Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تفریح یا اذیت-مدیحہ سید

تفریح یا اذیت-مدیحہ سید

انسان نے ہمیشہ سے ہی دل بہلانے کو کوئی نہ کوئی کھیل ایجاد کیا ہے۔جس کا مقصد سکون حاصل کرنا اور دماغ کو تقویت فراہم کرنا ہوتا تھا۔ کرکٹ، فٹبال، ہاکی اور ٹینس جیسے کھیل ہمیشہ سے ہی بہت مقبول اور صحت بخش رہے ہیں،لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ جہاں ہر چیز میں جدت آئی ہے وہاں جسمانی مشقت کی بجائے ذہنی مشقت والے کھیل میدان میں آ گئےہیں۔
صرف ایک کلک پہ ہزاروں گیمز آپ کے فون اور کمپیوٹر میں موجود ہوتی ہیں۔ان میں بہت سی اچھی گیمز بھی ہیں لیکن زیادہ تر صرف اور صرف وقت کا زیاں ہےاور زیادہ تر نوجوان نسل اور بچوں کو ذہنی طور پہ بیمار کر رہی ہیں.
حالیہ کچھ برسوں میں ڈاکترز اور ماہرین کم سے کم ویڈیو گیمز کھیلنے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ اسکے انتہائی مضر اثرات سامنے آئے ہیں۔ وہ سب والدہن جو بچوں کو فون اور ٹیبلٹس وغیرہ دلوا کر پر سکون ہو جاتے بہیں کہ انکا بچہ شرارتیں نہیں کر رہا اور سکون سے بیٹھا ہوا ہے، ایسے والدین ہمیشہ شدید خطرے میں گھرے رہتے ہیں، کیونکہ ان گیمز کے معصوم ذہنوں پہ انتہائی منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں موجودہ دور میں بچے ضدی باغی اور چڑچڑے ہو رہے ہیں جنکی سب سے بڑی وجہ یہی ویڈیو گیمز ہیں جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ کچھ اچھی گیمز بھی ہیں لیکن آج کل ذیادہ تر گھٹیا قسم کی گیمز دستیاب ہیں جنکا کام نئی نسل کو نفسیاتی مریض بنانا ہے۔
جیسا کہ ایک گیم جو 2014 سے بہت مقبول ہے
Blue Whale Challenge
140 بچوں کی جان لے چکی ہے۔ اس خونی گیم کا مقصد کھیلنے والے کو خودکشی پہ مجبور کرنا ہےاسکی تفصیل یہ ہے کہ کھیلنے سے پہلے آپکو انکے ساتھ معاہدہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ آخر تک یہ گیم کھیلیں گے اور درمیان میں نہیں چھوڑیں گے,پھر آہستہ آہستہ بچے کی برین واشنگ شروع ہوتی50 دن کے چیلنج پہ مبنی اس گیم میں آپکو ہر روز ایک کام کرنا پڑتا ہے جو گیم کا ایڈمن آپکو بھیجتا ہے۔ جسم کے حصوں پہ کٹ لگا کر وفاداری کا ثبوت دینا، بلیڈ سے وہیل مچھلی بازو یا ٹانگ پہ بنانا اور اسکی تصویر یا ویڈیو بنا کر ایڈمن کو بھیجنا۔ رات 12 بجے سونا اور 4 بجے جاگنا۔ پورا پورا دن چپ رہنا اور کسی سے بات نہ کرنا۔ 30ویں دن سے لے کر 49ویں دن تک ایڈمن کی طرف سے بھیجی گئی ڈراؤنی فلمیں دیکھنا اس تمام عمل میں بچہ اس حد تک دماغی طور پہ مفلوج ہو جاتا ہے کہ 50ویں دن اسکو جب میسج ملتا ہے کہ آپکی زندگی بہت فضول ہے کوئی آپ سے پیار نہیں کرتا اس بےکار زندگی سے اچھا ہے آپ چھت سے چھلانگ لگا کر مر جائیں اور بچہ واقعی ایسا کرتا ہے۔ اس دوران اگر کوئی مزاحمت کرتا ہے تو اسکو دھمکیاں دی جاتی کہ آپ کا سب ریکارڈ ہمارے پاس ہے اگر آپ خودکشی نہیں کریں گےتو آپکی جگہ آپکے گھر والوں کو مرنا ہو گا۔ اور اس ڈر کی وجہ سے بہت سے بچے مرنے پہ مجبور ہوئے۔
روس میں 130 بچوں کی ہلاکت کے بعد جب اس گیم کے خالق کو گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ 22 سالہ نوجوان نفسیاتی مریض ہےجو اب پولیس کی قید میں ہے مگر یہ خونی گیم اب بھی انٹرنیٹ پہ موجود ہے۔
اسی طرح کی کچھ مزید گیمز ہیں جو بچوں کو متشدد بنا رہی ہیں اور مرنے مارنے پہ مجبور کر رہی ہیں جن میں کچھ کے نام میں بتائے دیتی ہوں کہ اگر آپ اپنے بچے کے فون میں یہ دیکھیں تو آپکو پتا ہو کہ یہ گیمز کتنی تباہ کن ہیں ۔
The passout challange..
اس میں آپکو سانس روکنا ہوتا اور گلا دبانا ہوتا ہے۔ کیمرہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا گلا دبائیں یا اپنے کسی دوست کو کہیں کہ وہ مقررہ وقت تک گلا دبا کر رکھے۔یہ ہر سال امریکہ میں 250 سے 1000 بچوں کی جان لیتی ہے
The salt and Ice chllange.
اس میں جسم کے حصوں پر نمک لگا کر اس پہ برف رکھنی پڑتی ہے جس سے کیمیکلی ری ایکشنز سے آبلے پڑ جاتے ہیں۔
The cutting Challange.
اس میں بچوں کو بہادربننے پہ اکسایا جاتا ہے کہ جسم کے حصوں پہ کٹ لگائیں مگر حقیقت میں بچے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔
Cinnamon challenge
اس کا ماخذ ڈسکوری چینل ہے .اوٹ پٹانگ قسم کی حرکتوں کو چیلنج بنانا. اس گیم میں آپ کو سرخ مرچیں کھانی ہوتی ہیں اور ساٹھ سیکنڈ تک کچھ بھی کھانا پینا نہیں ہوتا۔ جس سے شدید اذیت کا سامنا کرنا پرتا ہے۔
Car surfing
اس میں آپ کو چلتی گاڑی کی چھت پہ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ پچھلے 18 سالوں میں لاتعداد بچے اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جنکی عمریں 12 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔
30-second fight game.
اس میں 30 سیکنڈ کے لئے لڑنا پڑتا ہے۔ انتہائی متشددانہ گیم میں آپ کو بس اندھوں کی طرح لڑنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔
اور اس دوران ایک ایڈمن آپکی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور بعد میں آپکو نمبر دیتا ہے
ABC games.
اس میں کسی نوکیلی چیز سے انگلیوں پہ ABC
لکھنی ہوتی ہے جس سے اکثر انگلیاں زخمی ہو جاتی ہیں
The Fire Challenge.
اس میں کھیلنے والے کو اپنے جسم کو آگ لگانی ہوتی ہے اور اس کی باقاعدہ ویڈیو بنا کر بعد میں اپلوڈ کی جاتی ہے۔
امریکہ میں بہت سے بچے خود پہ الکوحل گرا کر آگ لگا کر جھلس چکے ہیں اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اکثریت کا یہی جواب تھا کہ ہمیں نہیں تھا معلوم کہ الکوحل کو آگ لگتی ہے۔
The Duct Tape Challenge
کسی کو کہیں کہ آپ کو ٹیپ سے باندھےپھر آپکو کیمرے کے سامنے تین منٹ میں خود کو آزاد کرانا ہوتا ہے۔ اس دوران مزاحمت میں کھیلنے والا دروازے کھڑکیوں سے ٹکرا کر زخمی ہوتا رہتا ہے.
Chatroulette۔
یہ چیٹ روم ٹائپ گیم ہے اس میں کھیلنے والے کو چیٹ روم میں جانا پڑتا ہے جہاں پہ لاتعداد لوگ موجود ہوتے ہیں اور کیمرہ کے ذریعے آپ سے بات کرتے ہیں .اس سے کھیلنے والا فحش انگیزی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہ تو وہ گیمز ہیں جو آج کل بہت زیادہ کھیلی جا رہی ہیں۔ ان میں ہر اک کا مقصد یہی ہے کہ یہ الٹے سیدھے کام کر کے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پہ ڈالیں اور مشہور ہو جائیں کہ جو کام کوئی نہ کر سکا وہ آپ نے کیا اور یہ چیز اکثر بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ بہت سی ایسی گیمز ہیں جو بچے کو مار کٹائی پہ مجبور کر کے متشدد بناتی ہیں اور کچھ فخاشی کو فروغ دیتی ہیں ان میں کچھ کے نام یہ ہیں.
Battlefield: Hardline
Bloodborne
Dying Light
Hatred
Mad max
Carmageddon: Max Damage(racing)
Metal Gear Solid V: The Phantom Pain
Mortal Kombat X
Alekhine’s Gun
Dark Souls III
Dead rising
The Culling
Doom
Hitman
Far Cry Primal
آدم خوروں پہ مبنی گیم میں خون پینا اور گوشت کھانا پڑتا ہے۔
Homefront: The Revolution
Path of Exile: Ascendency
یہ گیمز مار دھاڑ اور پرتشدد ہیں ,جس سے دس سے پندرہ سال کے بچے بری طرح متاثر ہوتے ہیں وہ جو کچھ ان گیمز میں کرتے ہیں وہی حرکیتں جب اصل زندگی میں کرتے ہیں تو نتیجہ بہت شدید ترین ہوتا ہے.
ان سب گیمز میں مرنے والے اور شدید زخمی ہونے والے بچے آٹھ سے انیس سال کے ہیں اور زیادہ تر یہ گیمز اپنے والدین کے فون میں کھیلتے ہیں ۔
اس لئیے والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھیں کہ وہ کیا کھیل رہے ہیں ؟اور کس قسم کی حرکات کر رہے ہیں؟آج کل پرائیویسی نام کے خبط میں جہاں ہر کوئی مبتلا ہے وہاں چھوٹے بچے بھی اس کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ ایک حد تک کی پرائیویسی ہی ٹھیک ہوتی ہے، اپنے بچوں پہ نظر رکھیں انکے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں ۔ ان اذیت پسند گیمز کا شکار وہی بچے ہوتے ہیں جنہیں گھر والوں کی توجہ حاصل نہیں ہوتی اور وہ اس طرح کی حرکتیں کر کے منظر عام پہ آتے ہیں۔ اس لئے اپنے مصروف شیڈول میں سے بچوں کے لئے وقت نکالیں انکے ساتھ جسمانی مشقت والے کھیل کھیلیں اور انہیں جتاتے رہیں کہ آپکو ان سے بہت پیار ہے۔

Views All Time
Views All Time
473
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: