Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ الم کس کے نام لکھوں؟-مہہ جبیں آصف

by اکتوبر 27, 2017 بلاگ, معاشرہ
یہ الم کس کے نام لکھوں؟-مہہ جبیں آصف
Print Friendly, PDF & Email

بحیثیت نفسیات کی طالبہ میرے دل میں ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ پاگل شخص یا نفسیاتی سنڈروم کا شکار لوگ تنہائی میں کیا باتیں کرسکتے ہیں یا ان کے ساتھ لوگوں کے رد عمل پر کیا تاثرات ہوتے ہوں گے.ان کی بڑ بڑاہٹ یا خودکلامی میں چھپے رمز کیا اور کس طرح ہوتے ہوں گے۔
لیکن ابھی کچھ روز پہلے کا ذکر ہے کراچی کی اک مصروف شاہراہ .جس پر سے دن بھر میں لاکھوں گاڑیاں
پبلک پرائیوٹ ٹرانسپورٹ ،پیدل چلنے والے، خوانچہ فروش، انبوہ کثیر گاڑیوں کے ریلے کی طرف پیٹھ کیے ذہنی توازن گنوائے مخبوط الحواس عورت کہنیاں ٹکائے نیم دراز تھی. یہ شاید انسانی آنکھ کے لئے عام منظر ہو جو حیطہ نگاہ سے گزرتا ذہن کی سلیٹ سے محو بھی ہوجاتا .انسانوں کا اک انبوہ کثیر اس کے اطراف سے گزر رہا تھا.کسی کو احساس نہیں۔آفرین اے بےحسی .جو زندہ قوموں کے ضمیر نگل گئی۔
اک درمیانے عمر کی عورت کا جسمانی نظام نارمل زندگی کا حصہ ہوتا ہے جو معمول کی ماہانہ نوعیت کا جزو لازم.. لیکن وہ قابل رحم .اپنے ظاہری حلیہ سے بے نیاز عاری الذہن پاگل عورت جسمانی آلودگی سے بے خبر بھرے بازار میں انتہائ کریہہ حالت میں کھلے عام لیٹی ہوئی تھی اور مجمع اسکے رنگین لباس کو دیکھ کر جو بار بار کی نجاست کے بعدخشک ہو کر پھٹ چکا تھا، گزر رہا تھا۔ اک لمحہ کا عکس پتہ نہیں ذہن میں کیسے منجمد ہو گیا کہ اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے سانس بھی رک جائے گی حواس شل ہونے لگتے ہیں .یہ سوچ کر کہ کیا کہیں اس کا عزیز قرابت دار ،اولاد یا بھائی موجود ہیں ؟یا اس کا کوئی عزیز کیا اس شاہراہ سے نہیں گزرا ہو گا؟ کیا پائمالی ہے رشتوں کی۔
حالانکہ انسانیت کی ابتداء اسی روز ہو گئی تھی جس دن آدم حوا کی جنت بدری کے بعد درخت کے پتے بھی انہیں بے لباس نہ دیکھ سکے تھے انجیر و زیتون کے نرم پتوں نے انکا لباس بنکر کلچرڈ معاشرے کا اک ماڈل پیش کر دیا تھا .کیا بہ زبان خموشی یہ کربناک نوحہ اس مجبور کا بین نہیں کر رہا؟حوا کی اس بیٹی کے بے پردہ وجود کو دیکھ کر کوئی آنکھ آنسو بن کر وقت کے لمحہ میں نہ پگھلا ہوگا . بلکہ یہ نوحہ ہے انسانیت کے بے ضمیر لاشے کا۔ جس سے اب تعفن پھوٹنے لگا ہے۔ہم اتنے ارزل ہو گئے کہ اپنی عورت کو عفت احترام دے کر اس پر چادر نہیں ڈال سکتے .چاردیواری تو شاید اپنوں کی بے حسی سفاکی نے ویسے بھی چھین لی .ہمارا کوئی بھائی اسک و کسی فلاحی ادارہ یا شیلٹر ہوم میں نہیں لے جاسکتا ؟
مجھ سے اکثر لوگ کہتے ہیں آپ مثبت سوچا کریں .مثبت لکھا کریں .منفی سوچ آپ کی شخصیت پر خود اثرات بد مرتب کرتی ہے آپ ان منفی قوتوں کے زیر اثر ہوجاتے ہیں لیکن کوئی مجھے یہ بتائے میں کیسے وہ گیت لکھوں جو نشاط کی راہوں تک جاتے ہیں .کیسے اشک بار آنکھوں سے قہقہہ لگانے کی عیاشی کا حظ اٹھالوں
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا .
میں یہ کس کے نام لکھوں ،شاید انکے نام جو کسی کے سرپرست ہوتے ہوئے اس کو بے نام نشان لاشوں میں بدل دیتے ہیں یہی وہ نا معلوم لاشیں ہیں جو خموشی کے ساتھ بناء آنسو بہائے کسی گمنام قبر میں دفن ہوجاتے ہیں .جن کی کوئی ماں نہیں جو سر شام چراغ جلائے. نہ کوئی شناخت نہ نشانی نہ کہیں کتبہ .کوئی پھول نہیں قبر پہ .گور غریباں کیا الم ہے .پتہ نہیں قیامت میں ایسے بے نام و نشاں کی اولاد کو کس کے نام سے پکارا جائے گا یا میں یہ الم ان کے نام لکھ رہی ہوں جو سارا دن کسی روبوٹ کی طرح اس منظر سے حظ اٹھاتے ،لطف کشید کرتے گزرتے رہتے ہیں۔ زمانے کے ہاتھ ان دھڑکتی سانسوں کو کیوں نہیں تھام لیتے جو وقت کے سینے میں دھڑکتی ہیں. جو زندہ ہیں لیکن ہماری بے اعتنائی ،مردہ ذہنی ،بے ضمیری نے انہیں مار ڈالا .
میں یہ سوچتی ہوں کہ یہ الم کس کے نام لکھوں ؟

یہ بھی پڑھئے:   ابھی قلم کار کو بہت آگے جانا ہے - عقیل عباس جعفری
Views All Time
Views All Time
395
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: