Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دنیا کی عجیب و غریب رسومات-مدیحہ سید

دنیا کی عجیب و غریب رسومات-مدیحہ سید
Print Friendly, PDF & Email

آج کل کے سائنسی دور میں انسان جہاں بہت تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہاں اسے
اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب خاندان اور معاشرے کی عجیب و غریب روایات اس کے راستے میں حائل ہوجاتی ہیں، ایسی رسومات جنھیں منانا مشکل ہوتا ہے مگر انسان اس سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ آباو اجداد کے کسی مخصوص عقیدے، سوچ اور مذہبی کیفیت میں مقدس سمجهتے ہوئے خاص وقت میں شروع کی گئی رسومات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی گئیں اور آنے والے وقتوں میں وہ مقدس قرار دے کر لازمی جز بن گئیں۔ عصر حاضر میں گو بہت سے لوگوں نے کافی فرسودہ رواجوں کو ختم کیا بھی ہے مگر ابھی دنیا میں انتہائی عجیب تہوار منائے جا رہے ہیں
۔ ذیل میں کچھ ایسے ہی عجیب و غریب تہوار بیان کیے گئے ہیں جن کو پڑھ کر آپ یقینا خود کو پرانے دور میں پائیں گے ۔
1۔ مڈغاسکر کے مقام پر منعقد ہونے والا ایک روایتی تہوار فامادیہانا ہے جس کا مطلب ہے ہڈیوں کا واپس آنا. اس تہوار میں حصہ لینے والوں کا عقیدہ ہے کہ جتنی جلدی جسم گل سڑ جاتا ہے اتنی جلدی روح آخرت میں پہنچ جاتی ہے. اس کے لئے وہ اپنے پیاروں کی لاش کو قبر کهود کے نکالتے ہیں. مردہ کے ٹکڑوں اور قبر کے گرد موسیقی کے ساتھ رقص کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے بعد پهر سے انہیں دوبارہ دفنا دیا جاتا ہے.
2۔ایمزون کے جنگلوں میں یانومامی کے قبائل دنیا کے قدیم ترین قبائل میں شمار کئے جاتے ہیں. ان کے نزدیک موت کوئی قدرتی رجحان نہیں ہے.اس لئے وہ لاش کے ساتھ بے انتہا ظلم کر تے ہیں پہلے وہ لاش کو جلاتے ہیں اور اس کی راکھ کو کیلے کے خمیر میں ملا دیتے ہیں. اس مرکب کو قبیلے کے لوگوں میں کھانے کے طور پر تقسیم کر دیا جاتا ہے اس کو کهانے کا مطلب ہوتا ہے کہ مرنے والے کی روح قبیلے والوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے موجود رہے گی اور ان کے درمیان زندگی گزارنا شروع کر دے گی
3۔ملائیشیا کے علاقے پینانگ میں، نو شہنشاہ خداؤں کا میلہ منعقد ہوتا ہے. جس میں ننگے پاؤں انگاروں پہ چلنے کی رسم ادا کی جاتی ہے. ان کا عقیدہ ہے کہ آگ پر چلنے سے انسان شیطانی اثرات، گناہ اور نجاست سے پاک ہو جاتا ہے اور آگ پر چلنا کسی آدمی کی عظمت اور شیطان سے خود کو آزاد کروانے گی۔ سینکڑوں عقیدت مند اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے دہکتے انگاروں پر چلنے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اسکے بعد انہیں شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ کچھ تو تا عمر معذور بھی ہو جاتے ہیں۔
4۔پاپوا نیو گنی کے کاننگرا نامی قبیلے میں ایک خونی رسم ادا کی جاتی ہے ان رسوم کی تقریبات ایک خاص "روحانی گهر” کے اندر منعقد کی جاتی ہیں جسے یہ لوگ "تامبارن ہاؤس” کہتے ہیں. نوعمر لڑکے دو ماہ کے لئے اس گهر میں اکیلے رہتے ہیں، تنہائی میں معینہ مدت تک رہنے کے بعد قبیلے کے لوگ ایک تقریب منعقد کرتے ہیں جس میں ان نوعمر لڑکوں کو نوجوان سے جوان مرد بنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ .
ایک ماہر جسم چهیدنے والا ان کے جسم کو بانس کے تیز نوکیلے ٹکڑے سے کاٹتا ہے اور ایک مخصوص ڈیزائن بناتا ہے جو کہ مگرمچھ کی جلد مشابہت رکهتا ہے اس تکلیف دہ عمل میں لڑکوں کو شدید ترین تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے اور اسکے بعد ساری زندگی مگرمچھ جیسی خوفناک جسامت کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اس ڈیزائن کا مقصد اس تصور سے جڑا ہے کہ مگرمچھوں نے ہی انسانوں کو تخلیق کیا اور جلد پر موجود نشانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مگرمچھ کی روح نے نوجوان لڑکے کے جسم کو کهایا ہے اور اس جسم سے ایک جوان مرد کو باہر نکالا ہے۔
5۔اسی طرح انڈیا جو بےشک ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابی کر جھنڈے گاڑ رہا ہےمگر روائتی طور پرجنگلیوں جیسے تہوارمنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔انڈیا میں تھوکم نامی فیسٹیول میں ہندو تیز دھار ہکس یا کھونٹوں پر اپنے جسموں کے بل لٹک جاتے ہیں اور پھر انہیں رسیوں کی مدد سے زمین سے اوپر اٹھا کر فضا میں لٹکا دیا جاتا ہے، اس دوران انکے جسموں سے خون کے فوارے بلند ہوتے ہیں۔اس تہوار کا مقصد دیوتاؤں کو خون کی قربانی سے راضی کرنا ہے۔جنوبی ہندوستان میں ہونے والے اس میلے پر ہندوستانی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں کے دباﺅ پر پابندی لگا دی تھی مگر اب بھی اس خونی رسم کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔
6۔میکسیکو میں بارش کے لیے عورتوں کی لڑائی کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے جس میں قرب و جوار کے دیہات کی لڑکیاں اور عورتیں حصہ لیتی ہیں۔ اس دوران تھپڑوں اور مکوں کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے۔ خواتین ایک دوسرے کے چہرے کو خاص طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ ان کا مقصد حریف کے چہرے کو لہولہان کرنا ہوتا ہے۔ چہرے سے ٹپکنے والا خون برتنوں اور بالٹیوں میں جمع کرلیا جاتا ہے جسے بعد ازاں کھیتوں میں ڈالا جاتا ہے۔ دیہاتیوں کا ایمان ہے کہ کھیتوں کو عورتوں کا خون دینے سے بارش کا دیوتا ان پر مہربان ہوجائے گا۔ دیہاتی عورتوں کی خونی لڑائی کو باقاعدہ تہوار کا درجہ حاصل ہے۔
7۔سعودی عر ب میں ایک عجیب و غریب تہوار منایا جاتا ہے ۔اس تہوار میں میں سعودی شہری بندوقوں کی نلی کا رخ زمین کی جانب موڑ کر فائرنگ کرتے ہیں اور گولی کے نلکنے کے پریشر کے باعث وہ خود ہوا میں بلند ہو جاتے ہیں.اس تہوار کا مقصد ابھی تک نہیں پتہ چلا مگر جب فضا میں اچھلتے لوگ عجیب منظر پیش کرتے ہیں تو دیکھنے والے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔
8۔بولیویا (سپین)میں خوشحالی کیلئے انسانی کھوپڑیوں کو پھولوں اور سگریٹس سے سجانے کا تہوار ہربرس منایا جاتا ہے،جس میں لوگ مختلف طرح کی کھوپڑ یوں کو پھولوں اور سگریٹس سے سجاکر اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔اس موقع پر قبرستان میں موسیقی کا خاص انتظام کیا جاتا ہے،جہاں مرحو مین کے اہلخانہ مختلف دھنوں پر رقص کرکے خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگرانسانی کھوپڑیوں کا خیال رکھا جائے تو وہ ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث اور خوشحالی لانے کا سبب ہوتی ہیں۔
9۔افریقی ملک مالی میں روایتی مگر عجیب و غریب رسومات پر مبنی،ماہی گیری کا تہوارمنایا جاتا ہےجس میں مچھلی پکڑنے کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسےمذہبی اور تاریخی رسومات کا درجہ بھی حاصل ہے تمام شرکاء جھیل کے کنارے جمع ہوکر بگل کے انتظار میں تیارکھڑے ہوجاتےہیں ۔ حکم ملتے ہی تمام لوگ جھیل میں کودجاتے ہیں۔ لوگ مدہوشی کے عالم میں پانی میں ہاتھ ڈال کر مچھلیاں تلاش کرتے ہیں ، جیسے ہی کوئی مچھلی ہاتھ سے ٹکراتی ہے، وہ برق رفتاری سے ٹوکری کو پانی میں ڈال کر انہیں آگے جانے سے روکتے ہیں اور ہاتھ میں آنے والی مچھلیوں کو منہ سے پکڑتے جاتے ہیں اور کسی وحشی کی طرح لگ رہے ہوتے ہیں اس طرح پندرہ منٹ گزرتے ہی سب کو رکنے کاحکم ملتا ہے، لوگ اپنے ہاتھ روک کر جھیل سے نکل آتے ہیں یہ دیہات کے باسیوں کے نزدیک سال بھر تک متبرک غذا کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
10۔انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو کے شمال میں آباد ٹیڈونگ (Tidong) قبیلے میں شادی کے بعد میاں بیوی پر تین دن تک رفع حاجت کی پابندی پر عائد ہوتی ہے۔ اس دوران انھیں اکیلے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ خاندان کے افراد ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔اس سخت امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے دونوں تین دن تک غذا اور پانی کی انتہائی قلیل مقدار لیتے ہیں۔ اس رسم کے ادا کرنے کا مقصد شیطانی طاقتوں کو میاں بیوی اور گھر کے دوسرے افراد سے دُور رکھنا ہوتا ہے۔ ٹیڈونگ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر یہ رسم اد ا نہ کی گئی تو اُن کے یہاں مردہ بچے پیدا ہوں گے۔
11۔سکاٹ لینڈ کے جزائر ایبرڈینشائر، اینگوش اور فیفی میں دولھا اور دلہن کو شیطانی روحوں کے حملوں سے بچانے کے لیے شادی سے پہلے اُن کے قریبی دوست انھیں سر سے پاؤں تک انتہائی گندے محلول سے بھگوتے ہیں۔ یہ محلول گندے انڈوں، مختلف اقسام کی چٹنیوں، پرندوں کے پَر اور دیگر گندی اشیا سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس دوران بے چارے دونوں پنچھی سر جھُکائے خاموشی سے کراہت بھرے یہ لمحات برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد بھی ان کی جان نہیں چھوٹتی اور ایک اور تکلیف دہ عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس بار اُن کے اوپر گُڑ کا راب، کالک اور خشک آٹا پھینکا جاتا ہے۔ پھر انکو پاک صاف کر کے گھر بھیجا جاتا ہے۔

12-مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ میں ایک نسلی گروہ ہے جہاں خواتین پہ تشدد کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے شوہر اپنے پیار کا اظہار مار پیٹ اور تشدد سے کرتا ہے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اسکو لگتا ہے وہ ایک جانور ہے جسکا کام صرف مار کھانا ہے اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ اسکے باپ نے اسکی ماں کا بازو توڑ دیا تھا اور اسکے دادا نے محبت میں اسکی دادی کی ٹانگیں توڑ دی تھیں۔

 

یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد میں تشدد سے کئی صحافی زخمی، خطرات کے باوجود کام جاری رکھنے کے لئے ادارہ جاتی دباو
Views All Time
Views All Time
811
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: