Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محبت

محبت
Print Friendly, PDF & Email

asad imran naqvi"بھلا محبت یہ کب دیکھتی ہے کہ کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں دیکھنا، محبت تو ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے جو راستے میں آنے والی روکاوٹوں سے بے نیاز ہو کر سرپٹ بھاگتا ہی چلا جاتا ہے۔۔
محبت تونتائج سے بے خبر اُس شیر خوار بچے کی مانند ہے جو کالے ناگ کو بھی ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے۔
محبت تو کسی بگڑے ہوئے رئیس زادے کی مانند ہوتی ہے جسے انکار سننے کی عادت ہی نہیں ہوتی، جو یہ سمجھتا ہے کہ سب اس کی رعایا ہیں، جو کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کی ٹھان لے، تو اُسے پا کر ہی دم لیتا ہے، اور ناکامی پر موت کو گلے لگا لیتا ہے، محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔
محبت کے بہت سے روپ ہیں، کبھی تو یہ فرہاد کی طرح پُرعزم ہوتی ہے تو کبھی شیریں کی طرح بے رحم، کبھی رانجھے کی طرح سادہ و معصوم تو کبھی ہیر کی طرح الہڑ اور بے باک، کبھی قیس کی طرح کاسہ لیس تو کبھی لیلہ کی طرح مغرور،کبھی پُنوں کی طرح نفیس و بزدل تو کبھی سسی کی طرح وعدہ وفا، کبھی مرزے کی طرح مُنہ زور تو کبھی صاحبہ کی طرح کمزور دل، کبھی ماہیوال کی طرح خوبرو جوان تو کبھی سوہنی کی طرح بےباک مگر لاپرواہ، یہ جس حال ، جس رنگ اور جس دور میں بھی ہو اپنا آپ دکھاتی اور منواتی ضرور ہے۔
محبت بھی تو خدا جیسی ہے، شریک پسند نہیں اسے، یہ واحد کو واحد سے ہوتی ہے، ہجر سہہ لے گی مگر تقسیم نہیں۔
محبت میں بہت دلچسپ موڑ تب آتا ہے جب مُحب، زور آور اور صاحبِ کُل ہو اور اُسے دیدارِ یار کا شوق چڑھ آئے تو وہ محبوب کو پاس بلانے کے لیئے معراج کرا دیتا ہے اٹھارہ ہزار سال طویل ملاقات بھی اُسے اتنی مختصر لگتی ہے جتنی دیر دروازے کی کُنڈی ہلتی رہے،اور وضو کا پانی زمین پر گر کر تازہ رہے۔
محبت اس سنگ ریزے کی طرح ہے جسے کچھ لوگ پتھر کا ٹکڑا سمجھ کر ٹھوکر مار دیتے ہیں مگر جوہری کی آنکھ اس میں چُھپے ہیرے کو تلاش کر لیتی ہے
ایسے ہی محبت کو اگر نیچ آنکھ دیکھے تو اُسے ِاس میں ہوس نظر آتی ہے، اور اعلٰی ظرف اسی سے عشقِ حقیقی کی منزلیں پا لیتے ہیں،
اگر بے غرض اور بے لوث محبت کی کوئی زندہ مثال دیکھنی ہو تو پھر کسی بوڑھی بیوہ عورت کی اس کی اکلوتی اپاہج اولاد سے دیکھو، جسے بدلے کی کوئی امید نہیں ہوتی، لیکن وہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے،اور اپنی اپاہج اولاد کے لیئے تمام خواہشات قربان کر دیتی ہے، وہ خود کو بیچتی بھی دیتی ہے ، جُھک بھی جاتی ہے، پر محبت کرنا نہیں چھوڑتی”۔
اتنے انہماک سے وہ ان کی گفتگو سن رھا تھا کہ اس کے سامنے پڑی چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی،وہ آج صبح جب اٹھا تو اس نے سر میں بہت شدید قسم کا درد محسوس کیا تھا، گھر سے دور ہونے کی وجہ سے کوئی بھی نہیں تھا جو اسکا خیال رکھتا، سو وہ خود ہی میڈیکل سٹور سے سر ڈسپرین کی گولیاں لے کر، یہاں آ گیا تھا کہ چائے پئے گا تو شاید درد کی شدت میں کچھ کمی آ جائے، مگر بولنے والا جب یہاں پہنچا کہ ” محبت بنیادی طور پر ریگستانوں ، صحراوں، دیہاتوں اور پہاڑوں میں پروان چڑھنے والا پودا ہے، جب یہ پودا شہروں میں لایا گیا تو مناسب دیکھ بھال اور کم زرخیز زمینوں کی وجہ سے یہ پودا مرجھانے لگ گیا”
تو تب احمد سے رہا نہ گیا اور وہ قدرے الجھن میں بول پڑا "گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شہر والے محبت نہیں کر سکتے؟”
احمد کا یہ سوال جہاں سامعین کے چہروں پر ناگواری اور ان کی جزب والی کیفیت ختم کرنے کا سبب بنا وہیں اس شفیق ہستی کے چہرے پر بہت ہی معنی خیز مسکراہٹ بھی لے آیا، وہ احمد کو اتنے پیار بھرے انداز سے دیکھنے لگ گئے کہ جیسے احمد ہی اُن کا اکلوتا سامع ہو۔۔۔۔۔ احمد کی آنکھوں کے راستے اس کے دل میں اُٹھنے والے تمام ممکنہ سوالوں کو پڑھتے ہوئے وہ گویا ہوئے” دیکھو بیٹا، آپکو اپنی بات سمجھانے کے لیئے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسان خوراک اور دیگر روز مرہ کی اشیاء میں ملاوٹ کرتا گیا ، بلکل ویسے ہی محبت میں بھی ملاوٹ شامل ہوتی گئی، آپ دیکھو کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیئے شہروں میں ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی ہے، لیکن کہیں کہیں ملاوٹ کا یہ تناسب کم ہے، اسی طرح دیہات میں ملاوٹ کا تناسب کم ہے، لیکن بہرحال موجود ہے۔ اب آپ دیکھو کہ محبت کی مانگ بہت زیادہ ہے،تو موقع پرست لوگ اس میں ملاوٹ کرنے لگ گئے ہیں، اور یہ بھی کہ محبت وقت مانگتی ہے، توجہ مانگتی ہے، اور یہ شہر والے ٹھہرے مصروف لوگ، یہ محبت کو اکثر خالی ہاتھ ہی لوٹا دیتے ہیں ”
احمد کو لگا کہ وہ عُقدہ جو ہمیشہ اسے اور کچھ سوچنے ہی نہیں دیتا تھا، آج حل ہو گیا ہے ، انکے پیار بھرے انداز سے ہمت حاصل کرتے ہوئے اس نے ایک اور سوال داغ دیا "سر ہمارے ملک اور دنیا میں ہونے والی بد امنی کا کیا حل ہے”
ادھر سے ایک لفظ پر مشتمل جواب آیا "محبت”۔
احمد ایک بار پھر حیرانگی سے انکی طرف دیکھنے لگ گیا، احمد کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے وہ گویا ہوئے”دیکھو بیٹا، دنیا میں محبت ہی وہ واحد جزبہ ہے، جو کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیونکہ محبت کرنے والے دل میں نفرت نہیں سما سکتی محبت کرنے والا دل کب چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھوں کسی کا نقصان ہو، سو یہ دعا کبھی نا مانگا کرو کہ فلاں ُملک غرق ہو جائے ، فلاں صفحہِ ہستی سے مٹ جائے، بس یہ دعا مانگا کرو کہ اے محبت کے خالق رب، تو اپنی "کُن” سے سب کو دلوں میں محبت ڈاال دے”۔۔
اتنا کہہ کر وہ احمد سے ہاتھ ملا کر اٹھے اور چلے گئے، ان کے جانے کے کتنی ہی دیر بعد احمد کو احساس ہوا کہ وہ تو اس جگہ اپنے سر درد کی وجہ سے چائے پینے آیا تھا اور اس نے چائے بھی نہیں پی اور سر درد بھی ختم ہو گیا۔

Views All Time
Views All Time
1405
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments9

  1. محبت بھی تو خدا جیسی ہے، شریک پسند نہیں "اسے، یہ واحد کو واحد سے ہوتی ہے، ہجر سہہ لے”
    گی مگر تقسیم نہیں۔
    بھءی واااااااااااااااااااااااہ بہت خوب پہلی کاوش اور ایسی پکی اور عمدہ تحریر سلامت رہیں

  2. ویسے ھمارے ملک میں ہونے والی بدامنی کی وجہ بھی محبت ہی ہے۔۔۔۔۔ دھن کی محبت
    خوبصورت تحریر

  3. سراہے جانے پر مشکور ہوں آپکا

  4. "شہر والے محبت نہیں کر سکتے؟”
    آہ ہم شہر والوں کو روزگار کے اتنے جنجھٹ ہیں کہ محبت کس بلا کا نام ہے بھولتے ہی جا رہے ہیں اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھنا تو دور کی بات اب تو کیی کیی دن ملاقات ہی نہیں ہوتی – اللہ ہم سب پر رحم کرے
    بہت عمدہ تحریر اور دل و دماغ کو معطر کر دیا آپ نے، اللہ لفظوں کی پوٹلی کو اور کشادہ کرے

  5. کمال تحریر، کماد سے سچی محبت کی طرف واہ واہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: