جنت نظیر،کشمیر-مدیحہ سید

Print Friendly, PDF & Email

کشمیر قدیم ترین قدرتی خطوں میں سے ایک ہے ۔کش-کھائی یا جھیل، میر-پہاڑ ۔ روایت ہے کہ کشمیری تہذیب 6 ہزار سال پرانی ہے541 میں چینی کتب میں اسکا نام شش لکھا گیا ہے۔ یونانی اسے کسپیریا کہتے تھے، یہ بدقسمت خطہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے زمانہ قدیم سے ہی تنازعات کا شکار ہے۔

600 تا326 میں سکندر کے حملے سے پہلے صرف پرانی کتابوں میں کشمیر کا ذکر ملتا ہے۔ پھر یہاں یونانی تسلط رہا اسکے بعد جنت ہندوؤں کے ہاتھ لگ گئی۔ کچھ محققین نے کشمیر کے تاریخی دورانیہ کو کچھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ قبل اسلام کا دورانیہ جو ہزاروں سالوں پہ محیط رہا۔ پھر 1819 تا 1320 اسلامی دور جس میں بدھ بادشاہ رنچنا نے بلبل شاہ (سید عبدالرحمن ) کے ہاتھ اسلام قبول کر کے سلطان صدر الدین کا خطاب حاصل کیا اور کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا اسکے بعد مغلوں اور افغانوں نے حکومت کی۔ سکھ راج 1819 تا 1846 تک رہا اسکے بعد ڈوگرہ حکومت نے 1947 تک راج کیا۔1845 میں سکھوں اور فرنگیوں کے مابین جنگ چھڑ گئی اور 16 مارچ 1846 کو انگریزوں نے ریاست کشمیر بطور تاوان75 لاکھ نانک شاہی(ساڑھے سات ملین روپے) کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کیا۔ بلا شبہ یہ تاریخ کی بدترین سودے بازی تھی جس میں جانوروں کی طرح انسانوں کو بھی ریاست کے ساتھ بیچا گیا۔ پھر 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تب کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد شروع ہوئی ۔

پندرہ ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ لیکن صرف ایک حصہ ہی آزاد کرا سکے اور اب اس جنت نظیر کے 3 ٹکڑے ہیں۔ایک بھارت کے زیر تسلط ہے اور ایک چین کے قبضےمیں ہے ۔ تب پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔

سلامتی کونسل کی ان قرار دادوں میں کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا انہیں رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔ لیکن اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے بجائے ہندوستان نے مسلم تشخص کو ختم کرنے کیلئے تقسیم کے وقت ساڑھے تین لاکھ کشمیریوں کو جموں میں شہید کیا گیا۔ لیکن 13 نومبر 1947ء کو شیر کشمیر شیخ عبدالله نے اندرا گاندھی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں (اندراعبدالله ایکارڈ) کے نام سے موسوم ہے۔ دہلی ایکارڈ شیخ محمد عبدالله کو اس کی خواہش کے باوجود1953ء کی پوزیشن نہ دلاسکا۔ شیخ عبدالله جس نے کشمیریوں کے دلوں پر برسوں حکومت کی اور "شیر کشمیر”کا لقب پایا۔ وہی شیخ عبدالله "اندرا عبدالله ایکارڈ” کے بعد”غدار کشمیر”قرار پایا۔

دہلی کی تہاڑ جیل میں "شہید کشمیر” مقبول بٹ نے اپنے خون سے جس انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اسے کشمیر اور پاکستان حریت پسندوں نے اپنے خون سے آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔

جس طرح کشمیر کو سیاست کی بھینٹ چڑھاکر لہولہان کیا گیا خاندانوں کے درمیاں خونی لکیر کھینچ دی گئی اس پہ غالبا کسی تبصرے کی ضرورت نہیں لائن آف کنٹرول آؤٹ آف کنٹرول ہوتی گئی۔1947 کے بچھڑے ہوئے خاندان روتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔والدین ، اولاد، بہن بھائی ایک دوسرے کی صورتوں کو ترستے سسک سسک کے مر گئے اس خونی باڑھ نے ہزاروں خاندانوں کو ہمیشہ کے لئے جدا کر دیا۔ جس طرح اس بدقسمت جنت نظیر کی بندر بانٹ ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی، مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے بھارت خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہے لاکھوں لوگ جانیں گنوا کر بھی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ کی رپورٹ کا انکشاف ہے کہ ہر سال سینکڑوں کشمیری نوجوان مجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ہر سال بھارت کے خلاف بندوق اٹھانے کا تناسب تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔

23 مارچ 1987ء کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کی واضح اور فیصلہ کن فتح کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے شکست میں تبدیلی کرکے ہندوستان نے کشمیری عوام کی پرامن ذریعے سے تبدیلی لانے کی خواہش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیا۔ یہی وہ نقطہ آغاز تھا کہ جمہوری طریقے سے جدوجہد کرنے والے اور انتخابات میں حصہ لینے والی قیادت مسلح جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوگئی۔

امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے ایک ماہ کا وقفہ دے کر 5 فروری کو ہڑتال کی اپیل کرکے یوم کشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس کی بھرپور تائید کی۔ یوں 1989ء کو یوم کشمیر پہلی مرتبہ اور 1990ء کو تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر منایا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ بیس برسوں سے 5 فروری کو آزاد و مقبوضہ کشمیر 145 پاکستان اور دنیا بھر میں موجودہ 15 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر سال یوم کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔پاکستان میں حکمرانوں سمیت تمام رہنما اس دن بلند و بالا دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ پورا دن ریلیاں نکلتی ہیں جلسے جلوس کیے جاتے اور تقریریں کی جاتی ہیں ۔ لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ سال میں ایک دن ہی ہوتا ہے، صرف ایک دن ہی ایسا جوش و خروش نظر آتا ہے اسکے بعد مسئلہ کشمیر کو ایسے لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے جیسے ہم قرآن پاک کو ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر عقیدت کے ساتھ اونچے طاقوں میں سجا دیتے ہیں۔ ایک طرف کشمیر پہ ہونے والے ظلم کے خلاف آنسو بہائے جاتے ہیں اور دوسری طرف ظلم کرنے والوں کو دوستی کی دعوت دی جاتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش میں ظلم سہتے لوگوں پہ کیا گزرتی ہو گی جب وہ ہمارے حکمرانوں کو بھارت سرکار کے سامنے بچھ بچھ جاتا دیکھتے ہوں گے۔ ذرا نہیں پورا سوچیئے،جس امن کی آشا کے آج راگ الاپے جا رہے ہیں اس امن کو کشمیر میں نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا۔؟ یہ ہندواگر اتنے اچھے ہوتے تو مسلمان الگ ملک ہی کیوں بناتے؟ اگر ہمارے حکمرانوں کا یہی حال رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ 70 سالہ قربانیاں رائیگاں چلی جائیں اور یہ داستان ہی نہ رہے داستانوں میں۔

Views All Time
Views All Time
1021
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   مسیحا کی موت-عائشہ خانم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: