انجینئرز کیوں نہ خودکشی کریں؟-مدیحہ سید

Print Friendly, PDF & Email

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ایچ ای سی سے سند یافتہ 2014 میں ایک لاکھ اکہتر ہزار انجئینرز تھے ان میں سب سے زیادہ 24 فیصد الیکٹریکل اور صرف 6 فیصد سب سے کم کمپیوٹر انجئینرز تھے یہ تعداد 2016 میں دو لاکھ پینسٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔ جتنی تیزی سے یونیورسٹیاں انجئنیرز چھاپ رہی ہیں اس سے لگتا ہے 2030 تک ہر دس میں سے آٹھ انجئنیرز ہی ہوں گے۔
اب جس حساب سے انکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ان سب کے لئے نوکریاں کہاں سے آئیں گی؟یہ سب کیا کریں گے؟
کرنا کیا ہے بیشتر بیرون ملک دھکے کھائیں گے باقی ڈیپریشن میں آ کے خودکشیاں کریں گے۔
کیوں؟ کیونکہ
اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے والدین ہیں
فلاں کا بچہ ڈاکٹر بن رہا ہے تمہیں تو سرجن ہی بننا ہے۔ فلاں کا بیٹا انجئینر بن ریا تمہیں تو آئن سٹائن ہی بننا ہے۔ بچے بیچارے کی پسند ناپسند کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہو سکتا ہے وہ ایک بہت اچھا مصور ہو اور آپ اسکو حساب کتاب مین کھپانے پہ تل گئے ہیں یہی وقت ہوتا ہے جب بندہ آدھا نفسیاتی ہو جاتا ہے، پھر جیسے تیسے کر کے والدین کے لئے پڑھ بھی لیتا ہے مگر بعد میں نوکری نہیں ملتی کیونکہ ڈگری تو کسی نہ کسی طرح رٹا لگا کے مل جاتی ہے مگر نوکری کے لئے جب عملی کام کی باری آتی ہے تو یہ نہیں کر پاتے تو پھر خودکشی ہی بچ جاتی ہے۔ یقین کریں اوپر بیان کردہ دولاکھ میں سے پچاس فیصد ہی انجئنرز ہوں گے باقی میں سے کوئی پینٹر، ڈیزائینر یا کاروباری دماغ کا ہو گا مگر کیا ہے کہ اسٹیٹس بھی تو کوئی چیز ہے کہ لوگوں کو فخر سے بتانا ہے کہ ہمارا بیٹا انجئینز ہے۔ اس سوچ نے بہت سے لوگوں کو دماغی طور پہ برباد کر دیا ہے۔ اگر ایک تناسب کے ساتھ ہر شعبے میں لوگ آئیں تو لوگوں کے ساتھ ساتھ یقینا ملک کا بھی بہت بھلا ہو جائے گا۔
آج ہمارے ملک کی آبادی کے 75٪ لوگ ڈپریشن اور کسی نہ کسی مسئلے کا شکار ہیں کیونکہ وہ کرنا کچھ اور چاہتے ہیں پڑھ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور پڑھائی کے بعد کر کچھ اور رہے ہوتے ہیں
اور مزے کی بات انکے علاج کے لئے صرف چار سو مستند سائیکالوجسٹ ہیں۔
اس بات کا مقصد والدین سے درخواست کرنا ہے کہ ہے کہ خدا کے لئے اب اپنے بچوں کو وہی پڑھنے اور کرنے دیں جو وہ چاہتے ہیں۔
اگر آپکا بیٹا باورچی بھی بننا چاہتا ہے تو اسکو منع مت کریں ہو سکتا ہے یہ اسکے لئے زیادہ بہتر ہو۔ اگر یہ بھی نہیں تو اب سے کم از کم سائیکاٹرسٹ ہی بنا دیں تاکہ وہ ان لوگوں کا علاج کریں جو خود کشیاں کر رہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
366
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بیٹے کے نام خط – پانچویں سالگرہ | مصلوب واسطی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: