بے حسی یا بے غیرتی؟ |میمونہ صدف – قلم کار

Print Friendly, PDF & Email

مہذب دور ہے لیکن یہ منظر عام ہے اب بھی
کہ بسمل جب تڑپتا ہے قبیلے رقص کرتے ہیں
انسان اور خصوصا خواتین کو انسا ن تسلیم کر لیناہمارے معاشرے میں ایک ناپید رویہ ہے ۔ ہمارے معاشرے میں صرف اور صرف بااثر افراد کو انسان سمجھتا جا تا ہے ۔ غریب اورلاچار لوگوں کو تو انسانوں کی فہرست ہی سے نکال باہر کر دیا جاتا ہے ۔ہر صبح اخبارات انسانیت سوز اور بے حسی سے لبریز خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جن میں خواتین کی بے حرمتی سے لے کر ، ڈوبتے ہوؤں کی مدد کرنے کی بجائے وڈیو بنانے تک کے واقعات قلم بند ہوتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں کہ ان پر درندے بھی اپنا منہ چھپائیں۔
چند روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک ایسا ہی انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ۔ ایک معصوم اور بے گناہ لڑکی کو خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ڈی آئی خان کے علاقہ گرہ مٹ کے پانچ مسلح افراد نے ذاتی دشمنی کے باعث اس وقت برہنہ کر کے گاؤں میں گھومنے میں پر مجبور کیا جب وہ وہ پانی بھر کے گھر واپس جا رہی تھی ۔ بچی چیختی چلاتی رہی ، مدد کے لیے پکارتی رہی ، نہ تو اسے کو ئی چادر دی گئی اور نہ ہی کسی نے اپنے گھر میں اسے پناہ دی ۔ وہ کسی گھر میں پناہ لینے کی کوشش کرتی تو اسے مسلح افراد کے ڈر سے گھر سے باہر نکال دیا جاتا ۔ بر بریت اور انسانیت سوزی کا یہ سلسلہ کم و بیش ایک گھنٹہ تک جاری رہا ۔ ملزمان با اثر تھے اس لیے نہ تو پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ سکی اورنہ ہی بعد میں ان کے خلاف کوئی کاروائی کی جا سکی ۔پولیس کی حیثیت اس کیس میں ایک تماشائی سے زیادہ نہ تھی ۔ایف آئی آر درج ہوئی بھی تو کئی روز بعد اور مجرم آج بھی قانون کی گرفت میں نہ آ سکے ۔
اس واقعہ پر اگر غور کیا جائے تو ہمارے معاشرے کے دو پہلو واضع طور پر نظر آئیں گے ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے معاشرے میں بااثر افراد کا اتنا رعب و دبدبہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے کو تیا رنہیں ،۔ لوگوں میں بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اس لڑکی کو کسی نے اپنی عزت کے برابر عزت دے کر اس کو بچانے کی کوشش نہیں کی ۔ نہ ہی یہ سوچا کہ آج کسی اور کی بیٹی اس ظلم کا شکار ہوئی ہے تو کل میری بیٹی بھی اس طرح کے کسی ظلم کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے ۔ گاؤں والوں میں کوئی اتنی جرات نہ کر سکا کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکے نہ ہی کسی کی غیرت جاگی کہ ایک بے بس لڑکی کو چادر ہی اوڑھا دی جائے ۔ایک وقت تھا کہ معاشرے میں بیٹیاں سب کی سانجھی کہلائی جاتی تھیں لیکن معاشرے میں انحطاط نے اس سوچ کو بھی تہہ تیغ کر ڈالا ۔پرائیوسی کے نام پر اب کوئی کسی مظلوم کی مدد نہیں کرتا ۔
واضع رہے کہ ہم اس عظیم ورثہ کے امین ہیں اور اس دین کے پیروکار ہیں جس میں ایک عورت کی عزت کی حفاظت پورے معاشرے کی عزت کی حفاظت کے برابر قرار دی جاتی ہے ۔ عورت کی بے حرمتی تو درکنا ر عورت پر الزام تک لگانے کی شدت سے مذمت کی گئی ہے ۔ جس دین میں جنگ کے دنوں میں بھی عورتوں کو قتل کرنے ، ان کی بے حرمتی سے بچنے اور ان کی عزت و تکریم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
آج جنھیں عورت کی عزت کا محافظ ہونا چاہیے وہی عورت کی عزت کو سرعام نیلام کرتے نظر آتے ہیں ۔ راہنما ہی رہزن بن جائیں تو قومیں تباہ ہو جایا کرتی ہیں ۔
دوسرا پہلو اس واقعہ کا جو نظر آتا ہے اس میں پولیس کے ادارہ کی کمزوری واضع ہے ۔پولیس کا ادارہ پہلی بار حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بنا۔ اس کا بنیادی مقصد عوام کو ان کے علاقہ میں انصاف کی باہم فراہمی تھا تاکہ کسی مظلوم کو انصاف کی غرض سے دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے ۔ پولیس ایک بنیادی سطح کا ادارہ ہے جس کی ذمہ داری عوام الناس کی بلا تخصیص جان و مال کی حفاظت ہے ۔کرپشن ، بدعنوانی اور سیاسی تقرریوں نے جہاں ملک کے دوسرے ادارو ں کو ایک عضوِ معطل کی ہو کر رہ گئے ہیں ۔ وہاں پولیس کا ادارہ بھی شکست و ریخت سے نہیں بچ پایا ۔ سیاسی تقرریوں نے اس ادارہ کو اس قدر تنزلی سے ہمکنار ہوا ہے ۔ اس ادارے کو ملک کا کرپٹ ترین ادارہ کہا جا سکتا ہے ۔یہاں تک کہ لوگ پولیس سے مدد لینے کو تیار ہی نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی مظلوم کوئی جائے انصاف نہ پائے اور پولیس کا دروازہ کھٹکھٹائے تو بنا کسی سفارش یا رشوت کے اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی ۔ جہاں معاملہ ایسا ہو کہ ایک جانب کوئی عام آدمی ہو اور ملزم کو ئی بااثر شخص ہو ۔ اس صورت میں تو انصاف کی فراہمی صرف ایک خواب بن جاتا ہے ۔
دوسری بڑی مشکل رپورٹ درج کروانے والے کو یہ دیکھنا پڑھتی ہے کہ رپورٹ درج کروانے والے ہی کو شکنجے میں کس دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کے ساتھ ہواکہ اس لڑکی کے بھائی کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ۔یہ ہمارے معاشرہ اور نظام کی وہ خامیاں ہیں جن کا شکار آئے روز کوئی نہ کوئی ہو رہا ہوتا ہے ۔
ہمارے نظام اور لوگوں کی اخلاقی پستی کا شکار وہ لڑکی ہوئی جس کی عزت کو سرِ عام نیلام کیا گیا ۔ اس واقعہ نے اس لڑکی کو ایک زندہ لاش میں تبدیل کر دیا ۔ وہ اور اس کا خاندان کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا ۔ اس طرح ایک مظلوم اور بے گناہ کی زندگی کو زندان بنا دیا گیا ۔ اب نہ تو کوئی اس کی اچھائیوں اور نیکیوں کو جانچے گا اور نہ ہی کوئی اس کو اپنائے گا۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکی کا مجرم کون ہے ؟ صرف بااثر ملزمان؟ نہیں ۔ بلکہ وہ تمام لوگ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جو کسی بھی وجہ سے اس کی مدد نہ کر پائے ۔ وہ پولیس جو جائے وقوعہ پر نہ پہنچ پائی ۔وہ بھی جنہوں نے پولیس کے ادارے کو یر غمال بنا رکھا ہے ۔ وہ تمام نظام جس میں خامیوں کی وجہ سے ملزم کسی مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل جاتا ہے ۔بلکہ پورا معاشرہ جو ایسے شرپسند عناصر کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا ۔

Views All Time
Views All Time
283
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شوگر مافیا کا عروج اور کپاس کا زوال - سعد الرحمٰن ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: