Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اس شہر میں جی کو لگانا کیا-میمونہ صدف

اس شہر میں جی کو لگانا کیا-میمونہ صدف

مرنے والوں کو رو رہا ہے کیا
بے کسی دیکھ جینے والوں کی
میرا تعلق سندھ کے علاقے سکھر سے ہے ۔ اور شعبے کے اعتبار سے میں فوج میں نرسنگ اسٹاف کا حصہ ہوں چند دن پہلے میرا ٹرانسفر راولپنڈی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ہوا اور آج میری ڈیوٹی کا پہلا دن ہے ۔ میری ڈیوٹی جس وارڈ میں لگائی گئی وہ میڈیکل وارڈ ہے جو ہسپتال کے بڑے گیٹ سے داخل ہوتے ہی خوبصورت لان والے راستے پرواقع بڑے وارڈ کے اندر سے ہوتے ہوئے آتا ہے ۔ وارڈ میں داخل ہوتے ہی میری نظر سفیدبستروں کی طویل قطار پر پڑی جن پر اکثر ضیعف العمر شہری علاج کے واسطے پڑے تھے ۔ ہر ایک مریض کی اپنی ہی کراہنے کی آواز تھی ۔ ابھی میں مشکل سے وارڈ کے درمیانے حصے کو پار کر پایا تھا کہ میرے کانوں میں شدت سے کراہنے ، سسکنے کی آواز سنائی دی ۔ ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ خاص دکھائی نہ دیا تو چلنے لگااسی اثنا میں پھراسی درد بھری سسکیوں کی آوازنے میرے قدم روک لیے ۔بڑے دھیان سے سننے کے بعد اپنے دائیں جانب بیڈ کی طرف بڑھا تو دیکھتے ہی دل میں ایک خیال خدمت پیدا ہوا اور قریب بڑھا ، بڑھتے بڑھتے اسقدر قریب ہوگیا کہ آواز اورجسم دونوں سننے اور دیکھنے لگا ۔ آواز انتہائی درد بھری سسکیوں کی تھی اور جسم ہڈیوں کا ڈھا نچہ ۔ان گنت جھریا ں اور گہرے سیاہ حلقے ، نحیف جسم۔ میں ترس کا جذبہ لئے چندلمحے کواس بوڑھے کے پا س رک گیا ۔اس بوڑھے کے پاس کوئی اور نہ تھا ۔میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور سلام کیا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔وہ بوڑھا شخص خاموش آنکھیں لیے مجھے غور سے تکنے لگا۔ ۔اس کی بے نور آنکھیں نہ جانے کتنے ہی لمحے میرے چہرے پر گڑی رہیں جیسے وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو لیکن پہچان نہ پا رہا ہو۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے اپنے ہاتھ یوں اٹھائے جیسے میرے چہرے کو تھامنا چاہتا ہو ۔میں اسی نادیدہ قوت کے زیر اثر اس پر جھک گیا۔ اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ میرے چہرے پر پھیرتے ہوئے وہ میرے خدوخال میں کسی اور کو تلاش کرنے لگا۔
احمر ، بیٹا ، الفاظ بے انتہا آہستہ کانپتی آوازمیں جیسے صرف ہونٹوں کی جنبش ہواس کے منہ سے ادا ہوئے ۔
اس بوڑھے کی آواز سننے کے لیے میں اس کے چہرے پر جھک گیا ۔دفعتا ًمجھے محسوس ہوا جیسے وہ میرے چہرے کو چومنا چاہتا ہے ۔میں نے اپنا چہرہ مزید اس کے چہرے کے قریب کر لیا ۔ اس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کی بے نور آنکھوں میں جیسے سیلاب سا امڈ آیا ۔اس کے ساتھ ہی وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا ۔
اتنا عرصہ کہاں رہے تم ۔اس نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا ۔ میں اپنے آپ کو بالکل بے اختیار محسوس کر رہاتھا ۔ جیسے کوئی نادیدہ قوت ہے جو سب کروا رہی ہے ۔
کہیں نہیں بابا جی ۔میں نے دکھ سے کہا ۔ میں اس کے علاوہ کہتا بھی تو کیا کہتا ؟
احمر پتر! ایک دفعہ بھی تمھیں میری اور اپنی ماں کی یاد نہیں آئی ۔وہ بھرائی ہو ئی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ میرا چہرہ بدستور اس کے کانپتے ہاتھو ں میں تھا ۔
بابا جی ! وہ ۔میرے پاس تمام الفاظ ختم ہو چکے تھے ۔ یا شاید کوئی لفظ ایسا تھا ہی نہیں جو میرے جذبات کی ترجمانی کر سکتا تھا ۔ ایک عجیب سا احساس جرم میرے رگ و پے میں سرائیت کر تا چلا گیا ۔میرے پاس اس کے لیے کوئی حرف تسلی باقی نہیں رہا تھا
احمر بیٹا اتنی ناراضگی، وہ بوڑھا شخص جیسے سوالیہ نشان بن گیا تھا اور میری زبان جیسے گنگ تھی ۔ میں ایک لفظ بھی بولنے سے قاصر تھا ۔
بابا جی ۔میں آگیا ہوں ۔ اب نہیں جاؤں گا ۔۔ چند لمحے کے توقف کے بعدمیں نے اسی بے نام قوت کے زیر اثر کہا اور میں ان کے پاس ہی بنچ پر بیٹھ گیا
پتہ ہے احمر پتر ۔ میں نے تمھارا بہت انتظار کیا ۔ بہت خط لکھے ۔ کیا تمھیں ایک بھی نہ ملا۔اس بوڑھے کی آواز میں سالوں کا گلہ تھا
تمھاری ماں ابھی گئی ہے گھر۔ اگر پتہ ہوتاکہ تمہیں آنا ہے تو میں اسے روک لیتا وہ بوڑھا مسلسل بول رہا تھا ۔
کوئی بات نہیں بابا جی ، میں مل لوں گا ۔الفاظ خودبخود ادا ہورہے تھے ۔عجیب سی شرمندگی سے کہتے ہوئے میں نے نظریں جھکالیں
پھر بھی بیٹا ۔ وہ تم سے مل لیتی تو بہت خوش ہو جاتی ۔ بوڑھے نے بمشکل مسکرانے کی کوشش کی
باباجی ۔ میں اماں جی سے ضرور ملوں گا ۔میں نے اسے تسلی دی
ٹھیک ہے بیٹا ۔وہ پھر سے مسکرایا ۔ ایسی تکیف دہ مسکراہٹ کہ میرا دل کٹ کر رہ گیا
پتر ۔ یہ ڈاکٹرکیا کہتے ہیں ؟ سنا ہے مجھے کوئی جان لیوا بیماری ہوگئی ہے ۔ اب اس بوڑھے نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی آواز میں ٹھہراؤ آگیا تھا ۔
بابا جی ! میں ڈاکٹر سے آج بات کروں گا ۔میں نےآہستگی سے کہا ۔ حالانکہ میں اس بوڑھے کا نام تک نہیں جانتا تھا
کیا بات کرو گے ؟ اب کچھ ہونے والا نہیں ۔ بوڑھا آہستگی سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا ۔ میں نے اس کے ہاتھ کو تھام کر سہلایا ۔ پھر اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما
نہیں بابا جی آپ کو کچھ نہیں ہو گا ، میں نے تسلی دی ۔ بوڑھے نے پھر سے آنکھیں کھول دیں ۔ ہاتھ میری طرف بڑھایا میں نے اپنے ہاتھوں سے اس نحیف ہاتھ کو تھام لیا۔
پتر تو، آگیا نا ۔اب میں مر بھی جاؤں تو غم نہیں ۔ اپنی ماں کا ذرا خیال کرنا۔ اس کی بے نور آنکھوں میں موتی اتر آئے تھے ۔بڑی امید لیے وہ التجایا لہجے میں کہہ رہا تھا
بابا جی ۔آپ کو کچھ نہیں ہو گا میں نے پھر سے تسلی دی ۔
موت کو تو کوئی نہیں روک سکتا پر ، بس تو اپنی ماں کا خیال رکھنا وہ میرے بعد بہت اکیلی ہو جائے گی ۔التجا در التجا۔لیکن ایک سکوت سا اب اس کے لہجے میں سما گیا۔یہ کہہ کر اس نے مجھے خود سے الگ کیا اور آنکھیں موند کر زیر لب کچھ پڑھنے لگا۔ میں بنا کچھ کہے اس کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا ۔
چند لمحے بعد اس کے ہونٹ رک گئے ۔ اسی لمحے میں نے سوچا شاید وہ بوڑھا سو گیا ہے ۔لیکن شاید وہ ابدی نیند سو گیا تھا ۔ ایسی پرسکون نیند جس سے آج تک کوئی نہیں جاگا ۔ اس سوچ کے تحت میں وہاں سے اٹھ کر چل دیا ۔جاتے ہوئے میں نے مڑ کر اس کے پر سکون چہرے کو دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھاجیسے وہ کسی بڑے بوجھ سے آزاد ہو گیا ہو۔اس کے چہرے پر نورسا بکھرا ہوا تھا۔میرے دل میں عجیب سے دکھ نے ڈیرے ڈال لئے۔میرا دل چاہا کہ میں پھوٹ پھوٹ کررودوں ۔
معمول کے کام کرتے ہوئے ایک بے نام خلش نے سارا دن مجھے بے چین رکھا ۔بعض اوقات بے اختیار جی کرتا کہ اس بوڑھے کے پاس چلا جاؤں اور اس کو بتاؤں کہ میں اس کا بیٹا نہیں، میں اسے جانتا تک نہیں ، مجھے اس کا نام تک معلوم نہیں لیکن ایسا کرنے کی مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی۔میں دو بار ہمت کر کے اسے اس حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے اس کے بستر کی جانب گیا لیکن نہ جانے کیوں الٹے پاؤں واپس آ گیا۔میں اس کو کس منہ سے بتاتا کہ میں اس کا بیٹا نہیں ہوں ۔ کس طرح سے اس بجھتے چراغ کی آخری امید کو توڑتا ۔ میں کیا کروں میں نے کئی بار اپنے سر کو تھاما اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ جب تک یہ بوڑھا یہاں اس ہسپتال میں ہے میں اس کا بیٹا بن جاؤں گا ۔میں اس بوڑھے کو آخری خوشیاں ضرور دوں گا ۔یہ عزم کر لینے سے میرے دل و دماغ کو کچھ سکون تو ملا لیکن ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ کہیں اس شخص کی بیوی مجھے پہچان نہ لے ۔
شام کوکام ختم کرنے کے بعدمیں اپنے گھر جانے کی بجائے اسی وارڈ کی جانب چلا آیا ۔لیکن اب وہ بستر خالی تھاجہاں وہ بوڑھا شخص صبح لیٹا تھا ۔کچھ لوگ روتے ہوئے اس کمرے سے باہر جا رہے تھے ۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔
کیا وہ بوڑھا ؟میرے دل میں خیال آیا ۔ نہیں نہیں ۔صبح تو اس کی حالت اتنی خراب نہیں تھی کہ ،میں نے اپنے خیال کی خود تردید کی ۔
میں نے فکر مندی سے قریبی بیڈ والے مریض سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ بابا جی تو میرے جانے کے چند لمحے بعد ہی چل بسے تھے ۔یہ خبر میرے لیے گویا ایٹم بم تھی ، میرا ان سے کوئی رشتہ نہیں تھا سوائے ہمدردی اور انسانیت کے پھر بھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اپنے والد پھر سے مجھے چھوڑ گئے ہوں ۔ ۔میری زبان گنگ ،اور آنکھیں اس گمنام موت پر نم تھیں ۔
یہاں نہ جانے کتنے ہی لوگ روزانہ چل بستے ہیں لیکن وہ بوڑھا اس دنیا سے جاتے جاتے میرے دل پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔
اس بوڑھے کی موت نے مجھے بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہی ماں باپ اپنی پوری جوانی اولاد کو پالنے پوسنے میں ، لکھائی پڑھائی میں، صرف کر دیتے ہیں ۔اس بوڑھے شخص کا بیٹا بھی نہ جانے کتنے بڑے عہدے پر فائز ہو گا ۔ دولت اور اسٹیٹس کے چکر میں اپنے ماں باپ کو اس قدر پیچھے چھوڑگیا کہ بستر مرگ پر پڑا باپ ہر نرم لہجے ، ہر پیار بھرے لمس کو اپنے بیٹے کا ہاتھ سمجھنے لگا۔ یہاں تک کہ اس بیٹے کے چہرے کے نقوش تک بھی باپ کے ذہن سے دھندلا گئے ۔شاید اس بوڑے باپ کو یہ امید تھی کہ کچھ بھی ہوجائے اس کا بیٹا موت سے پہلے اس سے ملنے ، اس کی تیمارداری کرنے اور اپنی ماں کا سہارا بننے ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اس نے ایک انجانے شخص کو اپنا بیٹا سمجھا ۔ اب نہ جانے اس بوڑھی ماں کا کیا ہو گا ، جو اس بوڑھے باپ کے مرنے کے بعد بے آسرا ہو گئی ہے ۔
نہ جانے ایسی کتنی ہی سوچیں میرے دماغ کا احاطہ کئے رہیں۔
میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے ۔میں چند لمحے تک تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پایا ۔میں گنگ ، اس خالی بستر کو دیکھتا رہا ۔وہ خالی سفید بستر میری طرف یوں دیکھتا رہا ۔جیسے کہہ رہا ہو کہ
آج یہ شخص تو کل تم۔
وارڈ میں طوفان گزر جانے کے بعد والی خاموشی تھی ۔اور یہ خاموشی ، ایک باپ کی آہیں ، سسکیاں اور فریاد بن کر میرے کانوں میں گونج رہی تھیں ۔میرے سوایہ فریادیں اور سسکیاں یہاں موجود اور کوئی شخص نہیں سن پا رہا تھا ۔ مجھے کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا ۔میرا جی چاہا کہ میں چیخ چیخ کر رونے لگوں ۔ لیکن یہاں میں اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو بھی آنکھوں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کیونکہ ہمارا شعبہ ایسا ہے کہ وہ ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ میں نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلوں میں جذب کیا ۔
میں انھی خیالات کے زیر اثر ایک روبوٹ کی طرح وہاں سے چل دیا ۔
شہر راولپنڈی مجھے بہت پسند تھا ۔بڑی سفارش سے یہاں پوسٹنگ کروائی تھی اور یہاں آتے ہوئے میں نے تمام دوستوں کو بتایا تھا کہ راولپنڈی شہر کے مشہور پارکوں اور جگہوں کی سیر کروں گا اور وڈیوز بھی بھجواؤں گا ۔ یہی سوچتے سوچتے میں ہسپتال کے کیفے ٹیریا میں پہنچ گیا ، کچھ کھانے اور کاؤنٹر پر بل ادا کرنے کے لیے پہنچا ہی تھا کہ کاونٹر کے نیچے بجتے ہوئے وڈیو کی دھیمی آواز نے مجھے کھینچ لیاجیسے یہ آواز مجھے ہی کہہ رہی ہو
اس شہر میں جی کو لگا نا کیا۔

Views All Time
Views All Time
213
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: