Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عاشق نمبر 309

by نومبر 20, 2017 بلاگ
عاشق نمبر 309
Print Friendly, PDF & Email

مجھے آپ سے شدید محبت ہے اور میں آپ کے لفظوں سے شدید متاثر ہو ں ۔ میسنجر انسٹال کرتے ہی پہلا میسج موصول ہوا۔
قصہ یہ تھا کہ ہماری پہلی کتاب کی رونمائی کے بعد ایک عزیز نے مشورہ دیا کہ ایک ایسا فیس بک اکاونٹ بنا لیجیئے جس میں آپ زیادہ تر لوگوں کو ایڈ کر سکیں یہ کتاب کی تشہیر کے لیے از حد ضروری ہے ۔ ہم نے سوچا خیال بر ا نہیں فیس بک اکاونٹ بنانا چاہیے ۔ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی دیر تھی کہ پے در پے درخواست برائے دوستی کا انبار لگ گیا جن میں سے اکثر کو ہم نے ایڈ کر لیا ۔پھر باری آئی میسنجر کی ۔ میسنجر انسٹال کرتے ہی پہلے فیس بکی عاشق کی آمد ہوئی ۔
ایک میسج دیکھنے کے بعد ابھی ہم شش و پنج سے نہ نکلے تھے کہ ایک کے بعد ایک میسج آتا چلا گیا اور ہر میسج میں محبت کا اظہار بدرجہ اتم موجود تھا ۔
اگر آپ نے میسج کا جواب نہ دیا تو وہ خودکشی کر لیں گے ۔ کم و بیش پچیس میسج کے بعد موصوف نے فرمایا ۔ہم نے دل میں سوچا جواب کا موقع کب دیا ؟ خیر کر لیجیئے ۔ جواباََ ہم نے انھیں اپنے مفید مشورہ سے نوازا کہ اگر خودکشی کا ارادہ رکھتے ہیں تو کر لیں ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ؟

خیر آدھے گھنٹے تک ان کا کوئی جواب نہ آیاتو ہمیں یقین ہو گیا کہ یا تو انٹر نیٹ پیکج ختم ہو گیا یا پھر محبت کا بخا ر اتر گیا ۔ لیکن ہمارے دونوں خیال درست نہ تھے ۔
آپ جس روپ میں بھی آ جائیں بہترین ہیں ۔ ہم نے میسج دیکھا ۔ روپ جو پہلا ذہن میں آیا وہ کاکروچ کا تھا ۔ کیا ہی سماں ہو جب ہم کاکروچ کی مانند اڑتے پھریں اور موصوف ہمیں قتل کرنے کے درپے ہو جائیں ۔ اس کے ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اگر کسی خاتونِ خانہ کی نظر کاکروچ پر پڑ گئی ، یا تو وہ اپنی چیخوں سے ہمیں بے ہوش کر دیں گی یا جھاڑو سے۔ بس یہ سوچنا تھا کہ جھاڑو کی پٹاخ پٹاخ کی آواز نے ہمارے رگ و پے میں جھر جھری پیدا کر دی ۔
نہیں نہیں ہمیں جھاڑو سے قتل نہیں ہونا ۔ یہ سوچ کر ہم نے لا حول پڑھ کر اس خیال کو جھٹک دیا ۔
دوسرا روپ جو ذہن میں آیا وہ کسی چڑیل کا تھا ۔ چڑیل بنئے ،سامنے والے کا خون پیجئے اور جوان رہئے ۔لیکن خون کے ذائقے کا تصور اٹھتے ہیں چڑیل والا خیال ہی سرے سے جھٹک دیا ۔ اور خون بھی کوئی ہضم کر سکتا ہے بھلا!
عاشق در عاشق ، وائے رے پھوٹی قسمت! اس بار تو بات بہت آگے تک پہنچ چکی تھی موصوف بس یونہی ٹپکے اور ساتھ ہی شادی کا اظہار کر دیا ۔ ہم نے اخلاقیات کا دامن ہاتھ میں تھامے ہوئے ان کی نجی زندگی کے بارے کچھ معلومات لے لیں ۔ موصوف ابھی ۲۱ بر س عمر کو پہنچے تھے اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ہمیں کون پوچھے!ہم نے بھی تو نوجواں نسل کو سدھارنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ، لڑکے کو سمجھایا کہ ابھی انہوں نے بمشکل جوانی کی سرحد میں قدم ہی رکھا ہے، کسی ہم عمر لڑکی کا انتخاب فرمائے ۔ اسی پر کیا موقوف ایک صاحب کی پوسٹ غلطی سے لائک کر دی ۔
لیجیئے جناب ! اب جب بھی انٹر نیٹ آن کریں کبھی وائس کال تو کبھی وڈیو کا ل ۔ شکر ہے فیس بک نے بلاک کا آپشن رکھا ہے حالانکہ ایک آپشن یہ بھی ہونا چاہیے کہ آپ کسی کے گال کو گل و گلزار بھی کر سکیں ۔
خیر! ابھی ہم نے چند ایک پوسٹ کی تھیں ۔ پھر روزانہ کی بنیاد پر فرینڈ ریکوسٹ آنے لگی ۔
اب میسجنر پر بھی روزانہ کئی لوگوں کے سلام آنے لگے ۔ اگر کارِ قضا سلام کا جواب دے دیجئیے تو اگلا سوال آپ شادی شدہ ہیں ؟ آپ کی عمر کیا ہے ؟ بس نہیں پوچھا گیا تو یہ نہیں پوچھا گیا کہ آپ سانس لیتی ہیں یا نہیں ؟
ایک سوال جو سب سے زیادہ پوچھا گیا وہ تھا آپ لڑکی ہیں ؟ ہم نے اس سوال کے جواب میں پہلے خود کو قدِ آدم آئینہ میں دیکھا اس نے تصدیق کی کہ ہم لڑکی ہی ہیں ۔ کوئی پوچھے اگر کسی لڑکے نے لڑکی بن کر اکاؤنٹ بنایا ہو گا تو کیا وہ آپ کو خود تھوڑا ہی بتائے گا کہ وہ لڑکا ہے؟ ۔
ایک محترمہ نے تو انتہا ہی کر دی فرماتی ہیں ثبوت دیجیئے کہ آپ لڑکی ہیں ؟ میں نے جوابا کہا محترمہ یہی ثبوت میں آپ سے چاہتی ہوں ۔ میری بات کے بعد ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ کم و بیش کوئی ایک گھنٹے بعد محترمہ یا محترم کا میسج آیا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ لڑکا ہیں ۔ ہم نے لاحول پڑھ کر انھیں بھی بلاک کیا ۔
معاملہ یہاں تک محدود نہیں ۔ ایک صاحب دن رات ہمیں اداس اور عشقیہ شاعری بھیجتے تھے چہ جائے کا کہ انھیں کبھی صبح بخیر کا جواب تک نہ دیا ۔ایک صاحب نے یکے بعد دیگرے نہ جانے کتنے ہی اشعار بھیجے ، ہم نے دیکھا اور بنا پڑھے چھوڑ دیا ۔جب عاشقی میں ان کی دال نہ گلی تو فرمانے لگے آپ مجھے اپنی بہن لگتی ہیں ۔ آپ جیسی خاتون تو کسی کی بہن ہی ہو سکتی ہیں ۔ یعنی کوئی تعلق تو جوڑ ، کچھ تو بول ۔
حضرت فرمانے لگے ۔ آپ انتہائی مغرور انسان ہیں ۔ پہلے تو ہم نے مغرور کو مفرور پڑھا ، پھر اپنی تصیح کی کہ ابھی تک واحد یہ کام ہم نے نہیں کیا اور نہ ہی اس کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ خیر انواع واقسام کی وڈیوز اور نہ جانے کیا کیا ہمیں بھیجا جانے لگا ۔
یہاں تک کہ میسنجر ان انسٹال کیا اور سکون کا سانس لیا ۔
چند دنوں کے اس تجربہ سے ہمیں اندازہ ہوا کہ فیس بک پر آپ کو محبت وافر مقدار میں ملے گی ۔ یہاں تک کہ بوڑھے حضرات کو بھی بوقت ضرورت عشق ہو سکتا ہے ۔ اس لیے مناسب ہے کہ کسی کو اگر آپ نہیں جانتے تو اسے فیس بک پر ایڈ نہ کریں یا کم از کم ایڈ کرنے سے پہلے اس کی پروفائل کو دیکھ لیں ۔

Views All Time
Views All Time
155
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ختم نبوت دھرنا ۔۔۔ علماء، سیاستدان اور عوام
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: