی امتیاز نہیں۔ کوئی شہزادی ہو یا غریب تھر کی درماندہ لڑکی جس کو اجناس کی طرح بیچا جارہا ہو۔ جہاں غیرت کے نام پر عورت قربان کی جاتی ہو۔ جہاں گا لیاں بھی عورت کے نام سے ہی منسوب ہوں۔ جہاں پورے گاؤں میں اک لڑکی کو سرعام برہنہ کرکے لذت کوشی کی گئی ہو۔ اس معاشرے کی غیرت کو ہیپی وومن ڈے پر سلام ۔حوا کی یہ بیٹی اپنے گھر میں شوہر سے ہی اپنی بات نہ منوا سکے جہاں اسے یہ کہ کر خاموش کرادیا جائے کہ بی بی مرد ایسے ہی ہوتے ہیں من مانی کرنے اپنی بات پر قائم رہنے والے۔ تم ان کی سیوک ۔یہ پتی خواہ مغرب ہو یا مشرق عورت شہر کی ہو یا دیہات کی پائمالی۔ رائگانی لا حاصلی کم مائگی اس کا مقدر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   بچوں کا ہوجکن لمفوما (حصہ اول)

کسی سروے رپورٹ کا جائزہ لے لیں۔ عورتوں کی ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمائندگی فی شعبہ 15/25۔عورتوں کا تناسب ہے۔ کروڑوں کی آبادی کے ملک میں۔ توانا۔ ٹیلنٹڈ خواتین کا تناسب بس ؟؟؟؟؟؟؟۔ میں کسی دن کے مخالف نہیں لیکن خدارا دنوں کو منانے کے بجائے نعروں تک محدود رہنے کے بجائے عورت کو دل سے عزت احترام دیں جب عزت دیں گے حقوق بھی مل ہی جائیں گے۔ دنوں کو سیلیبریٹ کرکے نشستن برخاستن پر موقوف کرکے عملی اقدامات کریں۔ عورت خواہ بچی ہو یا عمر رسیدہ ۔آپ کی توجہ کی مستحق ہے ۔اسے مان دیں، سمان دیں، اسے اس کے ہونے کا احساس دلائیں ۔یقین کریں سارے دن پھر اس کے ہوں گے۔ نہ کہ اک مخصوص دن۔

Views All Time
Views All Time
415
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: