Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آزادئ نسواں… ماڈرن ازم کے نام پر فحاشی – مدیحہ سید

Print Friendly, PDF & Email

madiha-syedبدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ بدلنے کی دوڑ میں انسان اپنا اصل بھول گیا ہے۔ہر نسل نے اپنے سے پچھلی نسل کو فرسودہ قرار دے کر زیادہ مہذب بننے کی کوشش کی ہے،رہن سہن بدلا تو انسان نے اپنی آسائش کا سامان ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ اور اس ضمن میں سب سے زیادہ استحصال عورت نامی مخلوق کا ہواکہ عورت تک رسائی حاصل کرنے کے لئے آزادی نسواں کا نعرہ ایجاد کر ڈالا۔ یہاں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آزادی نسواں پہ بات کرنے والے عورت کو کس طرح آزاد دیکھنا چاہتے ہیں؟ کن چیزوں سے آزادی دلانا چاہتے ہیں؟؟
جو تنظیمیں دن رات ایک کر کے عورتوں کو آزاد کرانے پہ تلی ہوئی ہیں وہ سراسر اس معاشرے کو تباہ کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ یہ نعرہ بہت پرانا ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ آئے ہیں جو عورت کو نمود و نمائش کا سامان بنانے میں سرگرداں رہے۔ملاحظہ فرمائیں! آج اگر عورت کم لباسی کے خبط میں مبتلا ہے تو آج سے دو ہزار سال پہلے روم میں فن، فیشن اور عریانیت عروج پر تھی۔ آج اگر عورت سوشل لائف کے لئے خاندان سے بیزار ہے تو ہزاروں سال پہلے یونان و روم میں بھی ایسا ہی رواج تھا،جب جولیس سیزر نے عورتوں کو دلکش انعامات کا لالچ دے کر گھر بسانے کی درخواست کی کیونکہ اسے خطرہ تھا کہیں رومی نسل ہی نہ ختم ہو جائے۔ آج کی عورت کو خودمختاری چاہئے تو جناب یہ بات بھی بہت پرانی ہے رومی تہذیب اور پومپئی آئی میں بیوی ذرا سی بات پہ طلاق دے دیتی تھی۔اور پانچ دس شوہر بدلنا معمولی بات تھی۔اخلاق و معاشرت کے بند جب اتنے ڈھیلے ہوگئے تو روم میں شہوانیت، عریانیت، اور فواحش کا سیلاب پھوٹ پڑا، تھیٹروں میں بے حیائی و عریانی کے مظاہرے ہونے لگے ننگی اور فحش تصویریں ہر گھر کی زینت کے لئے ضروری ہوگئیں، اہل روم کے یہاں عورت ذات کے سلسلہ میں نظریات و رجحانات نے اتنا زوال قبول کیا کہ اس کی تصویر کشی مشکل نظر آتی ہے، مشہور رومی فلسفی ومدبر سنیکا (۴ ق․ م تا ۶) اہل روم کے طرزِ عمل پر کہتا ہے کہ:
”اب روم میں طلاق کوئی بڑی شرم کے قابل چیز نہیں رہی۔ عورتیں اپنی عمر کا حساب شوہروں کی تعداد سے لگاتی ہیں۔“
یقین کریں آزادی نسواں ایک بہت پرانی فرسودہ رسم ہے جسے ہوس کے مارے بھیڑئیے دوبارہ زندہ کرنے پہ تلے ہوئے ہیں اور جو لوگ اسکے حق میں بولتے ہیں شاید انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کرنے کی زحمت نہیں کی کہ پومپئی آئی،موہنجودڑو،ہڑپہ،روم اور یونان صرف اس لئے تباہ ہو گئے تھے کہ وہ فحاش ہو گئے تھے۔ مرد و عورت کی شرم و حیا ختم ہو گئی تھی۔ ناچ گانا، نمائش، فیشن، مخلوط سیلون اور سوئمنگ پولز عام ہو گئے تھے۔ نتیجہ کیا نکلا کہ وہ سب تباہ و بربار ہو گئے اور آج انکے اثار قدیمہ عبرت کے نشان ہیں۔اور انکے نقش قدم پہ چلتے ہوئے مغرب نے عورت کو آزادی دی۔ آزادی بھی کیسی وبال جان، بالغ ہوتے ہی والدین نے گھر سے نکال دیاکہ خود کماؤ سر چھپانے سے لے کے کھانے تک کے مسئلے اس نے کیسے حل کیے یہ اسکو ہی پتا ہے پھر بنا شادی کے اولاد اور بڑھاپا اولڈ ہوم میں آج مغرب میں زیادہ تر لوگوں کو اپنے باپ کا ہی نہیں پتہ، عورت کی آزادی نے مرد کی پہچان ہی چھین لی۔۔۔
مان لیجیئے کہ صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جس نے عورت کو عزت دی ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی تو بیٹی رحمت بنا دی بیوی سے حسن سلوک پہ جنت عطا کی اور ہر رشتے کے الگ حقوق واضح کر دیئے۔ باپ بھائی اور شوہر جیسے رشتے بنا کر عورت کو تحفظ دیا مگر عورت نام نہاد آزادی کے بہکاوے میں آ کر خود اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرنے پہ تلی ہوئے ہے ۔کاش ہمیں صرف اتنا سمجھ آ جائے کہ یہ ماڈرن ازم ہزاروں سال پرانی جاہلانہ رسومات ہیں جنکی پیروی سراسر تباہی ہے۔

 

Views All Time
Views All Time
1117
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   عورت اور حقوق کا ادراک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: