کون ہیں ہم؟ مدیحہ سید

Print Friendly, PDF & Email

اشرف المخلوقات کا ٹیگ اپنے سینے پر سجا کے۔ خود کو مہذب ترین مخلوق خیال کرنے والے، ستاروں سے آگے کمندیں ڈال دیں سمندر کی تہہ میں چھپے راز تک دریافت کر لئے، روز نت نئی ایجادات اور تحقیق سے ہم عالم کو حیران کئے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی کہ دوسرے ملک کی خبریں پلک جھپکنے میں پڑھ لیتے ہیں مگر ساتھ والے گھر میں رہنے والوں سے بے خبر۔ کون ہیں ہم۔۔؟
بے حس لوگ
ہم بہت مصروف ہیں مگر ہماری مصروفیت بے معنی ہے۔ بس پیسہ کمانے کی دوڑ اور منفرد نظر آنے کا شوق ہے، گھر میں کچھ اور باہر کچھ اور، اندر کچھ اور باہر کچھ اور، اپنا اصل چھپا کے مصنوعی تاثرات سجا کر ملنے والے، کون ہیں ہم؟
منافق لوگ
دوسروں کو ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں اصل میں ہمیں خود پر ہی یقین نہیں،جہاں بولنا چاہئے وہاں چپ رہتے ہیں، جہاں جھکنا چاہئے وہاں اکڑ جاتے ہیں ۔۔ جہاں اکڑ دکھانی چاہئے وہاں بولتی بند ہو جاتی ہے۔ حقیقت سے نظر چراتے ہیں اور بے معنی خواب دیکھتے ہیں، لا حاصل کی چاہ میں خود کو گنوا دیتے ہیں، بس دوڑتے چلے جا رہے نامعلوم منزل کی طرف، کون ہیں ہم؟
پریشان لوگ
اپنی انا کے بچاری خود کو پوجے جا رہے ہیں، جو چیز آسان لگی اپنا لی، سہل پسندی کی انتہا مذھب تک کو اپنی مرضی کے مطابق ترمیم کر ڈالا۔ عداوت میں اتنے اندھے ہو گئے کہ فرقے بنا کر قتل عام شروع کر دیا۔ اپنی اقدار چھوڑ کرغیروں کی تہذیب اپنا لی، جس ذات کے پاس سکون ہے اس سے منہ موڑ لیا اورفضولیات میں سکون تلاش رہے ہیں، دکھاوے کی زندگی میں اتنے مصروف ہیں کہ اپنا اصل بھول گئے، کون ہیں ہم؟
بیمار ذہینیت لوگ
کسی چیز پہ گھنٹوں بول سکتے اور فضول بحث کر سکتے مگر عملی کام نہیں کر سکتے، بزرگوں کی محنت ضائع کرنے والے اپنے محسنوں کو ذلیل و خوار کرنے والے اپنے قائدین پہ الزام لگا کر بدنام کرنے والے، کون ہیں ہم؟
احسان فراموش لوگ
ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں صرف ساتھ رہنے والے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے، بھوکے پیاسے رہ سکتے اور ہر مصیبت اٹھا سکتے مگر کسی کی چھوٹی سی بات بھی گوارا نہیں کر سکتے۔ دنیا کو اپنے اصولوں پر چلتا دیکھنا چاہتے ہیں خود کوئی پابندی قبول کرنے کو تیار نہیں، خدا کے لفظ بھول گئے اور اپنے فلسفے بنا لئے، باطل کی تقلید کی اور بھٹک گئے، کون ہیں ہم ؟
ڈرپوک لوگ

Views All Time
Views All Time
762
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   (انٹرنیٹ نے کشمیر حد بندی لائن کو غیر متعلق بنا دیا-یوسف جمیل(سری نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: